أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰى قَوۡمِهٖ فَقَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ؕ اِنِّىۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ۞

ترجمہ:

بیشک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، پس انہوں نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہاری عبادت کا کوئی مستحق نہیں ہے، بیشک مجھے تم پر ایک عظیم دن کے عذاب کا خطرہ ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” بیشک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، پس انہوں نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہاری عبادت کا کوئی مستحق نہیں ہے، بیشک مجھے تم پر ایک عظیم دن کے عذاب کا خطرہ ہے “

حضرت نوح (علیہ السلام) کا نام و نسب اور ان کی تاریخ ولادت : 

حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی متوفی 774 ھ لکھتے ہیں : حضرت نوح (علیہ السلام) کا شجرہ نسب یہ ہے : نوح بن مالک بن متوشلخ، بن خنوخ (ادریس) ابن یرد بن صلابیل بن قینن بن انوش بن شیث بن آدم ابوالبشر (علیہ السلام) ۔

امام ابن جریر وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی وفات کے ایک سو چھبیس سال بعد حضرت نوح (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور اہل کتاب کی تاریخ میں مذکور ہے کہ ان دونوں کے درمیان ایک سو چھیالیس سال کا عرصہ ہے۔

امام ابن حبان نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے : حضرت ابوامامہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا حضرت آدم دنبی تھے ؟ فرمایا : ہاں ! وہ ایسے نبی تھے جن سے کلام کیا گیا۔ پوچھا حضرت آدم اور حضرت نوح کے درمیان کتنا عرصہ ہے ؟ فرمایا : دس قرن (صدیاں) یہ حدیث صحیح ہے۔ (صحیح ابن حبان، ج 14، رقم الحدیث : 6190، المجعم الکبیر، ج 8، رقم الحدیث : 7545، امام طبرانی کی روایت میں یہ اضافہ ہے یا رسول اللہ ! رسول کتنے ہیں ؟ فرمایا : 313 ۔ المستدک، ج 2، ص 262 ۔ مجمع الزوائد، ج 1، ص 196 ۔ مسند احمد، ج 5، ص 179، 178 ۔ مسند البزار، ج 1، ص 160)

اس حدیث کا تقاضا یہ ہے کہ حضرت آدم اور حضرت نوح کے درمیان ایک ہزار سال ہیں۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ امام محمد بن سعد متوفی 230 ھ اپنی سند کے ساتھ عکرمہ سے روایت کرتے ہیں : حضرت آدم اور حضرت نوح کے درمیان دس قرن (قرن کا معنی ہے ایک صدی یا ایک صدی کے لوگ، نسلیں) ہیں اور وہ سب اسلام پر تھے۔ (الطبقات الکبری، ج 1، ص 42، مطبوعہ دار صادر، بیروت)

حافظ ابن کثیر نے اس حدیث کو صحیح البخاری کے حوالہ سے درج کیا ہے۔ لیکن یہ ان کا وہم ہے۔ یہ حدیث صحیح البخاری میں ہے نہ صحاح ستہ کی کسی اور کتاب میں۔

حضرت نوح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اس وقت مبعوث کیا جب بتوں کی عبادت اور شیطانوں کی اطاعت شروع ہوچکی تھی اور لوگ کفر اور گمراہی میں مبتلا ہوچکے تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) پہلے رسول ہیں جن کو بندوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ بعثت کے وقت ان کی عمر میں اختلاف ہے ایک قول یہ ہے کہ ان کی عمر اس وقت پچاس سال تھی اور دوسرا قول یہ ہے کہ ان کی عمر اس وقت تین سو پچاس سال تھی اور امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس (رض) کے حوالے سے لکھا ہے ان کی عمر اس وقت چوراسی سال تھی۔ 

بت پرستی کی ابتدا کیسے ہوئی ؟ 

امام ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ محمد بن قیس سے روایت کیا ہے کہ حضرت آدم اور حضرت نوح کے درمیان کچھ نیک لوگ تھے اور ان کے پیرو کار ان کی اقتداء کرتے تھے۔ جب وہ نیک لوگ فوت ہوگئے تو ان کے پیرو کاروں نے کہا : اگر ہم ان کی تصویریں بنالیں۔ جب وہ فوت ہوگئے اور ان کی دوسری نسل آئی تو ابلیس نے ان کے دل میں یہ خیال ڈالا کہ ان کے آباء ان تصویروں کی عبادت کرتے تھے اور اسی سبب سے ان پر بارش ہوتی تھی۔ سو انہوں نے ان تصویروں کی عبادت کرنی شروع کردی، اور امام ابن ابی حاتم نے عروہ بن الزبیر سے روایت کیا ہے کہ ود، یغوث، یعوق، سواع اور نسر حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے اور ” ود ” ان میں سب سے نیک تھے۔ (جامع البیان، جز 29، ص 122، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

امام ابن ابی حاتم نے باقر سے روایت کیا ہے کہ ود ایک نیک شخص تھا اور وہ اپنی قوم میں بہت محبوب تھا۔ جب وہ فوت ہوگیا تو اس کی قوم کے لوگ بابل کی سرزمین میں اس کی قبر کے گرد بیٹھ کر روتے رہے۔ جب ابلیس نے ان کی آہ و بکا دیکھی تو وہ ایک انسان کی صورت میں متمثل ہو کر آیا اور کہنے لگا میں نے تمہارے رونے کو دیکھا ہے، تمہارا کیا خیال ہے میں تمہارے لیے دو کی ایک تصویر بنا دوں۔ تم اپنی مجالس میں اس توصویر کو دیکھ کر اسے یاد کیا کرو۔ انہوں نے اس سے اتفاق کیا۔ اس نے ود کی تصویر بنادی جس کو وہ اپنی مجلسوں میں رکھ کر اس کا ذکر کیا کرتے تھے۔ جب ابلیس نے یہ منظر دیکھا تو کہا میں تم میں سے ہر ایک کے گھر میں ود کا ایک مجسمہ (بت) بنا کر رکھ دوں تاکہ تم میں سے ہر شخص اپنے گھر میں ود کا ذکر کیا کرے انہوں نے اس کو مان لیا۔ پھر ہر گھر میں ود کا ایک بت بنا کر رکھ دیا۔ پھر ان کی اولاد بھی یہی کچھ کرنے لگی۔ پھر اس کے بعد جو نسلیں آئیں وہ یہ بھول گئیں کہ ود ایک انسان تھا وہ اس کو خدا مان کر اس کی عبادت کرنے لگیں۔ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اس بت کی پرستش شروع کردی سو اللہ کو چھوڑ کر جس بت کی سب سے پہلے پرستش شروع کی گئی وہ ود نام کا بت تھا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج 10 ص 3375 ۔ 3376 ۔ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ کرمہ، 1417 ھ)

حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت اور ان کا اول رسل ہونا : 

خلاصہ یہ ہے کہ ہر وہ بت جس کی وہ عبادت کرتے تھے اصل میں اللہ کا کوئی نیک بندہ تھا جس کی انہوں نے تصویر اور اس کا مجسمہ بنا لیا تھا۔ امام بخاری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہ اور حضرت ام سلمہ (رض) نے بیان کیا کہ انہوں نے حبشہ میں ایک گرجا دیکھا جس کا نام ماریہ تھا۔ انہوں نے اس کی خوبصورتی کا اور اس میں رکھی ہوئی تصاویر کا ذکر کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب ان میں کوئی نیک شخص مرجاتا تھا تو وہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے اور اس میں یہ تصویریں رکھ دیتے تھے۔ یہ لوگ اللہ عزوجل کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث 427 ۔ صحیح مسلم، المساجد، 16 (528) 1161 ۔ سنن نسائی، رقم الحدیث : 703)

غرض یہ کہ جب زمین میں بت پرستی عام ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ اور اپنے رسول حضرت نوح (علیہ السلام) کو بھیجا۔ وہ لوگوں کو اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے اور ان کو غیر اللہ کی عبادت سے منع کرتے تھے اور حضرت نوح زمین پر اللہ تعالیٰ کے سب سے پہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی ظرف بھیجا جیسا کہ حضرت ابوہریرہ کی حدیث شفاعت میں ہے۔ قیامت کے دن لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور کہیں گے : ” اے نوح ! آپ زمین والوں کی طرف سب سے پہلے رسول ہیں ” (الحدیث) (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 4712 ۔ صحیح مسلم، الایمان : 327، (194) 472 ۔ سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2442 ۔ سنن کبری للنسائی، رقم الحدیث : 11286 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 3307)

حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا بیان :۔

حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو نو سو پچاس سال تبلیغ کی جیسا کہ اس آیت میں ارشاد ہے : ” ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ فلبث فیہم الف سنۃ الا خمسین عاما : اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وہ ان میں پچاس سال کم ایک ہزار سال رہے ” (العنکبوت :14) ۔ 

سورة نوح میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کرنے اور اس کے جواب میں ان کی قوم کے انکار کرنے اور ان سے مایوس ہونے کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کا ان کے لیے عذاب کی دعا کرنے کا تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے : ” بیشک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ وہ اپنی قوم کو ڈرائیں اس سے پہلے کہ ان کے اوپر دردناک عذاب آجائے۔ نوح نے کہا اے میری قوم ! میں تمہیں واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت کرو۔ اللہ تمہارے لیے تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور ایک مقرر وقت تم کو مہلت دے گا، بیشک جب اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آجائے تو وہ موخر نہیں ہوتا کاش تم جانتے۔ نوح نے دعا کی اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کو رات اور دن (حق کی) دعوت دی، (لیکن) میری اس دعوت سے ان پر بھاگنے کے سوا اور کوئی اثر نہیں ہوا۔ اور بیشک جب بھی میں نے ان کو بلایا کہ تو انہیں بخش دے تو انہوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے اوپر اپنے کپڑے لپیٹ لیے اور ضد کی اور بہت تکبر کیا۔ میں نے پھر انہیں بلند آواز سے پکارا، پھر میں نے ظاہراً اور خفیہ طریقہ سے (بھی) انہیں سمجھایا۔ میں نے کہا تم اپنے رب سے بخشش طلب کرو، بیشک وہ بہت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر موسلا دھار بارش بھیجے گا۔ وہ مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا، وہ تمہارے لیے باغات اگائے گا اور تمہارے لیے دریا بہا دے گا۔ تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کو نہیں مانتے۔ حالانکہ اس نے تمہیں مرحلہ وار پیدا کیا ہے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے ساتھ آسمان ایک دوسرے کے اوپر بنائے۔ اور ان میں چاند کو روشن اور سورج کو چراغ بنایا۔ اور اللہ نے تمہیں ایک نوع کی روئیدگی سے اگایا۔ پھر تم کو وہ اس زمین میں لوٹائے گا اور (دوبارہ) تم کو نکالے گا۔ اور اللہ نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا۔ کہ تم اس کے کشادہ راستوں میں چلو۔ نوح نے دعا کی اے میرے رب ! انہوں نے میری نافرمانی کی اور اس کی پیروی کی جس نے ان کے مال اور اولاد میں نقصان کے سوا اور کوئی زیادتی نہیں کی۔ اور انہوں نے بہت بڑا مکر کیا۔ اور ان کافروں نے کہا تم اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو ہرگز نہ چھوڑنا۔ اور یقینا انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا اور اے میرے رب ظالموں کے لیے صرف گمراہی کو زیادہ کرنا۔ وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے غرق کیے گئے پھر آگ میں ڈال دیے گئے تو انہوں نے اللہ کے مقابلہ میں کسی کو اپنا مددگار نہ پایا۔ اور نوح نے دعا کی اے میرے رب زمین پر کوئی بسنے والا کافر نہ چھوڑ۔ اگر تو نے انہیں چھوڑا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی اولاد بھی بدکار کافر ہی ہوگی۔ اے میرے رب ! میری مغفرت فرما اور میرے ماں با کی مغفرت فرما اور جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں داخل ہوا اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کی مغفرت فرما اور ظالموں کے لیے صرف ہلاکت کو زیادہ فرما۔ (نوح : 1-28) “

حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان کا عذاب :

جب حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس طویل عرصہ تک تبلیغ کا کوئی اثر نہ ہوا اور چند نفوس کے سوا کوئی مسلمان نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو کشتی بنانے کا حکم دیا اور انہیں یہ خبر دی کہ قوم نوح پر طوفان کا عذاب آئے گا اور حضرت نوح (علیہ السلام) اور دیگر ایمان والوں کو کشتی کے ذریعے اس طوفان سے بچا لیا جائے گا۔ اس کا بیان سورة ھود کی چند آیات میں ہے۔ ان کا ترجمہ یہ ہے : 

” انہوں نے کہا اے نوح ! بیشک تم ہم سے بحث کرتے رہے ہو اور تم ہم سے بہت زیادہ بحث کرچکے ہو، پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے پاس اس عذاب کو لے آؤ جس سے تم ہم کو ڈراتے رہے ہو۔ (حضرت) نوح نے کہا : اگر اللہ چاہے گا تو وہی تمہارے پاس اس عذاب کو لائے گا اور تم (اسے) عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ اور اگر اللہ نے تمہیں گمراہی پر برقرار رکھنے کا ارادہ کرلیا ہے تو اگر میں تمہاری خیر خواہی کا ارادہ کر بھی لوں تب بھی میٰ خیر خواہی تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی، وہ تمہارا رب ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ کیا وہ (مشرکین مکہ) یہ کہتے ہیں کہ اس کلام کو خود انہوں نے گھڑ لیا ہے۔ آپ کہئے اگر (بالفرض) میں نے اس کلام کو گھڑ لیا ہے تو میرا گناہ مجھ پر ہوگا اور میں تمہارے گناہوں سے بری ہوں۔ اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ آپ کی قوم میں سے صرف وہی لوگ صاحب ایمان ہوں گے جو پہلے ہی ایمان لا چکے ہیں تو آپ ان کے کرتوتوں سے غم نہ کریں۔ اور آپ ہماری وحی کے مطابق ہماری آنکھوں کے سامنے کشتی بنائیے اور جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کی مجھ سے آپ کوئی سفارش نہ کریں وہ ضرور غرق کیے جائیں گے۔ اور نوح کشتی بنا رہے تھے اور جب بھی ان کی قوم کے (کافر) سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان کا مذاق اڑاتے، نوح نے کہا : اگر تم ہمارا مذاق اراتے ہو تو عنقریب ہم بھی تمہاری ہنسی اڑائیں گے جیسا کہ تم ہماری ہنسی اڑا رہے ہو۔ پس عنقریب تم جان لوگے کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو رسوا کرے گا اور کس پر دائمی عذاب آتا ہے۔ حتی کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا تو ہم نے کہا : (اے نوح ! ) ہر قسم سے ایک جوڑا، دو عدد (نر اور مادہ) اس کشتی میں سوار کرلو اور اپنے اہل کو (بھی) ماسوا ان کے جن کے متعلق غرقابی کا قول واقع ہوچکا ہے اور ایمان والوں کو (بھی) سوار کرلو اور جو ان پر ایمان لائے تھے وہ بہت ہی کم تھے۔ اور نوح نے کہا اس کشتی میں سوار ہوجاؤ، اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا اللہ کے سانم سے ہے، بیشک میرا رب ضرور بخشنے والا، بہت رحم فرمانے والا ہے۔ وہ کشتی ان کو پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان سے لے جا رہی تھی اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا جو ان سے الگ تھا، اے میرے بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہوجاؤ اور کافروں کے ساتھ نہ رہو۔ اس نے کہا : میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لیتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا، نوح نے کہا : آج کے دن اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہے مگر وہی بچے گا جس پر اللہ رحم رمائے گا اور ان کے درمیان ایک موج حائل ہوگئی تو وہ ڈوبنے والوں میں سے ہوگیا۔ اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان رک جا اور پانی خشک کردیا گیا اور کام پورا کردیا گیا اور کشی جودی پہاڑ پر تھہر گئی اور کہا گیا کہ ظالم لوگوں کے لیے دوری ہے۔ اور نوح نے اپنے رب کو پکار کر عرض کیا : اے میرے رب ! بیشک میرا بیٹا میرے اہل سے ہے اور یقینا تیرا وعدہ سچا ہے اور تو تمام حاکموں سے بڑا حاکم ہے۔ فرمایا اے نوح ! بیشک وہ آپ کے اہل سے نہیں ہے یقیناً اس کے کام نیک نہیں ہیں، آپ مجھ سے وہ چیز نہ مانگیں جس کا آپ کو علم نہیں، میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپ نادانوں میں سے نہ ہوجائیں۔ نوح نے کہا : اے میرے رب ! میں اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہیں اور اگر تو نے میری مغفرت نہ کی اور مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤں گا۔ فرمایا گیا : اے نوح کشتی سے اترو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ تم پر اور ان جماعتوں پر جو تمہارے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ایسی ہیں جن کو ہم (عارضی) فائدہ پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا ” (ھود :32 ۔ 48) ۔ 

طوفان نوح اور کشتی کی بعض تفاصیل : 

علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں کتنے آدمی تھے۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ یہ اسی نفر تھے۔ ان کے ساتھ ان کی عورتیں بھی تھیں۔ اور کعب احبار سے روایت ہے کہ یہ بہتر (72) نفس تھے۔ حضرت نوح کی بیوی جو ان کی کل اولاد حام، سام، یافث اور یام کی ماں تھیں، اور یام کو اہل کتاب کنعان کہتے ہیں اور یہی غرق ہوگیا تھا حضرت نوح کی بیوی بھی غرق ہونے والوں کے ساتھ غرق ہوگئی تھی کیونکہ وہ کافرہ تھی۔ 

مفسرین کی ایک جماعت نے بیان کیا ہے کہ یہ طوفان زمین کے پہاڑوں سے پندرہ ذراع (ساڑھے بائیس فٹ) تک بلند ہوگیا تھا اور یہ طوفان تمام روئے زمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں بچی تھی جہاں پر یہ طوفان نہ آیا ہو۔ 

قتادہ وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے متبعین دس رجب کو کشتی میں سوار ہوئے تھے وہ ایک سو پچاس دن تک سفر کرتے رہے اور دس محرم کو وہ کشتی سے باہر آئے اور اس دن انہوں نے روزہ رکھا۔ امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ روایت یا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہود کے پا سے گزر ہوا انہوں نے دس محرم کو روزہ رکھا ہوا تھا۔ آپ نے پوچھا یہ کیسا روزہ ہے ؟ انہوں نے کہا اس دن اللہ نے حضرت موسیٰ اور بنو اسرائیل کو غرق سے نجات دی تھی اور اسی دن جودی پر کشتی ٹھہری تھی تو حضرت نوح اور حضرت موسیٰ (علیہما السلام) نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے روزہ رکھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حضرت موسیٰ اور اس روزے کے تمہاری بہ نسبت ہم زیادہ حقدار ہیں۔

امام ابن اسحاق نے کہا کہ اہل کتاب نے ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح سے فرایا تم لوگ کشتی سے اترو اور ان تمام جانوروں کو اتارو جو تمہارے ساتھ ہیں۔ بعض جاہل فارسیوں نے اور اہل ہند نے وقوع طوفان کا انکار کیا اور بعض نے اقرار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ طوفان ارض بابل (عراق) میں آیا تھا یہ بےدین مجوسیوں کا قول ہے ورنہ تمام اہل ادیان کا اس پر اتفاق ہے اور تمام رسولوں سے منقول ہے اور تواتر سے ثابت ہے کہ طوفان آیا تھا اور یہ تمام روئے زمین پر چھا گیا تھا۔ 

حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر : اہل کتاب کا قول یہ ہے کہ جس وقت حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی میں سوار ہوئے تھے اس وقت ان کی عمر چھ سو سال تھی اور حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ وہ اس کے بعد تین سو پچاس سال زندہ رہے لیکن اس پر یہ اعتراض ہے کہ قرآن مجید میں یہ تصریح ہے کہ وہ بعثت کے بعد اپنی قوم میں نو سو پچاس سال تک رہے۔ پھر اس کے بعد ان ظالموں پر طوفان آیا۔ پھر اللہ جانتا ہے کہ وہ طوفان آنے کے بعد کتنا عرصہ زندہ رہے۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ چوراستی سال کی عمر میں ان کی بعثت ہوئی اور طوفان کے بعد وہ ساڑھے تین سو سال زندہ رہے اس حساب سے ان کی عمر ایک ہزار سات سو اسی سال ہے۔ 

امام ابن جریر، امام ازرقی اور دیگر مورخین نے کہا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قبر مسجد حرام میں ہے اور یہ قوی قول ہے۔ (البدایہ والنہایہ، ج 1، ص 100 ۔ 120، ملخصاً ، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

بعض محققین نے لکھا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم اس علاقہ میں رہتی تھی جو آج دنیا میں عراق کے نام سے مشہور ہے اور اس کی جائے وقوع موصل کے نواح میں ہے اور جو روایات کردستان اور آرمینیہ میں زمانہ قدیم سے تواتر کے ساتھ منقول ہیں ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ طوفان کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی اسی علاقہ میں کسی مقام پر ٹھہری تھی۔

قصہ نوح نازل کرنے کے فوائد :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ وہ آسمان سے بارش نازل فرما کر مردہ زمین کو زندہ فرماتا ہے اور اس آسمانی بارش کی وجہ سے زمین میں روئیدگی ہوتی ہے جو انسانوں کی مادی حیات کا سبب ہے۔ اور اب اس آیت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا ذکر ہے جو سب سے پہلے رسول ہیں جن کو انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا اور رسولوں کا بھیجنا انسانوں کی روحانی حیات کا سبب ہے اور جس طرح مادی حیات انسانوں کے لیے نعمت ہے اسی طرح روحانی حیات بھی انسانوں کے لیے نعمت ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ نازل کرکے حسب ذیل امور پر تنبیہ کی گئی ہے۔ 

1 ۔ اس قصہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے کہ مشرکین مکہ جو آپ کے کھلے ہوئے معجزات اور روشن دلائل کو دیکھنے کے باوجود ایمان نہیں لاتے تو آپ اس سے ملول خاطر نہ ہوں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس کائنات میں جب سب سے پہلے رسول آئے تو ان کے دلائل اور معجزات دیکھنے کے باوجود ان کی قوم ان پر ایمان نہیں لائی تھی اور ہمیشہ سے رسولوں کے ساتھ یہی ہوتا رہا ہے۔ 

2 ۔ اس قصہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ منکرین کا انجام بالآخر عذاب الٰہی میں مبتلا ہونا ہے اور یہ دنیا میں ان کا حصہ ہے اور آخرت میں ان کو دائمی عذاب ہوگا اور مومنین کو اللہ تعالیٰ دنیا میں بالآخر سرفرازی اور آخرت میں سرخروئی عطا فرماتا ہے۔ 

3 ۔ اس قصہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ دنیا میں کافروں کو لمبے عرصہ تک ڈھیل دیتا ہے، لیکن بالآخر ان کو اچانک اپنی گرفت میں لے لیتا ہے تو کافر اس ڈھیل سے مغرور اور مومن اس سے ملول نہ ہوں۔

4 ۔ یہ قصہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صداقت پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ آپ امی تھے آپ نے کسی استاذ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا تھا نہ کسی کتاب کا مطالعہ کیا تھا اور جب آپ نے یہ قصہ ٹھیک ٹھیک بیان کردیا تو واضح ہوگیا کہ آپ اس قصہ پر صرف اللہ تعالیٰ کی وحی سے مطلع ہوئے تھے اور وحی صرف نبی پر ہوتی ہے اس سے ثابت ہوا کہ آپ کی نبوت برحق تھی۔ 

اللہ تعالیٰ کے مستحق عابدت ہونے پر دلیل : 

اس آیت میں تین چیزیں مذکور ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہاری عبادت کا کوئی مستحق نہیں ہے، مجھے تم پر عطیم دن کے عذاب کا خوف ہے۔ 

حضرت نوح (علیہ السلام) نے پہلے اپنی قوم کو عبادت کا حکم دیا پھر اس کی دلیل ذکر فرمائی کہ وہی تمہاری عبادت کا مستحق ہے۔ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے کیونکہ ان کو دنیا میں جو نعمتیں حاصل ہوئیں وہ سب اللہ نے عطا فرمائیں، ہر نعمت کو عطا فرمانے والا اور ہر مصیبت کو دور کرنے والا وہی ہے، اس کے سوا کوئی نہیں ہے تو پھر وہی عبادت کا مستحق ہے سو تم اسی کی عبادت کرو۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے محسن کی تعظیم اور تکریم کرتا ہے، اس کی تعریف کرتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ سب سے بڑا اور حقیقی محسن اللہ تعالیٰ ہے تو پھر وہی عبادت کا مستحق ہے اور اسی کی عبادت کرنے کا حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو حکم دیا۔

اس کے بعد فرمایا : مجھے تم پر عطیم دن کے عذاب کا خوف ہے۔ اس خوف سے مراد یقین ہے یا ظن۔ اگر اس سے مراد یقین ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی ان پر عذاب نازل فرمائے گا اور آخرت میں بھی ان کو عذاب ہوگا۔ اور اگر خوف بمعنی ظن ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو غالب گمان تو یہ تھا کہ یہ منکرین اپنے انکار اور کفر پر ڈٹے رہیں گے اور لامحالہ ان پر عذاب آئے گا لیکن ایک مرجوح امکان یہ بھی تھا کہ یہ سب لوگ ایمان لے آئیں اور ان پر جو عذاب متوقع ہے وہ ٹل جائے۔ اس لیے فرمایا مجھے تم پر عذاب کا خوف ہے۔ 

اس عذاب سے مراد عذاب طوفان بھی ہوسکتا ہے اور عذاب قیامت بھی اور چونکہ نوح (علیہ السلام) نے عظیم دن کا عذاب فرمایا ہے تو اس سے ہبہ ظاہر قیامت کے دن کا عذاب مراد ہے۔ کیونکہ عظیم دن سے قیامت کا دن ہی متبادر ہوتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 59