منقبت

ملی رب سے ایسی تم کو ،ہے شان غوث اعظم

سبھی اولیاء کے تم ہو سلطان غوث اعظم

مری فکر و آگہی کو ملے معرفت خدا کی

تیرے در سے بٹ رہاہے عرفان غوث اعظم

نکل آیا حکم پاکے ڈوبا ہوا سفینہ

کہ کلام حق کا مظہر ہے زبان غوث اعظم

تیری نسبتوں سے کامل، ایماں ہے دوجہاں کا

میرے دل میں بھی نصب ہو، وہ نشان غوث اعظم

آغوشِ والدہ میں کِیا مطمئن جہاں کو

کہ تمہیں سے طے ہوا ہے رمضان غوث اعظم

تیرے ذکر سے بلندی، ملی ہے جہاں میںسب کو

تیرا ذکر یادِ حق کا، ہے نشان غوث اعظم

مرے دل میں بھی سمائے وہ کتابِ حق خدارا!

جو شکم میں تونے سیکھا وہ قرآن غوث اعظم

سر ِ حشر جرم اکدم کُھلے آہ …جب رفیع ؔکے

تو بچانے کام آئی ہے زبانِ غوث اعظم

………{مولانا رفیع الدین صاحب ( نگراں سنی دعوت اسلامی پربھنی)