أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالۡبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخۡرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذۡنِ رَبِّهٖ ‌ۚ وَالَّذِىۡ خَبُثَ لَا يَخۡرُجُ اِلَّا نَكِدًا ‌ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّشۡكُرُوۡنَ۞

ترجمہ:

جو اچھی زمین ہوتی ہے وہ اپنے رب کے حکم سے اپنی پیداوار نکالتی ہے اور جو خراب زمین ہوتی ہے اس کی پیداوار صرف تھوڑی سی نکلتی ہے، ہم شکر کرنے والوں کے لیے اسی طرح بار بار آیات کو بیان کرتے ہیں ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو اچھی زمین ہوتی ہے وہ اپنے رب کے حکم سے پیداوار نکالتی ہے اور جو خراب زمین ہوتی ہے اس کی پیداوار صرف تھوڑی سی نکلتی ہے، ہم شکر کرنے والوں کے لیے اسی طرح بار بار آیات کو بیان کرتے ہیں۔ (الاعراف : 58)

اچھی اور خراب زمینوں میں مسلمانوں اور کافروں کی مثال : اللہ تعالیٰ نے مومن اور کافر کے لیے یہ مثال بیان فرمائی ہے۔ مومن کی مثال اچھی زمین ہے اور کافر کی مثال خراب زمین ہے اور نزول قرآن کی مثال بارش ہے۔ سو جس طرح اچھی زمین پر بارش ہو تو اس سے سبزہ، پھل، پھول اور غلہ پیدا ہوتا ہے، اسی طرح وہ پاکیزہ روحیں جو جہالت اور برے اخلاق سے مبرا اور منزہ ہوتی ہیں، جب وہ نور قرآن سے مزین ہوجاتی ہیں، تو ان سے عبادات معارف اور اخلاق حمیدہ ظاہر ہوتے ہیں اور جس طرح خراب زمین پر بارش ہو تو اس سے کم پیداوار ہوتی ہے، اسی طرح جب خراب روحوں پر قرآن پاک کی تلاوت کی جائے تو ان سے بہت کم معارف الہیہ اور اخلاق حمیدہ ظاہر ہوتے ہیں۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوموسی اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے جو ہدایت اور علم دے کر بھیجا ہے، اس کی مثال اس کثیر بارش کی طرح ہے جو زمین پر برستی ہو۔ ان زمینوں میں سے بعض صاف ہوتی ہیں جو بہت زیادہ خشک اور تر گھاس اگاتی ہیں اور بعض زمینیں سخت ہوتی ہیں وہ پانی کو روک لیتی ہیں۔ اللہ اس زمین سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ وہ اس سے پانی پیتے ہیں۔ اپنے جانوروں کو پلاتے ہیں اور کھیتی باڑی کرتے ہیں اور بعض زمینیں ہموار اور چکنی ہوتی ہیں وہ پانی کو روکتی ہیں نہ گھاس کو اگاتی ہیں۔ پس یہ مثال اس شخص کی ہے جو اللہ کے دین کی فہم حاصل کرتا ہے۔ اور اللہ نے مجھے جو دین دے کر بھیجا ہے وہ اس کو نفع دیتا ہے۔ پس وہ علم حاصل کرتا ہے اور لوگوں کو تعلیم دیتا ہے۔ اور اس شخص کی مثال ہے جو اس دین کی طرف بالکل توجہ نہیں کرتا اور اس ہدایت کو قبول نہیں کرتا جس کے ساتھ مجھے مبعوث کیا گیا ہے۔ (صحیح البخاری، رقم الھدیث : 79 ۔ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1412 ھ)

وحی الٰہی اور دین اسلام کی مثال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بارش سے دی ہے اور فقہاء کی مثال اس زمین سے دی ہے جو بارش سے سیراب ہونے کے بعد سبزہ اگاتی ہیں اور لوگ اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح فقہاء آپ کی احادیث سے مسائل نکالتے ہیں اور لوگ ان سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور محدثین کی مثال اس زمین سے دی ہے جو اپنے اندر پانی جمع کرلیتی ہے اور لوگ اس پانی سے فائدہ حاصل کرتے ہیں، اسی طرح محدثین احادیث کو جمع کرتے ہیں اور لوگ ان سے فیض یاب ہوتے ہیں اور کفار اور منافقین کی مثال اس زمین سے دی ہے جو بارش سے نہ خود فائدہ اٹھاتی ہے نہ لوگوں کو اس سے فائدہ پہنچتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 58