أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّنۡكُمۡ لِيُنۡذِرَكُمۡ وَلِتَـتَّقُوۡا وَلَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا تمہیں اس پر تعجب ہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے تم ہی میں سے ایک مرد کے ذریعہ ایک نصیحت آئی ہے تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تم متقی ہوجاؤ اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” کیا تمہیں اس پر تعجب ہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے تم ہی میں سے ایک مرد کے ذریعہ ایک نصیحت آئی ہے تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تم متقی ہوجاؤ اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ تو انہوں نے ان کی تکذیب کی پس ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں تھے (ان سب کو) نجات دے دی اور ان لوگوں کو غرق کدیا جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا، بیشک وہ اندھے لوگ تھے “

حضرت نوح (علیہ السلام) کی رسالت پر قوم نوح کے استبعاد اور تعجب کی وجوہات :

حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم اپنی جنس میں سے ایک انسان کے رسول بنانے کو مستبعد خیال کرتی تھی اور اس پر تعجب کرتی تھی۔ ان کے اس استبعاد اور تعجب کی حسب ذیل وجوہات ہوسکتی ہیں : 

1 ۔ رسول بھیجنے کا مقصد چند احکام کا مکلف کرنا ہے اور اس تکلیف سے اللہ کو کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ نفع اور ضرر سے پاک ہے اور نہ بندہ کو اس سے کوئی فائدہ ہے کیونکہ ان احکام کی وجہ سے وہ اس دنیا میں مشقت میں مبتلا ہوتا ہے اور ان احکام پر عمل کرنے کی وجہ سے آخرت میں ثواب کا حصول متوقع ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ان احکام کا مکلف کیے بغیر بھی اس ثواب کو پہنچانے پر قادر ہے تو پھر ان احکام کا مکلف کرنا عبث ہوگا اور اللہ تعالیٰ عبث کام سے پاک ہے لہذا کسی رسول کی بعثت باطل ہوگئی۔ کیونکہ رسول صرف احکام پہنچانے کے لیے مبعوث کیا جاتا ہے۔ 

2 ۔ اگر احکام کے مکلف کیے جانے کو مان بھی لیا جائے تو تب بھی رسول کا بھیجنا غیر ضروری ہے کیونکہ رسول اچھے کاموں کا حکم دے گا اور برے کاموں سے روکے گا اور اچھائی اور برائی کے ادراک کے لیے عقل کافی ہے سو جو کام عقل کے نزدیک اچھا ہوگا اس کو ہم کریں گے اور جو برا ہوگا اس کو ترک کردیں گے پھر کسی رسول کو بھیجنے کی کیا ضرورت ہے !

3 ۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ رسول کا بھیجنا ضروری ہے تو پھر کسی فرشتے کو بھیجنا چاہیے، کیونکہ ان کی ہیبت زیادہ سخت ہوگی اور ان کی پاکیزگی زیادہ اکمل ہوگی، ان کا کھانے پینے سے مستغنی ہونا معلوم ہے اور ان کا گناہوں سے معصوم ہونا اور جھوٹ سے دور ہونا متحقق ہے۔ 

4 ۔ اور اگر یہ مان لیا جائے کہ کسی بشر کو رسول بنایا جائے تو اس بشر کو رسول بنانا چاہیے جو معاشرہ میں اپنی دولت اور حکومت کی وجہ سے معزز ہو جس کی لوگوں کے دلوں میں عزت ہو اور اس کا رعب اور دبدبہ ہو، جبکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس مال تھا نہ حکومت۔ 

ان وجوہات کی بناء پر حضرت نوح (علیہ السلام) کے دعوی نبوت اور رسالت پر ان کی قوم کو تعجب ہوتا تھا اور وہ ان کے رسول ہونے کو مستبعد گردانتے تھے۔ اور جن باتوں کو حضرت نوح وحی کہتے تھے، وہ ان کو حضرت نوح کے دماغ کی خرابی (العیاذ باللہ) خیال کرتے تھے اس لیے کہتے تھے کہ تم کھلی گمراہی میں ہو۔ 

قوم نوح کے استبعاد اور تعجب کا ازالہ : 

حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کے اس تعجب اور انکار کو زائل کیا بایں طور کہ اللہ کو کسی کی نیکی سے فائدہ اور کسی کی برائی سے کوئی نقصان نہیں لیکن ان اللہ نے ان لوگوں کو سخت احکام کا مکلف کیا تاکہ اس کے حکم پر عمل کرنے والوں کو ثواب اور نافرمانی کرنے والوں کو عذاب ہو اور اس سے اس کا فضل اور عدل ظاہر ہوگا۔ وہ رحیم و کریم بھی ہے اور قہر و غضب کرنے والا بھی ہے اور ان احکام کی تکلیف اور رسولوں کی بعثت سے اس کی ان صفات کا ظہور ہوگا۔ عقل تمام احکام کے حسن اور قبح کا ادراک نہیں کرسکتی اور عقل یہ معلوم نہیں کرسکتی کہ اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر کس طرح ادا کیا جائے، نماز، روزہ، زکوۃ اور حج کی ادائیگی کے اوقات اور طریقوں کو محض عقل سے نہیں جانا جاسکتا۔ اس لیے ضروری تھا کہ اللہ اپنا کوئی رسول بھیجے جو بندوں کو یہ بتائے کہ اللہ کس فعل سے راضی اور کس فعل سے ناراض ہوتا ہے اور اگر اللہ فرشتہ کو رسول بنا دیتا تو لوگ اس سے کیسے استفادہ کرتے وہ اس کو دیکھ سکتے تھے نہ اس کا کلام سن سکتے تھے اور چونکہ فرشتہ اور انسان الگ الگ جنس سے ہیں تو فرشتہ کے افعال انسانوں کے لیے نمونہ اور حجت نہ ہتے، اور رہا یہ کہ اللہ نے کسی تونگر اور حاکم کو رسول نہیں بنایا بلکہ ایک نادار شخص کو رسول بنایا تو اس میں اللہ کی حکمتیں ہیں کیونکہ جو شخص مشاعرہ میں ذی اقتدار ہو لوگ اسے رسول تو کیا خدا بھی مان لیتے ہیں۔ جیسے فرعون اور نمرود کو لوگوں نے خدا مان لیا تھا۔ اللہ یہ چاہتا تھا کہ لوگ دولت اور حکومت کی طاقت کی بناء پر اس کی وحدانیت کو نہ مانیں بلکہ علم اور حکمت کی بناء پر اور دلائل اور معجزات کی قوت سے اللہ کی وحدانیت کو مانیں۔ اس لیے اس نے ایک انسان کو رسالت کے لیے منتخب کیا اور اس میں یہ قوت اور صلاحیت رکھی کہ وہ اللہ سے وحی حاصل کرسکے اور مخلوق کو پہنچا سکے۔ اس کا غیب اور شہادت دونوں سے رابطہ ہو وہ بذریعہ وحی اللہ کے عذاب پر مطلع ہو کر لوگوں کو اس سے ڈرائے اور ان کو ایمان لانے اور نیک عمل کرنے کی ترغیب دے تاکہ ان پر رحم کیا جائے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کو طوفان سے نجات دے دی اور منکرین اور مکذبین کو غرق کردیا کیونکہ ان کے دل توحید، نبوت، احکام شرعیہ اور آخرت کو ماننے سے اندھے بن گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” قد جاء کم بصائر من ربکم فمن ابصر فلنفسہ و من عمی فعلیہا : بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ہدایات کی روشن نشانیاں آگئیں تو جس نے (ان کو) آنکھٰں کھول کر دیکھ لیا تو اس میں اسی کا فائدہ ہے اور جو اندھا بنا رہا تو اس میں اسی کا فائدہ ہے اور جو اندھا بنا رہا تو اس میں اسی کا نقصان ہے ” (الانعام :104)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 63