حدیث نمبر :645

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ خیبر سے لوٹے ۱؎ تو رات بھرچلتے رہے جب آپ کونیند آنے لگی تو آخر رات میں اترے اوربلال سے فرمایا کہ رات میں ہماری حفاظت کرو ۲؎ حضرت بلال سے جس قدر ہوسکانماز پڑھتے رہے۳؎ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سو گئے پھرجب صبح قریب ہوئی تو حضرت بلال نے مشرق کی طرف منہ کرکے اپنی سواری سے ٹیک لگائی سواری سے ٹیک لگائے ان کی آنکھ لگ گئی ۴؎ پھر نہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بیدارہوئے اور نہ بلال نہ کوئی صحابی حتی کہ انہیں دھوپ لگی ۵؎ ان سب سے پہلے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے اور فرمایااے بلال ۶؎ تب حضرت بلال بولے کہ میرے نفس کو وہ ہی لے گیا جو آپ کے نفس مبارک کو لے گیا ۷؎ فرمایا ہانکو صحابہ نے اپنی سواریاں کچھ ہانکیں۸؎ پھررسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوکیا اورحضرت بلال کو حکم دیا انہوں نے نماز کی تکبیر کہی پھر ان سب کو فجر پڑھائی جب نماز پوری کرچکے تو فرمایا کہ جو نماز بھول جائے تو یاد آنے پر پڑھ لے۔اﷲ تعالٰی فرماتا ہے کہ میری یاد پر نماز قائم کرو ۹؎ (مسلم)

شرح

۱؎ مدینہ منورہ کی طرف یہ غزوہ محرم ۷ھ ؁میں ہوا،قریبًا ۱۷ دن مسلمانوں نے خیبر کامحاصرہ کیا،اﷲ نے شاندارفتح عطا فرمائی۔خیبر مدینہ پاک سے ۳منزل ہے۔

۲؎ اس رات کا نام”لیلۂتعریس”ہے اور اس واقعہ کا نام”واقعۂتعریس”ہے۔تعریس کے معنی ہیں آخر رات میں آرام کے لیے اترنا۔اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کو اپنے خدام سے خدمت لینا جائز ہے،نیز بندوں سے اپنی حفاظت کرانا تو کل کے خلاف نہیں۔

۳؎ یعنی جتنے نوافل آج رات ان کے مقدر میں لکھے تھے اورجن پروہ قادرتھے پڑھے۔

۴؎ یعنی انکی نیت سونے کی نہ تھی بلکہ بیٹھ کرطلوع فجر دیکھنے کا ارادہ تھا اسی لیے آپ لیٹے نہیں بلکہ بیٹھے رہے اورمنہ بھی مشرق کی طرف رکھا مگر ہونے والی بات کہ بے اختیارسو گئے،لہذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آپ نے سرکاری فرمان کی مخالفت کی۔

۵؎ یعنی دھوپ کی گرمی سے بیدارہوئے۔خیال رہے کہ حضور کی آنکھ سوتی تھی دل بیدار رہتا تھا مگرسویرا،اندھیرا،اجیالا دیکھنا آنکھ کا کام ہے نہ دل کا،لہذا یہ واقعہ اس حدیث کے خلاف نہیں۔خیال رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نیند غفلت پیدا نہیں کرتی اسی لیے نیند سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا وضونہیں ٹوٹتا۔آج نماز کی قضا غفلت سے نہ ہوئی بلکہ رب نے اپنے پیارے کو اپنی طرف متوجہ کرلیا اور ادھرسے توجہ ہٹا لی تاکہ امت کو قضاءپڑھنے کے احکام معلوم ہوجائیں،لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔

۶؎ تم نے یہ کیا کیا ہمیں نماز کے وقت جگایا کیوں نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ نمازقضا ہونے پرگھبرا جانا بھی سنت وعبادت ہے جس پربڑاثواب ملتاہے۔

۷؎ یعنی جس حکمت والے رب نے آپ کو اس وقت جاگنے نہ دیا اسی نے مجھے سلادیا،اس کلام میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے”اَللہُ یَتَوَفَّی الْاَنۡفُسَ حِیۡنَ مَوْتِہَا وَ الَّتِیۡ لَمْ تَمُتْ فِیۡ مَنَامِہَا”۔سبحان اﷲ! کیا مبارک جواب ہے یعنی ہمارا یہ سوتا رہ جانا شیطانی یانفسانی نہیں بلکہ رحمانی ہے جس میں مصلحت ایمانی و اسلامی ہے۔

۸؎ یعنی اس جنگل سے چلو نماز آگے پڑھیں گے کیونکہ ابھی سورج طلوع ہورہا تھا نماز جائز نہ تھی کچھ دور جانے میں قدرے سفربھی طے ہوجائے گا اوروقت کراہت بھی نکل جائے گا،عرب میں ٹھنڈے وقت سفر کرتے ہیں۔خیال رہے کہ آفتاب چمکنے کے بیس منٹ بعدنمازجائز ہوتی ہے۔یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ سورج نکلتے وقت نہ فرض نماز جائز نہ نفل۔امام شافعی کے ہاں اس وقت فجرکی قضاءجائزہے۔

۹؎ یعنی بے اختیاری حالت میں نمازقضاءہوجانے پر گناہ نہیں۔خیال رہے کہ یہاں نماز کی اذان بھی کہی گئی اور تکبیربھی سنتیں بھی پڑھی گئیں اورجماعت سے نمازبھی،لہذا اس حدیث سے بہت سے فقہی مسائل حل ہوئے۔