باب فیہ فصلان 

باب اس میں دوفصلیں ہیں ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ چونکہ اس باب میں اذان کے متعلق مختلف مضامین کی احادیث آئیں گی اس لئے مصنف نے اس باب کا ترجمہ مقررنہ کیا۔

حدیث نمبر :641

روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بلال رات میں اذان دیتے ہیں تم کھاتے پیتے رہو ۱؎ حتی کہ ابن ام مکتوم اذان دیں فرماتے ہیں کہ ابن ام مکتوم نابینا شخص تھے اذان نہ کہتے حتی کہ ان سے کہا جاتا صبح ہوگئی صبح ہوگئی۲؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ غالبًا ہمیشہ صبح کی دو اذانیں ہوا کرتی تھیں ایک تہجداورسحری کے لئے،دوسری نماز فجرکے لئے،پہلی اذان سیدنابلال دیتے تھے اوردوسری اذان سیدنا ابن ام مکتوم۔اب بھی مدینہ منورہ میں تہجد کی اذان ہوتی ہے چونکہ ان دونوں اذانوں کی آوازوں اورطریقۂ ادا میں فرق ہوتا تھا اس لیے لوگوں کو اشتباہ نہ ہوتا تھا۔

۲؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اذان صرف نماز کے لئے خاص نہیں اور مقاصد کے لیے بھی ہوسکتی ہے۔دیکھو سیدنا بلال کی یہ اذان سحری کو جگانے کے لئے ہوتی تھی۔دوسرے یہ کہ فجریا دیگر اذانیں اگروقت سے پہلے ہوجائیں تو وقت میں کہنی پڑیں گی۔دیکھوسیدنا بلال کی اذان پر اکتفا نہ کی گئی،امام اعظم کا یہی مذہب ہے۔امام شافعی کے ہاں اذان فجروقت سے پہلے بھی جائزہے،اسی حدیث کی بناءپر مگر یہ دلیل کمزور ہے ورنہ دوبارہ اذان کی کیا ضرورت تھی۔تیسرے یہ کہ نابینا کو اذان کے لیےمقررکرسکتے ہیں جب کہ اسے وقت بتانے والاکوئی ہو۔چوتھے یہ کہ ایک مسجدمیں دو یا زیادہ مؤذن ہوسکتے ہیں۔پانچویں یہ کہ سحری کو جگانے کے لیے اذان دینا جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے مگر یہ جب ہوگا جب لوگ اس اذان سے شبہ میں نہ پڑجائیں ورنہ ہرگز نہ دی جائے۔ہمارے ملک میں اذان صبح صادق کی علامت ہے اگریہاں سحری کی اذان دی گئی تو کوئی فجر کے شبہ میں سحری نہ کھا سکے گایاکوئی دوسری اذان کوپہلی سمجھ کردن میں کھاکر روزہ خراب کرلیگا اس لیے اب ہرگز اس پرعمل نہ کیا جائے۔بہت سی چیزیں عہدصحابہ میں درست تھیں،اب ممنوع ہیں۔دیکھو اُس زمانہ میں جوتا پہن کرمسجد میں آنا اورمع جوتے نماز پڑھنا مروج تھا اب ممنوع ہے۔پختہ مکان بنانے منع تھے،اب جائز ہے۔کھیتی باڑی سے لوگوں کوروکا گیاتھا اب ضروری ہے۔زکوۃ کے مصرف آٹھ تھے اب سات ہیں۔حالات بدل جانے سے ہنگامی احکام بدل جاتے ہیں۔