علم اصول حدیث

تعریف :۔ ایسے قواعدکا علم جس کے ذریعہ سند و متن کے وہ احوال معلوم ہوں جن سے حدیث کے مقبول و مردود ہونے کا فیصلہ ہو سکے ۔

موضوع ۔ سند و متن بحیثیت ردو قبول ۔

اس کے تحت حسب ذیل مباحث خاص اہمیت کے حامل ہیں ۔

۱۔ نقل حدیث کی کیفیت و صورت ۔ نیز یہ کہ وہ کس کا فعل وتقریر ہے ۔

۲۔ نقل حدیث کے شرائط۔ ساتھ ہی یہ بھی کہ نقل کی کیا کیفیت رہی ۔

۳۔ اقسام حدیث باعتبار سند و متن ۔

۴۔ احکام اقسام حدیث ۔

۵۔ احوال راویان حدیث ۔

۶۔ شرائط راویان حدیث ۔

۷۔ مصنفات حدیث ۔

۸۔ اصطلاحات فن ۔

غایت ۔حدیث مقبول کا مردود سے امتیاز ۔

اس علم کے اصول و قواعد کا بعض حصہ تو قرآن و حدیث سے مستنبط ہے ۔حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عہد پاک اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے قرن خیر میںبھی اس پر عمل رہا ہے ۔

مثلاً ارشاد باری تعالیٰ ہے: ۔

یاایہا الذین اٰمنوا ان جاء کم فاسق بنبأ فتبینوا ۔ (القرآن الکریم)

نیز اللہ کے رسولصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :۔

نضر اللہ عبدا سمع مقالتی فوعاہا ثم بلغہا عنی ، فرب حامل فقہ غیر فقیہ ، فرب حامل فقہ الی من ہو افقہ منہ ۔ (السنن لا بن ماجہ باب من بلغ معلما ۱/۲)

اللہ تعالیٰ اس بندے کو خوش رکھے جس نے میری حدیث سن کر محفوظ کی ، پھر اسے دوسروں تک پہونچایا ، کیونکہ بہت لوگ فقہ کی باتیں جانتے ہیں لیکن خود فقیہ نہیں ہوتے ، اور بہت لوگ وہ ہیں کہ دوسروں سے بیان کرتے ہیں جو زیادہ فقیہ ہوتے ہیں۔

لہذا نقل و روایت کا کام عہد رسالت ہی میں شروع ہو چکا تھاجیسا کہ آپ پڑھ چکے ۔ البتہ باقاعدہ علم و فن کی حیثیت ا س نے بعد میں اختیار کی جیسا کہ دوسرے علوم و فنون کے ساتھ ہوا ۔

یہی وجہ ہے کہ حضرات صحابہ و تابعین بالعموم سند سے سوال نہیں کرتے تھے جیسا کہ ابن سیرین نے فرمایا ۔مگر جب دور فتن آیا اور جعلی اقوال حضورکی طرف منسوب کئے جانے لگے تو اب ضرورت پیش آئی کہ سند سے بھی تعرض کیا جائے اور احوال رواۃ کی چھان بین ہو ۔لہذا اہل علم و عمل ، صاحب تقوی و طہارت اور سب سے بڑھکر اہل سنت کی روایت کو قبول کیا جانے لگا اور باقی پر جرح و تنقید شروع ہوئی یہاں تک کہ ناقلین حدیث کے اخلاق وکردار ، عادات واطوار، اور سوانح و سیرت سے بحث کی جانے لگی، آخر کار وہ علوم و فنون سامنے آئے جن سے رواۃ کے حالات زندگی ،علمی مقام و مرتبہ اور مذہب و مسلک کا تعین کیا جا سکے ، ان کی مددسے حدیث کے اتصال و انقطاع، ارسال و تدلیس وغیرہ کی اصطلاحات وضع کی گئیں پھر مزید توسیع و وضاحت کے ساتھ تحصیل و نقل کی صورتیں ، شرائط و آداب روایت کو بیان کیا جانے لگا امت مسلمہ کے محققین نے اس بارے میں خوب خوب تحقیقات کیں ، لیکن یہ تمام تفصیلات اولاً زبانی اور مجلسوں کی بحث و تکرار تک ہی محدود تھیں ۔ اور دوسری صدی کے نصف تک ان تمام اصول و قواعد کو سیکھنے سکھانے کا کام اپنی اپنی یادداشت سے لیا جاتا تھا ۔تحریر و کتابت کے ذریعہ مدون اور ضبط کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی گئی، البتہ دوسرے علوم مثلاً حدیث وفقہ اور اصول فقہ کی کتابوں کے ضمن میں انکو بیان کیا جاتا تھا ، دوسری اور تیسری صدی میں یہ ہی طریقہ رائج رہا ، پھر جیسے جیسے سلطنت اسلامیہ میں توسیع ہوتی جاتی علوم اسلامیہ میں بھی وسعت کے سامان پیداہوتے ؎جاتے تھے آخرکار اس علم اصول حدیث پر بھی مستقل کتابیں تصنیف کی

جانے لگیں ۔

سب سے پہلی کتاب اس فن میں مستقل قاضی ابو محمد حسن بن عبد الرحمن رامہرمزی

متوفی ۳۶۰ھ نے بنام ’’ المحدث الفاضل بین الراوی والواعی‘‘ تصنیف کی ۔ (الحدیث و المحدثون ۴۹۰)

اسکے بعد علماء اور ائمہ نے اس فن پر خوب خوب طبع آزمائی کی اور متون وشروح اور حواشی کا سلسلہ چل پڑا جو تاہنوز جاری ہے ۔

اس فن کی ایجاد کا سہرا حضرات صحابہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ، حضرت انس بن مالک ، اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کے سر بندھتا ہے ۔

پھر اکابر تابعین میں انہیں کی اتباع میں اسکو آگے بڑھانے والے امام عامر شعبی ، سعید بن مسیب ، ابن سیرین ، امام زہری ، امام عمر و بن حزم اور اصاعز تابعین میں امام شعبہ ، امام اعمش ، امام اعظم ابو حنیفہ اور امام معمرہیں ۔ انکے بعد امام مالک، امام ابن مبارک ،ابن عیینہ ، یحیی بن سعید قطان ،علی بن مدینی ، ابن معین ، احمد بن حنبل،سفیان ثوری ، ۔پھر امام بخاری ، امام مسلم،امام ابو زرعہ رازی ، ابو حاتم اور امام ترمذی و امام نسائی وغیرہ ہیں ۔

اس فن میں لکھی جانے والی کتابوں کی مختصر فہرست یوں ہے ۔

۱۔ المحدث الفاصل بین الراوی والواعی لا بی محمدحسنالرامہرمزی ۔ م۲۶۰

۲۔ معرفۃ علوم الحدیث لا بی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم النیشابوری ، م۴۰۵

۳۔ المستخرج علی معرفۃ علوم الحدیث لا بی نعیم احمدا لا صبحانی ، م۴۳۰

۴۔ الکفایۃ فی علم الروایۃ لا بی بکر احمد الخطیب البغدادی ، م ۴۶۳

۵۔ الالماع الی معرفۃ اصول الروایۃ و تقیید السماع للقاضی عیاض، م۵۴۴

۶۔ مالایسع المحدث جہلہ لا حفص عمر المیانجی م ۵۸۰

۷۔ علوم الحدیث المعروف بمقدمۃ ابن الصلاح لا بی عمر و عثمان الشہرزوری ، م۶۶۳

۸۔ التقریب والتیسیر لمعرفۃ سنن البشیر والنذیر لمحی الدین یحی النووی، م ۶۷۶

۹۔ تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی لعبد الرحمن جلال الدین السیوطی ،م۹۱۱

۱۰۔ نظم الدر ر فی علم الاثر لعبد الرحیم زین الدین العراقی ، م ۸۰۶

۱۱۔ فتح المغیث فی شرح الفیۃ الحدیث لمحمد بن عبد الرحمن السخاوی ، م ۹۰۲

۱۲۔ نخبۃ الفکر فی مصطلح اہل الاثر لا بن حجر العسقلانی ، م ۸۵۲

۱۳۔ نزہۃ النظر فی شرح نخبۃ الفکر لا بن حجر العسقلانی ، م ۸۵۲

۱۴۔ امعان النظر فی شرح نزہۃ النظر للقاضی محمد اکرم السندھی م ۱۱۰۰

۱۵۔ توضیح الافکارلمحمد بن اسمعین المروف بامیر یمانی، م ۱۱۸۲

۱۶۔ توجیہ النظر للشیخ طاہرالجزائری ، م ۱۳۳۷

۱۷۔ فقہ الاثر لرضی الدین بن حنبل الحنفی ،