عیادت کیوں کریں وہ مدعا کیا

❤️

کلام : استاذِ زمن علامہ حسن رضا بریلوی
پیش کش: ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی 

❤️

 عیادت کیوں کریں وہ مدعا کیا

کہ دردِ بے کسی کا پوچھنا کیا

❤️

ہجوم صدمۂ فرقت تو دیکھو

کرے اب صبر طاقت آزما کیا

❤️

نہ سُوجھا دل لگاتے وقت کچھ بھی

پر اب کہتا ہوں یہ میں نے کیا کیا

❤️

یہ مانا دُکھ ہمارا لا دوا ہے

جو وہ پوچھیں تو اے دل پوچھنا کیا

❤️

چسک رہ رہ کر اُٹھتی ہے یہ کیسی

الٰہی میرے دل کو ہو گیا کیا

❤️

میری بالیں سے یہ کہتے اٹھے وہ

مریضانِ محبت کی دوا کیا

❤️

کوئی دُکھ دینے والوں سے یہ پوچھے

کہ تم کو اس میں آتا ہے مزا کیا

❤️

یہی حسرت سے تم کو دیکھے جانا

سوا اِس کے ہمارا مدعا کیا

❤️

رہے مرنے ہی والے چین سے کچھ

جو دُکھ بھرتے ہیں اُن کا پوچھنا کیا

❤️

ترس آتا نہیں مطلق کسی کو

گزرتی ہے کسی پر ہائے کیا کیا

❤️

ستاؤ دل دُکھاؤ مار ڈالو

نہ آئے گا کبھی روزِ جزا کیا

❤️

کٹے گی بے کسی کی رات کیوں کر

جو دل ہی لے چلے تم پھر رہا کیا

❤️

حسنؔ کیوں کر دیا ٹکڑے گریباں

یہ بیٹھے بیٹھے جی میں آ گیا کیا

❤️