أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمۡ هُوۡدًا‌ ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی (ہم قبیلہ) ہود کو بھیجا، انہوں نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہاری عبادت کا کوئی مستحق نہیں ہے، تو کیا تم نہیں ڈرتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی (ہم قبیلہ) ہود کو بھیجا، انہوں نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہاری عبادت کا کوئی مستحق نہیں ہے، تو کیا تم نہیں ڈرتے “۔

حضرت ھود (علیہ السلام) کا شجرہ نسب :

حضرت ھود (علیہ السلام) کا شجرہ نسب یہ ہے : ھود بن عبداللہ بن رباح بن الجارود بن عاد بن عوض بن ارم بن سام بن نوح نبی اللہ (علیہ السلام) ۔ 

ایک قول یہ ہے کہ ھود (علیہ السلام) نے جامع دمشق میں ایک باغ بنایا تھا اور ان کی قبر وہیں ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ان کی قبر مکہ میں ہے اور تیسرا قول یہ ہے کہ ان کی قبر یمن میں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے جو سب سے پہلا نبی مبعوث کیا وہ ادریس (علیہ السلام) ہیں۔ (یہ حافظ ابن عساکر کی تحقیق ہے۔ جمہور کے نزدیک حضرت نوح (علیہ السلام) اول رسل ہیں) پھر حضرت نوح، پھر حضرت ابراہیم، پھر حضرت اسماعیل، پھر حضرت اسحاق، پھر حضرت یعقوب، پھر حضرت یوسف، پھر حضرت لوط، پھر حضرت ھود بن عبداللہ علیہم السلام۔

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : دس نبیوں کے علاوہ باقی تمام انبیاء بنو اسرائیل سے مبعوث ہوئے ہیں۔ وہ دس نبی یہ ہیں : حضرت نوح، حضرت ھود، حضرت لوط، حضرت صالح، حضرت شیعب، حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت عیسیٰ اور حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ( یہ گیارہ بنتے ہیں)

حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم عاد کی طرف بعثت : 

حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم عاد تھی یہ لوگ بت پرست تھے۔ انہوں نے بھی ود، سواع، یغوث اور نسر کی طرح بت بنا لیے تھے ان کے ایک بت کا نام ھبار تھا اور ایک بت کا نام صمود تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت ھود کو بھیجا، حضرت ھود کا تعلق اس قبیلہ سے تھا جس کا نام الخلود تھا۔ حضرت ھود متوسط نسبت کے تھے اور مکرم جگہ کے رہنے والے تھے بہت حسین و جمیل تھے اور عاد کی طرح جسیم تھے۔ اور آپ کی داڑھی بہت دراز تھی۔ حضرت ھود نے ان لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دی اور ان کو یہ حکم دیا کہ وہ اللہ کو ایک مانیں اور لوگوں پر طلم نہ کریں۔ اس کے علاوہ انہیں اور کوئی حکم نہیں دیا اور انہیں نماز یا کسی اور حکم شرعی کی دعوت نہیں دی، لیکن انہوں نے اللہ کو ماننے سے انکار کیا اور حضرت ھود (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور انہوں نے کہا : ہم سے زیادہ طاقت ور کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم نے عاد کے بھائی کی طرف ھود کو بھیجا اور حضرت ھود ان کی قوم کے ایک فرد تھے اور ان کے دینی بھائی نہ تھے۔ (مختصر تاریخ دمشق، ج 27، ص 146 ۔ 149، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1411 ھ)

حضرت ھود نے کہا : یاد کرو تم قوم نوح کے جانشین ہو اور تم کو معلوم ہے جب انہوں نے نافرمانی کی تو ان پر کس طرح عذاب آیا تھا تم اس سے عبرت کیوں نہیں پکڑتے۔ اللہ تعالیٰ نے متعدد سورتوں میں قوم عاد کی تفسیل بیان کی ہے ان آیات کا ترجمہ اور تفسیر حسب ذیل ہے :

عاد کی قوت اور سطوت اور ان پر عذاب نازل ہونے کے متعلق قرآن مجید کی آیات :

اور یاد کیجیے عاد کے بھائی (ہم قبیلہ) کو جب انہوں نے اپنی قوم کو ” الاحقاف ” میں ڈرایا اور ان سے پہلے کئی ڈرانے والے پیغمبر گزر چکے تھے کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو مجھے تم پر ایک عظیم دن کے عذاب کا خوف ہے۔ (الاحقاف :21)

یمامہ، عمان، بحرین، حضرموت اور مغربی یمن کے بیچ میں جو صحرائے اعطم ” الدہنا ” یا ” الربع الخالی ” کے نام سے واقع ہے وہ الاحقاف ہے یہ بہت بڑا ریگستان ہے۔ ہرچند کہ یہ آبادی کے قابل نہیں ہے لیکن اس کے اطراف میں کہیں کہیں آبادی کے لائق تھوڑی زمین ہے۔ خصوصاً اس حصہ میں جو حضرت موت سے نجران تک پھیلا ہوا ہے۔ اگرچہ اس وقت بھی وہ آباد نہیں ہے تاہم زمانہ قدیم میں اسی حضرت موت اور نجران کے درمیانی حصہ میں ” عاد ارم ” کا مشہور قبیلہ آباد تھا، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی نافرمانی کی پاداش میں نیست و نابود کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قوم عاد نے) کہا کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم کو ہمارے معبودوں سے برگشتہ کردو، تو تم وہ (عذاب) ہم پر لے آؤ جس کا تم ہم سے وعدہ کر رہے ہو، اگر تم سچوں میں سے ہو۔ ھود نے فرمایا : علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تمہیں وہی پیغام پہنچاتا ہوں جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں، لیکن میں گمان کرتا ہوں کہ تم جاہل لوگ ہو۔ پھر جب انہوں نے اس (عذاب) کو بادل کی طرح اپنے میدانوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا (نہیں) بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کو تم نے جلدی طلب کیا ہے یہ ایک (سخت) آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔ یہ ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر ڈالے گی، پھر انہوں نے اس حال میں صبح کی کہ ان کے گھروں کے سوا کوئی چیز نظر نہیں آتی تھی ہم مجرموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔ اور بیشک ہم نے انہیں ان چیزوں پر قدرت دی تھی جن پر تمہیں قدرت نہیں دی۔ اور ہم نے ان کے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تو ان کے کان اور آنکھیں اور دل ان کے کچھ کام نہ آسکے کیونکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور ان کو اس عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ (الاحقاف : 22-26)

جس وقت ان پر عذاب آیا اس وقت قحط اور خشک سالی تھی جب انہوں امنڈتا ہوا بادل دیکھا تو خوش ہو کر کہنے لگے بہت برسنے والی گھٹا آئی ہے اب سب ندی نالے بھر جائیں گے اور خوش حالی آجائے گی لیکن یہ بڑے زور کی آندھی تھی جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور اس کے زور کے سامنے آدمی، رخت اور جانور تنکوں کی مانند تھے۔ یہ آندھی ہر چیز کو اکھاڑ کر پھینک رہی تھی اور ہر چیز تباہ کر رہی تھی اور سوائے مکانوں کے کھنڈرات کے کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ 

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمای : (حضرت ھود نے اپنی قوم سے کہا) کیا تم ہر اونچے مقام پر فضول کاموں کے لیے یادگار تعمیر کرتے ہو۔ اور اس امید پر بلند وبالا عمارات بناتے ہو کہ تم ان میں ہمیشہ رہوگے۔ اور جب تم کسی کو پکڑتے ہو تو سخت جابروں کی کی طرح پکڑتے ہو۔ سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اور اس سے ڈرو جس نے تمہاری ان چیزوں سے مدد کی جن کو تم جانتے ہو۔ اس نے تمہاری چوپایوں اور بیٹوں سے مدد کی۔ اور باغوں اور چشموں سے۔ بیشک مجھے تم پر عظیم دن کے عذاب کا خوف ہے۔ انہوں نے کہا ہمارے لیے برابر ہے آپ نصیحت کریں یا نصیحت کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔ یہ صرف وہی پرانے لوگوں کی عادت ہے۔ اور ہم عذاب یافتہ نہیں ہوں گے۔ سو انہوں نے ھود کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا، بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے۔ اور بیشک آپ کا رب ہی ضرور غالب ہے، بےحد رحم فرمانے والا۔ (الشعراء : 128 ۔ 140)

نیز فرمایا : کیا آپ نے نہ دیکھا کہ آپ کے رب نے قوم عاد کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ ارم (کے لوگ) ستونوں (کی طرح لمبے قد) والے۔ جن کی مثل شہروں میں کوئی پیدا نہ کیا گیا تھا۔ (الفجر :6-8)

نیز فرمایا : رہی قوم عاد تو اس نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور کہا ہم سے زیادہ قوت والا کون ہے ؟ کیا انہوں نے یہ نہیں جانا کہ اللہ جس نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ قوت والا ہے اور وہ ہماری آیتوں کا انکار (ہی) کرتے رہے۔ سو ہم نے (ان کی) نحوست کے دنوں میں ان پر خوفناک آواز والی آندھی بھیجی تاکہ ہم انہیں دنیا کی زندگی میں ذلت والا عذاب چکھائیں اور آخرت کا عذاب تو یقیناً زیادہ ذلت والا ہے اور ان کی بالکل مدد نہیں کی جائے گی۔ (حم السجدہ : 15 ۔ 16)

نیز فرمایا : بیشک ہم نے ان پر نہایت سخت، تیز آواز والی آندھی بھیجی (ان کے حق میں) دائمی نحوست کے دن میں۔ وہ آندھی لوگوں کو (اس طرح) اتھا کر (زمین پر) دے مارتی تھی گویا کہ وہ کھجور کے اکھڑے ہوئے درختوں کی جڑیں ہیں۔ تو کیسا ہوا میرا عذاب اور میرا خوف دلانا۔ (القمر : 19 ۔ 21)

نیز فرمایا : اور رہے قوم عاد کے لوگ تو وہ ایک سخت گرجتی ہوئی نہایت تیز آندھی سے ہلاک کیے گئے۔ اللہ نے اس آندھی کو ان پر سات راتوں اور آٹھ دنوں تک متواتر مسلط کردیا تھا وہ آندھی جڑ کاٹنے والی تھی، سو (اے مخاطب اگر) تو (اس وقت وہاں موجود ہوتا تو) اس قوم کو اس طرح گروا ہو دیکھتا کہ گویا وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے (پڑے) ہیں۔ سو کیا تجھ کو ان میں کا کوئی بچا ہوا نظر آتا ہے۔ (الحاقہ : 6 ۔ 8)

قوم عاد کے وطن کی تاریخی حیثیت :

اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ قوم عاد الاحقاف میں رہتی تھی۔ (الاحقاف :21)

علامہ محمد بن مکرم بن منظور الافریقی المصری المتوفی 711 ھ لکھتے ہیں : 

الاحقاف کا معنی ہے ریگستان، جوہری نے کہا کہ الاحقاف عاد کا وطن ہے، ازہری نے کہا یہ یمن کے شہروں کا ریگستان ہے قوم عاد یہاں رہتی تھی۔ (لسان العرب، ج 9، ص 52، مطبوعہ نشر ادب الحوذۃ ایران، 1405 ھ)

علامہ سید محمد مرتضی زبیدی حنفی متوفی 1205 ھ لکھتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : الاحقاف ارض مہرہ اور عمان کے درمیان ایک وادی ہے۔ ابن اسحاق نے کہا : الاحقاف عمان سے لے کر حضرت موت تک ایک وادی ہے۔ قتادہ نے کہا : الاحقاف ارض یمن میں بلندی پر ایک ریگستان ہے۔ یاقوت حموی نے کہا ان تینوں اقوال میں اختلاف نہیں ہے۔ (تاج العروس، ج 6، ص 74، مطبوعہ مطبعہ الخیریہ، مصر، 1306 ھ۔ معجم البلدان، ج 1، ص 115، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1399 ھ)

علامہ پیر محمد کرم شاہ الازہری متوفی 1418 ھ ( (رح) ) لکھتے ہیں : قرآن کریم میں احقاف سے مراد وہ ریگستان ہے جو عمان سے حضرت موت تک پھیلا ہوا ہے، اس کا کل رقبہ تین لاکھ مربع میل بتایا جاتا ہے اسے الربع الخالی بھی کہتے ہیں۔ بعض مقامات پر ریت اتنی باریک ہے کہ جو چیز وہاں پہنچے، اندر دھنستی چلی جاتی ہے۔ بڑے بڑے مہم جو سیاح بھی اس کو عبور کرنے کی جرات نہیں کرتے۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں کسی زمانہ میں اپنے عہد کی ایک طاقتور زبردست اور متمول قوم آباد تھی۔ (ضیاء القرآن، ج 4، ص 490، مطبوعہ ضیاء القرآن، پبلیکیشنز، لاہور، 1399 ھ)

سید ابوالاعلی مودودی لکھتے ہیں : الاحقاف صحرائے عرب (الربع الخالی) کے جنوب مغربی حصہ کا نام ہے جہاں آج کوئی آبادی نہیں ہے۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ عاد کا علاقہ عمان سے یمن تک پھیلا ہوا تھا۔ اور قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ ان کا اصل وطن الاحقاف تھا۔ جہاں سے نکل کر وہ گردوپیش کے ممالک میں پھیلے اور کمزور قوموں پر چھا گئے۔ آج کے زمانہ تک بھی جنوبی عرب کے باشندوں میں یہی بات مشہور ہے کہ عاد اسی علاقہ میں آباد تھے۔ موجودہ شہر سے تقریبا 152 میل کے فاصہ پر شمال کی جانب میں حضرت موت میں ایک مقام ہے جہاں لوگوں نے حضرت ہود کا مزار بنا رکھا ہے اور وہ قبر ھود کے نام سے ہی مشہور ہے۔ ہر سال پندرہ شعبان کو وہاں عرس ہوتا ہے اور عرب کے مختلف حصوں سے ہزاروں آدمی وہاں جمع ہوتے ہیں۔ یہ قبر اگرچہ تاریخی طور پر ثابت نہیں ہے لیکن اس کا وہاں بنایا جانا اور جنوبی عرب کے لوگوں کا کثرت سے اس کی طرف رجوع کرنا کم از کم اس بات کا ثبوت ضرور ہے کہ مقامی روایات اسی علاقہ کو قوم عاد کا علاقہ قرار دیتی ہیں۔

الاحقاف کی موجودہ حالت کو دیکھ کر کوئی شخص یہ گمان نہیں کرسکتا کہ کبھی یہاں ایک شاندار تمند رکھنے والی طاقت ور قوم آباد ہوگی۔ اغلب یہ ہے کہ ہزاروں برس پہلے یہ ایک شاداب علاقہ ہوگا اور بعد میں آب و ہوا کی تبدیلی نے اسے ریگ زار بنادیا ہوگا۔ آج اس کی حالت یہ ہے کہ وہ ایک لق و دق ریگستان ہے جس کے اندرونی حصوں میں جانے کی بھی کوئی ہمت نہیں رکھتا۔ 1843 ء میں بویریا کا ایک فوجی آدمی اس کے جنوبی کنارہ پر پہنچ گیا۔ وہ کہتا ہے کہ حضرت موت کی شمالی سطح مرتفع پر سے کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو یہ صحرا ایک ہزار فیٹ نشیب میں نظر آتا ہے۔ اس میں جگہ جگہ ایسے سفید قطعے ہیں جن میں کوئی چیز گرجائے تو وہ ریت میں غرق ہوتی چلی جاتی ہے اور بالکل بوسیدہ ہوجاتی ہے۔ عرب کے بدو اس علاقہ سے بہت ڈرتے ہیں اور کسی قیمت پر وہاں جانے کے لیے راضی نہیں ہوتے۔ ایک موقع پر جب بدو اسے وہاں لے جانے پر راضی نہ ہوئے تو وہ اکیلا وہاں گیا۔ اس کا بیان ہے کہ یہاں کی ریت بالکل سفوف کی طرح ہے۔ میں دور سے ایک شاقول اس میں پھینکا تو وہ پانچ منٹ کے اندر اس میں غرق ہوگیا اور اس رسی کا سرا جل گیا جس کے ساتھ وہ بندھا ہوا تھا۔ 

مفصل معلومات کے لیے ملاحظہ ہو : Arabia And The Isles Harold ingrams, London, 1946

(تفہیم القرآن، ج 4، ص 615، مطبوعہ ادارہ ترجمان القرآن، لاہور، مارچ 1983 ء)

صالحین کے عرس کی تحقیق : 

سید ابوالاعلی مودودی کے اس اقتباس سے جہاں الاحقاف کی تاریخی حیثیت پر روشنی پڑتی ہے، وہاں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ نبیوں اور مقدس اور برگزیدہ بندوں کا عرس منانا صرف اہل سنت بریلی مکتبہ فکر کی اختراع نہیں ہے بلکہ دنیا کے ہر خطہ میں مسلمان بزرگوں کا عرس کا عرس مناتے ہیں۔ عرس کی معنوی اصل یہ ہے۔ 

امام محمد بن عمر الواقد متوفی 2074 ھ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر سال شہداء احد کی قبروں کی زیارت کرتے تھے، جب آپ گھاٹی میں داخل ہوتے تو بہ آواز بلند فرماتے : السلام علیکم، کیونکہ تم نے صبر کیا، پس آخرت کا گھر کیا ہی اچھا ہے ! پھر حضرت ابوبکر (رض) ہر سال اسی طرح کرتے تھے۔ پھر حضرت عمر بن الخطاب ہر سال اسی طرح کرتے تھے۔ پھر حضرت عثمان (رض) ۔ (کتاب المغازی، ج 1، ص 313، مطبوعہ عالم الکتب بیروت، 1404 ھ، دلائل النبوۃ، ج 3، ص 308، مطبوعہ بیروت، شرح الصدور، ص 210، دار الکتب العلمیہ، بیروت 404 ۔ در منثور، ج 4، ص 568، مصنف عبدالرزاق، 573 (قدیم) رقم الحدیث (جدید) 6745 ۔

اور عرس کی لفظی اصل یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ قبر میں منکر نکیر آ کر سوال کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ تم اس شخص کے متعلق کیا کہا کرتے تھے اور جب مردہ یہ کہہ دیتا ہے کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور کلمہ شہادت پڑھتا ہے تو اس کی قبر وسیع اور منور کردی جاتی ہے اور اس سے کہتے ہیں کہ اس عروس کی طرح سوجاؤ جس کو اس کے اہل میں سب سے زیادہ محبوب کے سوا کوئی بیدار نہیں کرتا۔ (الحدیث) (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 1073، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

اس حدیث میں مومن کے لیے عروس کا لفظ وارد ہے اور عروس کا لفظ عرس سے ماخوذ ہے اور یہ عرس کی لفظی اصل ہے۔ عرس کی حقیقت یہ ہے کہ سال کے سال صالحین اور بزرگان دین کے مزارات کی زیارت کی جائے۔ ان پر سلام پیش کیا جائے اور ان کی تعریف و توصیف کے کلمات کہے جائیں اور اتنی مقدار سنت ہے، اور قرآن شریف پڑھ کر اور صدقہ و خیرات کا انہیں ثواب پہنچانا یہ بھی دیگر احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور ان کے وسیلہ سے دعا کرنا اور ان سے اپنی حاجات میں اللہ سے دعا کرنے اور شفاعت کرنے کی درخواست کرنا اس کا ثبوت امام طبرانی کی اس حدیث سے ہے جس میں عثمان بن حنیف نے ایک شخص کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے دعا کرنے اور آپ سے شفاعت کی درخواست کرنے کی ہدایت کی۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ (المعجم الصغیر، ج 1، ص 1184 ۔ 183، مطبوعہ مکتبہ سلفیہ، مدینہ منورہ، 1388 ھ، حافظ منذری متوفی 656 ھ نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ (الترغیب والترہیب، ج 1، ص 474 ۔ 476، اور شیخ ابن تیمیہ متوفی 728 ھ نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ فتاوی ابن تیمیہ، ج 1، ص 274 ۔ 273)

اسی طرح امام ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں ایک بار قحط پڑگیا تو حضرت بلال بن حارث (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک پر حاضر ہو کر عرض کیا : یارسول اللہ ! اپنی امت کے لیے بارش کی دعا کیجیے کیونکہ وہ ہلاک ہورہے ہیں۔ (الحدیث) (المصنف، ج 12، ص 32، مطبوعہ کراچی، حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس حدیث کے متعلق فرمایا کہ اس کی سند صحیح ہے، فتح الباری، ج 2، ص 495 ۔ 496، مطبوعہ لاہور)

ان تمام مباحث کی تفصیل کے لیے شرح صحیح مسلم جلد 7 کا مطالعہ فرمائیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ ہر سال صالحین کے مزارات کی زیارت کے لیے جانا، ان کو سلام پیش کرنا اور ان کی تحسین کرنا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور خلفاء راشدین کی سنت ہے۔ اور ان کے لیے ایصال ثواب کرنا اور ان کے وسیلہ سے دعا کرنا اور ان سے شفاعت کی درخواست کرنا بھی صحابہ کرام کی سنت ہے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، اور ہمارے نزدیک عرس منانے کا یہی طریقہ ہے۔ باقی اب جو لوگوں نے اس میں اپنی طرف سے اضافات کرلیے ہیں، وہ بزرگان دین کی نذر اور منت مانتے ہیں اور ڈھول، باجوں گا جوں کے ساتھ جلوس کی شکل میں ناچتے گاتے ہوئے اوباش لڑکے چادر لے کر جاتے ہیں اور چادر چڑھانے کی بھی منت مانی جاتی ہے اور مزارات پر سجدے کرتے ہیں اور مزار کے قریب میلہ لگایا جاتا ہے اور مزامیر کے ساتھ گانا بجانا ہوتا ہے اور موسیقی کی ریکارڈنگ ہوتی ہے تو یہ تمام امور بدعت سیئہ قبیحہ ہیں۔ علماء اہل سنت و جماعت ان سے بری اور بیزار ہیں۔ یہ صرف جہلاء کا عمل ہے اور ہم اللہ تعالیٰ سے ان کی ہدایت کی دعا کرتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 65