وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖؕ-نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُؕ-اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ(۸۳)

اور یہ ہماری دلیل ہے کہ ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم پر عطا فرمائی ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں (ف۱۷۴) بے شک تمہارا رب علم و حکمت والا ہے

(ف174)

علم و عقل و فہم و فضیلت کے ساتھ جیسے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درجے بلند فرمائے ، دنیا میں علم و حکمت و نبوّت کے ساتھ اور آخرت میں قرب و ثواب کے ساتھ ۔

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ-كُلًّا هَدَیْنَاۚ-وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَؕ-وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ(۸۴)

اور ہم نے انہیں اسحٰق اور یعقوب عطا کیے ان سب کو ہم نے راہ دکھائی اور ان سے پہلے نوح کو راہ دکھائی اور اس کی اولاد میں سے داود اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَؕ-كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ(۸۵)

اور زکریا اوریحیی اور عیسٰی اور الیاس کو یہ سب ہمارے قرب کے لائق ہیں

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)

اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی (ف۱۷۵)

(ف175)

نبوّت و رسالت کے ساتھ ۔

مسئلہ : اس آیت سے اس پر سند لائی جاتی ہے کہ انبیاء ملائکہ سے افضل ہیں کیونکہ عالَم اللہ کے سوا تمام موجودات کو شامل ہے ، فرشتے بھی اس میں داخل ہیں تو جب تمام جہان والوں پر فضیلت دی تو ملائکہ پر بھی فضیلت ثابت ہو گئی ، یہاں اللہ تعالٰی نے اٹھارہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کا ذکر فرمایا اور اس ذکر میں ترتیب نہ زمانہ کے اعتبار سے ہے نہ فضیلت کے ، نہ واو ترتیب کا مقتضی لیکن جس شان سے کہ انبیاء علیہم السلام کے اسماء ذکر فرمائے گئے اس میں ایک عجیب لطیفہ ہے وہ یہ کہ اللہ تعالٰی نے انبیاء کی ہر ایک جماعت کو ایک خاص طرح کی کرامت و فضیلت کے ساتھ ممتاز فرمایا تو حضرت نوح و ابراہیم و اسحٰق و یعقوب کا اوّل ذکر کیا کیونکہ یہ انبیاء کے اُصول ہیں یعنی ان کی اولاد میں بکثرت انبیاء ہوئے جن کے اَنساب انہیں کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ نبوّت کے بعد مراتبِ معتبرہ میں سے مُلک و اختیار و سلطنت و اقتدار ہے ۔ اللہ تعالٰی نے حضرت داؤد و سلیمان کو اس کا حَظِّ وافر دیا اور مراتبِ رفیعہ میں سے مصیبت و بلاء پر صابر رہنا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے حضرت ایوب کو اس کے ساتھ ممتاز فرمایا پھر مُلک و صبر کے دونوں مرتبے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کو عنایت کئے کہ آپ نے شدّت و بلاء پر مدتوں صبر فرمایا پھر اللہ تعالٰی نے نبوّت کے ساتھ مُلکِ مِصر عطا کیا ۔ کثرتِ معجزات و قوتِ بَراہین بھی مراتبِ معتبرہ میں سے ہیں ۔ اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی و ہارون کو اس کے ساتھ مشرف کیا ۔ زُہد و ترکِ دنیا بھی مراتبِ معتبرہ میں سے ہے ۔ حضرت زکریا و یحیٰی و عیسٰی و الیاس کو اس کے ساتھ مخصوص فرمایا ، ان حضرات کے بعد اللہ تعالٰی نے ان انبیاء کا ذکر فرمایا کہ جن کے نہ مُتّبِعین باقی رہے نہ ان کی شریعت جیسے کہ حضرت اسمٰعیل ، یسع ، یونس ، لوط علیہم الصلٰوۃ والسلام ۔ اس شان سے انبیاء کا ذکر فرمانے میں ان کی کرامتوں اور خصوصیتوں کا ایک عجیب لطیفہ نظر آتا ہے ۔

وَ مِنْ اٰبَآىٕهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْۚ-وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۸۷)

اور کچھ ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بعض کو (ف۱۷۶) اور ہم نے انہیں چن لیا اور سیدھی راہ دکھائی

(ف176)

ہم نے فضیلت دی ۔

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۸۸)

یہ اللہ کی ہدایت ہے کہ اپنے بندوں میں جسے چاہے دے اور اگر وہ شرک کرتے تو ضرور ان کا کیا اکارت جاتا

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَۚ-فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ(۸۹)

یہ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تو اگریہ لوگ (ف۱۷۷) اس سے منکر ہوں تو ہم نے اس کے لیے ایک ایسی قوم لگا رکھی ہے جو انکار والی نہیں(ف۱۷۸)

(ف177)

یعنی اہلِ مکّہ ۔

(ف178)

اس قوم سے یا انصار مراد ہیں یا مہاجرین یا تمام اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا حضور پر ایمان لانے والے سب لوگ ۔

فائدہ : اس آیت میں دلالت ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نُصرت فرمائے گا اور آپ کی دین کو قوت دے گا اور اس کو تمام اَدیان پر غالب کرے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ غیبی خبر واقع ہو گئی ۔

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْؕ-قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًاؕ-اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠(۹۰)

یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت کی تو تم انہیں کی راہ چلو (ف۱۷۹) تم فرماؤ میں قرآن پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا وہ تو نہیں مگر نصیحت سارے جہان کو (ف۱۸۰)

(ف179)

مسئلہ : عُلَمائے دین نے اس آیت سے یہ مسئلہ ثابت کیا ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل ہیں کیونکہ خِصالِ کمال و اوصافِ شرف جو جُدا جُدا انبیاء کو عطا فرمائے گئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سب کو جمع فرما دیا اور آپ کو حکم دیا ” فَبِھُدٰھُمُ اقْتَدِہْ ” تو جب آپ تمام

ا نبیاء کے اوصافِ کمالیہ کے جامع ہیں تو بے شک سب سے افضل ہوئے ۔

(ف180)

اس آیت سے ثابت ہوا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم تمام خَلق کی طرف مبعوث ہیں اور آپ کی دعوت تمام خَلق کو عام اور کل جہان آپ کی اُمّت ۔ (خازن)