حدیث نمبر :647

روایت ہے ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب نمازکی تکبیرکہی جائے تو دوڑتے نہ آؤ بلکہ چلتے ہوئے اطمینان کے ساتھ آؤ ۱؎ جوپالو وہ پڑھ لوجورہ جائے پوری کرلو ۲؎ (مسلم،بخاری)مسلم کی روایت میں ہے کیونکہ جب کوئی نماز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ نمازمیں ہوتا ہے۳؎ 

یہ باب دوسری فصل سے خالی ہے۔

شرح

۱؎ یعنی جماعت کے لئے گھبرا کردوڑتے نہ آؤ کہ اس میں گرجانے چوٹ کھانے کا اندیشہ ہے۔خیال رہے کہ رب نے جو فرمایا”فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللہِ”وہاں سعی سے مراد دوڑنا نہیں بلکہ نماز جمعہ کی تیاری کرناہے،لہذا آیت وحدیث میں مخالفت نہیں۔

۲؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جماعت میں شامل ہونے کے لئے سکون سے آنا مستحب ہے،دوڑنا مستحب کے خلاف ہے حرام نہیں،لہذا فاروق اعظم کا ایک دفعہ دوڑ کر رکوع میں شامل ہوجانا ناجائز نہ تھا۔دوسرے یہ کہ آخری جزو مل جانے سے جماعت مل جاتی ہے،لہذا جونمازجمعہ کی اَلتَّحِیَّاتُ میں مل جائے وہ جمعہ پڑھے۔تیسرے یہ کہ جس رکعت میں مقتدی ملے وہ تعداد کے لحاظ سے رکعت اول ہے اور قرأت کے لحاظ سے رکعت آخری۔

۳؎ یعنی جب سے وہ نماز کے ارادے سے گھر سے چلا اسے نماز کا ثواب مل رہا ہے پھرجلدی کیوں کرتا ہے،کیوں گرتا اورچوٹ کھاتا ہے،اطمینان سے آئے جو پائے اس کو ادا کرے۔خیال رہے کہ اگرتکبیراولٰی یارکوع پانے کے لئے قدرے تیزی سے آئے مگر نہ اتنی کہ چوٹ لگنے گرنے کا اندیشہ ہوتومضائقہ نہیں جیساکہ فارو ق اعظم کا عمل پہلے بیان ہوا۔