شیطان کا رونا اور چیخنا چلانا

امام المفسرین و مشہور تابعی امام مجاہد المتوفی 122 ھ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد محترم مشھور صحابی رسول مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ نے فرمایا:

بے شک ابلیس یعنی شیطان چار دفعہ غم اور حزن کی کیفیت کی وجہ سے روہا ۔

1۔ پہلی دفعہ اس وقت روہا جب اس پر اللہ کی لعنت ہوئی

2۔ دوسری دفعہ اس وقت رویا جب اسے جنت سے نکالا گیا

3۔ تیسری دفعہ اس وقت رویا جب حضور خاتم النبیین والمرسلین کی ولادت ہوئی

4۔ چوتھی دفعہ اس وقت رویا جب سورۃ الفاتحہ نازل ہوئی

اس روایت کو مفسرین نے سورۃ الفاتحہ کے شان نزول میں بیان فرمایا ہے۔ اور امام ابن کثیر نے شب ولادت کے واقعات کے باب میں ذکر فرمایا ہے۔

حوالہ: البدایہ والنھایہ لابن کثیر 9/224-225.

اس سے ملتے جلتے الفاظ اور بھی ہیں جسے بحار الانوار میں ملا باقر مجلسی نے امام جعفر صادق علیہ السلام المتوفی 148ھ سے نقل فرمایا ہے کہ:

ابلیس یعنی شیطان چار دفعہ غم اور حزن کی کیفیت کی وجہ سے روہا ۔

1۔ پہلی دفعہ اس وقت روہا جب اس پر اللہ کی لعنت ہوئی

2۔ دوسری دفعہ اس وقت رویا جب اسے زمین پر اتارا گیا

3۔ تیسری دفعہ اس وقت رویا جب اللہ نے اپنے محبوب حضور خاتم النبیین والمرسلین کو مبعوث فرمایا

4۔ چوتھی دفعہ اس وقت رویا جب سورۃ الفاتحہ نازل ہوئی

اور مزید فرمایا کہ:

ابلیس یعنی شیطان دو دفعہ بہت زور سے چلایا ۔

1۔ پہلی دفعہ اس وقت جب حضرت آدم علیہ السلام نے شجرہ ممنوعہ سے کھایا

2۔ دوسری دفعہ اس وقت حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالا گیا

حوالہ: بحار الأنوار ( الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار ( عليهم السلام ) ) : 11 / 204

شاید اسی لیے مفسر قرآن و شارح الحدیث مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ نے یہ شعر فرمایا:

نثار تیری چہل پہل پر ، ہزاروں عیدیں ربیع الاول

سوائے ابلیس کے جہاں میں ، سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں