أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖۤ اِنَّا لَــنَرٰٮكَ فِىۡ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَــنَظُنُّكَ مِنَ الۡـكٰذِبِيۡنَ ۞

ترجمہ:

ان کے قوم کے کافر سرداروں نے کہا، بیشک ہم آپ کو حماقت میں مبتلا پاتے ہیں اور بیشک ہم آپ کو جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” ان کے قوم کے کافر سرداروں نے کہا، بیشک ہم آپ کو حماقت میں مبتلا پاتے ہیں اور بیشک ہم آپ کو جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا اے میری قوم ! مجھ میں کوئی حماقت نہیں ہے لیکن میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔ میں تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور میں تمہارا قابل اعتماد خیر خواہ ہوں۔ کیا تمہیں اس پر تعجب ہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے تم ہی میں سے ایک مرد کے ذریعہ ایک نصیحت آئی ہے تاکہ وہ تمہیں ڈرائے، اور یاد کرو جب قوم نوح کے بعد اللہ نے تم کو ان کا جانشین بنادیا اور تمہاری جسامت کو بڑھا دیا، سو تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو۔ “

حضرت ھود (علیہ السلام) کے قصہ اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے مابین فرق : 

حضرت ھود (علیہ السلام) ، حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے تھے اس لیے حضرت ھود (علیہ السلام) کے قصہ کو حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ذکر فرمایا ہے اور اس قصہ میں مذکور ابتدائی آیات تقریبا ویسی ہی ہیں جیسی حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ میں ذکر کی گئی، البتہ بعض وجوہ سے ان میں فرق ہے : 

1 ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ میں عبادت کا حکم دینے کے بعد انہوں نے فرمایا تھا مجھے تم پر ایک عظیم دن کے عذاب کا خطرہ ہے (الاعراف : 59) ۔ اور اس قصہ میں حضرت ھود نے عبادت کا حکم دینے کے بعد فرمایا : تو کیا تم نہیں ڈرتے ! (الاعراف :65) ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) پہلے رسول تھے اور ان سے پہلے دنیا میں کسی بڑے عذاب کے نازل ہونے کا واقعہ پیش نہیں آیا تھا، اس لیے انہوں نے کہا : مجھے تم پر ایک عظیم دن کے عذاب کا خطرہ ہے، اور چونکہ حضرت ھود (علیہ السلام) ، حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے تھے اور طوفان نوح کا واقعہ تواتر سے مشہور ہچکا تھا، اس لیے انہوں نے صرف اس کہنے پر اکتفا کیا تو پس کیا تم ڈرتے نہیں ہو !

2 ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے منکروں نے کہا تھا ! ہم آپ کو کھلی ہوئی گمراہی میں دیکھتے ہیں (الاعراف :60) اور حضرت ھود (علیہ السلام) سے منکروں نے کہا : ہم آپ کو حماقت میں مبتلا پاتے ہیں اور ہم آپ کو جھوٹوں سے گمان کرتے ہیں۔ (الاعراف : 66)

2 ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے منکروں نے کہا تھا ! ہم آپ کو کھلی ہوئی گرماہی میں دیکھتے ہیں (الاعراف :60) اور حضرت ھود (علیہ السلام) سے منکروں نے کہا : ہم آپ کو حماقت میں مبتلا پاتے ہیں اور ہم آپ کو جھوٹوں سے گمان کرتے ہیں۔ (الاعراف :66) ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) بہت بڑی کشتی بنا کر خود کو تھکا رہے تھے اور آپ نے لوگوں کو ایک بہت بڑے طوفان کی آمد سے خبردار کیا تھا اور چونکہ اس سے پہلے طوفان کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی تھی اس لیے منکرین نے کہا آپ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں، اور حضرت ھود (علیہ السلام) نے بتوں کی عبادت کو باطل قرار دیا تھا اور ان کی عبادت کو بےوقوفی فرمایا تھا اس لیے انہوں نے بھی مقابلتاً توحید کی دعوت دینے کو بےوقوفی کہا۔ 

3 ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا تھا : میں تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور حضرت ھود (علیہ السلام) نے فرمایا : میں تمہارا قابل اعتماد خیر خواہ ہوں۔ (الاعراف : 68) حضرت نوح (علیہ السلام) چونکہ دعوت کی بار بار تجدید کرتے تھے اس لیے انہوں نے جملہ فعلیہ استعمال فرمایا اور حضرت ھود (علیہ السلام) ثبوت اور استقرار کے ساتھ دعوت دیتے تھے اس لیے اس کو جملہ اسمیہ کے ساتھ تعبیر فرمایا : نیز حضرت ھود کی قوم نے ان کو جھوٹوں کی طرف منسوب کیا تھا اس لیے انہوں نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا تم تو مجھے پہلے امین کہتے تھے اور میں تمہارے نزدیک معتمد تھا تو اب اچانک میں بیوقوف کیسے ہوگیا !

4 ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ میں یہ فرمایا تھا : کیا تمہیں اس پر تعجب ہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے تم ہی میں سے ایک مرد کے ذریعہ نصیحت آئی ہے تاکہ وہ تم کو ڈرائے۔ (الاعراف :62) اور حضرت ھود (علیہ السلام) نے اس کے بعد یہ بھی فرمایا : اور یاد کرو جب قوم نوح کے بعد اللہ نے تم کو ان کا جانشین بنادیا اور تمہاری جسامت کو بڑھا دیا سو تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو۔ (الاعراف : 69)

حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم پر اللہ تعالیٰ کی دو نعمتوں کا ذکر فرمایا ایک تو یہ کہ انہٰں حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ان کی زمین کا وارث بنایا اور دوسری یہ کہ ان کو قوم نوح سے زیادہ بڑی جسامت اور قوت عطا فرمائی۔ امام بغوی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ ان کی قامت اسی ذراع (ایک سو بیس فٹ) تھی۔ وہب نے کہا : ان میں سے ایک آدمی کا سر بڑے گنبد کی طرح تھا۔ (معالم التنزیل، ج 2، ص 142، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت) حضرت ھود نے فرمایا : ان نعمتوں کو یاد کرو یعنی ایسے عمل کرو جو ان نعمتوں کے لائق ہوں یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کی نعمتوں کا شکر کرو۔ 

حضرت نوح اور ھود (علیہما السلام) کے مقابلہ میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیادہ عزت اور وجاہت :

حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ میں مذکور ہے کہ جب منکروں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف ایک عیب کی نسبت کی اور ان سے کہا کہ آپ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں تو انہوں نے اس عیب سے خود اپنی براءت کی اور کہا : اے میری قوم مجھ میں گمراہی نہیں ہے (الاعراف :60) اور حضرت ھود (علیہ السلام) کے قصہ میں مذکور ہے کہ جب منکروں نے ان سے کہا کہ ہم آپ کو حماقت میں مبتلا پاتے ہیں تو انہوں نے خود اپنی براءت کی اور کہا : اے میری قوم مجھ میں حماقت نہیں ہے۔ 

اور جب سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مشرکین نے عیوب کی نسبت کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی براءت کے لیے نہیں چھوڑا بلکہ اللہ نے آپ کی طرف سے براءت بیان کی۔ ولید بن مغیرہ نے آپ کو مجنون کہا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” ما انت بنعمۃ ربک بمجنون۔ وان لک لاجرا غیر ممنون۔ وانک لعلی خلق عظیم : آپ اپنے رب کے فضل سے (ہرگز) مجنون نہیں ہیں۔ اور یقیناً آپ کے لیے غیر متناہی اجر وثواب ہے۔ اور بیشک آپ خلق عظیم پر فائز ہیں ” (القلم :2 ۔ 4)

عاص بن وائل نے آپ کو ابتر (مقطوع النسل) کہا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (انا اعطیناک الکوثر۔ فصل لربک وانحر۔ ان شانئ ھو الابتر : بیشک ہم نے آپ کو خیر کثیر عطا فرمائی۔ تو آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ یقینا آپ کا دشمن ہی ابتر (مقطوع النسل ہے)

جب اللہ نے اپنی کسی حکمت کی وجہ سے چند دن آپ پر وحی نازل نہیں کی تو ایک مشرک عورت نے کہا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے رب نے چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” والضحی والیل اذا سجی۔ ما وعدک ربک وما قلی : چاشت کی قسم۔ اور رات کی قسم جب سیاہی پھیل جائے۔ آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ وہ آپ سے بیزار ہوا ” (الضحی۔ 1 ۔ 3)

جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سب لوگوں کو، کوہ صفا پر جمع کرکے دعوت توحید کی تو ابولہب نے کہا تبا لک تم پر تباہی ہو تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” تبت یدا ابی لھب وتب ما اغنی عنہ مالہ وماکسب۔ سیصلی نارا ذات لہب۔ وامراتہ حمالۃ الحطب : ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ تباہ ہوگیا۔ اس کو اس کے مال اور کمائی نے کوئی فائدہ نہ دیا۔ وہ عنقریب سخت شعلوں والی آگ میں داخل ہوگا۔ اور اس کی عورت (بھی) لکڑیوں کا گٹھا (سر پر) اٹھائے ہوئے ” (اللہب : 1 ۔ 4)

رسول اللہ کا مقام تو بہت بلند ہے آپ کے قرابت دار اور اصحاب بھی اللہ کو اتنے عزیز تھے کہ اگر کسی نے ان کو عیب لگایا تو اللہ تعالیٰ نے اس عیب سے ان کی براءت بیان کی، حضرت ام المومنین عائشہ (رض) پر جب منافقین نے تہمت لگائی تو اللہ تعالیٰ نے سورة نور کی دس آیتوں میں (النور : 11 ۔ 20) ۔ حضرت عائشہ (رض) کی براءت بیان کی۔ اور جب منافقین نے صحابہ کرام کو سفہاء (جاہل احمق) کہا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی براءت بیان کی۔ قرآن مجید میں ہے : ” قالوا انومن کما امن السفہاء الا انہم ھم السفہاء ولکن لا یعلومن : انہوں نے کہا : کیا ہم اس طرح ایمان لائیں جس طرح یہ بیوقوف ایمان لائے ہیں سنو یقیناً وہی بیوقوف ہیں، لیکن وہ نہیں جانتے ” (البقرہ :13)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 66