أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُـوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِنَعۡبُدَ اللّٰهَ وَحۡدَهٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا‌ ۚ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

انہوں نے کہا کیا آپ ہمارے پاس اس لیے آئے ہیں کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں اور ان (معبودوں) کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے، سو آپ ہمارے پاس وہ (عذاب) لے آئیں جس کا آپ ہم سے وعدہ کرتے ہیں اگر آپ سچوں میں سے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” انہوں نے کہا کیا آپ ہمارے پاس اس لیے آئے ہیں کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں اور ان (معبودوں) کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے، سو آپ ہمارے پاس وہ (عذاب) لے آئیں جس کا آپ ہم سے وعدہ کرتے ہیں اگر آپ سچوں میں سے ہیں۔ (ہود) نے کہا یقینا تمہارے رب کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب نازل ہوگیا، کیا تم مجھ سے ان ناموں کے متعلق جھگڑ رہے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، جن کے متعلق اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی، سو تم (عذاب کا) انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہو۔ پس ہم نے ہود کو اور ان کے اصحاب کو اپنی رحمت سے نجات دی اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا اور وہ ایمان والے نہ تھے۔ ” 

اللہ تعالیٰ کی توحید اور استحقاق عبادت پر دلیل : 

حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بت پرستی ترک کرنے اور خدائے واحد کی عبادت کرنے کی دعوت دی، اور اس پر یہ قوی دلیل قائم کی کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت زیادہ انعام کیے ہیں اور بداہت عقل اس پر دلالت کرتی ہے کہ ان انعامات میں اور ان نعمتوں کے دینے میں ان بتوں کا کوئی دخل نہیں تھا۔ اور عبادت انتہائی تعظیم کا نام ہے اور انتہائی تعظیم کا وہی مستحق ہے جس نے انتہائی نعمتیں عطا کی ہوں، اور جب انتہائی نعمتیں اللہ نے عطا کی ہیں تو وہی عبادت کا مستحق ہے اور بت اس کے لائق اور سزاوار نہیں ہیں کہ ان کی عبادت کی جائے۔ 

حضرت ھود (علیہ السلام) کی اس قوی اور قعی دلیل کا ان کی قوم سے کوئی جواب نہیں بن پڑا اور انہوں نے جان چھڑانے کے لیے اپنے باپ دادا کی تقلید کا سہارا لیا اور کہا کیا آپ ہمارے پاس اس لیے آئے ہیں کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں اور ان کی عبادت چھوڑ دیں۔ جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے سو آپ ہمارے پاس وہ (عذاب) لے آئیں جس کا آپ ہم سے وعدہ کرتے رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود (علیہ السلام) سے یہ نقل کیا کہ انہوں نے کہا : یقیناً تمہارے رب کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب نازل ہوگیا۔ اس پر یہ اعتراض ہے کہ اس وقت تک تو عذاب نازل نہیں ہوا تھا، پھر حضرت ھود (علیہ السلام) نے کیسے فرما دیا کہ تم پر عذاب نازل ہوگیا اس کا جواب یہ ہے کہ جس چیز کا مستقبل میں واقع ہونا یقینی اور قطعی ہو اس کو ماضی کے ساتھ تعبیر کردیتے ہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ نے تم پر عذاب نازل کردیا اس معنی میں ہے کہ اس نے تم پر عذاب نازل کرنے کا ارادہ کرلیا اور حضرت ھود (علیہ السلام) کے نزدیک اس عذاب کا واقع ہونا یقینی تھا۔ 

اس کے بعد حضرت ھود (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم مجھ سے ان ناموں کے متعلق جھگڑ رہے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں جن کے متعلق اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی اس آیت سے مراد یہ ہے کہ تم بتوں کو الہ کہتے ہو حالانکہ ان میں الوہیت کا کوئی معنی نہیں ہے۔ تم نے کسی بت کا نام عزی رکھا ہے حالانکہ اس میں عزت کا کوئی معنی نہیں ہے۔ اور تمہارے مذہب کے ثبوت پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کا انجام اور ان پر عذاب کے نزول کو بیان کیا۔ اس کی تفصیل ہم اس رکوع کے شروع میں بیان کرچکے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 70