محافل ذکر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق ایک پیغام

——-

علمائے کرام نے بالاتفاق یہ مسئلہ لکھا ہے جس طرح ظاہری حیات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم فرض تھی بعد وفات بھی آپ کا ادب فرض ہے۔

جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر شریف آئے درود شریف پڑھنا واجب ہے۔

آپ کے ذکر کی محفل ہو تو کمال خشوع و خضوع اور نہایت احترام و اہتمام کے ساتھ آپ کا ذکر شریف سنا جائے۔

یہ ادب ہے، اس سے روحانیت مضبوط ہوتی ہے، قلبی تعلق پختہ ہوتا ہے اور حضوری نصیب ہوتی ہے۔

محفل ذکر و نعت میں جو گفتگو یا اشعار اظہار فرحت کا تقاضا کرتے ہیں وہاں اس کا اظہار کرنا چاہیے اور جہاں خاموشی، شرمندگی، اشک باری چاہیے وہاں حسب حال ویسا ہی عمل کریں۔

بے توجہی اور غفلت سخت محرومی ہے۔ دیکھا جاتا ہے کہ اسٹیج پر موجود ایک صاحب ذکر رسول کررہے ہیں باقی دیگر شرکاء جن میں عام وخاص مقررین، ثناء خواں، منتظمین شامل ہیں باتوں میں لگے ہوتے ہیں، کوئی کال پر مصروف دکھائی دیتا ہے، کوئی برابر والے سے ہم کلام ہوتا ہے، کوئی اٹھ رہا ہے کوئی آرہا ہے کوئی جارہا ہے۔

جب اسٹیج پر موجود افراد ذکر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت ایسی بے قدری کا مظاہرہ کریں گے تو نیچے بیٹھی عوام سے آپ کیا توقع رکھیں گے۔

الحمد للہ جب بھی محفل ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں لب کشائی کا شرف ملا سب سے پہلے تنبیہی کلمات ادا کیے ہیں۔

ایک بار کچھ منتظمین باتوں میں مصروف تھے، بیان روک کر کہا خاموشی سے بیان سنیے۔

ہم اپنی قوم کو جتنا باادب و باوقار بنائیں گے اتنی ہی برکات ملیں گی ورنہ لاکھوں محفلیں کرکے بھی دامن مرادوں سے خالی رہے گا۔

ماہ نور اپنی کرنیں بکھیرتا ہم میں موجود ہے، کثرت سے محافل ہوتی ہیں، اپنے دست قدرت میں آنے والی تمام محفلوں کو باادب بنانے کی کوشش کیجیے۔

✍ ابو محمدعارفین القادری