عالم اسلام کو ربیع الاول کا چاند مبارک ہو۔

میلاد کا موسم

میلاد کا موسم آوت ہے

ہر ذرّہ جشن مناوت ہے

ہر چاند ستارا رستوں میں

کرنوں کے پھول بچھاوت ہے

ہر پیڑ پہ چڑیاں چہکیں ہیں

ہر شاخ پہ گل مسکاوت ہے

دھرتی سے فلک تک حور و ملک

اک نوری فصل اگاوت ہے

لمحوں میں خدا کی بستی سے

اب ظلم کی رتیا جاوت ہے

گلشن کی ہوا کا ہر جھونکا

آقا ﷺ کی نعت سناوت ہے

وہ پیاس کی ماری دھرتی پر

رحمت کی گھٹا برساوت ہے

طیبہ کے گلستاں! تُوری ہوا

مورے من میں پھول کھلاوت ہے

جب صلِّ علیٰ کی پون چلے

مورا جیون بھی لہراوت ہے

یہ ذکر مدینے والے کا

کلیوں کا من مہکاوت ہے

ہر شام صبا مورے آنگن میں

طیبہ کی جوت جگاوت ہے

نیکی کی چلی ہے بادِ خنک

مکھ بدیوں کا گہناوت ہے

فرماوت ہے وہ اتنا کرم

دامن بھی مورا شرماوت ہے

اب امن ہے ہمری قسمت میں

اب عدل کی رم جھم چھاوت ہے

جپتا ہوں درودوں کی مالا

جب من مورا گھبراوت ہے

اک شہر کہ تُمرا اچھا ہے

اک نام کہ تُمرا بھاوت ہے

جو تُمری غلامی پر مچلے

وہ فرزانہ کہلاوت ہے

جو تُمرے در کا منگتا ہے

وہ دھن دولت ٹھکراوت ہے

مورے جیسا راندہ ماندہ بھی

سرکار ﷺ کا صدقہ کھاوت ہے

وہ حکمِ خدا سے نیاّ کو

منجدھار میں پار لگاوت ہے

سرکار ﷺ کی آمد آمد ہے

گھر بار ریاضؔ سجاوت ہے

(کلام ۔ ریاض حسین چودھری رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ)