نماز کے مکروہات تنزیہیہ

یعنی حالت نماز میں وہ کام کرنا جو شرعاً ناپسندیدہ ہیں لہٰذا ان سے بچنا چاہئے ۔

ان ناپسندیدہ کاموں کے کرنے کے باوجود بھی نماز ہوجائے گی اور سجدہ ٔ سہو یانماز دہرانے کی بھی ضرورت نہیں ۔ کیونکہ ان کاموں کی وجہ سے کسی فرض یا واجب کا ترک نہیں ہوتا ۔

ان کاموں کا کرنا بھی گناہ نہیں ۔ البتہ نماز کے ثواب میں کمی ہوتی ہے ۔

ارتکاب مکروہ تنزیہی معصیت نہیں ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۵ ، ص ۱۳۶)

نماز میں حسب ذیل کام کرنا مکروہ تنزیہی ہیں :-

مسئلہ: سجدہ یا رکوع میں بلا ضرورت تسبیح تین (۳)مرتبہ سے کم کہنا ۔ اس طرح جلدی جلدی رکوع اور سجدہ کرنے کو حدیث میں مرغ کی ٹھونگ مارنا فرمایاگیا ہے ۔ البتہ وقت کی تنگی یا ٹرین کے چلے جانے کے خو ف سے اگر تین (۳)مرتبہ سے کم تسبیح کہی تو حرج نہیں اور اسی طرح اگر مقتدی تین(۳) تسبیحیں نہ کہنے پایا تھا کہ امام نے سر اٹھالیا تو مقتدی امام کاساتھ دے ۔ (بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۷۱)

مسئلہ: پیشانی سے خاک یا گھاس وغیرہ چھڑانا مکروہ ہے جبکہ ان کی وجہ سے نماز میں تشویش نہ ہو اور اگر اس سے تکبر مقصود ہو تو کراہت تحریمی ہے ۔ اور اگر تکلیف دہ ہو ں یا ان کی وجہ سے خیال بٹتاہو تو چھڑانے میں حرج نہیں ۔ اور نماز کے بعد چھڑانے میں مطلقاً کوئی مضائقہ نہیں بلکہ چھڑالینا چاہئے تاکہ ریا نہ آئے ۔ ( عالمگیری ، بہار شریعت، جلد۳، ص۱۷۱)

مسئلہ: فرض کی ایک رکعت میں کسی آیت کو بار بار پڑھنا یا کسی سورت کو بار بار پڑھنا مکروہ تنزیہی جبکہ کوئی عذر نہ ہو مثلاً اسے ایک ہی سورت یا د ہے وغیرہ ۔( عالمگیری ، غنیہ ، بہار شریعت ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۹۹)

مسئلہ: سجدہ میں جاتے وقت گھٹنے سے پہلے ہاتھ زمین پر رکھنا اور سجدہ سے اٹھتے وقت ہاتھ سے پہلے گھٹنوں کو زمین سے اٹھانا ۔ ( منیہ ، بہار شریعت )

مسئلہ: سجدہ وغیرہ میں انگلیوں کو قبلہ سے پھیر دینا اور انگلیاں دائیں بائیں پھیلانا ۔( درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ: رکوع میں سر کو پشت سے اونچا یا نیچا کرنا ۔ ( غنیہ )

مسئلہ: بغیر کسی عذر دیوار یا عصا پر ٹیک لگا کر قیام میں کھڑا رہنا ۔ (غنیہ ، بہار شریعت ، جلد ۳ ،ص۱۷۳)

مسئلہ: حالت قیام میں دائیں بائیں جھومنا ۔ ( حلیہ ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۷۳)

مسئلہ: حالت نماز میں انگلیوں پر آیتوں ، سورتوں اور تسبیحات کو گننا ( شمار کرنا) مکروہ ہے ۔ چاہے فرض نماز ہو یا نفل نماز ہو ۔ اگر کوئی شخص نفل میں زیادہ تعداد میں کوئی سورت یا آیت پڑھنا چاہتاہو یا صلوٰۃ التسبیح پڑھتا ہو اور تسبیحات شمار کرنی ہوں تو وہ دل میں شمار رکھے یا انگلیوں کے پوروں کو دبا کر تعداد محفوظ رکھے لیکن انگلیاں بطور مسنون اپنی جگہ پر ہی رہیں اور انگلیاں اپنی جگہ سے نہ ہٹیں تو اس طرح شمار کرنے میں کوئی حرج نہیں مگر پھر بھی خلاف اولیٰ ہے کہ دل دوسری طرف متوجہ ہوگا ۔ ( بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۷۱)

مسئلہ: نماز میں آنکھیں بند رکھنامکروہ ہے لیکن اگر آنکھیں کھلی رکھنے میں خشوع نہ ہوتا ہو اور اِدھر اُدھر توجہ بٹتی ہو تو آنکھیں بند کرنے میں حرج نہیں بلکہ بہتر ہے ۔ ( درمختار ، ردالمحتار ، بہارشریعت ، حصہ ۳، ص ۱۴۵)

’’ ایک ضروری مسئلہ کی وضاحت ‘‘

مسئلہ: مردوں کے لئے اسبال یعنی کپڑا حد معتاد سے بافراط دراز رکھنا منع ہے ۔ اسبال کی عام فہم تعریف یہ ہے کہ پاجامہ کے پائچوں کو ٹخنوں سے نیچے رکھنا یالمبا جبہ ٹخنوں کے نیچے تک ہو یاکرتا یا قمیص کی آستین ہاتھ کی انگلیوں سے بھی آگے تک لمبی ہوں ۔ اسبال کے متعلق ضروری بحث حسب ذیل ہے ۔

مسئلہ: پائچوں کا کعبین یعنی ٹخنوں کے نیچے ہونا جسے عربی میں اسبال کہتے ہیں اگر براہ عُجب و تکبر ہے تو قطعاً ممنوع و حرام ہے اور اس پر وعید شدیدوارد ہے ۔ ‘‘ ( فتاوٰی رضویہ ،جلد ۹ جزاول، ص ۹۹)

حدیث:بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ لا ینظر اللہ یوم القیٰمۃ الی من جر ازارہ بطرا‘‘ یعنی ’ ’ جو اپنی ازار کو تکبراً لٹکاتا ہے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر التفات نہیں فرمائے گا ۔ ‘‘

حدیث:ابوداؤد ، ابن ماجہ ، مسلم شریف ، نسائی ، ترمذی وغیرہ میں حضرت سعید بن الخدری اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ’’ من جر ثوبہ مخیلۃ لم ینظر اللہ الیہ یوم القیمۃ ‘‘ یعنی ’’ جو ازراہ تکبر اپنا کپڑا لٹکائے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسکی طرف نظر التفات نہیں فرمائے گا ‘‘

نیز طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اسبال کی وعید میں فرمانِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم روایت کیا ہے ۔ ان تمام احادیث کا ماحصل یہ ہے کہ اگر اسبال ازراہ تکبر ہے تو یقینا اور لازماً مذموم و داخل وعید و ممانعت ہے لیکن اگر اسبال ازراہ تکبر نہیں تو خلاف اولیٰ ہے ۔جیسا کہ :-

حدیث:صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ہے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’من جر ثوبہ خیلاء لم ینظر اللہ الیہ یوم القیٰمۃ ‘‘ ترجمہ ’’ جو اپنے کپڑے کو تکبر سے لٹکائے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف توجہ نہیں فرمائے گا ‘‘۔ اس ارشاد گرامی پر امیر المؤمنین خلیفۃ المسلمین ، اصدق الصادقین ، امام المتقین ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم میں عرض کی کہ ’ ’ یا رسول اللہ احدشقی ازاری یسترخی الا ان اتعاہد ذالک منہ ‘‘ یعنی یا رسول اللہ ! ﷺمیرا ازار ( تہبند) لٹک جاتا ہے جب تک میں اس کا خاص لحاظ نہ رکھوں ‘‘ ۔ فقال النبی صلی اللہ علیہ و سلم لست ممن یصنعہ خیلاء ‘‘ یعنی ’’ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ تم ان میں سے نہیں ہو جو براہ تکبر ایسا کرتاہو ۔ ‘‘ ( بحوالۂ فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۴۸)

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اسبال وہی ممنوع و مذموم ہے جو ازراہ تکبر ہے ۔ اور اگر اسبال تکبر کی وجہ سے نہیں تو صرف خلافِ اولیٰ ہے ۔ حرام یامستحق عذاب و وعید نہیں ۔ ایک حوالہ اورپیش خدمت ہے :-

فتاوٰی عالمگیری میں ہے کہ :-

اسبال الرجل ازارہ اسفل من الکعبین ان لم یکن للخیلاء ففیہ کراہۃ تنزیہ ‘‘ ترجمہ :- ’’ مرد کا ٹخنوں سے نیچے پاجامہ (ازار) لٹکانا اگر ازراہ تکبر نہیں تو اس میں مکروہ تنزیہی ہے ۔ ‘‘ ( بحوالہ :- فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۴۸)

اس مسئلہ میں عوام میں بہت زیادہ غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے ۔ بہت لوگوں کو دیکھاگیاہے کہ وہ نماز پڑھتے وقت پاجامہ یا پتلون کو اوپر چڑھانے کے لئے اس کے پائچوںکو موڑتے ہیں ۔نماز میں اس طرح پائچوں کو موڑ کر اوپر چڑھانا ’’ خلاف معتاد ‘‘ ہے اور نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے ۔ اگر پاجامہ یا پتلون اتنی لمبی ہے کہ پاؤںکے ٹخنے ڈھک جاتے ہیں ، توٹخنوں کو کھولنے کے لئے پاجامہ یا پتلون کے پائچوں کو ہرگز موڑنا نہیں چاہئے بلکہ کمر بند کے حصہ سے اوپر کی طرف کھینچ لینا چاہئے اور اس طرح کھینچنے کے باوجود بھی اگر ٹخنیں نظر نہیں آتے ، تو ٹخنیں ڈھکی ہوئی حالت میںنماز پڑھ لینی چاہئے ۔اس طرح نماز پڑھنے سے نماز مکروہ ضرور ہوگی مگر مکروہ تنزیہی ہوگی لیکن اگر ٹخنوں کو کھولنے کے لئے پاجامہ یا پتلون کے پائچوںکو موڑاتو نماز مکروہ تحریمی ہوگی اور جو نماز مکروہ تحریمی ہوئی اس کا اعادہ یعنی دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔ حیرت اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی سے بچنے کے لئے لوگ مکروہ تحریمی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ اور اپنے گمان میں سنت پر عمل کرنے کااطمینان کرلیتے ہیں ۔

البتہ ! پاجامہ ٹخنوں سے اوپر تک ہو اورٹخنیں کھلے رہیں یہ سنت ہے ۔ یہ مسئلہ اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ :-

’’ پاجامہ طول (لمبائی ) میں ٹخنوں سے زائد ( زیادہ ) نہ ہو کہ لٹکے ہوئے پائچے اگر براہ تکبر ہوں تو حرام و گناہ کبیرہ ہے ، ورنہ مردوں کے لئے مکروہ اور خلاف اولیٰ ہے ۔‘‘( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۹ ، جز اول ، ص ۸۴)

دور حاضر میں وہابی ، نجدی، دیوبندی تبلیغی جماعت کے متبعین اور جاہل بلکہ اجہل مبلّغین اس مسئلہ میں حد درجہ غلو اور تشدّد کرتے ہیں ۔ ضرورت سے زیادہ اونچا پاجامہ پہنتے ہیں اور سنت پر عمل کرنے کامظاہرہ بلکہ ریاکاری کرتے اور ضرورت سے زیادہ اونچا پاجامہ پہننے پر اپنے کومتّبع سنت میں شمار کرنے کرانے کی کوشش اور دکھاوا کرتے ہیں ۔ پاجامہ پہننا بے شک حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی سنت ہے ۔ جلیل القدر انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اورجلیل الشّان صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم نے پاجامہ زیب تن فرمایا ہے :-

حدیث:حاکم اور ترمذی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’ کان علی موسیٰ یوم کلمہ ربہ سراویل صوف ‘‘ یعنی ’’ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے روزمکالمۂ طور اون کا پاجامہ پہنا تھا ۔‘‘

حدیث:ابونعیم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور اقدس ، سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’ اول من لبس السراویل ابراہیم الخلیل ‘‘ ترجمہ ’’ سب سے پہلے جس نے پاجامہ پہنا وہ حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ صلوٰۃ اللہ تعالیٰ و سلامہ علیہ ہیں ۔‘‘

المواہب اللدنیہ اور شرح سفر السعادہ میں ہے امیرالمؤمنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روز شہادت پاجامہ پہنے ہوئے تھے ۔ صحابہ ٔ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم زمانہ اقدس میں باذن حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم پاجامہ پہنا کرتے تھے ۔

تہبند یعنی لنگی کے مقابلہ میں پاجامہ میں ستر ( بدن کا چھپنا) زیادہ ہے ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے تہبند کے مقابلہ میں پاجامہ کو زیادہ پسند فرمایا ہے ۔ جیسا کہ حدیثوں میں ہے :-

حدیث:امام ترمذی ، امام عقیلی ، ابن عدی اور دیلمی نے امیرالمؤمنین ، حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ ’’ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی امت کی پاجامہ پہننے والی عورتوں کے لئے دعائے مغفرت فرمائی اور مردوں کو تاکید فرمائی کہ خود بھی پہنیں اور اپنی عورتوں کو پہنائیں کہ اس میں ستر زیادہ ہے ۔‘‘

اس حدیث میں پاجامہ کو ستر یعنی بدن کو اچھی طرح چھپانے کی وجہ سے پسند فرمانے کا ذکر ہے ۔ مرد کے جسم کاوہ حصہ جو ناف اور گھٹنوں کے درمیان ہے اس کاچھپانا فرض ہے ۔ عورت کاپورا بدن چھپانا فرض ہے ۔ لہٰذا شریعت مطہر ہ کی عادت کریمہ ہے کہ جب ایک مقدار کو فرض فرمایا جاتا ہے تو اس فرض کی کامل طور سے ادائیگی کے لئے ایک حدِّ معتدل یعنی مناسب حد تک اس سے زیادت یعنی اضافہ کرنا سنت قرار دیاجاتا ہے ۔مثلاً عورت کا پورا بدن عورت ہے یعنی اسکو چھپانا فرض ہے ۔ عورتوں کے لئے اس کا پورا پاؤں چھپانا فرض ہے لہٰذا عورتوں کے لئے حکم ہے کہ وہ ایک بالشت تک ازار یا پائچے لٹکائے بلکہ عورتوں کو دو (۲)بالشت تک ازار یا پائچا لٹکانے کی اجازت ہے ۔ کیونکہ اگر عورت نے ستر عورت کی وہ حد جو فرض ہے یعنی قدموں تک ہی پاجامہ پہن رکھاہے تو اس میں انکشاف عورت کا امکان ہے کہ چلنے پھرنے یا اٹھنے بیٹھنے میں اگر پاجامہ تھوڑا بھی اونچا ہوا تو اس کاٹخنا یا پنڈلی نظر آئے گی اور عورت کاٹخنا یا پنڈلی کا نظر آنا شرعاً ناجائز ہے ۔ لہٰذا عورتوں کو ایک یا دو بالشت ازار لٹکی ہوئی ہو اتنی لمبی ( طویل ) پہننے کی رخصت فرمائی گئی تاکہ ستر عورت کا لحاظ اورا لتزام برقرار رہے اور انکشافِ عورت کاموقعہ نہ بنے ۔

حدیث:نسائی ، ابوداؤد ، ترمذی اور ابن ماجہ نے اُمّ المومنین ، حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے روایت کی ۔انہوں نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سے سوال کیاگیا کہ ’’ کم تبحر المرأۃ من ذیلہا ‘‘ یعنی ’’عورت اپنا کپڑا ( پاجامہ) کتنا لٹکائے ؟ ارشاد فرمایاکہ ایک ہاتھ تک ‘‘

 مندرجہ بالا حدیث کی تشریح فرماتے ہوئے امام اجل ، علامہ احمد بن محمد المصری القسطلانی اپنی معرکۃ الآراء کتاب ’’ مواہب لدنیہ علی الشمائل المحمدیہ ‘‘ میں فرماتے ہیںکہ عورت کے لئے مستحب ہے کہ اپنی ازار کو ایک ذراع تک لٹکائے یعنی حدِّ قدم سے لمبی پہنے ۔‘‘

معلوم ہوا کہ بدن کا جو حصہ چھپانا فرض ہے اس فرض کی تکمیل کے لئے فرض کی حد سے کچھ تجاوز کرکے زیادہ حصہ چھپانا مستحب ہے تاکہ بدن کا حصہ عورت منکشف نہ ہو ۔ مردوں کے لئے گھٹنے تک کا حصہ چھپانا فرض ہے ۔ تو اگر ڈھیلا پاجامہ یعنی جس پاجامہ کے پائچے کشادہ ہوں، اس پاجامہ کو نصف ساق یعنی آدھی پنڈلی تک ہی کسی نے پہنا ہے تو بیٹھنے اٹھنے یا سونے لیٹنے میں گھٹنہ نظر آنے کا امکان زیادہ ہے ۔ لہٰذا مردوںکو پاجامہ کعبین یعنی ٹخنوں تک پہننا مستحب ہے ۔ دور حاضر میں تبلیغی جماعت والے آدھی ساق (پنڈلی) تک ہی پاجامہ پہننے کا جو اصرار کرتے ہیں بلکہ اس میں غلو کرتے ہیں یہ ان کی شریعت پر سراسر زیادتی ہے ۔

حدیث:ابوداؤد نے حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راویت کیاکہ انہو ںنے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو دیکھا کہ ان کا پاجامہ قدم کی پشت پر لٹکا ہوا ہے اور وہ پاجامہ ٹخنوں کی جانب سے اونچا ہے ۔ حضرت عکرمہ نے کہا اے ابن عباس ! آپ نے اس طرح پاجامہ کیو ں لٹکایا ہے ؟ ’’ قال رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یا تزرہا‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ میںنے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کو اسی طرح ازار لٹکاتے ہوئے دیکھاہے ۔‘‘

اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ پاجامہ اس طرح کا پہننا کہ اس کے پائینچے کا ایک سرا قدم کی پشت پر لٹکا ہواہو لیکن دوسرا سرا کعب یعنی ٹخنے سے بلند ہے اورٹخنہ چھپتا نہیں ہے تو ایسا پاجامہ پہنناجائز ہے ۔ ا س میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ اس طرح حضرت عبداللہ بن عباس بلکہ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سے ثابت ہے ۔ فتاوٰی رضویہ میں ہے کہ :-

’’اسبال اگر براہ عجب و تکبر ہے، حرام ورنہ مکروہ اور خلافِ اولیٰ نہ حرام و مستحق وعید اور یہ بھی اوسی صورت میں ہے کہ پائچے جانب پاشنہ ( ایڑی) نیچے ہوں اور اگر اس طرف کعبین ( ٹخنوں ) سے بلند ہیں گو پنجہ کی جانب پشت پا(قدم )پر ہوں ہرگز کچھ مضائقہ نہیں ۔ اس طرح لٹکانا حضرت ابن عباس بلکہ خود حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سے ثابت ہے ۔‘‘ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۹ ، جز اول ، ص ۹۹)

الحاصل ! پاجامہ اتنا لمبا ہوناچاہئے کہ کعبین یعنی ٹخنوں تک آئے اور ٹخنیں نہ چھپیں بلکہ نظر آنے چاہئیں ۔ اس طرح کا پاجامہ بھی سنت میں شمار ہوگا ۔پاجامہ خوب اونچا پہننا بلکہ ضرورت سے بھی زیاہ اونچا پہننا آج کل کے جاہل وہابیوں کا اختراع ہے ۔

q دور حاضر کے منافقین وہابی ، دیوبندی ، نجدی اور تبلیغی جماعت کے متعلق احادیث میں جو علامات بتائی گئیں ہیں ان میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ پاجامہ بہت اونچا پہنیں گے ۔

حدیث:بخاری شریف اور مسلم شریف میں حضرت ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایاکہ ’’ و یقرؤن القرآن لا یجاوز حناجرہم ۔ یمرقون من الدین کما یمرق السہم من الرمیہ ‘‘ یعنی ’’ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے گلوں سے تجاوز نہ کرے گا ۔ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکا رسے ‘‘ قیل ما سیماہم ؟ قال سیماہم التحلیق ‘‘ عرض کی گئی یا رسول اللہ ! ﷺان کی علامت ( پہچان ) کیا ہوگی ؟ فرمایا سرمنڈانا ‘‘ یعنی ان کے اکثر سر منڈے ہوں گے ۔‘‘ بعض احادیث میں یہ بھی آیاکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے ان کا پتا بتاتے ہوئے ان کی ایک علامت و نشانی یہ بھی ارشاد فرمائی کہ ’’ مشمری الازار ‘‘ یعنی ’’ گھٹنی ازار والے یعنی چھوٹی ناپ کی ازار والے ۔‘‘

خوب یاد رکھیں ! کہ تکبر ، غرور ، خو دبینی ، گھمنڈ ، عُجب ، تفاخر ، اپنی بڑائی وغیرہ کی نیت سے اگر پاجامہ اتنا لمبا پہنا ہے کہ اسکے پائچے ٹخنوں کے نیچے تک لٹک ہوئے ہیں تو حرام اور سخت گناہ ہے ۔ احادیث میں اس کے لئے بہت سخت وعیدیں وارد ہیں ۔ ان میں سے ہے کہ :-

حدیث:بخاری شریف اور نسائی میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ مااسفل من الازارففی النار ‘‘ یعنی ’’ ازار ( پاجامہ) سے جو نیچے لٹکا ہواہے وہ جہنم میں ہے ۔‘‘

حدیث:مسلم شریف اور ابوداؤد شریف میں ہے کہ حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں کہ تین (۳)شخص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں فرمائے گا اور نہ ان کی طرف نگاہ التفات فرمائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے ۔ وہ تین شخص (۱) المسبل اسبال کرنے والا یعنی ٹخنوں کے نیچے تک پاجامہ پہننے والا (۲) المنان یعنی احسان جتانے والا اور (۳) منافق جو جھوٹی قسمیں کھاتا ہے ۔‘‘

ان احادیث میں اسبال کی جو مذمت وارد ہے اس سے یہی صورت مراد ہے کہ تکبر کی وجہ سے اسبال کرتا ہو ، ورنہ ہرگز وعید شدید اس پر وارد نہیں ۔ عدم تکبرکی صورت میں حکم کراہت تنزیہی ہے ۔ بیشک ! ٹخنوں کے اوپر تک پاجامہ پہننا مسنون ہے مگر اتنا زیادہ اونچا بھی نہیں پہننا چاہئے کہ اٹھنے اور سونے لیٹنے میں کھل جانے کا امکان و اندیشہ ہو ۔ ضرورت سے زیادہ اونچا پاجامہ پہننا افراط بدعت وہابیہ ہند ہے لہٰذا ان سے مشابہت مکروہ ہے ۔

ٹخنوں کے نیچے تک پاجامہ پہننے کی جو ممانعت اور وعید آئی ہے ، اس میں تکبر و گھمنڈ کا سدباب کیاگیا ہے ۔ بظاہر ٹخنوں کے نیچے تک لٹکے ہوئے پاجامہ کی مذمت ہے لیکن درحقیقت تکبرکی مذمت اور استیصال ہے ۔ اگر کسی نے ٹخنو ںسے اوپر بلکہ نصف ساق تک اونچا پاجامہ پہنا اور اس طرح کا پاجامہ پہننے پر اس نے تکبر اور عجب کیاکہ میں نہایت ہی پابندِ سنت ہوں اور میرے مقابلے میں دیگر لوگ پابند سنت نہیں تو اس کا نصف ساق تک کا اونچا پاجامہ پہننا بھی ممانعت اور وعید میں داخل ہوجائے گا ۔ پاجامہ کے نیچے لٹکے ہوئے ہونے یا نصف ساق تک اونچا ہونے کی اہمیت نہیں بلکہ تکبر کے ہونے یا نہ ہونے کی اہمیت ہے ۔ اگر کسی نے بغیر تکبرپاجامہ لٹکایا تو ممانعت اور وعید سے محفوظ ہوگیا اور اگر کسی نے تکبر سے پاجامہ نصف ساق تک اوپر چڑھایا تو ممانعت اور وعید میں گرفتار ہوگیا ۔ الحاصل ! ممانعت و رخصت کا مدار نیت پر ہے ۔ اگر ازراہ تکبر ہے تو ممانعت ہے اوراگر ازراہ تکبر نہیں تو رخصت ہے ۔ تکبر اور عجب ایسی مذموم اور مقبوح خصلتیں ہیں کہ آدمی کا عمل برباد کردیتی ہیں ۔ عمل کا اجر و ثواب ملنا تو درکنار الٹا گناہ و عذاب کا بوجھ سر پر رکھاجائے گا ۔

دور حاضر کے منافقین یعنی وہابی تبلیغی جماعت کے متبعین ضرورت سے زیادہ اونچا پاجامہ پہن کر تکبر و ریاکاری کی بلاء میں گرفتا ر ہوتے ہیں ۔ خود کو سنت کا پابند اور دوسروں کو سنت کا تارک و مخالف جانتے ہیں ۔ تکبر و ریا کے متعلق احادیث و اقوال ائمہ دین کے دفاتر اس کی مذمت سے بھرے ہوئے ہیں ۔

حدیث:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں ’’ سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یقول ان النار و اہلہا یعجون من اہل الریاء ۔ قیل یا رسول اللہ و کیف یعج النار قال من حر النار التی یعذبون بہا ‘‘ ترجمہ ’’ میںنے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کو ارشاد فرماتے سنا کہ دوزخ اور اہل دوزخ ریاکارو ںسے چیخ اٹھیں گے ۔ عرض کیا گیا ۔ یا رسول اللہ ! دوزخ کیوں چیخے گی ؟ آپ نے فرمایا اس آگ کی تپش سے جس سے ریاکاروں کو عذاب دیاجا ئے گا ۔ ‘‘

خاتم المحققین ، رئیس المجتہدین ، ہادی السالکین ، حجۃ الاسلام والدین ابوحامد محمد بن محمد بن محمد طوسی المعروف ’’ امام غزالی ‘‘ قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں کہ :-

’’تم نے خود بھی دیکھاہوگا کہ خشک عابد اور رسمی صوفی تکبر سے پیش آتے ہیں ۔ دوسروں کو حقیر خیال کرتے ہیں ۔ تکبرکی وجہ سے ا پنا رخسا رٹیڑھا رکھتے ہیں ا ور لوگوں سے منہ بسورے رکھتے ہیں گویا دو (۲)رکعت نماز زیادہ پڑھ کر لوگوںپر احسان کرتے ہیں ۔ یا شاید انہیں دوزخ سے نجات اورجنت کے داخلے کا سرٹیفکٹ مل چکا ہے ۔ یا ان کو یقین ہوچکاہے کہ صر ف ہم ہی نیک بخت ہیں باقی سب لوگ بدبخت اور شقی ہیں ۔ پھر وہ ان تمام برائیوں کے ہوتے ہوئے لباس عاجر اور متواضع لوگوں جیسا پہنتے ہیں ، جیسے صوف وغیرہ ۔ اور بناوٹ سے خموشی اور کمزوری کا اظہار کرتے ہیں ۔ حالانکہ ایسے لباس اور خموشی وغیرہ کا تکبر اور غرور سے کیا تعلق بلکہ یہ چیزیں تو تکبر اور غرور کے منافی ہیں ، لیکن ان اندھوں کو سمجھ نہیں۔‘‘( منہاج العابدین ،از امام غزالی ، اردو ترجمہ ص ۱۶۶)

حجۃ الاسلام ، حضرت امام غزالی ایک اور مقام پر فرماتے ہیں کہ :-

’’ العجب استعظام العمل الصالح ‘‘ ترجمہ ’’ اپنے اعمال صالحہ کو عظیم خیال کرنے کا نام عجب ہے ۔ ( منہاج العابدین ، اردو ترجمہ ، ص ۲۸۳)

نــکـــتـــہ :-

ایک اہم نکتہ کی طرف قارئین کی توجہ مرکوز کرنا بھی ضروری ہے کہ دور حاضر کے منافقین اپنے فعل و ارتکاب پر اتنا اکڑتے اورا تراتے ہیں کہ اپنے مقابل دوسروں کو خاطر میں نہیں لاتے اورحیرت کی بات تو یہ ہے کہ وہ اپنے ارتکاب کو ’’ سنت رسول ‘‘ کا حسین نام دے دیتے ہیں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کو خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ جس کام کو ہم سنت رسول کا حسین جامہ پہنا رہے ہیں وہ کام درحقیقت سنت متوارثہ ہے یا نہیں ؟ مثال کے طور پر سر کے تمام بال منڈانا ۔ اکثر و بیشتر وہابی تبلیغی جماعت کے متبعین سر گھٹاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم سنت پر عمل کرتے ہیں ۔ عام دنوں میں بھی وہ سر کے بال صفا چٹ کرادیتے ہیں ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے ضرور حلق فرمایا ہے یعنی سر کے بال منڈوائے ہیںلیکن کب ؟ ایک حوالہ پیش خدمت ہے :-

’’ حج و حجامت یعنی پچھنوں کی ضرورت کے سوا حضور والا صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سے حلق شعر ( یعنی سر کے تمام بال منڈانا ) ثابت نہیں ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے دس سال مدینہ میں قیام فرمایا ۔ اس مدت میں صرف تین (۳)بار یعنی سال حدیبیہ و عمرۃ القضا و حجۃ الوداع میں حلق فرمایا ۔ علی ما نقلہ علی القاری فی جمع الوسائل عن بعض شراح المصابیح ‘‘ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۹ ، جز اول ، ص ۳۹)

حضور اقدس رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے مدینہ منورہ کے دس سال کے قیام طویل کے دوران صرف تین مرتبہ ہی حلق شعر یعنی سر کو پورا منڈانا فرمایاہے ۔ اور وہ تین مرتبہ بھی عام دنوں میں حلق نہیں فرمایابلکہ خاص مواقع پر حلق فرمایاہے ( ۱) سال حدیبیہ (۲) عمرۃ القضا اور (۳) حجۃ الوداع کے موقع پر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے حلق شعر فرمایا ہے ۔عام دنوں میں حلق شعر فرمانا ثابت نہیں ۔ لیکن پھر بھی دورِ حاضر کے منافقین سر گھٹانے کے اپنے فعل پر سنت رسول ، سنت رسول کی رٹ لگاتے ہیں ۔ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے حج و عمرہ کے موقعوں پر حلق فرمایاہے اور یہ حلق فرمانا ارکانِ حج و عمرہ سے تھا ۔ عام طور سے عادت کریمہ یہ تھی کہ سرِ اقدس پر زلفیں معنبری تھیں اور وسطِ راس (سر) مانگ شریف ہوتی تھی ۔

دورِ حاضر کے منافقین کی عام دنوں میں پورے سر کے بال منڈانے کی عادت درحقیقت مخبر صادق صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے منافقین کی خصلتوں کی نشاندہی فرماتے ہوئے جو ارشاد فرمایا ہے کہ ’ ’ سیماہم التحلیق ‘‘ یعنی ’’ ان کی علامت سر گھٹانا

( منڈانا) ہے‘‘ اس خبر ِ صادق کے مصداق ہیں ۔ منافقوں کی پہچان کراتے ہوئے مخبرصادق صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جو علامات ارشاد فرمائے ہیں۔ mقرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے تجاوز نہیں کرے گا۔ mان کی نمازوں اور روزوں کے سامنے تم اپنی نمازیں اورروزے حقیر جانوں گے ۔mایسی ایسی باتیںلے کر آئیں گے جو نہ تم نے سنی ہوگی اور نہ تمہارے باپ دادا نے سنی ہوگی ۔ mاگلے زمانہ کے لوگوں کو برا کہیں گے۔mسرمنڈائیں گے۔mپاجامہ اونچا پہنیں گے وغیرہ وغیرہ علامتیں موجودہ دور کے منافقوں اور مرتدوں میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں ۔ لیکن اپنی ان منافقانہ خصلتوں کو وہ سنت کا نام دے کر عوام الناس کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس بحث کو زیادہ طول نہ دیتے ہوئے ہم اصل مسئلہ کی طرف رجوع کریں ۔

مسئلہ:پاجامہ یا پتلون کے پائچوں کو موڑنا فقہی اصطلاح میں ’’ خلاف معتاد‘‘ میں شمار ہوتا ہے ۔ خلاف معتاد یعنی بدن کے کپڑے کو اس طرح موڑنا یا اوڑھنا کہ اس طرح کپڑا موڑ کر یا اوڑھ کر بازار میں یا کسی اکابر کے پاس نہ جاسکیں ۔ جو لوگ نماز میںپاجامہ یا پتلون کے پائچے موڑتے ہیں ، ان سے جب کہا جائے گا کہ جناب اسی طرح پائچے موڑے ہوئے ہی آپ بازار میں یا کورٹ کچہری میں تشریف لے چلیں ، تو وہ ہرگز اس ہیئت میں بازار یا کسی کچہری یا دفتر میں جانے کے لئے رضامند نہ ہوں گے بلکہ اس طرح جانے میں شرم اور عار محسوس کریں گے ۔ اور اگر کوئی شخص اپنے پاجامہ یا پتلون کے پائچے موڑ کربازار یا کسی دفتر میں چلاجائے گا تو لوگ اس کی بدتہذیبی پرہنسیں گے ۔ بلکہ یہ کہیں گے کہ کیسا بے ادب شخص ہے کہ خلاف معتاد یعنی عادت ، رواج ، اور تہذیب کے آداب کو بالائے طاق چھوڑ کر آدھمکا ہے ۔ تو ذرا غور فرمائیں! کہ جس ہیئت میں دنیا داروں کے دربار میں جانا بھی خلاف معتاد ہے ، تو اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضری (نماز) کے وقت تو معتاد کا زیادہ لحاظ کرنا لازمی ہے ۔ خدا کے دربار کی حاضری کے وقت کوئی ایسا کام روا نہیں جو ’’ خلاف معتاد‘‘ ہو ۔ اسی لئے فقہائے کرام نے خلاف معتاد کپڑاپہن کر نماز پڑھنے پر مکروہ تحریمی کا حکم صادر فرمایاہے ۔

یہاں تک کی گفتگو کاماحصل یہ ہے کہ اگر کسی کاپاجامہ لمبا سلاہواہے اور اس کے پائچے ٹخنوں کے نیچے تک لٹکے ہوئے ہیں اور اس کا اس طرح پائچے لٹکانا تکبر یا عجب کی وجہ سے نہیں اور اس نے پائچے ٹخنوں کے نیچے لٹکتی ہوئی حالت میں نماز پڑھی تو اس کی نماز مکروہ تنزیہی ہوگی لیکن اگر اس نے پائچوں کو موڑ کر اوپر چڑھا کر نماز پڑھی تو اس کی نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی ۔ حیرت اور تعجب ہے ان لوگوں پر جو پائچو ںکو موڑ کر اوپر چڑھاتے ہیں اور مکروہ تنزیہی سے بچنے کے لئے مکروہ تحریمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ لہٰذا نماز میں پاجامہ کے پائچے یا کرتہ کی آستینوں کو ہرگز موڑنا نہیں چاہئے ۔

مسئلہ:نماز میں سر سے ٹوپی گر جائے تو اٹھالینا افضل ہے جبکہ بار بار نہ گرے اور اٹھانے میں عمل کثیر کی حاجت نہ پڑے ۔ ورنہ نماز فاسد ہوجائے گی۔ اور اگر خشوع و خضوع و انکساری و عاجزی کی نیت سے سر برہنہ رہنا چاہے تو نہ اٹھانا افضل ہے ۔ ( درمختار، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۷۱ ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۱۶ )

مسئلہ:نماز میںا نگڑائی لینا ، بالقصد کھانسنا یاکھنکھارنا مکروہ ہے ۔ ( عالمگیری ، مراقی الفلاح)

مسئلہ:امام کامحراب میں بے ضرورت کھڑاہونا کہ پاؤں بھی محراب کے اندر ہوںیہ بھی مکروہ ہے ۔ ہاں اگر پاؤں باہر ہوں اور سجدہ محراب کے اندر ہو تو کراہت نہیں ۔ اسی طرح امام کا در میںکھڑا ہونا یہ بھی مکروہ ہے مگر اسی طرح کہ اگر پاؤں باہر ہوں اور سجدہ در میں ہو تو کراہت نہیں ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۲)

مسئلہ:کعبہ ٔ معظمہ اور مسجد کی چھت پر نماز پڑھنا مکروہ ہے کہ اس میں ترک تعظیم ہے ۔ (عالمگیری ، بہار شریعت ۳ ، ص ۱۷۴)

مسئلہ:مسجد میں کوئی جگہ اپنے لئے خاص کرلینا کہ اسی جگہ پر نماز پڑھے یہ مکروہ ہے ۔ (عالمگیری )

مسئلہ:نمازی کے سامنے جلتی آگ کاہونا باعث کراہت ہے ۔ البتہ شمع یا چراغ میں کراہت نہیں۔ (عالمگیری )

مسئلہ:سجدہ میں ران کو پیٹ سے چپکا دینا مرد کے لئے مکروہ ہے ۔ مگر عورت سجدہ میں ران پیٹ سے ملا دے گی ۔( عالمگیری ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۷۴)

مسئلہ:عام راستہ ، کوڑاڈالنے کی جگہ ،مذبح یعنی جانوروں کو حلال و ذبح کرنے کی جگہ ، قبرستان ، غسل خا نہ ، حمام ، نالا ، مویشی خانہ ،(Cattle Camp) خصوصاً اونٹ باندھنے کی جگہ ، اصطبل یعنی گھوڑوں کو باندھنے کی جگہ (طبیلہ ) ، پاخانہ کی چھت پر نماز پڑھنا مکروہ ہے ۔ (درمختار ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۷۵)

مسئلہ:گلوبند ، پگڑی ، ٹوپی یا رومال سے پیشانی چھپی ہوئی ہے ، تو سجدہ درست اور نماز مکروہ ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۱۹)

مسئلہ:حقہ یا بیڑی یاتمباکو کھانے پینے والے کی منہ میں بدبو ہونے کی حالت میں نماز مکروہ ہے اور ایسی حالت میں مسجد میںجانا بھی منع ہے جب تک منہ صاف نہ کرلے۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۴۶)

مسئلہ:جماعت سے نماز پڑھتے وقت امام کے برابر ( قریب) دو مقتدیوں کا کھڑا ہونا مکروہ تنزیہی ہے ۔ ( بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۳۲، درمختار ، جلد ۱ ص ۳۸۱)

مسئلہ:کام کاج کے کپڑوں سے نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے جبکہ اس کے پاس دوسرے کپڑے موجود ہوں ورنہ اسی کپڑوں میں نماز پڑھنے میں کراہت نہیں ۔ ( بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص۱۷۱)

مسئلہ:تمام مذہب کی کتابوں میں صاف تصریح ہے کہ وہ کپڑے جن کو آدمی اپنے کام کاج کے وقت پہنے رہتا ہے ۔ جن کپڑوں کو میل کچیل سے بچایا نہیں جاتا انہیں پہن کر نماز پڑھنی مکروہ ہے ۔ ذخیرہ میں ایک روایت اس طرح منقول ہے کہ ’’ ان عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رأی رجلا فعل ذالک ۔ فقال ارأیت لو ارسلتک الی بعض الناس اکنت تمر فی ثبابک ہذہ فقال لا ۔ فقال عمر فاللہ احق ان یتزین لہ ‘‘ ترجمہ ’’ امیرالمؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک شخص کو ایسے ہی کپڑوں میں نماز پڑھتے دیکھاتو اس شخص سے فرمایاکہ بھلا بتا تو سہی اگر میں تجھے انہیں کپڑوں میں کسی آدمی کے پاس بھیجوں تو کیا تو چلا جائے گا ۔ اس شخص نے کہا نہیں ۔اس پر حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ زیادہ مستحق ہے کہ اس کے دربار میں زینت اور ادب کے ساتھ حاضر ہو ۔ ( تنویر الابصار ، در مختار ، درد ، غرر ، شرح وقایہ ، شرح نقایہ ، مجمع الانہر ، بحر الرائق ، رد المحتار ، غنیہ ، حلیہ ، ذخیرہ اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۴۴۴)