باب المساجد ومواضع الصلوۃ

باب مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ مسجد کے لغوی معنے ہیں سجدہ گا۔مگرشریعت میں وہ جگہ مسجد ہے جونماز کے لیےوقف ہو۔وہ حدیث شریف جس میں ہے کہ ساری زمین میرے لیے مسجدہے اس کے معنی یہ ہیں کہ ہرجگہ نمازجائزہے۔پچھلے دینوں میں سواءعبادت خانوں کے اور کہیں نماز نہ ہوتی تھی۔نمازکے مقامات سے مراد وہ جگہ ہیں جہاں نمازمکروہ یا غیر مکروہ ہے۔خیال رہے کہ گھرمیں بنائی ہوئی مسجدافضل ہے مگر وقف نہیں۔

حدیث نمبر :650

روایت ہے ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبے شریف میں داخل ہوئے ۱؎ تو اس کے گوشوں میں دعا مانگی اورنماز نہ پڑھی ۲؎ حتی کہ وہاں سے تشریف لے آئے جب نکلے تو دو رکعتیں کعبے کے سامنے پڑھیں۳؎ اورفرمایا یہ ہے قبلہ۴؎(بخاری)اورمسلم نے انہی سے روایت اسامہ بن زید سےروایت کی۔

شرح

۱؎ یعنی فتح مکہ کے دن اولًا کعبہ شریف سے بت نکالے گئے،پھر اسے آبِ زم زم سے دھویا گیا،پھرحضورانور صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے گئے۔خیال رہے کہ کعبہ معظمہ اورمسجد حرام شریف تمام مسجدوں بلکہ عرشِ الٰہی سے بڑھ کرہے۔(مرقاۃ)

۲؎ صحیح یہ ہے کہ حضورانورعلیہ السلام نے اس دن وہاں نماز پڑھی ہے۔حضرت ابن عباس کو اس کی خبر نہیں ہوئی کیونکہ اس وقت آپ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ نہ تھے۔آگے حضرت بلال کی روایت آرہی ہے کہ آپ نے وہاں نمازپڑھی اور وہ اس وقت تک حضورانورعلیہ الصلوۃ والسلام کے ہمراہ تھے ان کی خبردیکھ کر ہے اور ان کی سنی ہوئی،نیز اس روایت میں نمازکی نفی ہے اور وہاں ثبوت اورتعارض کے وقت ترجیح ثبوت کو ہوتی ہے۔

۳؎ کیونکہ کعبہ کو منہ کرکے نہ ادھر پیٹھ کرکے اور نہ کروٹ لے کر۔

۴؎ یعنی تا قیامت کعبہ تمام مسلمانوں کا قبلہ ہوچکا کبھی منسوخ نہ ہوگا۔اس میں لطیف اشارہ اس طرف بھی ہورہا ہے کہ کعبہ کا ہرحصہ قبلہ ہے،سارا کعبہ نمازی کے سامنے ہونا ضروری نہیں،کعبہ کے اندرنمازی بعض حصہ کی طرف پیٹھ کرتا ہے اوربعض کی طرف منہ،مگرنمازہوجاتی ہے۔خیال رہے کہ کعبہ وہاں کی فضاء کا نام ہے جو زمین سے آسمان تک ہے نہ کہ دیواروں کا نام۔دیکھو پہاڑ پریاتہہ خانہ کے اندرنماز پڑھنے کی صورت میں کعبہ کی دیوارنمازی کے سامنے نہ ہوگی مگرنماز درست ہوگی،لہذا یہ حدیث حنفیوں کے خلاف نہیں۔