امام احمد رضا کا ذات الٰہی و رسول کریم ﷺ پر توکل و یقین

ایک صاحب نے میری دعوت کی، با صرار لے گئے ۔ ان دنوں جناب سید حبیب اللہ دمشقی جیلانی (علیہ رحمۃ اللہ الغنی)فقیر کے یہاں مقیم تھے ، ان کی بھی دعوت تھی میرے ساتھ تشریف لے گئے ۔ وہاں دعوت کا یہ سامان تھا کہ چند لوگ گائے کے کباب بنارہے تھے اور حلوائی پوریاں، یہ ہی کھانا تھا۔ سید صاحب نے مجھ سے فرمایا : ”تُو گائے کے گوشت کا عادی نہیں اور یہاں کوئی اور چیز موجود نہیں بہتر کہ صاحبِ خانہ سے کہہ دیا جائے۔” میں نے کہا کہ ”یہ میری عادت نہیں ۔” ۲؎ وہی پوریاں کباب کھائے ۔ اُسی دن مسوڑھوں میں ورم ہوگیا اور اتنا بڑھا کہ حلق اور مونھ بالکل بند ہوگیا۔ مشکل سے تھوڑا دُودھ حلق سے اُتارتا ، اور اسی پر اکتفا کرتا ، بات بالکل نہ کرسکتا تھا یہاں تک کہ قرا ء َتِ سرّیہ (یعنی آہستہ قراء ت)بھی میسرنہ تھی ۔ سنتیں بھی کسی کی اِقتدا کر کے ادا کرتا ۔ اس وقت مذہبِ حنفی میں عدمِ جوازِ قِراءَ ت خَلْفَ الاِْمَام (یعنی امام کے پیچھے قراء ت جائز نہ ہونے ) کا یہ نفیس فائدہ مشاہدہ ہوا ۔ جو کچھ کسی سے کہنا ہوتا لکھ دیتا ، بخار بہت شدید تھا اور کان کے پیچھے گلٹیں۔ میرے منجھلے (یعنی مجھ سے چھوٹے)بھائی (مولانا حسن رضا خان ) مرحوم ایک طبیب کو لائے۔ اُن دنوں بریلی میں مرضِ طاعون بشدت تھا۔اُن صاحب نے بغور دیکھ کر سات آٹھ مرتبہ کہا :” یہ وہی ہے! وہی ہے !وہی ہے! یعنی طاعون ۔” میں بالکل کلام نہ کرسکتا تھا اس لئے انہیں جواب نہ دے سکا ،حالانکہ میں خوب جانتا تھا کہ یہ غلط کہہ رہے ہیں نہ مجھے طا عون ہے ، نہ اِن شآء اللہُ الْعزیز کبھی ہوگا ، اس لئے کہ میں نے طاعون زدہ کو دیکھ کر با رہا وہ دُعا پڑھ لی ہے جسے حضور سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو شخص کسی بلا رسیدہ کو دیکھ کر یہ دُعا پڑھ لے گا اس بلا سے محفوظ رہیگا” ۔

(ملفوظات اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ)

کتبہ: افتخار الحسن رضوی