حدیث نمبر :653

روایت ہے حضرت ابوسعیدخدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تین مسجدوں کے سوا کسی طرف کجاوے نہ باندھیں جائیں ایک مسجد حرام،ایک مسجد اقصٰی اورایک میری یہ مسجد ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یعنی سواءان مسجدوں کے کسی اورمسجد کی طرف اس لیےسفرکرکے جانا کہ وہاں نماز کا ثواب زیادہ ہے ممنوع ہے،جیسے بعض لوگ جمعہ پڑھنے بدایوں سے دہلی جاتے تھے تاکہ وہاں کی جامع مسجد میں ثواب زیادہ ملے یہ غلط ہے،ہر جگہ کی مسجدیں ثواب میں برابر ہیں۔اس توجیہ پرحدیث بالکل واضح ہے۔وہابی حضرات نے اسی کے معنی یہ سمجھے کہ سواء ان تین مسجدوں کے کسی اور مسجد کی طرف سفر ہی حرام ہے۔لہذا عرس،زیارت قبوروغیرہ کے لئےسفرحرام۔اگر یہ مطلب ہوتو پھرتجارت،علاج،دوستوں کی ملاقات،علم دین سیکھنے وغیرہ تمام کاموں کے لیےسفر حرام ہوں گے اور ریلوے کا محکمہ معطل ہوکررہ جائے گا اوریہ حدیث قرآن کے خلاف ہی ہوگی۔اور دیگر احادیث کے بھی،رب فرماتا ہے:”قُلْ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرْضِ ثُمَّ انۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عٰقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیۡنَ”۔مرقاۃ نے اسی جگہ اور شامی نے “زیارت قبور”میں فرمایا کہ چونکہ ان تین مساجد کے سواءتمام مسجدیں برابر ہیں اس لئےاورمسجدوں کی طرف سفرممنوع ہے اور اولیاءاﷲ کی قبریں فیوض و برکات میں مختلف ہیں،لہذا زیار ت قبور کے لیےسفرجائزکیا،یہ جہلاء انبیاءکرام کی قبور کی طرف سفربھی منع کریں گے۔