جماعت سے نماز پڑھنے کا بیان

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے ہمیشہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور اپنے صحابہ کو بھی ہمیشہ جماعت سے نماز پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے ۔

حدیث شریف میں ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتاہے ۔ ( تفسیر خزائن العرفان ،ص ۱۳)

جماعت سے نماز پڑھنا اسلام کی بڑی نشانیوں ( شعائر) میں سے ہے جو کسی بھی دین میں نہ تھی ۔

جماعت سے نماز ادا کرنے کی فضیلت اور جماعت کو ترک کرنے کی وعید میں بہت سی احادیث وارد ہیں جن میں سے چند احادیث پیشِ خدمت ہیں:-

حدیث:- امام ترمذی حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ جو اللہ کے لئے چالیس دن باجماعت نماز پڑھے اور تکبیر اولیٰ پائے اس کے لئے دو ( ۲) آزادیاں دی جاتی ہیں ۔ ایک نار(جہنم) سے اور دوسری نفاق سے ۔‘‘

حدیث:- صحیح مسلم میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ جس نے باجماعت عشاء کی نماز پڑھی گویا اس نے آدھی رات عبادت کی اور جس نے فجر کی نمازجماعت سے پڑھی گویا اس نے پوری رات عبادت کی۔‘‘

حدیث:- امام بخاری اور امام مسلم نے حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ منافقین پر سب سے زیادہ گراں نماز عشاء و فجر ہے اگر وہ جانتے کہ اس میں کیا ( اجر) ہے تو گھسٹتے ہوئے آتے اور بیشک میںنے قصد کیا کہ نماز قائم کرنے کا حکم دو ں۔ پھر کسی کو حکم دو ںکہ لوگوںکو نماز پڑھائے اور میں اپنے ہمراہ چند لوگوں کو جن کے پاس لکڑیوں کے گھٹے ہوں ، ان کے پاس لے جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھرو ںکو جلا دو ں۔‘‘

حدیث:- امام بخاری ، امام مسلم ، امام ترمذی ، امام مالک اور نسائی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ نماز باجماعت تنہا پڑھنے سے ستائیس(۲۷) درجہ بڑھ کر ہے ۔‘‘

حدیث:- ابوداؤد نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ جو شخص اچھی طرح طہارت کرے پھر مسجد کو جائے تو جو قدم چلتا ہے ، ہر قدم کے بدلے اللہ تعالیٰ نیکی لکھتا ہے اور درجہ بلند کرتاہے اور گناہ مٹا دیتا ہے ۔‘‘

حدیث:- نسائی اور ابن خزیمہ اپنی صحیح میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ جس نے کامل وضو کیا پھر فرض نماز کے لئے مسجد کی طرف چلا اور امام کے ساتھ فرض نماز پڑھی ۔ اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔‘‘

جماعت کے متعلق اہم مسائل :-

مسئلہ:ہر عاقل ، بالغ ، آزاد ، اور قادر مرد پر جماعت واجب ہے ۔ بلا عذر ایک مرتبہ بھی چھوڑنے والا گنہگار اور مستحق سزاہے ۔ اور کئی مرتبہ ترک کرے تو فاسق اور مردو د الشہادۃ ہے یعنی اس کی گواہی قبول نہ کی جائے گی ۔ او راس کو سخت سزا دی جائے گی ۔ اگر پڑوسیوں نے سکوت کیا تو وہ بھی گنہگار ہوئے ۔ ( درمختار ، ردالمحتار ، غنیہ ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۲۹)

مسئلہ:پانچوں وقت کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ واجب ہے ۔ایک وقت کا بھی بلا عذر ترک گناہ ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۷۲)

مسئلہ:جمعہ و عیدین میں جماعت شرط ہے ۔ تراویح میں جماعت کرنا سنت کفایہ ہے ۔ رمضان کے وتر میں جماعت کرنا مستحب ہے ۔نوافل اور رمضان کے علاوہ وتر میں اگر تداعی کے طور پر جماعت کی جائے تو مکروہ ہے ۔ تداعی کے معنی یہ ہیںکہ اعلان ہو اور تین سے زیادہ مقتدی ہوں ۔ ( درمختار ، ردالمحتار، عالمگیری)

مسئلہ:سورج گہن کی نماز میں جماعت سنت ہے اور چاند گہن کی نماز میں تداعی کے ساتھ جماعت مکروہ ہے ۔ ( بہار شریعت ،جلد ۳ ، ص ۱۳۰)

مسئلہ:ایک امام اورایک مقتدی یعنی دو آدمی سے بھی جماعت قائم ہوسکتی ہے ۔اور ایک سے زیادہ مقتدی ہونے سے جماعت کی فضیلت زیادہ ہے ۔ مقتدیوں کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی اتنی فضیلت زیادہ ہوگی۔

حدیث :-امام احمد، ابوداؤد ، نسائی ، ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ مرد کی ایک مرد کے ساتھ نماز بہ نسبت تنہا کے زیادہ پاکیزہ ہے ۔اور دو کے ساتھ بہ نسبت ایک کے زیادہ اچھی ہے اورجتنے زیادہ ہوں اللہ عزوجل کے نزدیک زیادہ محبوب ہیں ۔‘‘

مسئلہ:جمعہ و عیدین یعنی عیدالفطر اور عیدالاضحی کی نماز کی جماعت کے لئے کم از کم تین مقتدی کا ہونا شرط ہے دیگر نمازوں کی طرح ایک یا دو مقتدی سے جمعہ کی نماز قائم نہیں ہوسکتی ۔ جمعہ و عیدین کی نماز کی جماعت کے لئے امام کے علاوہ کم از کم تین مرد مقتدی کا ہونا ضروری ہے ۔ اگر تین مرد سے کم مقتدی ہوں گے تو جمعہ و عیدین کی جماعت صحیح نہیں ۔( عالمگیری ، تنویر الابصار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۸۳)

مسئلہ:اکیلا مقتدی مرد اگرچہ لڑکا ہو ، وہ امام کی برابر داہنی جانب کھڑا ہو ۔ بائیں یا پیچھے کھڑا ہونا مکروہ ہے ۔ اگر دو مقتدی ہوں تو امام کے پیچھے کھڑے ہو ۔ دو مقتدی کا امام کے برابر کھڑا ہونا مکروہ تنزیہی ہے اور دو سے زیادہ مقتدیوں کا امام کے قریب کھڑا ہونا مکروہ تحریمی ہے ۔ ( درمحتار ، جلد ۱ ، ص ۳۸۱)

مسئلہ:اگر امام اور صرف ایک مقتدی جماعت سے نماز پڑھتے ہوں اور دوسرا مقتدی آگیا تو اگر پہلا مقتدی مسئلہ جانتا ہے اور اسے پیچھے ہٹنے کی جگہ ہے تو وہ پیچھے ہٹ آئے اور دوسرا مقتدی اسکے برابر کھڑاہو جائے اور اگر پہلا مقتدی مسئلہ داں نہیں یا اسکے پیچھے ہٹنے کو جگہ نہیں تو امام آگے بڑھ جائے اور اگر امام کو بھی آگے بڑھنے کو جگہ نہیں تو دوسرا مقتدی امام کے بائیں ہاتھ کی جانب امام کے قریب کھڑا ہوجائے مگر اب تیسرا مقتدی آکر امام کے قریب دائیں یابائیں کہیں بھی کھڑاہوکر جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا ورنہ سب کی نماز مکروہ تحریمی ہوگی اور امام و مقتدیوں سب کو اس نماز کا اعادہ یعنی دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۲۶۰)

مسئلہ:اگر مذکورہ صورت سے دو مقتدی امام کے قریب کھڑے ہوکر نماز پڑھتے ہوں اور اب تیسرا مقتدی آئے اور جماعت میں شامل ہونا چاہئے تو اس پر لازم ہے کہ پہلے سے شامل ہونے والے دونوں مقتدیوں میں سے کسی کے بھی قریب کھڑا نہ ہو بلکہ ان دونوں کے پیچھے کھڑا ہوجائے کیونکہ امام کے برابر تین مقتدیوں کا کھڑا ہونا مکروہ تحریمی ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۲۳)

مسئلہ:اگرا یک مقتدی امام کے برابر کھڑا ہوکر جماعت سے نماز پڑھ رہا ہے اور دوسرا مقتدی جماعت میں شامل ہونے آئے تو مقتدی پیچھے ہٹ جائے اور اگر دو مقتدی امام کے قریب ( برابر) کھڑے ہوکر جماعت سے نماز پڑھتے ہوں اور تیسرا مقتدی جماعت میں شامل ہونے آئے تو امام کا آگے بڑھنا افضل ہے ۔ ( درمختار ، بہارشریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۳۲)

مسئلہ:امام کے ساتھ ایک مقتدی برابر کھڑا ہوکر نماز پڑھ رہا ہے ۔ اب دوسرا مقتدی آیا لیکن وہ پہلا مقتدی پیچھے نہیں ہٹتا اورنہ ہی امام آگے برھتا ہے تو دوسرا مقتدی پہلے والے مقتدی کو پیچھے سے کھینچ لے اور بعد میں آنے والا یعنی دوسرا مقتدی پہلے مقتدی کو چاہے نیت باندھنے سے پہلے کھینچ لے یانیت باندھنے کے بعد کھینچے ،دونوں صورتیں جائز ہیں ۔ لیکن نیت باندھ کر کھینچنا اولیٰ ہے ۔( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۳۲۳)

مسئلہ: مقتدی کو پیچھے کھینچنے میں واجب التنبیہ بات یہ ہے کہ کھینچنا اسی کو چاہئے جو ذی علم ہو یعنی اس مسئلہ سے واقف ہو ۔اگر پہلا مقتدی مسائل سے ناواقف ہے اور اس کو پیچھے کھینچے کامسئلہ ہی معلوم نہیں تو اگر اس کو پیچھے کھینچا تو وہ بوکھلا جائے گا اور کیا ہے ؟ کیوں کھینچتے ہو ؟ وغیرہ کوئی جملہ اسکی زبان سے نکل جائے اور مبادہ ناواقفی کی وجہ سے اس کی نماز فاسد ہوجائے ، لہٰذاایسے شخص کو نہ کھینچے ۔ علاوہ ازیں ایک اہم اور ضروری نکتہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ نماز میں جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے سوا کسی دوسرے سے کلام کرنا مفسد نماز ہے ، یونہی اللہ اور رسول کے سوا کسی کا حکم ماننا بھی نماز کو فاسد کردیتاہے ۔ لہٰذا اگر ایک شخص نے کسی نمازی کو پیچھے کھینچا یا امام کو آگے بڑھنے کو کہا اور اس نے کہنے والے کا حکم مان کر ہٹا تو نماز جاتی رہی اگرچہ یہ حکم دینے والا نیت باندھ چکا ہو ۔ اور اگر ہٹنے والے نے اس کہنے والے کے حکم کا لحاظ نہ رکھا اورنہ اس کے حکم سے کوئی کام رکھابلکہ اس نیت سے ہٹا کہ شریعت کا حکم ہے اور مسئلۂ شرع کے لحاظ سے حرکت کی تو نماز میںکچھ خلل نہیں ۔ اس لئے بہتر ہے کہ اس کے کہتے ہی فوراً حرکت نہ کرے بلکہ ایک ذرا تامل کرلے اوریہ نیت کرکے حرکت کرے کہ اس کہنے والے کے حکم سے نہیں بلکہ شریعت کا حکم ہے اس لئے ہٹ رہا ہوں تاکہ بظاہر غیر کے حکم کو ماننے کی صورت بھی نہ رہے ۔ جب صرف نیت کافرق ہونے سے نماز کے فاسد یا درست ہونے کا مدار ہے تو اس زمانہ میں جب کہ زمانہ پر جہالت غالب ہے اور عجب نہیں کہ عوام اس فرق نیت سے غافل ہوکر بلا وجہ اپنی نماز خراب کرلیں ، لہٰذا ائمہ دین نے فرمایا کہ غیر ذی علم ( جاہل ) کو اصلاً نہ کھینچے اور یہاں ذی علم سے مراد وہ ہے جو اس مئلہ او رنیت کے فر ق سے آگاہ ہو ۔( درمختار ، ردالمحتار، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۳۲ اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ص ۳۹۱ ، ۳۲۳)

مسئلہ:امام کے برابر کھڑا ہونے کے یہ معنی ہیں کہ مقتدی کا قدم امام کے قدم سے آگے نہ ہو یعنی مقتدی کے پاؤں کا گٹا امام کے پاؤں کے گٹے سے آگے نہ ہو ۔ سر کے یا پاؤں کی انگلیوں کے آگے پیچھے ہونے کا اعتبار نہیں ۔ مثلاً مقتدی امام کے برابر کھڑا ہوا اور مقتدی کا قدر دراز ہے اورامام چھوٹے قد کا ہے لہٰذا سجدہ میں مقتدی کا سر امام کے سر سے آگے ہوتا ہے مگر پاؤں کاگٹا امام کے پاؤں کے گٹے سے آگے نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح اگر مقتدی کے پاؤں بڑے اور لمبے ہوں کہ مقتدی کے پاؤں کی انگلیاں امام کے پاؤں کی انگلیوں سے آگے ہوں ، جب بھی حرج نہیں ، بشرطیکہ مقتدی کے پاؤں کا گٹا امام کے پاؤں کے گٹے سے آگے نہ ہو ۔( ردالمحتار ، بہار شریعت، جلد ۳ ، ص ۱۳۲)

مسئلہ:عورتوں کو کسی بھی نماز میں جماعت کی حاضری کے لئے مسجد میںآنا جائز نہیں۔دن کی نماز ہو یا رات کی نماز ، جمعہ کی ہو یا عید کی نماز ۔ خواہ عورت جوان ہو یا بوڑھی ۔ کسی بھی نماز کی جماعت کے لئے آنا روا نہیں ۔ ( بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۳۱ در مختار ، جلد ۱ ، ص ۳۸۰)

مسئلہ:مسجد کے اندرونی حصہ یامسجد کے صحن میں جگہ ہوتے ہوئے بالاخانہ پر اقتدا کرنا مکروہ ہے ۔ ( درمختار)

مسئلہ:امام کو ستونوں کے درمیان کھڑا ہونا مکروہ ہے ۔ ( ردالمحتار ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص۱۳۳)

مسئلہ:امام کو چاہئے کہ وسط ( درمیان) میں کھڑاہو ۔ امام کا وسطِ مسجد میں کھڑا ہونا سنت متوارثہ ہے اورامام وسطِ صف میں ہو یہی جگہ محرابِ حقیقی ہے اور دیوارِ قبلہ میں جو طاق نما ایک خلا بنایا جاتا ہے وہ محراب صوری ہے جو محراب حقیقی کی علامت ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۱۳)

مسئلہ:جب دو سے زیادہ مقتدی ہوں تب امام اور مقتدیوں کے درمیان کم از کم ایک صف کا فاصلہ ہونا چاہئے ۔ امام کا صف سے کچھ ہی آگے ہونا کہ صف کی مقدار کی جگہ نہ چھوٹے یہ ناجائز اور گناہ ہے ۔نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۳۷۷)

مسئلہ:مقتدی کے لئے فرض ہے کہ امام کی نماز کو اپنے خیال میں صحیح تصور کرے ۔ اگر مقتدی اپنے خیال میں امام کی نماز باطل سمجھتا ہے تو اس مقتدی کی نماز نہ ہوگی اگرچہ امام کی نماز صحیح ہو ۔ ( درمختار ، بہار شریعت )