حدیث نمبر :654

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ۱؎ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۲؎ اورمیرا منبرمیرے حوض پرہے۳؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ بعض روایات میں ہے کہ میری قبراورمیرے منبر کے درمیان۔بعض روایات میں ہے کہ میرے حجرے اور مصلے کے درمیان مگر سب کے معنی ایک ہی ہیں کیونکہ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کا گھرحجرہ شریف اورقبر انور ایک ہی جگہ ہے اورمصلّےٰ یعنی محراب النبی اورمنبرشریف بالکل متصل ہیں۔جیسا کہ زیارت کرنے والوں کو معلوم ہے۔

۲؎ یعنی یہ جگہ پہلے جنت کا باغ تھی وہاں سے لائی گئی،اﷲ نے خلیل کو جنت کا سنگ اسود عطا فرمایا اوراپنے حبیب کے لیےجنت کا باغ بھیجا،یایہ جگہ بعینہ کل جنت کاباغ ہوگی،یا جویہاں آگیا توگویا جنت کے باغ میں داخل ہوگیا کہ آئندہ اس کی برکت سے جنت میں ضرورجائے گا،یا یہ جگہ جنت کے باغ کے مقابل ہے۔خیال رہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر اﷲ کے حلقوں کو اورمؤمن کی قبرکو جنت کاباغ فرمایا ہے وہاں بھی بہت توجیہیں ہیں۔

۳؎ یہاں بھی وہی توجیہیں ہیں کہ یہ جگہ پہلے میرے حوض پرتھی،وہاں سے یہاں لائی گئی یا آئندہ کنارۂ حوض پر ہوگی یا اب کنارۂ حوض پرہوگی،یا اب کنارۂ حوض کے مقابل ہے یاجسے اس کا بوسہ نصیب ہوجائے وہ گویا میرے حوض پرپہنچ گیا۔خیال رہے کہ منبرسے مراد منبر کی جگہ ہے وہاں منبر کوئی سا بھی ہو،نیز کعبہ کا سنگ اسود اور رکن یمانی اورمدینہ پاک کی یہ جگہ اگرچہ جنت سے آئی ہے لیکن وہاں کا وہ رونق وحسن ختم کردیا گیا۔