حضرت ابراہیم علیہ السلا م کی دعا

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَائِ(پا رہ ۱۳ رکوع ۱۸)

اے میرے رب !مجھے نماز کا قائم کر نے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو اے ہمارے رب! اور ہما ری دعا سن لے۔ (کنز الا یما ن)

میر ے پیا رے آقاﷺ کے پیا رے دیوانو! مذکو رہ آیتِ کریمہ سے سبق ملتا ہے کہ انبیاء کرام علیھم الصلوٰۃوالسلام نماز کے قائم رکھنے کی دعااپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے کرتے تھے ۔ وہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام جو معمارِ کعبہ ہیں اور خلیل اللہ بھی ہیں اور حج جیسے اہم فرض کی ادائیگی میں مرکزی کردار کے مالک ہیں۔ وہ نماز کے ادا کرنے سے متعلق صرف دعا ہی نہیں کرتے بلکہ اس کی قبولیت کی بھی دعا کرتے ہیں۔ اس سے سمجھ میں آتا ہے کہ حضرتِ خلیل علیہ السلام کی نگاہ میں نماز کی اہمیت کیا تھی؟ آج ہم اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے صرف دنیوی فوائد اور عیش و عشرت ہی کی دعا کرتے ہیں۔ کاش!ہم انبیاء کرام علیہم السلام کے نقش ِقدم پر چلتے ہوئے نماز قائم کرنے کی جد و جُہد کرتے اور اپنی اولاد کوبھی نماز کا پابند بناتے ۔ اللہ ہم سب کو اسکی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم