عدو نے حالِ محبت جو آ شکار کیا

کلام: استاذِ زمن علامہ حسن رضا بریلوی 

❤️

عدو نے حالِ محبت جو آ شکار کیا 

تمہیں خدا کی قسم تم نے اعتبار کیا

❤️

تمہارے وعدے کا اتنا تو اعتبار کیا

کہ بعد مرگ بھی مرقد میں انتظار کیا

❤️

مصیبت ایسی اٹھائی کہ صبح یاد نہیں

یہ کس کی یاد نے شب مجھ کو بے قرار کیا

❤️

تمہیں تو شرم سے منہ کھولنا بھی مشکل ہے

عدو کو رات مگر میں نے ہمکنار کیا

❤️

ستمگروں کے ستم کی ترقیاں دیکھو

کہ مجھ کو خاک کیا خاک کو غبار کیا

❤️

خبر سنی جو میری نزع کی تو آتے ہیں

دمِِ اخیر بھی مجھ کو اُمیدوار کیا

❤️

کیا کمال بڑا تیر آپ نے مارا

کسی غریب کے دل کو اگر شکار کیا

❤️

مرے ہی نقشِ قدم ہیں یہ کوئے دشمن میں

قسم نہ کھائیے بس میں نے اعتبار کیا

❤️

عدو بھی چین سے ہے وہ بھی چین سے اے آہ

مجھی کو تو نے بھی ہر پھرکے بے قرار کیا

❤️

میں چاہتا نہیں بدنامِ عشق ہو کے جیوں

کہ اُس نے راز محبت کا آ شکار کیا

❤️

میں کیوں سناؤں جو گزری گزر گئی دل پر

میں کیوں بتاؤں کیا جس نے بے قرار کیا

❤️

خطا معاف کرو مجھ کو پیار کر لو تم

خطا ہوئی جو مرے دل نے تم کو پیار کیا

❤️

مزا جبھی ہے مرے بدگماں محبت کا

کہ میں نے بات کہی تو نے اعتبار کیا

❤️

بہت دنوں سے یہ ہیں مہربانیاں مجھ پر

اُمیدوار کیا اور بے قرار کیا

❤️

عدو ہو دل ہو کوئی ہو تمہاری جان سے دُور

وہ بے قرار رہے جس نے بے قرار کیا

❤️

سکونِ دل کا سبب ہو گئی تھی مایوسی

یہ کیا کیا کہ مجھے پھر اُمیدوار کیا

❤️
فراقِ ساقیِ مے کش میں اے حسنؔ ہم نے

شراب کا ہے کو پی زہر زہر مار کیا

❤️