أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِلٰى ثَمُوۡدَ اَخَاهُمۡ صٰلِحًا‌ ۘ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوۡا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ‌ ؕ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ‌ ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَـكُمۡ اٰيَةً‌ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِىۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ‌ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے (قوم) ثمود کی طرف ان کے (ہم قبیلہ) بھائی صالح کو بھیجا، انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہاری عبادت کا کوئی مستحق نہیں ہے، بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی آچکی ہے، یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی ہے، اس کو (آزاد) چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اس کو برائی (کے ارادہ) سے نہ چھونا، ورنہ تمہیں دردناک عذاب گرفت میں لے لے گا۔

تفسیر:

73 ۔ 79: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور ہم نے (قوم) ثمود کی طرف ان کے (ہم قبیلہ) بھائی صالح کو بھیجا، انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہاری عبادت کا کوئی مستحق نہیں ہے، بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی آچکی ہے، یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی ہے، اس کو (آزاد) چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اس کو برائی (کے ارادہ) سے نہ چھونا، ورنہ تمہیں دردناک عذاب گرفت میں لے لے گا۔ الی آخر الایۃ 79″

قوم ثمود کی اجمالی تاریخ :

حضرت صالح (علیہ السلام) جس قوم میں پیدا ہوئے اس کا نام ثمود ہے۔ قوم ثمود بھی سامی اقوام کی ایک شاخ ہے۔ عاد اولی کی ہلاکت کے وقت جو ایمان والے حضرت ھود (علیہ السلام) کے ساتھ بچ گئے تھے یہ قوم ان ہی کی نسل سے ہے۔ اس کو عاد ثانیہ کہا جاتا ہے۔ قوم ثمود، ثمود نام کے ایک شخص کی طرف منسوب ہے۔ امام بغوی لکھتے ہیں اس کا نسب یہ ہے کہ ثمود بن عابر بن ارم بن سام بن نوح۔ یہ قوم مقام الحجر میں رہتی تھی جو حجاز اور شام کے درمیان وادی القری ہے۔ (معالم التنزیل، ج 2، ص 145)

حجاز اور شام کے درمیان وادی القری تک جو میدان نظر آتا ہے یہ سب الحجر ہے۔ آج کل یہ جگہ فج الناقہ کے نام سے مشہور ہے۔ ثمود کی بستیوں کے کھنڈرات اور آثار آج تک موجود ہیں اور اس زمانہ میں بھی بعض مصری محققین نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ان کا بیان ہے کہ انہوں نے ایک مکان دیکھا جس کو پہاڑ کاٹ کر بنایا گیا ہے اس میں متعدد کمرے اور ایک بڑا حوض ہے۔ مشہور مورخ مسعودی نے لکھا ہے الحجر کا یہ مقام جو حجر ثمود کہلاتا ہے، شہر مدین سے جنوب مشرق میں اس طرح واقع ہے کہ خلیق عقبہ اس کے سامنے پڑتی ہے اور جس طرح عاد کو عاد ارم کہا گیا ہے اسی طرح ان کی ہلاکت کے بعد ان کو ثمود ارم یا عاد ثانیہ کہا جاتا ہے۔ ثمود کے زمانہ کا ٹھیک تعین تو نہیں کیا جاسکا لیکن یہ بات بہرحال یقینی ہے کہ یہ قوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے بہت پہلے صفحہ ہستی پر نمودار ہو کر مٹ چکی تھی۔ ثمود بھی اپنے پیش رو بت پرستوں کی طرح ایک بت پرست قوم تھی۔ اور اس کے عقائد اور اعمال کی اصلاح کے لیے حضرت صالح (علیہ السلام) کو مبعوث کیا گیا۔

حضرت صالح (علیہ السلام) کا نسب اور قوم ثمود کی طرف ان کی بعثت :

امام بغوی متوفی 516 ھ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کا نسب اس طرح لکھا ہے : صالح بن عبید بن آسف بن ماسح بن عبید بن خ اور بن ثمود (معالم التنزیل، ج 2، ص 145) حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم ثمود کو بار بار بت پرستی سے منع کیا اور خدائے واحد کی عبادت کرنے کی ہدایت کی لیکن ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ وہ حضرت صالح کی مخالفت کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اور یہ کہتے تھے اگر ہمارا طریقہ غلط ہوتا اور ہمارا دین باطل ہوتا تو آج ہم کو یہ دھن دولت، سرسبز و شاداب باغات، میوہ جات اور پھلوں کی کثرت اور یہ بلند، عالی شان، مضبوط اور مستحکم مکان حاصل نہ ہوتے۔ تم خود اپنا حال دیکھو اور اپنے پیروکاروں کی غربت اور افلاس پر نظر ڈالو اور پھر بتاؤ کہ خدا کے نزدیک مقبول تم ہو یا ہم ہیں۔ 

حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا تم جن مضبوط مکانوں اور دیگر سامان زیست پر فخر کر رہے ہو، اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے تو یہ سب ایک پل میں فنا ہوجائیں گے۔ انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت کو مسترد کردیا اور مطالبہ کیا کہ اگر واقعی آپ اللہ کے نبی ہیں تو اللہ کی طرف سے کوئی نشان دکھائیں تب صالح (علیہ السلام) نے فرمایا تمہارا مطلوبہ نشان اس اونٹنی کی شکل میں موجود ہے۔ اللہ نے تمہارے اور اس کے درمیان پانی کی باری مقرر فرما دی ہے ایک دن یہ پانی پیے گی اور ایک دن تم پیو گے، اونٹنی کی پوری تفصیل حسب ذیل ہے :

قوم ثمود کا حضرت صالح سے معجزہ طلب کرنا اور معجزہ دیکھنے کے باوجود ایمان نہ لانا اور ان پر عذاب کا نازل ہونا : حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی 774 ھ لکھتے ہیں : مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ ایک دن ثمود اپنی مجلس میں جمع ہوئے وہاں حضرت صالح (علیہ السلام) بھی آگئے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے حسب معمول ان کو اللہ پر ایمان لانے اور بت پرستی ترک کرنے کی دعوت دی، ان کو وعظ اور نصیحت کی اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا۔ ثمود نے پتھر کی ایک چتان کی طرف اشارہ کرکے کہا اگر آپ اس چٹان سے ایسی صفت کی ایک اونٹنی نکالیں جو دس ماہ کی گابھن ہو اور فوراً بچہ دے دے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے پختہ قسمیں لیں کہ اونٹنی نکلنے کے بعد وہ ایمان لے آئیں گے۔ پھر صالح (علیہ السلام) نے نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کا مطالبہ پورا کردے۔ تب اللہ تعالیٰ نے اس چٹان سے ایک بہت بڑی اونٹنی نکال دی جو ان کی طلب کردہ صفات کے مطابق تھی۔ جب انہوں نے یہ عظیم الشان مجزہ دیکھا تو ان میں سے بہت لوگ ایمان لے آئے لیکن اکثر اپنے کفر اور گمراہی پر قائم رہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لیے نشانی ہے اس کو اللہ کی زمین پر کھانے دو وہ جہاں چاہتی چرتی تھی، ایک دن وہ پانی پینے جاتی اور ایک دن قوم ثمود جاتی اور جس دن وہ پانی پینے جاتی توں کنوئیں کا سارا پانی پی جاتی۔ ثمود اپنی باری پر اگلے دن کی ضروریات کے لیے پانی جمع کرکے رکھتے تھے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس دن وہ سب لوگ اس اونٹنی کا ددھ پی لیتے تھے۔ پھر شیطان نے ان کو فتنہ میں مبتلا کردیا۔ ایک شخص ولد الزنا تھا اس کی آنکھیں نیلی اور رنگ سرخ تھا اس کا نام قیدار بن سالف بن جندع تھا وہ ان کا رئیس تھا، سب کے مشورہ سے اس نے اس اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ کر اس کو ہلاک کردیا۔

امام ابن جریر وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ثمود پانی کی باری کی تقسیم سے تنگ آ چکے تھے لیکن وہ اس اونٹنی کو قتل کرنے سے ڈرتے تھے۔ تب صدوق نام کی ایک حسین اور مالدار عورت نے مصدع اور قیدار کے سامنے یہ پیشکش کی کہ اگر تم دونوں اس اونٹنی کو قتل کردو تو میں خود اور ایک حسین اور مالدار عورت نے مصدعی اور قیدار کے سامنے یہ پیشکش کی کہ اگر تم دونوں اس اونٹنی کو قتل کردو تو میں خود اور ایک اور حسین لڑکی تم کو عیش کے لیے بہ طور انعام دی جائیں گی۔ آخر یہ طے ہوگیا کہ وہ راستہ میں چھپ کر بیٹھ جائیں گے اور جب اونٹنی چراگاہ کی طرف جائے گی تو اس کو قتل کردیں گے اور سات اور آدمیوں نے ان کی مدد کی اور یہ نو آدمی مل کر اس اونٹنی کو قتل کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ 

انہوں نے یہ سازش کی تھی کہ وہ اونٹنی کو قتل کرکے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے اہل کو بھی قتل کردیں گے پھر ان کے وارثوں سے کہیں گے کہ ہم تو موقع واردات پر موجود ہی نہ تھے۔ یہ لوگ گھات لگا کر بیٹھ گئے اور جب اونٹنی سامنے آئی تو مصدع نے اس کو تیر مارا اور قیدار نے اس کی ٹانگیں کاٹ کر اس کو ہلاک کردیا۔ اس کا بچہ یہ دیکھ کر پہاڑی میں غائب ہوگیا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کو جب اس کی خبر ہوئی تو انہوں نے فرمایا : آخر وہی ہوا جس کا مجھے خوف تھا، اب اللہ کے عذاب کا انتظار کرو جو تین دن کے بعد تم کو تباہ کردے گا۔ پھر چمک اور کڑک کا عذاب آیا اور اس نے رات میں سب کو تباہ کردیا۔ (البدایہ والنہایہ، ج 1 ص 135، 134 ۔ مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1974 ء) قوم ثمود کی سرکشی اور ان پر عذاب نازل کرنے کے متعلق قران مجید کی آیات : کذبت ثمود بطغوھا۔ اذنبعث اشقھا۔ فقا لہم رسول اللہ ناقۃ اللہ و سقیہا۔ فکذبوہ فعقروھا۔ فدمدم علیہم ربہم بذنبھہم فسوھا۔ ولا یخاف عقبھا : ثمود نے اپنی سرکشی سے (اپنے رسول کو) جھٹلایا۔ جب ان میں کا سب سے بدبخت اٹھا۔ تو اللہ کے رسول نے ان سے کہا اللہ کی اونٹنی کو (ایذا پہنچانے) اور اس کے پانی کی باری (کو بند کرنے) سے احتراز کرو۔ تو انہوں نے اس (رسول) کو جھٹلایا اور اس کی کونچیں کاٹ دیں۔ تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے سبب ان پر ہلاکت ڈال دی، اس بستی کو پیوند زمین بنادیا۔ اور وہ ان کو سزا دینے سے نہیں ڈرتا ” (الشمس : 11 ۔ 15)

قوم ثمود کے نو آدمیوں کی سازش کے متعلق قرآن مجید میں ہے : ” وکان فی المدینۃ تسعیۃ رھط یفسدون فی الارض ولا یصلحون۔ قالوا تقاسموا باللہ لنیتنہ واھلہ ثم لنقولن لولیہ ما شہدنا مہلک اھلہ وانا لصدقون۔ ومکروا مکرا ومکرنا مکرا وھم لایشعرون۔ فانظر کیف کان عاقبۃ مکرہم انا دمرناہم وقومہم اجمعین۔ فتلک بیوتہم خاویۃ بما ظلموا ان فی ذلک لایۃ لقوم یعلومن۔ وانجینا الذین امنوا و کانوا یتقون : اور ثمود کے شہر میں نو شخص ملک میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے کہا : سب آپس میں اللہ کی قسم کھا کر عہد کرو کہ ہم ضرور صالح اور ان کے اہل پر شب خون ماریں گے پھر ہم ان کے وارث سے کہیں گے کہ اس گھر کے لوگوں کے قتل کے موقع پر ہم حاضر ہی نہ تھے اور بیشک ہم ضرور سچے ہیں۔ انہوں نے سازش کی اور ہم نے خفیہ تدبیر کی اور ان کو پتا ہی نہ چلا۔ تو آپ دیکھئے کہ ان کی سازش کا کیسا انجام ہوا بیشک ہم نے ان کو اور ان کی ساری قوم کو ہلاک کردیا۔ سو یہ ان کے ویران گھر گرے پڑے ہیں کیونکہ انہوں نے ظلم کیا تھا اور بیشک اس میں جاننے والوں کے لیے (عبرت کی) نشانی ہے۔ اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دے دی جو ایمان لا چکے تھے اور اللہ سے ڈرتے تھے ” (48 ۔ 53)

اونٹنی کا قاتل ایک شخص تھا یا پوری قوم ثمود : 

قوم ثمود کا قیدار کو اونٹنی کے قتل کے لیے بلانا اور اس کا اونٹنی کو قتل کرنا، اس کا ذکر ان آیات میں ہے : ” کذبت ثمود بالنذر۔ فقالوا ابشرا منا واحدا نتبعہ انا اذا لفی ضلل وسعر۔ ء القی الذکر علیہ من بیننا بل ھو کذاب اشر۔ سیعلمون غدا من الکذاب الاشر۔ انا مرسلوا الناقۃ فتنۃ لہم فارتقبہم و اصطبر۔ و نبئہم ان الماء قسمۃ بینہم کل شبر محتضر۔ فنادوا صاحبہم فتعاطی فعقر۔ فکیف کان عذابی و نذر۔ انا ارسلنا علیہم صیحۃ واحدۃ فکانوا کہشیم المحتظر : ثمود نے ڈرانے والے رسولوں کو جھٹلایا۔ انہوں نے کہا : کیا ہم اپنوں میں سے ایک بشر کی اتباع کریں، تب تو ہم یقینا ضرور گمراہی اور عذاب میں ہوں گے۔ کیا ہم میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی بلکہ وہ بڑا جھوٹا متکبر ہے۔ عنقریب وہ (قیامت کے دن) جان لیں گے کہ کون بڑا جھوٹا متکبر ہے۔ بیشک ہم ان کی آزمائش کے لیے اونٹنی بھیجنے والے ہیں تو (اے صالح ! ) آپ (ان کے انجام کا) انتظار کریں اور صبر سے کام لیں۔ اور ان کو بتا دیجیے کہ پانی ان کے (اور اونٹنی کے) درمیان تقسیم کیا ہوا ہے، ہر ایک اپنے پینے کی باری پر حاضر وگا۔ تو انہوں نے اپنے ساتھ کو پکارا سو اس نے (اونٹنی کو پکڑا اور) اس کی کونچیں کاٹ دیں۔ تو کیسا ہوا میرا عذاب اور ڈرانا۔ بیشک ہم نے ان پر ایک خوفناک آواز بھیجی تو وہ کانٹؤں کی باڑ لگانے والے کی بچی ہوئی باڑ کے چورے کی طرح (ریزہ ریزہ ہوکر) رہ گئے ” (القمر :23 ۔ 31)

(حضرت صالح (علیہ السلام) نے جب انہٰں عذاب کی خبر سنائی تو انہوں نے انتقاما حضرت صالح (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی سازش کی۔ جب وہ لوگ اپنے منصوبہ کے مطابق حضرت صالح (علیہ السلام) کو قتل کرنے کے لیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے راستہ ہی میں ان پر پتھر برسا کر ان کو ہلاک کردیا اور یہ اللہ کی خفیہ تدبیر تھی)

سورۃ القمر کی ان آیات میں بتایا ہے کہ ایک شخص (قیدار) نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ کر اس کو ہلاک کیا تھا اور سورة الاعراف اور سورة الشمس میں فرمایا کہ قوم ثمود نے اس کی کونچیں کاٹی تھیں۔ اس کی توجیہ یہ ہے کہ ہرچند کہ یہ ایک شخص کا فعل تھا لیکن چونکہ پوری قوم اس مجرم کی پشت پر تھی اور وہ در اصل اس جرم میں ثمود کی مرضی کا آلہ کار تھا اس لیے اس کا الزام پوری قوم ثمود پر عائد کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ہر وہ گناہ جو قوم کی خواہش پر کیا جائے یا جس گناہ پر قوم راضی ہو وہ ایک قومی گناہ ہے بلکہ جو گناہ قوم کے درمیان علی الاعلیان کیا جائے اور قوم اس کو برا نہ جانے وہ بھی قومی گناہ ہے۔

اونٹنی کے معجزہ ہونے کی وجوہات : 

اس اونٹنی کو ” اللہ کی اونٹنی ” اس اونٹنی کی تعظیم اور تکریم کے طور پر فرمایا ہے جیسے کعبہ کو بیت اللہ فرمایا ہے۔ اور اونٹنی کا معجزہ ہونا اس وجہ سے ہے کہ پتھر کی چٹان پھٹ گئی اور اس سے اونٹنی نکل آئی اور یہ خلاف عادت اور معجزہ ہے اور اونٹنی کا صرف اپنی باری پر پانی پینے کے لیے آنا اور کنوئیں کا سارا پانی پی جانا، اور دیگر حیوانات کا اس دن کنوئیں پر نہ آنا اور دوسرے دن آنا یہ تمام باتیں خلاف عادت اور معجزہ ہیں۔

قوم ثمود کے عذاب کی مختلف تعبیریں اور ان میں وجہ تطبیق :

ایک اعتراض یہ ہے کہ قوم ثمود کے عذاب کو متعارض اور متضاد عنوانوں سے تعبیر فرمایا گیا ہے، ایک جگہ اس عذاب کو الرجفہ (زلزلہ) (الاعراف :78) سے تعبیر فرمایا اور ایک جگہ اس عذاب کو الطاغیہ (حد سے تجاوز کرنے والی چیز) سے تعبیر فرمایا (الحاقہ :5) اور متعدد جگہ اس کو الصیحہ (ہولناک آواز) سے تعبیر فرمایا۔ (ھود : 67، الحجر :83، القمر :31) ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل میں یہ عذاب ایک خوفناک زلزلہ کی صورت میں آیا تھا اور زلزلہ میں ہولناک آواز ہوتی ہے اس لیے اس کو الصیحہ سے بھی تعبیر فرمایا اور چونکیہ یہ آواز بہت زیادہ حد سے بڑھی ہوئی ہوتی ہے اس لیے اس کو الطاغیہ سے بھی تعبیر فرمایا۔ 

قرآن مجید کی ان سورتوں میں قوم ثمود کا ذکر کیا گیا ہے۔ الاعراف، ھود، الحجر، الشعراء، النمل، فصلت، النجم، القمر، الحاقہ، الشمس۔ 

قوم ثمود کے قصہ کے متعلق احادیث اور آثار : 

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی 211 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : ابو الطفیل بیان کرتے ہیں کہ ثمود نے کہا : اے صالح ! اگر آپ سچے ہیں تو کوئی نشانی دھائیں ! حضرت صالح نے ان سے کہا : زمین کے کسی پہاڑ کی طرف نکلو تو وہ پہاڑ پھٹ پڑا اور اس کے شگاف سے اونٹنی اس طرح نکل آئی جس طرح حاملہ کے پیٹ سے بچہ نکلتا ہے۔ حضرت صالح نے ان سے فرمایا : یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی ہے اس کو اللہ کی زمین میں چھوڑ دو تاکہ کھاتی پھرے اور اس کو برائی کے ارادہ سے نہ چھونا ورنہ تم کو دردناک عذاب اپنی گرفت میں لے لے گا۔ (الاعراف :73) ۔ اس کے لیے پینے کی باری ہے اور تمہارے لیے پینے کی باری کا ایک دن مقرر ہے۔ (الشعراء :155) جب وہ اس پابندی سے تنگ آگئے تو انہوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ حضرت صالح نے ان سے فرمایا : تم صرف تین دن اپنے گھروں میں فائدہ اٹھا لو پھر تم پر عذاب آئے گا یہ اللہ کا وعدہ ہے جو کبھی جھوٹا نہ ہوگا۔ (ھود :65) ایک اور سند سے روایت ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا تم پر عذاب آنے کی علامت یہ ہے کہ پہلے دن جب تم صبح کو اٹھو گے تو تمہارے چہرے زرد ہوں گے، دوسری صبح کو تمہارے چہرے سرخ ہوں گے اور تیسرے دن صبح کو تمہارے چہرے سیاہ ہوں گے، جب انہوں نے یہ علامت دیکھی تو انہوں نے خوشبو لگائی اور عذاب کے استقبال کے لیے تیار ہوگئے۔ (تفسیر عبدالرزاق، ج 1، رقم الحدیث : 911 ۔ الدر المنثور، ج 3، ص 492 ۔ تفسیر امام ابن ابی حاتم، ج 5، ص 1515)

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الحجر کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : نشانیوں کا سوال نہ کرنا کیونکہ حضرت صالح کی قوم نے نشانیوں کا سوال کیا تھا وہ اس راستہ سے آتے تھے اور اس راستہ سے لوٹتے تھے انہوں نے اپنے رب کی حکم عدولی کی انہوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ ایک دن وہ اونٹنی ان کا پانی پیتی تھی اور ایک دن وہ اس کا دودھ پیتے تھے تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں پھر ایک ہولناک آواز نے ان کو پکڑ لیا آسمان کے نیچے جتنے بھی لوگ تھے۔ سب کو اللہ نے ہلاک کردیا۔ ماسوا ایک شخص کے جو اللہ کے حرم میں تھا، عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! وہ شخص کون تھا ؟ فرمایا ابو رغال۔ جب وہ حرم سے باہر آیا تو وہ بھی اس عذاب میں گرفتار ہوگیا۔ (تفسیر عبدالرزاق، ج 1، رق الحدیث :915، اس کی سند صحیح ہے، مسند احمد، ج 11، رقم الحدیث : 14012، مطبوعہ دار الحدیث قاہر، جامع البیان، جز 8، ص 298 ۔ مجمع الزوائد، ج 7، ص 50، المستدرک، ج 2، ص 320)

امام ابو داود نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت کیا ہے کہ جب ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ طائف گئے تو ہم ایک قبر کے پاس سے گزرے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ ابورغال کی قبر ہے۔ اس حرم کی وجہ سے اس سے عذاب دور ہوگیا تھا جب وہ حرم سے نکلا تو اس جگہ اس کو وہی عذاب آپہنچا تو اس کو دفن کردیا گیا اور اس کی علامت یہ ہے کہ اس کے ساتھ سونے کی ایک شاخ بھی دفن کی گئی تھی۔ اگر تم اس قبر کو کھودوگے تو اس شاخ کو حاصل کرلوگے تو لوگوں نے اس قبر کو کھود کر اس سے وہ سونے کی شاخ نکال لی۔ (سنن ابوداود، رقم الحدیث : 3088 ۔ تفسیر عبدالرزاق، رقم الحدیث : 916 ۔ جامع البیان، جز 8، ص 299)

امام بخاری اپنی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ الحجر سے گزرے تو ہم سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جن لوگوں نے اپنی جان پر ظلم کیا تھا ان کے گھروں کے پاس سے بغیر روئے نہ گزرنا کہیں تم پر بھی ویسا عذاب نہ آجائے پھر آپ نے اونٹنی کو تیزی سے دوڑایا اور اس مقام کو پیچھے چھوڑ دیا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 3380 ۔ صحیح مسلم، زہد، 2980 ۔ 39، 7329 ۔ تفسیر عبدالرزاق، رقم الحدیث : 918 ۔ جامع البیان، جز 8، ص 300)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 73