حدیث نمبر :651

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے(رضی اللہ عنہما)کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسامہ ابن زید،بلال ابن رباح اورعثمان ابن طلحہ حجبی ۱؎ کعبہ میں داخل ہوئے اور آپ پرکعبہ بندکرلیا ۲؎ اس میں کچھ ٹھہرے جب تشریف لائے تو میں نے بلال سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیاکیا تو فرمایا ایک ستون اپنے بائیں اور دوستون اپنے دائیں اور تین ستون اپنے پیچھے رکھے کعبہ اس دن چھ ستونوں پر تھا پھرنماز پڑھی۳؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ آپ عبدری قرشی حجبی ہیں،قبیلہ بنی شیبہ سے ہیں،کعبہ شریف کے کلید بردارہیں،فتح مکہ کے دن حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کعبہ کی چابیاں دے کر فرمایا”خُذْھَا خَالِدَۃً تَالِدَۃً”یعنی یہ چابی لواب یہ ہمیشہ تمہارے پاس ہی رہے گی،چنانچہ اب تک کعبہ کی چابی انہیں کی اولاد میں ہے اور ان شاءاﷲ تاقیامت رہے گی کہ نہ کبھی ان کی نسل ختم ہوگی اور نہ کوئی ظالم بادشاہ ان سے چھین سکے گا، یزید اور حجاج جیسے ظالموں نے بھی اس چابی کو ہاتھ نہ لگایا، ۴۲ھ؁ میں وفات پائی۔

۲؎ حضرت بلال نے یاعثمان نے اندرسے کنڈی لگالی تاکہ لوگوں کا ہجوم نہ ہوجائے اس لئےنہیں کہ بغیرکعبہ بند کئے اس میں نمازجائز نہ تھی جیسا کہ شوافع نے سمجھا۔

۳؎ یعنی دروازہ کعبہ سے داخل ہوکر سامنے دیوارکے قریب پہنچے حتی کہ تین ستون پیٹھ کے پیچھے رہ گئے اور وہ دیوار قریب ہوگئی،پھرنماز پڑھی۔اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی سیدنا بلال آنکھوں دیکھا واقعہ بتارہے ہیں،یہ واقعہ فتح مکہ کے دن ہی کاہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کعبہ میں ہرنمازجائزہے فرض ہویانفل،یہی حنفیوں کا مذہب ہے،امام مالک کے ہاں کعبہ میں نفل جائز ہیں فرض نہیں،اما م شافعی کے ہاں اگر دروازۂ کعبہ کھلا ہوتو دروازہ کی طرف منہ کرکے نمازجائزنہیں مگر امام اعظم کا قول بہت قوی ہے اور یہ حدیث اس کی پوری تائید کرتی ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز پڑھی اورکسی نماز و جگہ کی قید نہ لگائی کہ کعبہ میں فلاں نماز یا فلاں حصّہ میں نمازجائز نہیں۔لطیفہ:مرقاۃ نے فرمایا عثمان ابن طلحہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ وہجرت سے پہلے میں پیر اورجمعرات کو کعبہ کھولا کرتا تھا۔ایک روزحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ میرے لیےآج کعبہ کھول دو میں نے آپ کی بڑی بے ادبی کی مگر حضور انور صلی اﷲ علیہ وسلم نے بہت بردباری فرمائی اور فرمایا کہ اے عثمان!عنقریب وہ وقت آرہا ہے کہ تم یہ چابی میرے ہاتھ میں دیکھو گے جسے چاہوں دوں۔میں بولا کہ اگر ایسا ہوا تو قریش ہلاک ہوجائیں گے اورکعبہ ذلیل ہوجائے گا،فرمایا نہیں رب کعبہ کی قسم!کعبہ کو اسی دن عزت ملے گی مگر مجھے یقین ہوگیا کہ ایسا ہوکر رہے گا کیونکہ اس زبان کی بات خالی نہیں جاتی حتی کہ جب حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم عمرہ قضاء کے لیے بیت اﷲ شریف ذیقعدہ ۷ھ؁ میں تشریف لائے اور میں نے آپ کی سج دھج دیکھی تو میرے قلب کا حال بدل گیا دل میں ایمان آگیا،موقعہ ڈھونڈا مگر خدمت میں حاضر نہ ہوسکاحتی کہ آپ مدینہ واپس ہوگئے مگر میرا یہ حال تھا ؎

وہ دکھا کے شکل جو چل دیئےتو دل ان کے ساتھ رواں ہوا

نہ وہ دل ہے اور نہ وہ دلربا رہی زندگی سو وہ بار ہے

ایک روز دل بہت بے چین ہوا تو اندھیرے منہ مکہ سے بھاگا،راستہ میں خالد ابن ولید اورعمرو ابن عاص سے ملاقات ہوئی ان کا حال بھی میرا ہی ساتھا۔چنانچہ ہم تینوں مدینہ منورہ حاضرہوئے اور دست اقدس پربیعت کرکے مسلمان ہوگئے،پھرفتح مکہ کے دن جوکہ رمضان ۸ھ ؁میں ہوا ہم تینوں حضور انور کے ساتھ ہی مکہ آئے تب مجھ سے حضورعلیہ السلام نے چابی منگائی حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے چاہا کہ چابی مجھے دے دی جائے،میں ڈر کی وجہ سے چابی مانگ نہ سکا،مجھے وہ واقعہ یادتھا اور میں سمجھتا تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے مقابلہ میں مجھ غیرکی کیا حیثیت ہے مگر کرم خسروانہ کے قربان، فرمایا:اے عبا س! اگر تم اللہ اور رسول پر ایمان لائے ہو تو چابی مجھے دو،چابی لے کر فرمایا:عثمان کہاں ہیں ؟ میں بولا حضور حاضر،فرمایا لو یہ چابیاں ہمیشہ تم میں رہے گی اس بنا پر یہ آیت اتری:”اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُکُمْ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا”پھر زندگی بھر یہ چابی عثمان کے پاس رہی،وفات کے وقت انہوں نے اپنے بھائی شیبہ ابن عثمان کو عطاکی۔