اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰىؕ-یُخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِ جُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّؕ-ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ(۹۵)

بیشک اللہ دانے اور گٹھلی کو چیرنے والا ہے(ف۱۹۹) زندہ کو مردہ سے نکالے (ف۲۰۰ ) اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا (ف۲۰۱) یہ ہے اللہ تم کہاں اوندھے جاتے ہو(ف۲۰۲)

(ف199)

توحید و نبوّت کے بیان کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنے کمالِ قدرت و علم و حکمت کے دلائل ذکر فرمائے کیونکہ مقصودِ اعظم اللہ سبحانہ اور اس کے تمام صفات و افعال کی معرفت ہے اور یہ جاننا کہ وہی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے اور جو ایسا ہو وہی مستحقِ عبادت ہو سکتا ہے ، نہ کہ وہ بُت جنہیں مشرکین پُوجتے ہیں ۔ خشک دانہ اور گٹھلی کو چیر کر ان سے سبزہ اور درخت پیدا کرنا اور ایسی سنگلاخ زمینوں میں ان کے نرم ریشوں کو رواں کرنا جہاں آہنی میخ بھی کام نہ کر سکے اس کی قدرت کے کیسے عجائبات ہیں ۔

(ف200)

جاندار سبزہ کو بے جان دانے اور گٹھلی سے اور انسان و حیوان کو نُطفہ سے اور پرند کو انڈے سے ۔

(ف201)

جاندار درخت سے بے جان گُٹھلی اور دانہ کو اور انسان و حیوان سے نُطفہ کو اور پرندے سے انڈے کو یہ اس کے عجائبِ قدرت و حکمت ہیں ۔

(ف202)

اور ایسے براہین قائم ہونے کے بعد کیوں ایمان نہیں لا تے اور موت کے بعد اٹھنے کا یقین نہیں کرتے ، جو بے جان نُطفہ سے جاندار حیوان پیدا کرتا ہے اس کی قدرت سے مُردہ کو زندہ کرنا کیا بعید ہے ۔

فَالِقُ الْاِصْبَاحِۚ-وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًاؕ-ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ(۹۶)

تاریکی چاک کرکے صبح نکالنے والا اور اس نے رات کو چین بنایا(ف۲۰۳) اور سورج اور چاند کو حساب (ف۲۰۴) یہ سادھا(مقررکیا ہوا)ہے زبردست جاننے والے کا

(ف203)

کہ خَلق اس میں چین پا تی ہے اور دن کی تَکان و ماندگی کو استراحت سے دور کرتی ہے اور شب بیدار زاہد تنہائی میں اپنے ربّ کی عبادت سے چین پا تے ہیں ۔

(ف204)

کہ ان کے دورے اور سیر سے عبادات و معاملات کے اوقات معلوم ہوں ۔

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِؕ-قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(۹۷)

اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے تارے بنائے کہ ان سے راہ پاؤ خشکی اور تری کے اندھیروں میں ہم نے نشانیاں مفصل بیان کردیں علم والوں کے لیے

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌؕ-قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ(۹۸)

اور وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا (ف۲۰۵) پھر کہیں تمہیں ٹھہرنا ہے (ف۲۰۶) اور کہیں امانت رہنا (ف۲۰۷) بے شک ہم نے مفصل آیتیں بیان کردیں سمجھ والوں کےلیے

(ف205)

یعنی حضرت آدم سے ۔

(ف206)

ماں کے رِحم میں یا زمین کے اوپر ۔

(ف207)

باپ کی پُشت میں یا قبر کے اندر ۔

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۚ-فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِ جُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًاۚ-وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍؕ-اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(۹۹)

اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا تو ہم نے اس سے ہر اگنے والی چیز نکالی (ف۲۰۸) تو ہم نے اس سے نکالی سبزی جس میں سے دانے نکالتے ہیں ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے اور کھجور کے گابھے سے پاس پاس گچھے اور انگور کے باغ اور زیتون اور انار کسی بات میں ملتے اورکسی بات میں الگ اس کا پھل دیکھو جب پھلے اور اس کا پکنا بے شک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کےلیے

(ف208)

پانی ایک اور اس سے جو چیزیں اُگائیں وہ قِسم قِسم اور رنگارنگ ۔

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍؕ-سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠(۱۰۰)

اور (ف۲۰۹) اللہ کاشریک ٹھہرایا جنوں کو (ف۲۱۰) حالانکہ اسی نے ان کو بنایا اور اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گڑھ لیں جہالت سے پاکی اور برتری ہے اس کو ان کی باتوں سے

(ف209)

باوجودیکہ ان دلائلِ قدرت و عجائبِ حکمت اور اس انعام و اکرام اور ان نعمتوں کے پیدا کرنے اور عطا فرمانے کا اِقتضاء تھا کہ اس کریم کارساز پر ایمان لاتے بجائے اس کے بُت پرستوں نے یہ ستم کیا (جو آیت میں آگے مذکور ہے)کہ ۔

(ف210)

کہ ان کی اطاعت کر کے بُت پرست ہو گئے ۔