حدیث نمبر :655

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم ہرہفتہ کے دن مسجدقبا شریف میں ۱؎ پیدل اورسوارتشریف لے جاتے اور اس میں دو رکعتیں پڑھتے تھے۲؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ قباءایک بستی ہے،مدینہ منورہ سے تین میل دور وہاں کی مسجدکانام قباءہے۔اسی جگہ حضور علیہ السلام نے ہجرت کے دن مدینہ منورہ میں تشریف آوری سے پہلے قیام فرمایا اوریہی مسجد پہلے بنائی گئی۔قرآن کریم نے اس مسجد کے بڑے فضائل بیان کئے ہیں۔فقیرنے بارہا وہاں کی زیارت کی ہے۔

۲؎ بعض روایا ت میں ہے کہ جو مدینہ پاک سے وضوءکرکے مسجدقباجائے وہاں دونفل پڑھے تو عمرے کا ثواب پائے۔اب بھی حجاج وغیرہ ہفتہ کے دن یہ عمل کرتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کی مسجدوں اور ان کے قیام گاہ متبرک ہیں ان کی زیارت ثواب کیونکہ مسجدقباءانصارکی مسجدہے اور وہ حضرات مقبولینِ بارگاہ تھے،وہاں پیشانیاں رگڑنا اورسجدے کرنا قبولیت کا ذریعہ ہے۔حضور خواجہ اجمیر قدس سرہ نے لاہور آکر حضرت داتا صاحب کی پائنتی چلہ کیا وہ اسی حدیث سے ماخوذ تھا۔ڈاکٹراقبال نے کیا خوب فرمایا ؂ 

سید ہجویر مخدوم امم مرقد اوپیرسنجر را حرم 

خیال رہے کہ جہاں بزرگوں کے قدم پڑجائیں وہ جگہ تاقیامت متبرک ہوجاتی ہے۔اب قباءمیں انصارنہیں لیکن اس کی شرافت وہی ہے ؂ 

بگفتا من گل ناچیز بودم ولیکن مدتے باگل نشستم