١٣٣٧ ھجری میں یعنی آج سے تقریبا ١٠٤ سال پہلے میلاد شریف کے متعلق بدمذھبوں نے ایک اشتہار چھاپہ جس میں میلاد النبی ﷺ سے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا اور ان کا جواب دینے والے کو ١٠٠ روپے انعام دینے کا اعلان بھی کیا۔ اس اشتہار کا جواب اس صدی کے مجدد امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان (علیه رحمة الرحمن) نے جیسا منہ ویسا تھپڑ مار کر دیا اور فرمایا اگر مخالف اس جواب کا جواب دیدے تو ٢٠٠ روپے انعام وصول کرے۔ وہ سوال و جواب ھدیہ قارئین کرام کیا جاتا ہے۔ خود بھی استفادہ کریں اور آگے شیئر کر کے دوسروں کو بھی موقع دیں۔ جزاك الله خيرا

مسئلہ ۹۷: از امرتسرکٹرہ پرچہ مرسلہ غلام محمد دکاندار ۲۷ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ

ثبوتِ مولود شریف پر سو روپیہ انعام، آج کل جس رسمِ مولود کا رواج ہے ہمارے علم میں یہ بے ثبوت بات ہے اس کے ثبوت دینے پر انجمن ہذا کی طرف سے یکم ربیع الاول کو ایک اشتہار انعامی دس روپیہ شائع ہوچکا ہے مگر میاں فیروز الدین صاحب سودا گر آنریری مجسٹریٹ فرماتے ہیں کہ یہ انعام کم ہے اس مسئلہ کا فیصلہ ہونا ضروری ہے اس لیے میاں صاحب موصوف مروجہ مولود کا ثبوت قرآن یا حدیث یا فقہ میں سے دینے والے کو ایک صد ۱۰۰ روپیہ انعام دینے کا اعلان کرنے کی ہم کو اجازت دیتے ہیں۔ امید ہے حامیانِ مولود شریف ضرور توجہ کرکے انعامِ مرقومہ کے علاوہ ثواب دارین بھی حاصل کریں گے۔

نوٹ : واضح رہے کہ ایچ پیچ کا کام نہیں، صرف حوالہ کتاب مع عبارت شائع کردینا کافی ہے جس میں لکھا ہو کہ ربیع الاول کے مہینہ میں مجلس مولود کیا کرو مجلسِ مولود کرنا ثواب ہے، ہماری طرف سے اجازت ہے کہ امامانِ دین میں سے کسی ایک امام کا قول دکھادیں جو کسی مستند کتاب میں ہو، اگر اتنا بھی ثبوت نہیں تو پھر ایسی بے ثبوت بات کو چھوڑ نے میں ذرا دیر نہ کریں ورنہ خدا کے سامنے جواب دہی ہوگی۔ والسلام خاکسار محمد ابراہیم شال مرچنٹ نائب سیکریٹری انجمن اہلِ حدیث امرتسر ۱۳ دسمبر

الجواب : وہابیہ کو دوسو ۲۰۰ روپے انعام ۔ حامداً ومصلیا ومسلما۔

(۱) اﷲ تعالٰی فرماتا ہے: وامّابنعمۃ ربّک فحدّث ۱ ؎ اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔

( ۱ ؎ القران الکریم ۹۳/ ۱۱ )

اگر وہابیہ ثبوت دے دیں کہ رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت نعمت نہیں یا مجلس میلاد مبارک اس نعمت کا چرچا نہیں تو ۴۰ روپے انعام۔

(۲) اللہ تعالٰی فرماتا ہے: وذکرھم بایّام اﷲ ۲ ؎ انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ۔

( ۱ ؎ القرآن الکریم ۱۴/ ۵ )

اگر وہابیہ ثبوت دے دیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ولادت کا دن اﷲ کے عظمت والے دنوں میں نہیں یا مجلسِ میلاد اُس دن کا یاد دلانا نہیں تو ۴۰ روپے انعام۔

(۳) اﷲ تعالٰی فرماتا ہے: ، قل بفضل اﷲ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا ۳ ؎ تم فرمادو کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت ہی پر لازم ہے کہ خوشیاں مناؤ۔

( ۱ ؎القرآن الکریم ۱۰/ ۵۸)

اگر وہابیہ ثبوت دیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ولادت اﷲ کا فضل اور اس کی رحمت نہیں یا مجلسِ میلاد اس فضل و رحمت کی خوشی نہیں تو۴۰ روپے انعام۔

(۴) اﷲ تعالٰی فرماتا ہے: وامااٰتکم الرسول فخذوہ وما نھٰکم عنہ فانتھوا ۱ ؎ جو رسول تمہیں دے وہ لو اور جس سے وہ منع کریں اس سے باز رہو .

(۱؂القرآن الکریم ۵۹/۷)

اگر وہابیہ ثبوت دیں کہ قرآن مجید یا حدیث شریف میں کہیں مجلس میلاد مبارک کو منع فرماتا ہے تو ۴۰ روپے انعام۔

ضروری اطلاع : واضح رہے کہ ایچ پیچ کا کام نہیں صرف وہ آیت یا مع حوالہ کتاب وصحیح اسناد وہ حدیث شائع کردینا کافی ہے جس میں لکھا ہے کہ ربیع الاول کے مہینے میں مجلس میلاد نہ کیا کرو مجلس میلاد کرنا عذاب ہے بلکہ ہماری طرف سے اجازت ہے کہ چاروں اماموں یا صحاح ستّہ کے چھ مصنفوں میں سے کسی ایک امام ہی کا قول مذکوردکھا دیں جو کسی مستند کتاب میں ہو، اگر منع کا اتنا ثبوت بھی نہیں تو پھر ایسے بے ثبوت منع کو چھوڑنے میں ذرا دیر نہ کریں ورنہ خدا کے سامنے جواب دہی ہوگی۔

(۵) اہلحدیث کی کانفرنس اور اس میں سیکریٹری وغیرہ مقرر کرنا اور بننا اور اس کے بڑے سالانہ جلسے اور ان کی ہیئت کذائی اور اہلحدیث کا اخبار چھاپنا اور اس کی پیشگی قیمت لینا اور رَدِّائمہ میں کتابیں چھاپنا اور ہیئت مروجہ پر مدرسے بنانا اور ان میں تنخواہ دار مدرسین رکھنا، سہ ماہی، ششماہی، سالانہ امتحان ہونا، ان میں پاس کے نمبر ٹھہرانا، کسی مسئلہ کا ثبوت مانگنے پر اشتہار چھاپنا، اس پر درس کا نصاب معین کرنا، انعام ٹھہرانا ، ان سب باتوں کا اگر وہابیہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا صحابہ، تابعین یا چار امام یاچھ مصنف صحاح سے ثبوت دے دیں تو ۴۰ روپیہ انعام، اور ثبوت نہ دے سکیں، تو پھر ایسی بے ثبوت باتوں کے چھوڑنے میں ذرا دیر نہ کریں ورنہ خدا کے سامنے جواب دہی ہوگی۔ والسلام علٰی من اتبع الہدٰی (اور سلامتی اسے جو ہدایت کی پیروی کرے ۔ت)