امـامت کے مسـا ئل

امامت کی دو قسمیں ہیں۔ ( ۱) امامت کبرٰی اور (۲) امامت صغریٰ

امامت کبرٰی یعنی حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی نیابت مطلقہ کہ حضور اقدسﷺ کی نیابت کی وجہ سے وہ امام مسلمانوں کے تمام دینی اور دنیوی امور میں شریعت کے مطابق تصرف عام کا اختیار رکھے اور غیر معصیت میں اس کی اطاعت تمام جہان کے مسلمانوں پر فرض ہے ۔ جیسے خلفاء راشدین ، حضرت سیدنا امام حسن ، حضرت عمر بن عبدالعزیز وغیرہ اور حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۔

 اس وقت ہم امامتِ کبرٰی کے متعلق کچھ بیان نہیں کرتے بلکہ امامت صغریٰ کے متعلق گفتگو کرتے ہیں۔

امامت صغریٰ یعنی نماز کی امامت ۔ اورا مامتِ نماز کے یہ معنی ہیں کہ دوسروں کی نماز کا اس کی نماز سے وابستہ ہونا یعنی وہ امام اپنی نماز کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی نماز پڑھائے ۔

مردوں کی امامت کرنے کے لئے امام ہونے کے لئے چھ شرطیں ہیں ۔ (۱) اسلام یعنی سنی صحیح العقیدہ ہونا۔ مرتد ،منافق ، اور بدمذہب امام نہیں ہوسکتا۔ (۲) بلوغ یعنی بالغ ہونا ۔ نابالغ امام بالغ مقتدیوں کی امامت نہیںکرسکتا(۳) عاقل ہونا یعنی اس کی عقل سلامت ہو ۔ مجنون یا پاگل امام بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا (۴) مرد ہونا یعنی عورت مردوں کی امامت نہیںکرسکتی ۔ (۵ )قرأت کرنے پر قدرت ہونا (۶) معذور نہ ہونا (بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۰۹)

عورتوں کی امامت کرنے کے لئے مرد ہونا شرط نہیں ۔ عورت بھی عورتوں کی امامت کرسکتی ہے اگرچہ اس کی امامت مکروہ ہے ۔ ( عامہ ٔ کتب ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص۱۰۹)

نابالغوں کے امام کے لئے بالغ ہونا شرط نہیں ۔ اگر نابالغ سمجھدار اور نماز ، طہارت و امامت کے مسائل سے واقفیت رکھتا ہے تو وہ نابالغوں کی امامت کرسکتاہے ۔ (ردالمحتار ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۱۰)

امامت کے متعلق احادیث کریمہ :

حدیث:-طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت مرثد بن ابی مرثد الغنوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیںکہ ’’ اگر تمہیں اپنی نمازوں کا قبول ہونا پسند ہو تو چاہئے کہ تمہارے علماء تمہاری امامت کریں کہ وہ تمہارے واسطہ اور سفیر ہیں ۔ تمہارے اور تمہارے رب عزوجل کے درمیان ‘‘ (بحوالہ فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۹۵)

حدیث:- حاکم نے مستدرک میں روایت کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ اگر تمہیں خوش آئے کہ خدا تمہاری نماز قبول فرمائے تو چاہئے کہ تمہارے بہتر تمہاری امامت کریں کہ وہ تمہارے سفیر ہیں تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ‘‘ ( بحوالہ :-فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۷۲)

حدیث:- امام احمد اور ابن ماجہ حضرت سلامہ بنت الحر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی کہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ قیامت کی علامت سے ہے کہ باہم اہل مسجد امامت کو ایک دوسرے پر ڈالیں گے ۔ کسی کو امام نہ پائیں گے کہ ان کو نماز پڑھادے۔ ‘‘ ( یعنی کسی میں امامت کی صلاحیت نہ ہوگی )

حدیث:- امام ترمذی حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے فرمایا ’’ تین شخصوں کی نماز کانوں سے آگے نہیں بڑھتی ۔(۱) بھاگا ہوا غلام یہاں تک کہ واپس آئے (۲) وہ عورت جو اس حالت میں رات گزارے کہ ا س کا شوہر اس پر ناراض ہو(۳) کسی گروہ کا وہ امام کہ لوگ اس کی امامت سے کراہت کرتے ہوں‘‘۔( یعنی کسی شرعی قباحت کی وجہ سے )

حدیث:- امام بخاری و امام مسلم وغیرہما نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ جب کوئی اوروں کو نماز پڑھائے تو تخفیف کرے ( یعنی نماز بہت لمبی نہ پڑھائے ) کہ ان میں بیمار اورکمزور اور بوڑھا ہوتاہے ۔ اور جب اپنی پڑھے تو جس قدر چاہے طول دے ۔‘‘( یعنی جب اکیلا نماز پڑھے تب چاہے اتنی لمبی پڑھے )

حدیث:- امام مالک حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ جو مقتدی امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا اور جھکاتا ہے اس کی پیشانی کے بال شیطان کے ہاتھ میں ہیں۔‘‘

حدیث:- امام بخاری اورا مام مسلم وغیرہما حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ جو شخص امام سے پہلے سر اٹھاتا ہے ، کیاو ہ اس سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے کا سر کردے ۔‘‘

ایک عبرت ناک اور عجیب واقعہ

مندرجہ بالا حدیث کے ضمن میں محدثین کرام سے منقول ہے کہ شارح صحیح مسلم شریف امام اجل حضرت ابوزکریا نووی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیث کی سماعت کے لئے ایک بڑے مشہور محدث شخص کے پاس دمشق گئے اوران کے پاس بہت کچھ پڑھا مگر وہ پردہ ڈال کر پڑھاتے ۔ امام نووی نے ایک عرصہ تک ان کے پاس بہت کچھ پڑھا لیکن کبھی بھی ان کاچہرہ دیکھنے کا اتفاق نہ ہوا ۔ جب ایک عرصہ گزرا اوراس محدث نے دیکھا کہ امام نووی میں واقعی علم حدیث کی طلبِ صادق ہے تو اس محدث نے اپنے چہرے سے پردہ ہٹا دیا جب پردہ ہٹا تو کیا دیکھتے ہیںکہ اس محدث کامنہ (چہرہ) گدھے کا ساہے ۔ انہو ںنے امام نووی سے فرمایا کہ صاحبزادے ! نماز میں امام پر سبقت کرنے سے ڈرو ۔ کیونکہ جب یہ حدیث مجھ کو پہنچی تو میں نے اسے مستبعد جانا یعنی میں نے یہ گمان کیاکہ امام پر سبقت کرنے سے گدھے جیسا منہ ہوجانا کس طرح ممکن ہے ؟ لہٰذا میں نے امام پر قصداً سبقت کی تو میرا چہرہ ایسا ہوگیا جو تم دیکھ رہے ہو ۔

امامت کے متعلق اہم وضروری مسائل:

مسئلہ: امامت کا سب سے زیادہ حقدار وہ شخص ہے جو طہارت اور نماز کے احکام سب سے زیادہ جانتا ہو ۔ اگرچہ باقی علوم میں پوری مہارت نہ رکھتا ہو بشرطیکہ اتنا قرآن یاد ہو کہ بطورِ مسنون اور صحیح پڑھتا ہو۔یعنی حروف اس کے مخارج سے صحیح طور پر ادا کرتاہو اور مذہب و عقیدہ کی خرابی نہ رکھتا ہو اور فواحش و خلافِ شریعت کاموں کے ارتکاب سے بچتا ہو ۔ اس کے بعد وہ شخص امامت کا زیادہ حقدار ہے جو تجوید( قرأت) کا زیادہ علم رکھتا ہو ۔ ( درمختار ، ردالمحتار ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۱۵)

مسئلہ: اگر چند اشخاص مسائل طہارت ونماز کی معلومات اور تجوید کی مہارت میں یکساں ہوں تو وہ شخص امامت کا زیادہ حقدار ہے :-

 جو زیادہ متقی ہو یعنی حرام تو حرام بلکہ شبہات سے بھی بچتا ہو ۔ پھر :-

جو عمر میں زیادہ ہو یعنی جس کو اسلام میں زیادہ زمانہ گزرا ۔ پھر :-

 جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں ۔ پھر :-

زیادہ وجاہت والا یعنی تہجد گزارکہ تہجد کی کثرت سے آدمی کا چہرہ زیادہ خوبصورت ہوجاتا ہے۔ پھر :-

زیادہ خوبصورت ۔ پھر :-

زیادہ حسب والا یعنی سلسلہ ٔ خاندان میں جس کو شرف حاصل ہو ۔ پھر:-

 زیادہ نسب والا یعنی سلسلہ ٔ خاندان کی شرافت میں جس کا گھرانا زیادہ معزز اور شریف ہو ۔ پھر :-

زیادہ صاحبِ مال کیونکہ اس کو کسی کی محتاجی نہیں کرنی پڑتی اور احکامِ شریعت کی بجاآوری میں وہ کسی سے مرعوب اور خائف نہ ہوگا ۔ بمقابل فقیدالمال شخص ۔پھر :-

 زیادہ عزت والا یعنی اس کی دیانتداری ، پرخلوص خدمات اور دیگر اخلاقی محاسن کی وجہ سے قوم جس کو عزت کی نظر سے دیکھتی ہو اور عزت کرتی ہو ۔ پھر :-

جس کے کپڑے زیادہ ستھرے ہوں یعنی صاف اور ستھرا رہتا ہو ۔

الغرض ! چند اشخاص مساوی صلاحیت کے ہو ںتو ان میں جو شرعی ترجیح رکھتا ہو وہ زیادہ حقدارِ امامت ہے اور اگر ترجیح نہ ہو تو قرعہ ڈالا جائے اور جس کے نام کا قرعہ نکلے وہ امامت کرے یا ان میں سے جن کو جماعت منتخب کرے وہ امام ہو اور اگر جماعت میں اختلاف ہو تو جس طرف زیادہ لوگ ہوں وہ امام بنے اور اگر جماعت نے غیر اولیٰ شخص کو امام بنایا تو برا کیا مگر گنہگار نہ ہوئے ۔ ( درمختار ، ردالمحتار ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۱۵)

مسئلہ: امام ایسے شخص کو بنایا جائے جو سنی صحیح العقیدہ ، صحیح القرأت اور مسائل طہارت ونماز سے اچھی طرح واقف ہو اور اس میں فسق و غیرہ کوئی ایسی قباحت کی بات نہ ہو کہ جس سے مقتدیوں کو نفرت ہو ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد۳ ، ص ۲۶۴)

مسئلہ: ہر جماعت میں سب سے زیادہ مستحق امامت وہی ہے جو ان میں سب سے زیادہ مسائل نماز و طہارت جانتا ہے اگرچہ اور مسائل میں بہ نسبت دوسروں کے کم علم ہو مگر شرط یہ ہے کہ فاسق اور بدمذہب نہ ہو اور قرآن مجید پڑھنے میں حروف اتنے صحیح ادا کرے کہ نماز میں فسادنہ آنے پائے اور اگر حروف ایسے غلط ادا کئے کہ نماز فاسد ہوتی ہے تو اس کی امامت جائز نہیں اگرچہ عالم ہو ۔ ( درمختار ، کافی ، بحرالرائق ، ردا لمحتار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۴۸)

مسئلہ: جس مسجد میں سنی صحیح العقیدہ امام معین ہو وہی امام امامت کا حقدار ہے اگرچہ حاضرین میںکوئی اس سے زیادہ علم والا اور زیادہ تجوید جاننے والا ہو ۔ ( درمختار ، بہارشریعت ، حصہ۳، ص ۱۱۵)

مسئلہ: اگر مسجد کے معین امام میں فساد کی حد تک غلط قرآن خوانی یا بدمذہبی مثل وہابیت وغیر مقلدی یا فسق ظاہری جیسا کوئی خلل ایسا نہ ہو کہ جس کے باعث اسے امام بنا نا شرعاً ممنوع ہو تو اس مسجد کی امامت کا حقدار وہی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے دوسرے کو اگرچہ وہ معین امامِ مسجد سے زیادہ علم و فضل رکھتا ہو ۔مسجد کے معین امام کی اجازت کے بغیر اسے امام بنانا شرعاً ناپسندیدہ اور خلاف حکم حدیث اور خلاف حکم فقہ ہے ۔ ( ردالمحتار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۵۰ ،اور ۱۹۸)

مسئلہ: کسی شخص کی امامت سے لوگ کسی شرعی وجہ سے ناراض ہوں تواس کاامام بننا مکروہ تحریمی ہے اورا گر ناراضی کسی شرعی وجہ سے نہیںبلکہ ذاتی مفاد یا کسی غیر شرعی رنجش کی وجہ سے ہے تو کراہت نہیں بلکہ اگر وہی احق ( زیادہ حقدار) ہو تو اسی کو امام بناناچاہئے ۔ (بہارشریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۱۶)

مسئلہ: امام کو چاہئے کہ جماعت کی رعایت کرے اور سنت کی مقدار سے زیادہ قرأت نہ کرے ۔( عالمگیری ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۱۶)

مسئلہ: نفل نماز پڑھنے والا فرض نماز پڑھنے والے کی اقتدا کرسکتاہے، اگرچہ فرض نماز پڑھنے والا فرض کی پچھلی رکعتوں میں قرأت نہ کرے ( یعنی صرف سورہ ٔ فاتحہ پڑھے ) ۔ (عالمگیری ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۱۶)

افعال قبیحہ کا ارتکاب کرنے والے کی امامت :-

مسئلہ: سود خورفاسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز ناقص اور مکروہ تحریمی ہے ۔ اگر سود خور کے پیچھے نماز پڑھ لی تو نماز کااعادہ واجب ہے ۔ سود خور شخص کو ہرگز امام نہ بنایا جائے۔ (مراقی الفلاح ، در مختار ، طحطاوی، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۵۱)

مسئلہ: بے عذر شرعی روزہ نہ رکھنے والا فاسق ہے اور اسکے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۵۸ ، ۲۵۷)

مسئلہ: جھوٹ بول کر لوگوں کو دھوکہ دینے والا یا جھوٹ بول کر لوگوں سے مال وصول کرنے والا فاسق ہے ۔ ایسے شخص کو امام نہیں بناناچاہئے بلکہ امامت سے معزول کردینا چاہئے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ص ۲۰۴)

مسئلہ: فحش گالیاں بکنے والا ، مسخرا ، گالی کے ساتھ مذاق کرنے والا ، ناچ دیکھنے والا او رسود کا کاروبارکرنے والا شخص ہرگز امامت کے لائق نہیں ۔اسکو امام بنانا گناہ اور اسکی اقتدا میں پڑھی ہوئی نماز مکروہ تحریمی اور واجب الاعادہ ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۲۰۸، ۲۱۷،۲۵۵، اور ۲۶۹)

مسئلہ: نجومی (Astrologer) ، رمّال (Sooth Sayer) اور جھوٹے فال (Augural) دیکھنے والابھی امامت کے لائق نہیں ۔( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۲۶۶)

مسئلہ: بدمذہبوں کے یہاں علانیہ کھانا کھانے والااور بدمذہبوں سے میل جول رکھنے والا فاسق معلن ہے اور امامت کے لائق نہیں ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۲۶۹)

مسئلہ: شبانہ روز میں بارہ (۱۲) رکعتیں سنت مؤکدہ ہیں ۔ دو صبح سے پہلے ، چار ظہر سے پہلے اور دو(۲) بعد میں ، مغرب اور عشاء کے بعد دو (۲) دو(۲) ۔ جو ان میں سے کسی کو ایک آدھ بار ترک کرے مستحق ملامت و عتاب ہے اور جو ان میں سے کسی کے ترک کا عادی ہے وہ گنہگار و فاسق و مستوجب عذاب ہے اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی اور اس کو امام بنانا گناہ ہے ۔ ( غنیہ ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۲۰۱)

مسئلہ: فاسق امام کے پیچھے نماز مکروہ ہے ۔ اگر وہ فاسق معلن نہ ہو یعنی وہ گناہ چھپ کر کرتا ہو اور اسکاوہ گناہ مشہور و معروف نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز مکروہ تنزیہی ہے اور اگر فاسق معلن ہے کہ علانیہ طور پر گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرتا ہو یا صغیرہ گناہ پر اصرار کرتاہو تو اسے امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ِ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور اگر پڑھ لی ہو تو پھیرنی واجب ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳، ص ۲۵۳)

مسئلہ: اگر امام علانیہ فسق و فجور کرتا ہو اور دوسرا کوئی شخص امامت کے قابل نہ مل سکے تو تنہا نماز پڑھیں اور امام اگر کوئی گناہ چھپ کر کرتاہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں اور اس کے فسق کے سبب جماعت نہ چھوڑیں ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۲۵۳)

مسئلہ: اگرکوئی امام کسی گناہ کبیرہ میں مبتلا رہتاہو اور پھر گناہ سے باز آکر سچی توبہ کرے اورا پنی توبہ پر قائم رہے تو سچی توبہ کے بعد گناہ بالکل نہیں رہتے ۔ توبہ کے بعد اس کی امامت میں اصلاً حرج نہیں اور بعد توبہ اس پر گناہ کا اعتراض جائز نہیں ۔ حدیث میں ہے نبی کریم ، رؤف و رحیم آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں ’’ عیر اخاہ بذنب تاب منہ لم یمت حتی یعملہ ‘‘ یعنی ’’ جو اپنے کسی مومن بھائی کو ایسے گناہ سے عیب لگائے جس سے توبہ کرچکا ہے تو یہ عیب لگانے والا اس وقت تک نہ مرے گا جب تک خود اس گناہ میں مبتلا نہ ہوجائے ۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حدیث کو حسن فرمایا ہے ۔(فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۲۵۵)

مسئلہ: جو داڑھی حد شرع سے کم رکھتاہو وہ فاسق معلن ہے ۔ اسے امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز پڑھنی مکروہ تحریمی ہے اور پھیرنی واجب ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۲۱۵ ، ۲۱۹،اور ۲۵۵)

معذور اور مبتلائے مرض امام کی امامت

مسئلہ: اندھا شخص اگر تمام حاضرین میں سب سے زیادہ مسائل نماز کا جاننے والا ہو اور اس کے سوا دوسرا کوئی صحیح العقیدہ ، صحیح القرأت اور غیر فاسق معلن حاضرِ جماعت نہ ہو اور وہ اندھا ہی سب سے زیادہ علم نماز و علم طہارت رکھتا ہو تو اس کی امامت افضل ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۲۰۷)

مسئلہ: ایسا مبروص (کوڑھی) شخص یعنی جس کو سفید کوڑھ ہو اور اس کا تمام جسم عارضہ ٔ برص (کوڑھ) کی وجہ سے سفید ہوگیا ہو ، ایسے برص والے امام کی اقتدا میں نماز مکروہ ہے ۔ (درمختار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۷۸)

مسئلہ: ایسا شخص کہ جس کو جذام (Leprosy) کا مرض ہو اورجذام ٹپکتا ہوتو اگر وہ معذور کی حد تک پہنچ گیا ہو تو اس کے پیچھے صرف ایسی ہی بیماری والے کی جو اسی جیسی حالت رکھتا ہو نماز ہوجائے گی باقی لوگوں کی نماز اس جذامی کے پیچھے نماز نہیں ہوسکتی۔(فتاوٰی رضویہ ، جلد۳، ص ۲۱۵)

مسئلہ: توتلا یعنی وہ شخص جس کی زبان موٹی ہونے کی وجہ سے الفاظ صاف نہ نکلتے ہو ، اسکے پیچھے نماز باطل ہے ۔ ( فتاوٰی خیریہ از علامہ خیرالدین رملی اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۱۷۵)

مسئلہ: ہکلا یعنی جس کی زبان میں لکنت ہو اور وہ رُک رُک کر بولتا ہے ۔ ایسے شخص کی امامت کے متعلق شریعت میں حسب ذیل تین حکم ہیں:-

(۱) ایسا ہکلا کہ بولتے وقت اسکے منہ سے چند معین الفاظ (Certained Words) بے اختیار نکل جاتے ہیں مثلاً ک…ک …ک ٭ …چ …چ…چ ٭ پ … پ …پ وغیرہ اور وہ بولنے میں یا کچھ پڑھنے میں جہاں رکتا ہے ان ہی حروف کی تکرار کرتا ہے یا گھبراکر’’ ایں ایں ‘‘ کرنے لگتا ہے ، اس کے پیچھے نماز فاسد ہونے میں کوئی شک نہیں۔

(۲) ایسا ہکلا کہ وہ جس کلمہ ( جملہ) پر رکتا ہے اور پھر جب بولتاہے تو اسی اوّل حرف کی تکرار کرتاہے ۔ اس صورت میں اگرچہ وہ ’’ ایں ایں ‘‘ یا ’’ چ چ چ ‘‘ یا ’’ ک ک ک ‘‘ ایسا کوئی حرف خارج نہیں بولتا بلکہ جو کلمہ بولنا چاہتا ہے اس کلمہ کے پہلے حرف یا جز کو مکرر ادا کرتا ہے اور نماز میں اس طرح کے مکرر (Repeated) حروف تکرار کی وجہ سے لغو ، مہمل اور خارج عن القرآن ہونے کی وجہ سے اس کی قرأت میں بے اختیار زائد حروف آجاتے ہیں لہٰذا ایسے ہکلے کے پیچھے بھی نماز فاسد ہے ۔

(۳) ایسا ہکلا کہ ہکلاتے وقت وہ اپنے منہ سے کوئی حرفِ غیر یا حرفِ زائد نہیں نکالتا اورنہ ہی اسی حرف کی تکرار کرتا ہے بلکہ بولتے بولتے صرف رک جاتا ہے اور پھر جب بولتا ہے تو حروف ٹھیک ادا کرتاہے ۔ایسے ہکلے شخص کی اقتدا میں نماز درست ہے ۔ (ردالمحتار ، درمختار ، نورالایضاح ، مراقی الفلاح، ہندیہ ، غنیہ ، تنویر اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۷۶)

جس کی بیوی بے پردہ نکلتی ہو اس کی امامت کا حکم ‘‘

مسئلہ: جس شخص کی زوجہ (بیوی) بے پردہ نکلتی ہو اور وہ شخص قدرت اور طاقت ہونے کے باوجود اپنی عورت کو بے پردہ نکلنے سے نہیں روکتاوہ شخص فاسق ہے ۔ اس کو امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہونے کی وجہ سے نہ پڑھی جائے اور اگر پڑھ لی تو اعادہ ضروری ہے ۔ ( غنیہ ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۷۷اور ۱۹۰ )

مسئلہ: آزاد عورت ( یعنی جو باندی نہ ہو ) کولوگوں کے سامنے سر کھولنا بھی حرام ہے ۔ وہ عورتیںجو کھلے سر اور بے پردہ گھومتی ہیں فاسقہ ہیں اور شوہر پر فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کو فسق سے روکے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ۔ ’’ یا ایہا الذین اٰمنو قوا انفسکم و اہلیکم نارا‘‘ یعنی ’’ اے ایمان والو ! بچاؤ اپنی جانوں کو اورا پنے گھروالوں کو آگ سے ۔‘‘ اور رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں ’’کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیتہ ‘‘ یعنی ’’ تم سب اپنے متعلقین کے سردار و حاکم ہو او رہر حاکم سے روزِ قیامت اس کی رعیت کے باب میں سوال ہوگا ‘‘تو جو مرد اپنی عورت کو بے پردہ نکلنے سے منع نہیں کرتا ، خود بھی فاسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے اور اسے امام بنانا گناہ ہے ۔ ( ردالمحتار ، غنیہ ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۸۸)

مسئلہ: عورت اگر کسی نامحرم کے سامنے اس طرح آئے کہ اس کے بال اور گلے اور گردن یا پیٹھ یاکلائی یا پنڈلی کاکوئی حصہ ظاہر ہو یا لباس ایسا باریک ہو کہ مذکورہ اعضاء سے کوئی حصہ اس میں سے چمکے ( دکھائی دے ) تو یہ بالاجماع حرام ہے اورا یسی وضع و لباس کی عادی عورتیں فاسقات ہیں اور ان کے شوہر اگر اس پر راضی ہوں یا حسب مقدرت بندوبست نہ کریں یعنی حسب قدرت نہ روکیں تو دیّوث ہیں اور ایسوں کو امام بنانا گناہ ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۲۰۱ ، ص ۲۵۸)

مسئلہ: جس کی بیوی عام عورتوں کی طرح بے پردہ پھرتی ہو اور شوہر کو معلوم ہے اور وہ باوصفِ قدرت منع نہیں کرتا تو وہ دیّوث ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۹۷، اور ۲۱۰)

مسئلہ: اگر وہ شخص اپنی بیوی کو حد قدرت تک روکتاہے اور منع کرتا ہے لیکن وہ نہیں مانتی تو ان صورتوں میں شوہر پر کچھ الزام نہیں اور اس وجہ سے اس کے پیچھے نماز میںکراہت نہیں ہوسکتی ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۹۳)

امامت کے تعلق سے متفرق مسائل :

مسئلہ: امام کے لئے خوش الحانی سے قرأت پڑھنا ضروری نہیںبلکہ صحیح مخارج کے ساتھ قرأت پڑھنا ضروری ہے اور جو امام کے لئے خوش الحانی سے پڑھنے کو ضروری و شرط بتائے وہ شریعت مطہرہ پر افترا کرتاہے بلکہ خوش الحانی بعض اوقات مضر ( نقصان دہ ) ہوتی ہے کہ اسکے سبب آدمی اتراتا ہے یا کم از کم اتنا ہوتا ہے کہ نماز میں خشوع و خضوع کے بدلے اپنے کو خوش الحان بنانے کا خیال رہتاہے ۔ ( عالمگیری ، فتاوٰی قاضی خان اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۹۵)

مسئلہ: دیوبندی عقیدے والے کے پیچھے نماز باطل محض ہے ۔ نماز ہوگی ہی نہیں ۔ فرض سر پر باقی رہے گا اور دیوبندی امام کی اقتدا کرنے کا شدید گناہ عظیم ہوگا ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۲۳۵)

مسئلہ: وہابی نجدی عقیدے والے قطعاً بے دین ہیں اور بے دین کے پیچھے نماز محض ناجائز (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۲۴۰)

مسئلہ: غیر مقلد امام کے پیچھے نماز محض باطل ہے ۔ ہرگز نہ ہوگی اور پڑھنے والے کے سر پر گناہ عظیم ہوگا۔علاوہ ازیں اگر غیر مقلد سنیوں کی جماعت میں شریک ہوگا تو اس کی شرکت سے صف قطع ہوگی کیونکہ اس کی نماز نماز نہیں۔ وہ ایک بے نمازی شخص کی حیثیت سے صف کے درمیان کھڑا ہوگا اور یہ صف کاقطع ہے اور صف کا قطع ناجائز ہے ۔ معہٰذا بدمذہبوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے بھی حدیث شریف میں منع فرمایا ہے۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۲۶۴ وغیرہ )