باپ کی بیٹے کونصیحت

قرآن پاک میں ہے: ’’یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَ أمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ المُنْکَرِ وَاصْبِرْ عَلیٰ مَا اَصَابَکَ ( پ۲۱رکوع۱۱)

اے میرے بیٹے نماز برپا رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کر اور جو اُفتاد تجھ پر پڑے اس پر صبر کر ۔ ( کنزالایمان )

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! مذکورہ آیتِ کریمہ سے پتہ چلتا ہے کہ ایک باپ کی نصیحت ، اپنی اولاد کے سلسلے میں کیا ہونی چاہیئے ؟ حضرت لقمان علیہ السلام جو اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں ،جن کے اقوال حکمت و دانائی سے بھرے ہوئے ہیں انہیں کا ایک قول اللہ نے قرآنِ پاک میں بیان فرمایا ۔ وہ قول کیا ہے ؟ وہ قول یہی تو ہے کہ: ’’اے میرے بیٹے !نماز قائم کر اور اچھی باتوں کا حکم دے‘‘ ۔ اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ایک باپ کو اپنی اولاد کیلئے دنیوی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ دینی امور کا بھی اہم خیال رکھنا چاہئے ۔ آئیے ہم عہد کریںکہ ہم خود بھی نماز کے پابند رہیں گے اور اپنی اولاد کو بھی پابند ِ نماز بنانے کی کوشش کریں گے۔ اللہ ہمیں ،ہماری اولا د کو اور تمام اہلِ خانہ کو نماز کی پابندی کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم