حکایت نمبر254: حضرت ابوذَرّرضی ا للہ تعا لیٰ عنہ کاوصالِ باکمال

حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَشْتَر علیہ رحمۃ اللہ الاکبر اپنے والدِ محترم کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ”حضرتِ سیِّدُنا ابوذَرّرضی ا للہ تعالیٰ عنہ کی زوجۂ محترمہ حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ ذَرّ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: جب حضرتِ سیِّدُنا ابوذَرّ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ صحرائی سفر پر تھے، میں بھی ان کے ساتھ تھی ، میں رونے لگی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیوں روتی ہو؟میں نے کہا: ” آپ اس بے آب وگیاہ ویران صحراء میں انتقال کر رہے ہیں اور اس وقت نہ تو میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس سے آپ کے کفن و دفن کا انتظام ہوسکے اورنہ ہی آپ کے پاس، پھر میں کیوں نہ روؤں؟” فرمایا:” رونا چھوڑ، تیرے لئے خوشخبری ہے۔” ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی دو مسلمان جن کے دو یا تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ اس پر صبر کریں اور اجر کی امید رکھیں تو وہ کبھی بھی جہنم میں داخل نہ ہوں گے۔” اورسرکار نامدار، مدینے کے تاجدار، باذن پروردْگار غیبوں پر خبردار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ہم چند لوگوں کو مخاطب کر کے(غیب کی خبر دیتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ایک شخص صحراء میں مرے گااورا س کی وفات کے وقت مؤمنین کا ایک گروہ اس کے پاس پہنچے گا۔ ” (مسند احمد،حدیث ابی ذر الغفاری،الحدیث۲۱۴۳۱،ج۸،ص۶ ۸۔ الطبقات الکبرٰی لابن سعد،ابوذرجندب بن جنادۃ، الرقم۴۳۲، ج۴، ص۱۷۶) 

اب ان تمام صحابۂ کرام علیہم الرضوان میں سے کوئی زندہ نہیں رہا۔ صرف میں اکیلا باقی ہوں اور ان سب کی وفات یا تو شہر میں ہوئی یا آبادی میں ۔ اور میں صحراء میں فوت ہو رہا ہوں ۔یقیناوہ شخص میں ہی ہوں ، اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!نہ میں نے جھوٹ کہااور نہ ہی مجھے جھوٹی خبر ملی ، تُو جااور دیکھ ، ضرورکوئی نہ کوئی ہماری مدد کو آئے گا۔”

میں نے کہا:” اب توحُجّاجِ کرام بھی جاچکے اورراستہ بند ہوگیا۔”فرمایا:” تو جاکر دیکھ تو سہی۔” چنانچہ، میں ریت کے ٹیلے پر چڑھی اورراستے کی طرف دیکھنے لگی، تھوڑی دیر بعد واپس ان کے پاس آگئی اورتیمارداری کرنے لگی پھر دوبارہ ٹیلے پر چڑھ کر راہ تکنے لگی ۔ اچانک کچھ دور مجھے چند سوار نظر آئے، میں نے کپڑا ہِلا کر انہیں اس طرف متوجہ کیا تو وہ بڑی تیزی سے میری طرف آئے اور پوچھا:” اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندی! کیا بات ہے ؟”میں نے کہا :” مسلمانوں میں سے ایک مرد، داعئ اَجَل کو لَبَّیْک کہنے والا ہے، کیا تم اسے کفن دے سکتے ہو؟”انہوں نے کہا : ”وہ کون ہے ؟”میں نے کہا: ”ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔” کہا: ”وہی ابوذر جو پیارے آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صحابی ہیں؟”میں نے کہا:” ہاں! وہی ابو ذرجو صحابئ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔” یہ سنتے ہی وہ کہنے لگے : ”ہمارے ماں باپ ان پر قربان! وہ عظیم ہستی کہاں ہے؟”میں نے انہیں بتایا تو وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف تیزی سے لپکے اورحاضرِ خدمت ہو کر سلام عرض کیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیتے ہوئے انہیں ”مرحبا”کہا اور فرمایا : ”تمہیں خوشخبری ہو!میں نے مدینے کے تاجدار، غیبوں پر خبردار،دوعالم کے مالک ومختار باِذن پروردگارعَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کویہ فرماتے ہوئے سنا:”کوئی بھی دو مسلمان جن کے دو یا تین بچے فوت ہوجائیں اور وہ اس پر صبر کریں اور اجر کی امید رکھیں تو وہ کبھی بھی جہنم میں داخل نہ ہوں گے۔” اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ایک گروہِ مسلمین سے مخاطب ہوکر فرمارہے تھے جس میں میں بھی موجود تھا کہ ”تم میں سے ایک شخص صحراء میں وفات پائے گااور مؤمنین کا ایک قافلہ اس کے پاس پہنچ جائے گا۔” (المرجع السابق)اب میرے علاوہ ان میں سے کوئی زندہ نہیں ان میں سے ہر ایک یا تو آبادی میں فوت ہوا یا پھر کسی بستی میں ،اب میں ہی وہ اکیلا شخص ہوں جو صحراء میں انتقال کر رہا ہوں ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !نہ میں نے جھوٹ بولا اورنہ ہی مجھے جھوٹ بتایا گیا۔ جب میں مرجاؤں اور میرے پاس یا میری زوجہ کے پاس کفن کا کپڑ ا ہو تو مجھے اسی میں کفنادینا اگر ہمارے پاس کفن کا کپڑا نہ ملے تو میں تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم دیتا ہوں کہ تم میں سے جو شخص حکومتی عہدے دار ہو یا کسی امیر کادربان ہویا کسی بھی حکومتی عہدے پر ہو تو وہ مجھے ہرگز ہرگز کفن نہ دے ۔اتفاق کی بات تھی کہ ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی حکومتی عہدے پر رہ چکا تھا یا ابھی عہدے پر قائم تھا ۔ صرف ایک انصاری نوجوان بچا جو کسی طرح بھی حکومت کا نمائندہ نہ تھا۔ وہ نوجوان آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”میرے پاس ایک چادر اوردو کپڑے ہیں جنہیں میری والدہ نے کاٹ کر بنایا ہے، میں اِنہیں کپڑوں میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کفن دوں گا ۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:” ہاں! تم ہی مجھے کفن دینا۔” پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوگیا تو اسی انصاری نوجوان نے کفن دیااور نمازِ جنازہ کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وہیں دفنا دیا گیا۔” (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)