حدیث نمبر :660

روایت ہے حضرت جابرسے فرماتے ہیں مسجد کے اردگرد کچھ مکانات خالی ہوئے تو بنوسلمہ نے چاہا ۱؎ کہ مسجد کے قریب آن بسیں۲؎ یہ خبرحضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوپہنچی تو آپ نے ان سے فرمایا مجھے خبرپہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب آن بسنا چاہتے ہو وہ بولے ہاں یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے یہ ارادہ تو کیا ہے فرمایا اے بنو سلمہ اپنے گھروں ہی میں رہو تمہارے نقش قدم لکھے جارہے ہیں اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے نقش قدم لکھے جارہے ہیں۳؎(مسلم)

شرح

۱؎ یہ انصار کا ایک قبیلہ ہے جن کے گھرمسجدنبوی شریف سے بہت دور تھے۔

۲؎ یعنی ان لوگوں نے یہ کوشش نہ کی کہ اپنے محلے میں الگ مسجد بنالیں،بلکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز کے لئےاپنے گھرچھوڑدینا اورمحلہ خالی کردینا گواراکرلیا۔

۳؎ تمہارے نامۂ اعمال میں ثواب کے لیے کیونکہ مسجدکی طرف ہرقدم عبادت ہے یاتمہاری اس مشقت کا تذکرہ حدیث کی کتب میں اورعلماء کی تصانیف میں لکھاجائے گا،واعظین اس پر وعظ کریں گے،جوتمہارے واقعے سن کر دورسے مسجد میں آیا کریں گے،ان سب کا ثواب تمہیں ملاکرے گا۔خیال رہے کہ گھر کا مسجد سے دور ہونا متقی کے لئےباعث ثواب ہے کہ وہ دور سے جماعت کے لئےآئے گا مگر غافلوں کے لئےثواب سے محرومی کہ وہ دوری کی وجہ سے گھر میں ہی پڑھ لیا کریں گے،لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ منحوس وہ گھر ہے جس میں اذان کی آواز نہ آئے یعنی غافلوں کے لیےدوری گھرنحوست ہے۔