ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر خوشی منانا

ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر خوشی منانا

حدیث مبارکہ:

عَنْ عُرْوَةَ في روایة طویلة قَالَ: وَثُوَیْبَةُ مَوْلَاةٌ لِأَبِي لَهَبٍ، کَانَ أَبُوْ لَهَبٍ أَعْتَقَهَا، فَأَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم، فَلَمَّا مَاتَ أَبُوْ لَهَبٍ أُرِیَهٗ بَعْضُ أَهْلِهٖ بِشَرِّ حِیْبَةٍ، قَالَ لَهٗ: مَاذَا لَقِیْتَ؟ قَالَ أَبُوْ لَهَبٍ: لَمْ أَلْقَ بَعْدَکُمْ غَیْرَ أَنِّي سُقِیْتُ فِي هٰذِهٖ بِعَتَاقَتِي ثُوَیْبَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب النکاح، باب وأمهاتکم اللاتي أرضعنکم، 5/1961، الرقم: 4813، وعبد الرزاق في المصنف، 7/478، الرقم: 13955

’’حضرت عروہ رضی اللہ عنہ ایک طویل روایت میں بیان کرتے ہیں کہ ثویبہ ابو لہب کی لونڈی تھی اور ابو لہب نے اُسے آزاد کر دیا تھا، اُس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلایا تھا۔ جب ابو لہب مر گیا تو اُس کے اہل خانہ میں سے کسی کے خواب میں وہ نہایت بری حالت میں دکھایا گیا۔ اس (دیکھنے والے) نے اُس سے پوچھا: کیسے ہو؟ ابو لہب نے کہا: میں بہت سخت عذاب میں ہوں، اِس سے کبھی چھٹکارا نہیں ملتا۔ ہاں مجھے (اُس عمل کی جزا کے طور پر) اس (انگلی) سے قدرے سیراب کر دیا جاتا ہے جس سے میں نے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں) ثویبہ کو آزاد کیا تھا۔‘‘

اِسے امام بخاری، امام عبد الرزاق رحمھما اللہ نے روایت کیا ہے۔

تشریح 1۔

’’شارح بخاری حافظ ابن حجرعسقلانی نے امام سہیلی رحمھما اللہ کے حوالے سے فتح الباری میں یوں بیان کیا ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

ابو لہب مر گیا تو میں نے اسے ایک سال بعد خواب میں بہت برے حال میں دیکھا اور یہ کہتے ہوئے پایا کہ تمہاری جدائی کے بعد آرام نصیب نہیں ہوا بلکہ سخت عذاب میں گرفتار ہوں، لیکن جب پیر کا دن آتا ہے۔ تو میرے عذاب میں تخفیف کر دی جاتی ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ پیر کے دن ہوئی تھی اور جب ثویبہ نے اس روز ابو لہب کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خبر دی تو اس نے (ولادتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی میں) ثویبہ کو آزاد کر دیا تھا۔‘‘

ذکره العسقلاني في فتح الباري، 9/145.

تشریح 2۔

’’حافظ شمس الدین محمد بن عبد ﷲ جزری رحمہ اللہ (م 660ھ) اپنی تصنیف عرف التعریف بالمولد الشریف میں لکھتے ہیں:

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر خوشی منانے کے اَجر میں اُس ابولہب کے عذاب میں بھی تخفیف کر دی جاتی ہے جس کی مذمت میں قرآن حکیم میں ایک مکمل سورت نازل ہوئی ہے۔ تو اُمتِ محمدیہ کے اُس مسلمان کو ملنے والے اَجر و ثواب کا کیا عالم ہوگا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی مناتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و عشق میں حسبِ اِستطاعت خرچ کرتا ہے؟ خدا کی قسم! میرے نزدیک ﷲ تعالیٰ ایسے مسلمان کو اپنے حبیب مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی منانے کے طفیل اپنی نعمتوں بھری جنت عطا فرمائیں گے۔‘‘

تشریح 3۔

’’حافظ شمس الدین محمد بن ناصر الدین دمشقی رحمہ اللہ (م 842ھ) مورد الصادي في مولد الہادي میں فرماتے ہیں:

یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں ثویبہ کو آزاد کرنے کے صلہ میں ہر پیر کے روز ابو لہب کے عذاب میں کمی کی جاتی ہے۔ لہٰذا جب ابو لہب جیسے کافر کے لیے کہ جس کی مذمت قرآن حکیم میں کی گئی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں اُس کے ہاتھ ٹوٹتے رہیں گے – حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی منانے کی وجہ سے ہر سوموار کو اُس کے عذاب میں تخفیف کر دی جاتی ہے، تو اس شخص کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے جس نے اپنی ساری عمر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی منائی اور توحید پر فوت ہوا۔‘‘

تشریح 4۔

بالکل ایسا ہی مضمون امام جلال الدین سیوطی (م 855ھ) نے الحاوي للفتاوی/206 میں، اور حسن المقصد في عمل المولد/6566 میں، امام شھاب الدین قسطلانی (م 923ھ) نے المواهب اللدنیة، 1/147 میں ذکر فرمایا ہے۔ رحمھم اللہ

تشریح 5۔

شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ (م 1052ھ) اِسی روایت کا تذکرہ کرنے کے بعد ’مدارج النبوۃ (2/19)‘ لکھتے ہیں:

’’یہ روایت میلاد کے موقع پر خوشی منانے اور مال صدقہ کرنے والوں کے لیے دلیل اور سند ہے۔ ابولہب جس کی مذمت میں ایک مکمل قرآنی سورت نازل ہوئی جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں لونڈی آزاد کر کے عذاب میں تخفیف حاصل کر لیتا ہے تو اس مسلمان کی خوش نصیبی کا کیا عالم ہوگا جو اپنے دل میں موجزن محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے ولادتِ مصطفی کے دن مسرت اور عقیدت کا اظہار کرے۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ (یہ اظہارِ مسرت اور عقیدت) ان بدعات سے پاک ہو جنہیں عوام الناس نے گھڑ لیا ہے جیسے موسیقی اور حرام آلات اور اسی طرح کے دیگر ممنوعات، تاکہ اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راستے سے محرومی کا باعث نہ بنے۔‘‘

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.