علم عمل کے لئے ہے

علم اندھیرے میں اللہ کے عطا کئے ہوئے نور کا اجالا ہے،مسلمان دائرۂ اسلام میں قدم رکھنے کے بعد جو بھی ترقی کرتا ہے اس میں پہلا درجہ علم کا اور دوسرا درجہ اس پر عمل کا ہے،عمل ہو مگر اس کی ادائیگی کا علم نہ ہو تو اس عمل کو اللہ اور رسول کی بارگاہ کے لائق نہیں بنایا جا سکتا ،،علم ہو اور اس کے مطابق عمل نہ ہو تو درخت بے ثمر کی طرح سے ہے اس لئے علم عمل دونوں کے ذریعہ اس میدان میں آگے آنا چاہئیے

عمل سے زندگی بنتی جنت بھی جھنم بھی 

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری