نماز اللہ کی یاد کا ذریعہ

اللہ نے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا ’’ اِنَّنِْی اَنَا اللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدْنِیْ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ ‘‘ ( ۱۶رکوع۱۰)

بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کراور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ۔ ( کنزالایمان )

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! اللہ کی یاد کا ذریعہ تو کائنات کا ذرّہ ذرّہ ہے۔ بندہ جس طرف نگاہ ڈالے اسی کی جلوہ گری ہے۔ غرض یہ کہ اس کی بے شمار نعمتیں ہیں جن کو دیکھ کر بندہ خدا کویاد کرسکتا ہے۔ لیکن غور فرمائیے کہ مذکورہ آیتِ کریمہ میں اللہ نے اپنی یاد بندوں کے دل میں قائم رکھنے کے لئے نماز کا حکم دیا چنانچہ و ہ فرماتا ہے: ’’ اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ ‘‘ اس سے پتہ چلا کہ نماز اللہ د کی یاد کا بہترین ذریعہ ہے۔کیونکہ بندے کا پورا وجود حالتِ نماز میں خالقِ کائنات  کے سا منے جھکا ہو تا ہے ۔اس کی زبان ذکرِ الٰہی سے تر ہو تی ہے ،اسکے کان قرآنِ مقد س سن رہے ہو تے ہیں،اسکی نگاہ سجدے کی جا پر ہو تی ہے اور دل انوار وتجلیا ت ِربّا نی کا مر کز بن جا تا ہے ۔غرضیکہ ایک بندہ جب نمازمیں ہو تا ہے توگو یا وہ اللہکی یا د میں مصروف ہو تا ہے ۔سا ری دنیا سے بے نیاز ہو کر بندہ اپنے خا لق کا نیاز مند بن جا تاہے۔اللہ نمازکے ذریعہ اپنی یاد کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم