*کسی کتاب یا عبارت کی صحت کے چانچنے کے طریقے*

*سیدی امام اہل سنت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے فتاوی رضویہ* میں کسی کتاب یا عبارت کی صحت جانچنے کے چند طریقے لکهیں ہیں جو درجہ ذیل ہیں-

*اول* *کوئی کتاب یا رسالہ کسی بزرگ کے نام منسوب ہونا اس سے ثبوت قطعی کو مستلزم نہیں* بہت رسالے خصوصا اکابر چشت کے نام ہیں جس کا اصلا کوئی ثبوت نہیں-

*دوم* *کسی کتاب کا ثابت ہونا اس کے ہر فقرے کا ثابت ہونا نہیں* بہت اکابر کی کتابوں میں الحاقات ہیں جن کا مفصل بیان کتاب *الیواقیت والجواہر* امام عارف باللہ *عبد الوہاب شعرانی* رحمة اللہ علیہ میں ہے خصوصا *حضرت شیخ اکبر* رضی اللہ عنہ کے کلام میں تو الحاقات کی گنتی نہیں کهلے ہوئے صریح کفر بهر دئے ہیں جس پر *در مختار* میں علامہ مفتی *ابوالسعود* سے نقل کیا:

*تیقنا ان بعض الیہود افتراها علی الشیخ قدس اللہ سرہ*

ہم کو یقین ہے کہ شیخ قدس اللہ سرہ پر یہ عبارتیں بعض یہودیوں نے گهڑ دی ہیں.

( درمختار باب المرتد)

*سوم* *کتاب کا چهپ جانا اسے متواتر نہیں کر دیتا*

کہ چهاپے کی اصل وہ نسخہ ہے جو کسی الماری میں ملا اس سے نقل کرکے کاپی ہوئی سیدهی صاف باتوں میں کسی کتاب سے کہ ظنی طور پر کسی بزرگ کی طرف منسوب ہو- *اسناد اور بات ہے* اور ایسے امر میں جسے مسند کلمہ کفر بتایا اور اس سے توہین شان رسالت کے جواز پر سند لانا ہے، اس پر اعتماد اور بات-

*علماء کے لئے ادنی درجہ ثبوت یہ تها کہ ناقل کے لئے مصنف تک سند مسلسل متصل بذریعہ ثقات ہو*

*خطیب بغدادی* بطریق عبدالرحمان سلمی امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے راوی کہ فرمایا:

*اذا وجد احدکم کتابا فیہ علم لم یسمعہ عن عالم فلیدع باناء و ماء فلینقعہ فیہ حتی یختلط سوادہ فی بیاضہ*

جب تم میں کوئی ایک کتاب پائے جس میں علم کی بات ہے اور اسے کسی عالم سے نہ سنا تو برتن میں پانی منگا کر وہ کتاب اس میں ڈبو دے کہ سیاہی سپیدی سب ایک ہوجائے-

( الفتاوی الحدیثیہ مطلب فی ان الانسان لایصح لہ ص 65)

فتاوی حدیثیہ *امام زین الدین عراقی* سے ہے:

*نقل الانسان ما لیس لہ بہ روایة غیر سائع بالاجماع عند اهل الدرایة*

علمائے کرام کا اجماع ہے کہ آدمی جس بات کی سند متصل نہ رکهتا ہو اس کا نقل اسے حلال نہیں-

(ایضا ص 64)

*کون سے نسخے کی عبارت کو مصنف کا قول بنانا جائز ہے؟؟*

ہاں اگر اس کے پاس نسخہ صحیحہ معتمدہ ہو کہ اس نے یا کسی ثقہ معتمد نے خود اصل نسخہ سے مقابلہ کیا یا اس نسخہ صحیحہ معتمدہ سے جس کا مقابلہ اصل نسخہ مصنف یا اور ثقہ نے کیا وسائط زیادہ ہو تو سب کا اسی طرح کے معتمدات ہونا معلوم ہو تو یہ بهی ایک طریقہ روایت ہے، اور ایسے نسخہ کی عبارت کو مصنف کا قول بنانا جائز-

فتاوی حدیثیہ میں ہے:

*قالوا ما وجد فی نسخة من تصنیف فان وثق بصحة النسخة بان قابلها المصنف او ثقة غیرہ بالاصل او بفرع مقابل بالاصل و هکذا جاز الجزم بنسبتها الی صاحب ذالک الکتاب و ان لم یوثق لم یجزم* (ایضا ص 65)

علماء نے بتایا جو عبارت کسی تصنیف کے کسی نسخہ میں ملے اگر صحت نسخہ پر اعتماد ہے یوں کہ اس نسخہ کو مصنف یا کسی اور ثقہ نے خاص اصل مصنف سے مقابلہ کیا ہے یا اس نسخہ سےجسے اصل پر مقابلہ کیا تها، یوں ہی اس ناقل تک، جب تو یہ کہنا جائز ہے کہ مصنف نے فلان کتاب میں یہ لکها جائز ہے ورنہ جائز نہیں.

*مقابلہ کی اہمیت*

مقدمہ امام عمرو بن الصلاح میں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ہے کہ انهوں نے اپنے صاحبزادے ہشام سے فرمایا تم نے لکهہ لیا؟ کہا ہاں- فرمایا مقابلہ کرلیا؟ کہا نہ- فرمایا لم تکتب تم نے لکها ہی نہیں.

(مقدمہ ابن صلاح النوع الخامس والعشرون ص 92)

اسی میں امام شافعی و یحی بن ابی کثیر سے ہے کہ دونوں صاحبوں نے فرمایا:

*من کتب ولم یعارض کمن دخل الماء ولم یستنج*

جس نے لکها اور مقابلہ نہ کیا وہ ایسا ہے کہ پانی میں داخل ہے اور استنجا نہ کیا.

( ایضا)

اسی میں ہے:

*اذا اراد ان ینقل من کتاب منسوب الی مصنف فلا یقل ” قال فلان کذا و کذا ” ال اذا وثق بصحة النسخة بان قابلها هو اوثق غیرہ باصول متعددة*

جب کسی کتاب سے کسی مصنف کی طرف منسوب ہے کچهہ نقل کرنا چاہئے تو یوں نہ کہے کہ مصنف نے ایسا کہا جب تک کہ صحت نسخہ پر اعتماد نہ ہو یوں کہ اس نے خواہ کسی ثقہ نے اسے متعدد صحیح نسخوں سے مقابلہ کیا ہو.

(ایضا صفحہ 87)

اسی میں ہے:

*یطالع احدهم کتابا منسوبا الی مصنف معین و ینقل منہ عنہ من غیر ان یثق بصحة النسخة قائلا ” قال فلان کذا و کذا او ذکر فلان کذا و کذا” والصواب ما قدمناہ( ایضا) و لفظ الفتاوی الحدیثة عنہ والصواب ان ذالک لا یجوز*

(فتاوی حدیثیہ صفحہ 65)

کسی معین مصنف کیطرف منسوب کتاب میں ایک عبارت دیکهہ کر آدمی نقل کر دیتا ہے کہ مصنف نے ایسا کہا حالانکہ صحت نسخہ پر وثوق ( بر وجہ مذکور کہ اصل نسخہ مصنف یا سے بلا واسطہ یا بوساطت ثقات اس نے یا اور ثقہ نے مقابلہ کیا ہق) حاصل نہیں مثلا یوں کہے کہ فلان نے یوں یوں کہا یا فلاں نے یوں یوں

ذکر کیا حق یہ ہے کہ یہ ناجائز ہے. امام نووی نے تقریب میں فرمایا:

*فان قابلھا باصل محق معتمداجزاہ*

اگر ایک اصل تحقیق معتمد سے اس نے مقابلہ کیا ہے تو یہ بھی کافی ہے۔

( تقریب النووی مع تدریب الراوی النوع الاول الصحیح دارالکتب الاسلامیہ لاہور ۱/ ۱۵۰)

یعنی اصول معتمدہ متعدد سے مقابلہ زیادت احتیاط ہے،

یہ اتصال سند اصل وہ شیئ ہے جس پر اعتماد کرکے مصنف کی طرف نسبت جائز ہوسکے، اور *متاخرین نے کتاب کا علماء میں ایسا مشہور ہونا جس سے اطمینان کہ اس میں تغییر وتحریف نہ ہوئی*، اسے بھی مثل اتصال سند جانا اور وہ ایسا ہی ہے.

مقدمہ *امام ابوعمرو* نوع اول میں ہے :

*الامر ان الاعتماد علی مانص علیہ فی تصانیفھم المعتمدۃ المشہورۃ التی یؤمن فیھا لشھرتھا من التغییر والتحریف* (ملخصا)

یعنی آخر قرار داد اس پر ہوا کہ اعتماد اس پر ہے جو ایسی مشہور ومعتمد کتابوں میں ہو جن کی شہرت کے سبب ان میں تغییر وتحریف سے امان ہو۔ (ملخصا)

( مقدمہ ابن الصلاح النوع الاول الصحیح فاروقی کتب خانہ ملتان ص۹)

*فتح القدیر وبحرالرائق ونہر الفائق ومنح الغفار میں فرمایا: علی ھذا لو وجدنا بعض نسخ النوادر فی زماننا لایحل عزوما فیھا الی محمد والا الی ابی یوسف لانھا لم تشتھر فی دیارنا ولم تتداول*۔

یعنی اگر کتب ستہ (امام محمد علیہ الرحمہ کی مشهور چهہ کتب ) کے سوا اورکتب تلامذہ امام کے بعض نسخے پائیں تو حلال نہیں کہ ان کے اقوال کو امام محمد یا امام ا بو یوسف کی طرف نسبت کریں کہ وہ کتابیں ہمارے دیار میں مشہور ومتداول نہ ہوئیں۔

(۳؎ فتح القدیر کتاب الحوالہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۳۶۰)

*تداول سے کیا مراد ہے؟*

تداول کے یہ معنی کہ کتاب جب سے اب تک علماء کے درس وتدریس یا نقل وتمسک یا ان کی مطمح نظررہی ہو، جس سے روشن ہو کہ اس کے مقامات ومقالات علماء کے زیر نظر آچکے اور وہ بحالت موجودہ اسے مصنف کا کلام مانا کئے ،زبان علما ء میں صرف وجود کتاب کافی نہیں کہ وجود تداول میں زمین وآسمان کا فرق ہے.

*جود نسخ سے کیا مراد ہے؟*

وجود نسخ، انصافا متعدد بلکہ کثیرووافر قلمی نسخے موجود ہونا بھی ثبوت تواتر کو بس نہیں، جب تک ثا بت نہ ہو کہ یہ سب نسخے جدا جدا اصل مصنف سے نقل کئے گئے یا ان نسخوں سے جو اصل سے نقل ہوئے ورنہ ممکن کہ بعض نسخ محرفہ ان کی اصل ہوں، ان میں الحاق ہوا اور یہ ان سے نقل ونقل درنقل ہوکر کثیر ہوگئے، جیسے آج کل کی *محرف بائبل* کے ہزار در ہزار نسخے ، *فتوحات مکیہ* کے تمام مصری نسخے نسخہ محرفہ سے منقول ہوئے او ر اس کی نقلیں مصرمیں چھپیں اور اب وہ گھر گھر موجود ہیں، حالانکہ تواتر درکنار ایک سلسلہ صحیحہ آحادسے بھی ثبوت نہیں،واﷲ یقول الحق وھو یھدی السبیل ۱؎

(اور اللہ حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے۔ ت)

(۱؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۴)

علامہ شامی کا ظن پر اکتفا صاف باتوں کے لئے وجہ ہے مگر ایسے امور میں اس پر قناعت قطعا حرام، ورنہ معاذاللہ اکا بر ائمہ واعاظم علماء کی طرف نسبت کفر ماننی پڑے، ہماری نظر میں ہیں وہ کلمات جو اکابر اولیاء سے گزر کر *اکابر علماء معتمدین مثل امام ابن حجر مکی وملا علی قاری وغیرہما کی کتب مطبوعہ میں پائے جاتے ہیں*، اور ہم یقین کرتے ہیں کہ وہ الحاقی ہیں،

*الحاقات کی مثال*

ایک ہلکی نظیر *علی قاری کی شرح فقہ اکبر* صفحہ ۴۷ پر ہے:

*ماسمی بہ الرب نفسہ وسمی بہ مخلوقاتہ مثل الحی والقیوم والعلیم والقدیر* ۲؎۔

نا م کہ رب تعالٰی نے اپنے لئے اور مخلوق کے لئے مقرر فرمائے وہ مثل حی، قیوم، علیم، قدیر ہیں۔ (ت)

(۲؎ منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر اللہ سبحانہ اوجد المخلوقات مصطفی البابی مصر ص۳۹)

اس میں مخلوقات پر قیوم کے اطلاق کا جواز ہے حالانکہ ائمہ فرماتے ہیں کہ غیر خدا کو قیوم کہنا کفر ہے۔

*مجمع الانہر میں ہے:اذا اطلق علی المخلوق من الاسماء المختصۃ بالخالق نحو القدوس والقیوم والرحمٰن وغیرھا یکفر*

جو اللہ تعالٰی کے مخصوص ناموں میں سے کسی نام کا اطلاق مخلوق پر کرے، جیسے قدوس، قیوم اور رحمن وغیرہ تو وہ کافر ہوجائے گا۔ (ت)

(۳؎ مجمع الانھر شرح ملتقی الابحرثم ان الفاظ الکفر انواع دار احیا التراث العربی بیروت۱/ ۶۹۰)

اسی طرح او رکتابوں میں ہے۔حتی کہ خود اسی *شرح فقہ اکبر* صفحہ ۲۴۵ میں ہے:

*من قال لمخلوق یا قدوس اوالقیوم او الرحمٰن کفر* ۴؎۔

جو کسی مخلوق کو قدوس یا قیوم یا رحمٰن کہے کافر ہوجائے۔

(۴؎ منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۹۳)

پھر کیونکر مان سکتے ہیں کہ وہ صفحہ ۴۷ کی عبارت علی قاری کی ہے ضرور الحاق ہے اگر چہ کتاب اجمالا مشہور ومعروف ہے،

*خلاصہ*

کسی بهی کتاب یا عبارت کی صحت معلوم کرنے کے تین طریقے ہیں.

*اول* کوئی یا رسالہ کسی بزرگ کے نے نام منسوب ہونا اس سے ثبوت قطعی کو مستلزم نہیں.

*دوم* کسی کتاب کا ثابت ہونا اس کے ہر فقرے کا ثابت ہونا نہیں.

*سوم* کتاب کا چهپ جانا اسے متواتر نہیں کردیتا.

(فتاوی رضویہ جلد 15 صفحہ 555 تا 560 رضا فاونڈیشن ملخصا و ملتقطا رسالہ حجب العوار عن مخدوم بھار)

28 ستمبر 2019