بعض امور حکمتِ دین کے تحت ترک کرنے اولیٰ ہیں

سوال: ہمارے علاقے کی ایک مسجد کے خطیب صاحب نے اپنے وعظ میں فرمایا: عیدمیلادالنبی ﷺ کے موقع پر ہمیں کیک نہیں کاٹنا چاہیے ،اس وجہ سے کہ اس میں اہل کتاب کی مشابہت ہوتی ہے اور ہمیں ’’اَلْاِسْلَامُ یَعْلُوْا وَلَا یُعْلیٰ‘‘ کے تحت تشبہ بالغیر سے بچتے ہوئے اس سے اجتناب کرنا چاہیے ،کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہر موقع پر چاہے عاشورہ کا روزہ ہو ،سر کی مانگ نکالنے کا مسئلہ ہو یا ٹوپی پر عمامہ پہننے کا ،اہل کتاب کی مخالفت کا حکم دیاہے ،جبکہ دیگر بعض احباب نے اس پر شدید مخالفت کی اور اعتراض اٹھایایہ خوشی کا طریقہ ہے اور خوشی کا ہر طریقہ جائز ہے ،قرآن وحدیث میں کہیں کیک کاٹنے کا ناجائز نہیں لکھا ، لہٰذا ہم کیک کاٹیں گے ۔آپ اس بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ،(انتظامیہ جامع مسجد فرزند علی ،ملک پورہ فیصل آباد)۔

الجواب بعون الملک الوہاب

ہم نے میلادالنبی ﷺ کے حوالے سے بدعات وخرافات کے رَد میں ایک فتویٰ جاری کیا تھا ،جس کے آخر میں ہم نے کیک کاٹنے کی بابت لکھاہے:’’ہمیں معلوم ہواہے کہ پنجاب میں میلادالنبی ﷺ کے موقع پر منوں کے حساب سے کیک کاٹے جاتے ہیں ، اِس طرح کی حرکات میلادالنبی ﷺ کی تقدیس کے منافی ہیں اور یہ اس لیے ہورہاہے کہ مذہبی معاملات کو جاہل واعظین اور پیروں نے اپنے ہاتھ میں لے رکھاہے اور کچھ اہلِ ثروت اپنی تشہیرا ورنام ونمود کے لیے یہ کام کرتے ہیں،اخبارات ، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس کی تشہیر کی جاتی ہے ۔علماء کی ذمہ داری ہے کہ دینی معاملات کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھیں ،قوم کی رہنمائی کریں اور مذہبی عنوان سے اس طرح کی اضافات کا راستہ روکیں ۔ ہاں!اگر کوئی ایصالِ ثواب کی نیت سے لوگوں کو کیک کھلانا یا تقسیم کرنا چاہے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ دلیل کا یہ انداز قطعاً درست نہیںہے کہ ہرسوال کے جواب میں کہاجائے: ’’قرآن وحدیث میں کہیں کیک کاٹنے کوناجائز نہیں لکھا ، لہٰذا ہم کیک کاٹیں گے ‘‘،کیا ہر پیش آنے والی بات کی تما م جزئیات کی تفصیل قرآن وحدیث میں لکھی ہوتی ہے اور جو بات قرآن میں ہو تو اُس کا انکار تو کفرہوگا ۔جس مسئلے کی جو فقہی حیثیت ہے ،اُس کے مطابق اُس کے قبول یا رَد کرنے کے لیے اُس سطح کی دلیل دی جاتی ہے یا طلب کی جاتی ہے ۔

کیک کاٹنے کی ممانعت کا حکم تَشبُّہ بالغیر کے سبب نہیں بلکہ حُرمت وتقدیس کے سبب لگایا گیاہے کہ میلادالنبی ﷺ کی مُقدّس محافل خرافات ولغویات کا شکار نہ ہوں۔یہ محافل ومجالس بابرکت ، روحانی اور نورانی رہیں ،شور وشغب ،دھینگا مشتی اور لغویات سے آلودہ نہ ہوں۔کیک کاٹنا کسی قوم کا مذہبی شِعار نہیں ہے ،جس سے مشابہت کا حکم لگے ، ذیل میں تَشبُّہ بالغیر کے بارے میں اَحکام بیان کیے جارہے ہیں،احادیث مبارکہ میں ہے :

(1)’’خَالِفُوْاالْمُشْرِکِیْنَ‘‘۔ترجمہ:’’مشرکین کی مخالفت کرو،(صحیح بخاری:5892)‘‘۔(2)’’خَالِفُوْاالْمَجُوْسَ‘‘۔ترجمہ:’’ مجوسیوںکی مخالفت کرو،(صحیح مسلم:260)‘‘۔ (3)’’مَنْ تَشَبَّہَ بِقَومٍ فَھُوَ مِنْہُمْ‘‘ ترجمہ:’’جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے ،وہ ان ہی میں سے ہے ، (سنن ابو داوٗد: 4028)‘‘ ۔

علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی لکھتے ہیں:

’’اِعْلَمْ اَنَّ التَّشْبِیْہَ بِاَہْلِ الْکِتَابِ لَایُکْرَہُ فِی کُلِّ شَیٍٔ فَاِنَّا نَاکُل وَنَشْربُ کَمَا یَفعَلُوْنَ،اِنَّمَاالْحَرَامُ ھُو َالتَّشْبِیہُ فِیمَاکَانَ مَذمُوماً وَفِیمَایُقصَدُبِہِ التَّشْبِیہُ کَذَا ذَکَرَہٗ ’’قَاضِیخَان‘‘‘فِی’’شَرْحِ الْجَامِعِ الصَّغِیر‘‘فَعَلٰی ھٰذَالَولَمْ یَقْصُدِ التَّشَبُّہَ لَایُکرَہُ عِندَہُمَا‘‘ ۔

ترجمہ:’’ جان لو کہ اہلِ کتاب کے ساتھ ہرچیز میں تَشَبُّہ مکروہ نہیں ہے ،کیونکہ اُن کی طرح ہم بھی کھاتے پیتے ہیں ، البتہ مذموم باتوں میں اورجن باتوں میں ان کی تشبیہ کا قصد کیا جائے ،یہ حرام ہے۔امام قاضی خان نے’’ الجامع الصغیر ‘‘ میں اِسی طرح ذکر کیاہے ، پس اگرمشابہت کاارادہ نہ ہو تو صاحبین کے نزدیک کراہت نہیں ہے، (البحرالرائق، جلد2، ص:18) ‘‘ ۔

امام احمد رضاقادری قُدِّسَ سِرُّہُ الْعَزِیْز نے فتاویٰ رضویہ جلد24،ص: 530-532 میں اس مسئلے پر تفصیلی بحث کی ہے، ہم اس کا خلاصہ درج کررہے ہیں:

’’تَشَبُّہ کی دو صورتیں ہیں : ایک لزومی :یہ کہ اس کا ارادہ توان کی مشابہت کا نہیں ہے ،مگر جو وضع اختیار کی ہے، وہ کسی باطل مذہب کے حامل لوگوں کا شِعار ِخاص ہے،لہٰذا مشابہت کاپایاجانا ناگزیر ہے۔دوسری التزامی: یہ کہ کسی قوم کی وضع خاص کو قصداً اختیار کرے ۔پھر اس کی تین صورتیں ہیں:

(الف) :یہ کہ اس قوم کو محبوب جان کر اس کی خاص وضع اختیار کرنے کا قصد کرے ،ایسی مشابہت اگر مبتدع کے ساتھ ہے، تو بدعت ہے۔اور معاذاللہ کفار کے ساتھ ہوتو کفر ہے اورایسی ہی مشابہت ’’مَنْ تَشَبَّہَ بِقَومٍ فَھُوَ مِنْہُمْ‘‘،’’غمز عیون البصائر‘‘ میں ہے: ’’اِتَّفَقَ مَشَایِخُنَااَنَّ مَنْ رَأی اَمرَالْکُفَّار ِحَسَنًا فَقَدکَفَر‘‘، ترجمہ: ’’ ہمارے مشایخ کا اس پر اتفاق ہے کہ جس نے کافروں کے مذہبی شِعارکو اچھا سمجھا ، اُس نے کفر کیا‘‘۔

(ب):یہ کہ کسی پسندیدہ مقصد کے لیے مذہبِ غیر کے شِعار کو اختیار کرے ،جیسے زمانۂ جنگ میں دشمنوں کی جاسوسی کے لیے ایساکرے ۔ایسی صورت میں اُس وضع خاص کی قباحت اور مطلوبہ مقصد کی ضرورت کا تقابلی جائزہ لیا جائے گا ۔اگر مطلوبہ مقصد کی ضرورت اس وضع خاص کی قباحت پر غالب اور راجح ہے تو اجازت دی جائے گی ،ورنہ نہیں۔جیسے جنگ کے دوران بعض مجاہدین نے دشمنوں کے بھیس میں کارروائی کی ۔

’’خلاصۃ الفتاویٰ ‘‘میں ہے:’’لَوشَدَّ الزُنّارَ عَلٰی وَسْطِہٖ وَدَخَلَ دَارَالحَربِ لِتَخلِیص الأَسَارٰی لاَیَکفر وَلَودَخَلَ لِاِجْل التِّجَارَۃ یکفُر ذکرہُ القَاضِی الامام ابو جعفر الاستروشی‘‘۔

ترجمہ: ’’اگر زنار باندھ کر مسلمان قیدیوں کو رہاکرانے کے لیے دارالحرب میںگیا تو کفرنہیں ہوگا اوریہی وضع تجارتی مقاصد کے لیے اختیار کی تو کفر ہے ، قاضی امام ابوجعفر الاستروشی نے اس کا ذکر کیا‘‘۔اسی طرح ایک روایت میں ہے : ’’جنگ دھوکا ہے‘‘۔

(ج): جس شخص نے مذہبِ غیر کی جو وضع اختیار کی ہے، نہ تواسے اچھا جانتاہے ،نہ کوئی شرعی ضرورت اس کی داعی ہے اور نہ کوئی دنیاوی نفع حاصل کرنا مقصود ہے، بلکہ محض مذاق کے طورپر ایساکیاہے ،تویہ حرام ہے، ممنوع ہے ‘‘۔۔۔مزید لکھتے ہیں:

’’مذہبِ غیر کی جس وضع ِخاص کو اختیار کیاگیاہے ،اُس زمان ومکان میںاس کا شِعار خاص ہونا مُتحقق ہواور وہ مختلف مذاہب یا اقوام میں مشترک بھی نہ ہو ورنہ اس پر لزوم کا اطلاق نہیں ہوگا ۔البتہ فی نفسہٖ وہ وضع یاشِعار اگر شرعاً مذموم ہے ،تو ممنوع یا مکروہ ہوگا ، لیکن تَشَبُّہ کے باعث نہیں ،چنانچہ یہودیوں کے خاص لباس ’’طیلسان‘‘ کے بارے میں ابن قیّم کے حوالے سے حافظ ابن حجر نے کہا: طیلسان ایک زمانے میں یہودیوں کا مذہبی شِعار تھا ،اب نہیں رہا ، لہٰذا اب یہ مباح ہوگا ،علامہ ابن عبدالسلام نے اسے ’’بدعت مباحہ‘‘ میں شمار کیاہے ‘‘۔

علامہ علی القاری نے امام اعظم کی ’’الفقہ الاکبر‘‘ کی شرح میں لکھاہے :

’’اِنَّامَمْنُوْعُوْنَ عَنِ التَّشْبِیْہِ بِالْکَفَرَۃِ وَأَہْلِ الْبِدْعَۃِ الْمُنْکَرَۃِ فِی شِعَارِہِمْ لَا مَنْھِیُّونَ عَن کُلِّ بِدْعَۃٍ وَلَاکَانَتْ مُبَاحَۃً سَوَاءٌکَانَت مِنْ اَفعَالِ اَہْلِ السُّنَّۃِ أَومِن ْ اَفْعَالِ الْکَفَرۃِ وَاَہْلِ الْبِدْعَۃِ فَالْمَدَارُ عَلَی الشِّعَارِ‘‘۔

ترجمہ:’’ ہمیں کفار اورمنکَربدعات والوں کے ساتھ مذہبی شِعار ِ خاص کی مشابہت سے منع کیاگیاہے ، ہر بدعت (نئی چیز) سے( مطلقاً) منع نہیں کیاگیا اور نہ ہی مباح بدعت سے منع کیاگیاہے،خواہ اس کا تعلق اہلسنت سے ہو یاکافروں اوراہلِ بدعت کے اَفعال سے ہو ، پس (حکمِ تشبُّہ )کا مدار (اُن کے)شِعار پر ہے ‘‘۔

نوٹ: یہاںلزوم کے معنی یہ ہیں کہ کسی قول یا فعل کودوسری قوم کی مُشابہت کے قصد کے بغیر اختیار کرنااور التزام کے معنیٰ ہیں کہ خاص اُس قوم کی مشابہت کے قصد سےاُن کے شِعار کو اختیار کرنا ۔

ہماری گزارش یہ ہے کہ اگر ہم موجودہ شِعار پر میلادالنبی ﷺ کومستحب عمل سمجھ کر منارہے ہیں ،تو اس کی تقدیس وحُرمت کے لیے کوئی حدود ہونی چاہییں،نہ کہ اس میں من پسند اضافات کرکے اسے میلاٹھیلا بنادیاجائے۔ہمیں بتایاگیا کہ برطانیہ میں میلادالنبی کی ایک تقریب میں پانچ ہزار پاؤنڈ یعنی سات آٹھ لاکھ روپے کی آتش بازی کی گئی ،ایک عالم نے کہا:’’ آگ کے کھیل کو ہمارے دینی شعار کا حصہ نہ بنایاجائے‘‘، تو اس کے حامی چند علماء نے جھٹ فتح مکہ کا حوالہ دیا:’’ رسول اللہ ﷺ نے مجاہدین سے فرمایاکہ مکہ کے پہاڑوں پر پھیل جاؤ اور آگ جلاؤ تاکہ کفارمکہ پر دہشت طاری ہو ‘‘، کیونکہ مسلمانوں کے لشکر کی کثرت جتلانی مقصود تھی،وہ جہاد کا موقع تھا، کیا دونوں میں کوئی وجہ مناسبت ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے تودین کی عظیم تر حکمت کے تحت مالی وسائل کی دستیابی کے باوجود بیت اللہ کو شہید کرکے دوبارہ بنائے ابراہیمی پر تعمیر کرنے کی اپنی خواہش کو قربان کردیا ، کیونکہ خدشہ تھاکہ تازہ تازہ اسلام قبول کرنے والے صحابۂ کرام کا ایمان متزلزل نہ ہو ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے باطل معبودوں کو براکہنے سے اس لیے منع فرمایاکہ مبادا اس کے رَدعمل میں کہیں وہ اللہ تعالیٰ کی شان میں کوئی نازیبا کلمہ نہ کہہ دیں ۔ لہٰذا ہمیں دیکھنا ہوگا کہ دین کے کسی شِعار میں ہم جو اضافات کررہے ہیں ،ان سے عہد حاضر میں دین کا فائدہ زیادہ ہے یا نقصان ،اگر نقصان کے احتمالات زیادہ ہیں، توپھر اس سے اجتناب کریں۔

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ