حدیث نمبر :661

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات شخص وہ ہیں جنہیں اﷲ تعالٰی اس دن اپنے سایہ میں رکھے گا ۱؎ جب اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا عادل بادشاہ ۲؎ وہ جوان جو اﷲ کی عبادت میں جوانی گزارے ۳؎ وہ شخص جس کا دل جب سے کہ وہ مسجد سے نکلے مسجد میں لگا رہے حتی کہ مسجد میں لوٹ آئے۴؎ وہ دوشخص جو اﷲ کے لیئےمحبت کریں جمع ہوں تو اسی محبت پر اورجدا ہوں تو اسی پر۵؎ اور وہ شخص جوتنہائی میں اﷲ کو یاد کرے تو اس کی آنکھیں بہیں۶؎ اور وہ شخص جسے خاندانی حسین عورت بلائے وہ کہے میں اﷲ سے ڈرتا ہوں۷؎ اور وہ شخص جو چھپ کر خیرات کرے حتی کہ اس کا بایاں ہاتھ نہ جانے کہ داہنا ہاتھ کیا دے رہا ہے۸؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یعنی اپنی رحمت کے سایہ میں یا عرش اعظم کے سایہ میں تاکہ قیامت کی دھوپ سے محفوظ رہیں۔

۲؎ یعنی وہ مؤمن بادشاہ اورحکام جو رعایا میں انصاف کرتے ہیں کیونکہ دنیا ان کے سایہ میں رہتی تھی،لہذا یہ قیامت میں رب تعالٰی کے سایہ میں رہے گا۔یہ ان تمام سے افضل ہے اس لئےاس کا ذکر سب سے پہلے ہوا۔عادل حکام بھی اس بشارت میں داخل ہیں۔

۳؎ یعنی جوانی میں گناہوں سے بچے اور رب کو یاد رکھے،چونکہ جوانی میں اعضاءقوی اورنفس گناہوں کی طرف مائل ہوتا ہے،اس لئےاس زمانہ کی عبادت بڑھاپے کی عبادت سے افضل ہے ؎

در جوانی توبہ کردن سنت پیغمبری است وقت پیری گرگ ظالم میشود پرہیزگار

صوفیاءفرماتے ہیں کہ مؤمن مسجد میں ایسا ہوتا ہے جیسےمچھلی پانی میں۔اور منافق ایسا جیسے چڑیا پنجرے میں،اسی لیےنماز کے بعد بلاوجہ فورًا مسجد سے بھاگ جانا اچھانہیں۔خدا توفیق دے تو مسجد میں پہلے آؤ اور بعد میں جاؤ،اور جب باہر رہو تو کان اذان کی طرف لگے رہیں کہ کب اذان ہو اورمسجدکوجائیں۔

۵؎ کہ جس کی محبت سے رب راضی ہو اس سے محبت کریں اور۔جس کی نفرت سے رب راضی ہو اس سے نفرت کریں،بے دین اور بدعمل اولاد سے نفرت،متقی اجنبی سے محبت عبادت ہے ؎

ہزار خویش کہ بیگانہ از خدا باشد فدائے یک تن بیگانہ کآشنا باشد

یونہی گہرے دوست کی بدعقیدگی پر واقف ہوکر اس سے الگ ہوجانا اورجانی دشمن سے تقوےٰ پرخبردارہوکر اس کا دوست بن جانا بہترین عمل ہے۔

۶؎ یعنی خوف خدایا عشق جناب مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم میں روئے،تنہائی کی قید اس لئےلگائی کہ سب کے سامنے رونے میں ریاء کا اندیشہ ہے۔

۷؎ یعنی خود ایسی عورت اس سے بدفعلی کی خواہش کرے اور یہ اس نازک موقعہ پرمحض خوف خدا سے بچ جائے یہ بہت مشکل ہے اسی لئےرب تعالٰی نے یوسف علیہ السلام کے اس فعل شریف کی تعریف قرآن میں فرمائی اﷲ نصیب کرے۔خیال رہے کہ ایسے نازک موقعہ پرعورت سے یہ کہہ دینا ریاءنہیں تبلیغ ہے،یعنی میں رب تعالٰی سے ڈرتا ہوں تو بھی ڈر۔

۸؎ یہاں صدقۂ نفلی مرادہے صدقۂ فرض اورچندے کے موقعہ پرصدقہ نفل علانیہ دینا مستحب ہے،لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں”اِنۡ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِی”۔