حدیث نمبر :662

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مردکی باجماعت نماز اس کے گھر یا بازار کی نمازپر پچیس گناہ زیادہ ثواب رکھتی ہے ۱؎ اور یہ اس لیئےہے کہ جب وہ وضو کرے تو اچھی طرح کرے پھرمسجد کی طرف چلے ۲؎ بجز نماز اور کوئی چیز اسے نہ لے جائے جوقدم بھی ڈالے گا اس پراس کا ایک درجہ بلندہوگا اورایک گناہ معاف ہوگا۳؎ پھرجب نماز پڑھے گا تو جب تک اپنی نمازکی جگہ میں رہے گا ملائکہ اسے دعائیں دیتے رہیں گے یااﷲ اسے بخش دے،خدایا اس پر رحم کر۴؎ اورجب تک تم میں کا کوئی نماز کاانتظارکرتاہے نماز ہی میں رہتا ہے ایک روایت میں ہے کہ فرمایا جب مسجد میں گھستا ہے نماز ہی اس کو روکتی ہے۵؎ اورفرشتوں کی دعا میں یہ زیادتی ہے الٰہی اسے بخش دے۔الٰہی اس کی توبہ قبول فرما جب تک کہ وہاں وہ ایذا نہ دے اور وضو نہ توڑے ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یہاں بازار سے مراددکان ہے نہ کہ بازارکی مسجد،بعض مسجدوں میں ۲۵ کا ثواب ہے،بعض میں ۲۷ کا،بعض میں ۵۰۰ کا،جیسی مسجدہو،جیسی جماعت،جیسا امام ویسا ثواب،لہذا احادیث میں تعارض نہیں جو کوئی اپنے گھرمیں جماعت کرالے وہ بھی مسجدکے ثواب سے محروم ہے۔

۲؎ معلوم ہوا کہ گھر سے وضوکرکے مسجدکو جانا ثواب ہے کیونکہ یہ چلنا عبادت ہے اورعبادت باوضو افضل۔بعض لوگ بیمار پرسی کرنے باوضو جاتے ہیں۔

۳؎ یہ گنہگاروں کے لیےہے۔نیک کاروں کے لئےہر قدم پر دو نیکیاں اور دو درجے بلند کیونکہ جس چیز سے گنہگاروں کے گناہ معاف ہوتے ہیں اس سے بے گناہوں کے درجے بڑھتے ہیں۔

۴؎ غالبًا یہاں صلوۃ سے مراد اخروی رحمت ہے اور رحم سے مراد دنیوی رحمت یا صلوٰۃ سے مرادخاص رحمت ہے اور رحم سے مراد عام رحمت،اور بہت سی توجیہیں ہوسکتی ہیں۔

۵؎ یعنی انتظارنماز کے سوا اورکسی وجہ سے مسجد میں نہیں بیٹھتا گویا نماز ہی میں رہتا ہے،اسی لیےاس وقت انگلیوں کی “تشبیک”منع ہے۔

۶؎ یعنی فرشتوں کی یہ دعائیں اس وقت تک ملیں گی جب تک وہ کسی نمازی کو ستائے نہیں،اور وہاں ریح نہ نکالے۔خیال رہے کہ غیرمعتکف کو مسجد میں ریح نکالنا منع ہے،معتکف چونکہ مسجد ہی میں رہتا ہے اس لئےاسے معافی ہے۔