مقتدی کے اقسام و احکام

امام کی اقتدا میں جماعت سے نماز پڑھنے والے کو مقتدی کہتے ہیں ۔

مقتدی کی کل چار قسمیں ہیں (۱) مدرک (۲) لاحق (۳) مسبوق اور (۴) لاحق مسبوق

 اب ہم ہر قسم کے مقتدی کی تفصیل اور اس کے متعلق شرعی احکام پر گفتگو کریں :-

اقسام مقتدی :-

(۱)مدرک : اس مقتدی کو کہتے یہں جس نے اول رکعت سے قعدہ ٔ اخیرہ تک یعنی امام کے سلام پھیرنے تک امام کے ساتھ نماز پڑھی ہو اگرچہ اسے تکبیر اولیٰ نہ ملی ہو اور وہ پہلی رکعت کے رکوع میں یا رکوع سے پہلے شامل ہوا ہو ۔٭ مدرک امام کے ساتھ سلام پھیر کر اپنی نماز پوری کرے گا ۔

(۲) لاحق :- اس مقتدی کو کہتے ہیں جس نے پہلی رکعت سے امام کی اقتدا میں نماز شروع کی لیکن اقتدا کرنے کے بعد کسی وجہ سے اس کی کل یا بعض رکعتیں فوت ہوگئیں ۔ خواہ وہ رکعتیں کسی عذر کی وجہ سے فوت ہوئی ہوں ۔ جیسے :-= غفلت یابھیڑ کی وجہ سے رکوع و سجود کرنے نہ پایا ۔=نماز میں اسے حدث ہوگیا یعنی وضو ٹوٹ گیا ۔= مقیم مقتدی نے مسافرامام کی چار رکعت والی نماز یعنی ظہر ، عصر یا عشاء میں اقتدا کی اور امام نے مسافر ہونے کی وجہ سے دورکعت پر سلام پھیر کر اپنی نماز پوری کردی۔٭ امام کے سلام پھیرنے کے بعد لاحق مقتدی اپنی فوت شدہ یا بقیہ رکعتیں اکیلے نماز پڑھ کر پوری کرے گا ۔

(۳) مسبوق :- اس مقتدی کو کہتے ہیں جس کو شروع کی کچھ رکعتیں نہ ملیں یعنی وہ کچھ رکعتیں پوری ہوجانے کے بعد جماعت میں شامل ہوا ۔٭ مسبوق امام کے ساتھ سلام نہیں پھیرے گا بلکہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد وہ اپنی فوت شدہ رکعتیں پوری کرے گا ۔

(۴) لاحق مسبوق : اس مقتدی کو کہتے ہیں جو مقتدی مقیم ہو اور اس نے مسافر امام کی اقتدا کی ہو لیکن اس نے امام کے ساتھ پہلی رکعت سے اقتدا نہ کی ہو۔٭ اس صورت میں وہ مقتدی امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی باقی نماز لاحق اور مسبوق دونوں اعتبار سے پوری کرے گا ۔

مذکورہ چار اقسام میں سے قسم اول مدرک مقتدی کے متعلق بہت تفصیلی مسائل درکار نہیں کیونکہ اس کا معاملہ بہت آسان ہے کہ شروع سے امام کے ساتھ جماعت میں شامل ہوا اور آخر تک جماعت میں شامل رہتے ہوئے امام کے ساتھ سلام پھیر کر اپنی نماز پوری کی ۔ اور دوران نماز امام کی متابعت کرتا رہا اور انفرادی طور سے اسے ا یک رکعت پڑھنے کی بھی ضرورت نہ ہوئی لیکن قسم دوم ، سوم اور چہارم کے مقتدی یعنی لاحق ،مسبوق اور لاحق مسبوق کو امام کے سلام پھیرنے کے بعد انفرادی طور پر اپنی باقی یا فوت شدہ رکعتیں پڑھنی پڑتی ہیں اور وہ رکعتیں کس طرح پڑھنی چاہئے اس کے متعلق ہر قسم کے مقتدی کے لئے الگ الگ احکام و مسائل ہیں ۔لہٰذا ان مسائل کو ہر قسم کے مقتدی کے عنوان کے ضمن میں بیا ن کئے جاتے ہیں ۔

لاحق مقتدی کے متعلق ضروری مسائل :

مسئلہ: لاحق مقتدی اپنی نماز پڑھتے وقت مدرک کے حکم میں ہے یعنی جب وہ اپنی فوت شدہ نماز پڑھے گا تو اس میں نہ قرأت کرے گا اور نہ سہو ہونے پر سجدہ ٔ سہو کرے گا ۔( درمختار ، ردالمحتار ، بہار شریعت ، جلد۳ ، ص ۱۳۵)

مسئلہ: مقیم مقتدی نے چار رکعت والی نماز یعنی ظہر ، عصر اور عشاء میں مسافر امام کی اقتدا کی۔ مسافر امام نے دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیا ۔ اب یہ مقتدی ، دو رکعت بحیثیت لاحق پڑھے گا اور ان دونوں رکعتوں میں مطلق قرأت نہیں کرے گا یعنی حالت قیام میں کچھ نہ پڑھے گا بلکہ اتنی دیر کہ سورہ ٔ فاتحہ پڑھی جائے محض خاموش کھڑا رہے گا ۔( درمختار ، ردالمحتار ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۸۲ اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۹۵)

مسبوق مقتدی کے متعلق ضروری مسائل :

مسئلہ: مسبوق امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی فوت شدہ رکعتیں پڑھے گا تب قیام میں قرأت کرے گا اور اس میں سہو ہو تو سجدہ ٔ سہو بھی کرے گا ۔ ( ردالمحتار ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۳۶)

مسئلہ: مسبوق اپنی فوت شدہ کی ادا میں منفرد ہے کہ اگر پہلے ثنا نہ پڑھی تھی کیونکہ امام بلند آواز سے قرأت کررہا تھا ۔یاامام رکوع میں تھا اوریہ ثنا پڑھتا تو اسے رکو ع نہ ملتا یا امام قعدہ میں تھا، غرض کسی وجہ سے پہلے ثنا نہ پڑھی تھی تو اب پڑھ لے اور قرأت سے پہلے تعوذ (اعوذ) بھی پڑھ لے ۔ ( عالمگیری ، درمختار ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ص ۱۳۶)

مسئلہ: مسبوق نے امام کو رکوع یاسجدہ یاقعدہ میں پایا تو تکبیر تحریمہ سیدھے کھڑے ہونے کی حالت میں کہے پھر دوسری تکبیر کہتا ہوا شامل ہو ۔ اگر پہلی تکبیر کہتا ہوا جھکا اور حد رکوع تک پہنچ گیا تو اس کی نماز نہ ہوگی ۔( عالمگیری ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص۱۳۶)

مسئلہ: مسبوق نے جب امام کے فارغ ہونے کے بعد اپنی نماز شروع کی تو اس کی پہلی رکعت حق قرأت میں رکعت اول قرار دی جائے گی اور حق تشہد میں پہلی نہیں بلکہ دوسری ، تیسری، چوتھی جو بھی شمار میں آئے ۔ اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے حسب ذیل مثالیں ذہن نشین کرلیں:-

(۱) کسی مسبوق مقتدی کو چار رکعت والی نماز یعنی ظہر ، عصر یا عشاء کی صرف ایک رکعت ہی ملی یعنی وہ شخص چوتھی رکعت میں جماعت میں شامل ہوا ، تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد وہ تین رکعتیں حسب ذیل ترتیب سے پڑھے گا:-

’’ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہوجائے اور اگر کسی وجہ سے ثنا نہ پڑھی تھی تو اب پڑھ لے اور اگر پہلے ثنا پڑھ چکا ہے تو صرف ’’ اعوذ‘‘ سے شروع کرے اور پہلی رکعت میں سورہ ٔ فاتحہ اور سورت پڑھ کر رکوع اور سجود کرکے قعدہ میں بیٹھے اور قعدہ میں صرف ’’ التحیات‘‘ پڑھ کر کھڑا ہوجائے ۔ پھر دوسری رکعت میں ’’ الحمد ‘‘ ( سورۂ فاتحہ ) اور سور ت دونوں پڑھے اور رکوع و سجود کرکے بغیر قعدہ کئے ہوئے کھڑا ہوجائے اور تیسری رکعت میں صرف الحمد شریف پڑھ کر رکوع و سجود کرکے قعدہ ٔ اخیرہ کرکے نماز تمام کرے ۔( درمختار ، بہارشریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۳۶، اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۳۹۳،و ۳۹۶)

(۲) کسی کو مغرب کی نمازمیں صرف ایک ہی رکعت ملی یعنی وہ شخص مغرب کی تیسری رکعت میں جماعت میں شامل ہوا تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد وہ دو رکعت حسب ذیل ترتیب سے پڑھے گا ۔:-

’’امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہوجائے اور پہلی رکعت میں سورہ ٔ فاتحہ اور سورت دونوں پڑھ کر رکوع و سجود کرکے قعدہ میں بیٹھے اور قعدہ میں صرف ’’التحیات‘‘ پڑھ کر کھڑا ہوجائے۔ پھر دوسری رکعت میں الحمد شریف اور سورت پڑھ کر رکوع وسجود کرکے قعدہ ٔا خیرہ کرکے نماز پوری کرے ۔ ( درمختار ، رد المحتار ، غنیہ ،خلاصہ ،بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۳۶ ، اور فتاوٰی رضویہ ، ۳ ص ۳۹۲)

مسئلہ: مسبوق کو چاہئے کہ امام کے سلام پھیرتے ہی فوراً کھڑا نہ ہو جائے بلکہ اتنی دیر صبر کرے کہ معلوم ہوجائے کہ امام کو سجدہ ٔ سہو نہیںکرنا ہے ۔ (درمختار ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۳۷)

مسئلہ: مسبوق اپنی فوت شدہ نماز پڑھتے وقت جہر ( بلند آواز ) سے قرأت نہ کرے (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۱۹)

مسئلہ: مسبوق نے امام کے ساتھ قصداً یہ خیال کرکے سلام پھیرا کہ مجھے بھی امام کے ساتھ سلام پھیرنا چاہئے تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی ۔اور اگر بھول کر سلام پھیرا تو اس کی دو صورتیں ہیں :-

(۱) اگر امام کے ذرابعد میں سلام پھیرا تو سجدہ ٔ سہو لازم ہے ۔

(۲) اگر امام کے بالکل ساتھ ساتھ پھیراتو سجدہ ٔ سہو لازم نہیں۔

(درمختار ، رد المحتار ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۳۸)

مسئلہ: مسبوق سلام میں امام کی متابعت نہ کرے ۔ اگر مسبوق نے اپنے جہل سے یہ سمجھ کر کہ مجھے شرعاً سلام میں بھی امام کی اتباع کرنی چاہئے اور قصداً سلام پھیرا تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی اوراگر سہواً سلام پھیردیا اور یہ سلام امام کے سلام سے پہلے یا معاً اس کے ساتھ ساتھ بغیر تاخیر کے تھاتو سجدہ ٔ سہو بھی اپنی نماز کے آخر میں نہیںکرنا ہوگا۔ ( ردالمحتار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۹۴ و ص ۶۴۳)

مسئلہ: امام کے ساتھ جماعت سے پڑھی ہوئی نماز کے قعدہ ٔ اخیرہ میں مسبوق صرف ’’التحیات‘‘ پڑھے ۔ التحیات ختم ہونے پر شہادتین کی تکرار کرے ( یعنی بار بار پڑھے) اور اگر ’’السلام علیک ‘‘ سے تکرار کرے جب بھی کوئی ممانعت نہیں ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۹۴)

لاحق مسبوق مقتدی کے متعلق ضروری مسائل :-

مسئلہ: لاحق مسبوق کا حکم یہ ہے کہ جن رکعتوں میںلاحق ہے ان رکعتوں کو امام کی ترتیب سے پڑھے اور ان رکعتوں میںلاحق کے احکام جاری ہوں گے اور جن رکعتوں میں مسبوق ہے ان کو منفرد کی ترتیب سے پڑھے اور ان رکعتوں میں مسبوق کے احکام جاری ہوں گے۔(درمختار ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ص ۱۳۸)

مسئلہ: جن رکعات میں وہ لاحق ہے ان رکعات میں مطلقاً قرأت نہ کرے کیونکہ لاحق حکماً مقتدی ہے اور مقتدی کو قرأت ممنوع ہے ۔ ( درمختار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۹۶)

مسئلہ: لاحق مسبوق مقتدی امام کے سلام پھیرنے کے بعد جب اپنی نماز پڑھے تب اس بات کا خاص طور سے التزام کرے کہ جو رکعتیں بطور لاحق پڑھنی ہیں ان رکعتوں کو پہلے پڑھے اور جن رکعتوں کو بطور مسبوق پڑھنی ہیں ، وہ رکعتیں بعد میں پڑھے ۔ (بحر الرائق ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۹۸)

’’ ایک بہت ہی ضروری مسئلہ ‘‘

٭ چار رکعت والی نماز یعنی ظہر یا عصر یا عشاء میں مقیم مقتدی نے مسافر امام کی اقتدا میں ایک رکعتیں پائی یعنی وہ مقتدی دوسری رکعت میں شامل ہوا ۔ امام دو(۲) رکعت قصر پڑھ کر سلام پھیر دے گا لہٰذا اس نے امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھی ۔ امام دو (۲) رکعت کے بعد سلام پھیر دیگا۔اب اس مقتدی کے ذمہ تین رکعتیں ادا کرنا باقی ہے ۔ ان تین رکعتوں میں سے دو رکعتیں بحیثیت لاحق اور ایک رکعت بحیثیت مسبوق ادا کرے گا اور ان تین رکعتوں کو حسب ذیل ترتیب سے ادا کرے گا :-

’’پہلے ایک رکعت بلا قرأت ادا کرے یعنی حالت قیام میں سورہ ٔ فاتحہ اور سورت مطلق نہ پڑھے بلکہ اتنی دیر کہ سورہ ٔفاتحہ پڑھی جائے محض خاموش کھڑارہے اور رکوع و سجود کرکے قعدہ کرے اور قعدہ میں صرف ’’التحیات‘‘ پڑھ کر کھڑاہوجائے کیونکہ یہ رکعت مقتدی کی دوسری رکعت تھی ۔ پھر دوسری رکعت بھی بلاقرأت پڑھ کر قعدہ کرے اور التحیات پڑھ کرکھڑا ہوجائے ۔یہ رکعت اگرچہ اس مقتدی کی تیسری رکعت ہے لیکن امام کے حساب سے چوتھی رکعت ہے اور لاحق مقتدی پر لازم ہے کہ وہ فوت شدہ نماز کو امام کی ترتیب پر ادا کرے ۔ پھر تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہوجائے اور قیام میں سورہ ٔ فاتحہ اور سورت پڑھ کر رکوع و سجود کرکے قعدہ ٔ اخیرہ کرے اور اس قعدہ ٔ اخیرہ میں تشہد (التحیات )اور درود اور دعائے ماثورہ پڑھ کر سلام پھیرے ۔‘‘

الحاصل :-

ان تینوں رکعتوں میں ہر رکعت پر قعدہ کرے ۔ یعنی تین رکعت میں تین قعدے کرے ۔

پہلی اور دوسری رکعت بحیثیت لاحق ادا کرے گا لہٰذا پہلی اور دوسری رکعت میں مطلق قرأت نہ کرے بلکہ سورہ ٔ فاتحہ پڑھنے کے وقت کی مقدار محض خاموش کھڑا رہے ۔

تیسری رکعت بحیثیت مسبوق ادا کرے گا لہٰذا اس میں الحمد شریف اور کوئی سورت پڑھے ۔

 پہلی اور دوسری رکعت کے بعد جو قعدہ کرے اس میں التحیات کے سوا کچھ نہ پڑھے اور التحیات پڑھنے کے بعدفوراً کھڑا ہوجائے ۔التحیات کے بعد درود ابراہیم نہ پڑھے۔

 تیسری رکعت کے بعد جو قعدہ کرے گا وہ قعدہ ٔ اخیرہ کے حکم میں ہے لہٰذا اس میں التحیات درود شریف او ردعائے ماثورہ پڑھ کر سلام پھیرے ۔ ( درمختار ، ردالمحتار ،خلاصۃ الفتاوٰی، فتاوٰی ہندیہ ، مجمع الانہر، غنیہ ، بحرالرائق ، بحوالہ :- فتاوٰی رضویہ شریف ، جلد ۳ ، ص ۳۹۵،ص۳۹۶، اور ص ۳۹۸)

نوٹ : یہ مسئلہ بہت ہی اہم و ضروری ہے ۔ اس مسئلہ میں عوام تو عوام بلکہ بہت سے پڑھے لکھے حضرات بھی غلطی کرتے ہیں ۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ مذکورہ تین رکعت پڑھنے میں پہلی اور تیسری رکعت پر قعدہ کرتے ہیں اور دوسری رکعت پر قعدہ نہیں کرتے یعنی ان تینوں رکعت میں دو قعدے کرتے ہیں ، جب کہ بحکم فقہ ان تینوں رکعت میں ہر رکعت پر قعدہ کرنا لازمی ہے۔

مسئلہ: اگر چار رکعت والی نماز میں مقیم مقتدی نے مسافر امام کی اقتدا اس طرح کی کہ اس کو قعدہ ٔ اخیرہ ہی ملا ۔ تو اب وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہوکر چار رکعتیں حسب ذیل ترکیب سے ادا کرے :-

’’ پہلے دو رکعتیں بحیثیت لاحق اس طرح پڑھے کہ پہلی اور دوسری رکعت میں حالت قیام میں مطلق قرأت نہ کرے بلکہ سورہ ٔفاتحہ پڑھنے کے وقت کی مقدار خاموش کھڑارہے ۔ دو رکعتیں پڑھنے کے بعد قعدہ کرے اور اس قعدہ میں صرف ’’ التحیات‘‘ (تشہد) پڑھ کر کھڑا ہوجائے ۔

پھر دو رکعت بحیثیت مسبوق ادا کرے یعنی تیسری اور چوتھی رکعت میں حالت قیام میں سورہ ٔفاتحہ اور کوئی سورت پڑھے اور چوتھی رکعت پر قعدہ ٔ اخیرہ مع التحیات و درود و دعائے ماثورہ پڑھ کرسلام پھیر کر نماز پوری کرے ۔‘‘ ( در مختار ، منیۃ المصلی ، مجمع الانہر ، بحوالہ : فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۹۵)

نوٹ : اس مسئلہ میں بھی بہت سے حضرات غلطی کرتے ہیں ۔ شروع کی دو رکعتوں میں یعنی پہلی اور دوسری رکعت میں قرأت پڑھتے ہیں اور تیسری اور چوتھی رکعت میں خاموش کھڑے رہتے ہیں یعنی پہلی اور دوسری رکعت بحیثیت مسبوق اور چوتھی رکعت بحیثیت لاحق ادا کرتے ہیں لیکن صحیح مسئلہ یہ ہے کہ شروع کی دو رکعت بحیثیت لاحق اور بعد کی دو رکعت بحیثیت مسبوق ادا کرنی چاہئے ۔

تمام اقسام کے مقتدیوں کے لئے ضروری مسائل :-

مسئلہ: امام رکوع میں ہے اور مقتدی جماعت میں شامل ہونا چاہتاہے تو صرف تکبیر تحریمہ کہہ کر رکوع میں مل سکتاہے ۔ہاتھ باندھنے کی اصلاً حاجت نہیں ۔ صرف تکبیر تحریمہ کہہ کر رکوع میں شامل ہونے سے سنت یعنی تکبیر رکوع فوت ہوگئی ۔ لہٰذا چاہئے کہ سیدھاکھڑا ہونے کی حالت میں تکبیر تحریمہ کہے اور اگر ثنا پڑھنے کی فرصت نہ ہو یعنی یہ احتمال ہو کہ اگر ثنا پڑھتا ہوں تو امام رکوع سے سر اٹھا لے گا ، تو ایسی صورت میں ثنا نہ پڑھے بلکہ تکبیر تحریمہ کے ساتھ فوراً دوسری تکبیر کہہ کر رکوع میں چلاجائے اور اگر مقتدی کو امام کی عادت معلوم ہے کہ رکوع میں دیر لگاتا ہے اور میں ثنا پڑھ کر بھی شامل ہوجاؤں گا تو ثنا پڑھ کر رکوع کی تکبیر کہتا ہوا شامل ہو یہ سنت ہے ۔ اور تکبیر تحریمہ کھڑے ہونے کی حالت میں کہنی فرض ہے ۔ بعض ناواقف جو یہ کرتے ہیں کہ امام رکوع میں ہے اور یہ جناب جھکے ہوئے تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے شامل ہوگئے ۔اگر اتنا جھکے ہوئے ہیں کہ تکبیر تحریمہ ختم کرنے سے پہلے ہاتھ پھیلائے ( دراز کرے) تو ہاتھ گھٹنے تک پہنچ جائیں تو نماز نہ ہوگی ۔ اس بات کا خیال رکھنا لازم ہے۔( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۹۳)

مسئلہ: قعدۂ اولیٰ میں امام تشہد پڑھ کر تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہوگیا اور بعض مقتدی تشہد پڑھنا بھول گئے اور امام کے ساتھ کھڑے ہوگئے تو جس نے تشہد نہیں پڑھا تھا وہ بیٹھ جائے اور تشہد پڑھ کر امام کی متابعت کرے اگرچہ رکعت فوت ہوجائے ۔( عالمگیری ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ص ۱۳۹)

مسئلہ: مقتدی نے امام سے پہلے رکوع یاسجدہ کیا مگر اس کے سر اٹھانے سے پہلے ہی امام رکوع یاسجدہ میں پہنچ گیا تو مقتدی کا رکوع یاسجدہ ہوگیا مگر مقتدی کا ایساکرنا حرام ہے ۔(عالمگیری ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۴۰)

مسئلہ: کسی مقتدی نے امام سے پہلے کوئی فعل اس طرح کیا کہ امام بھی اس فعل میں ملا مثلاً مقتدی نے امام کے رکوع کرنے سے پہلے رکوع کردیا لیکن مقتدی ابھی رکوع ہی میںتھاکہ امام رکوع میں آگیا اور دونوں کی رکوع میں شرکت ہوگئی ۔یہ صورت اگرچہ سخت ناجائز اور ممنوع ہے اور حدیث میں اس پر شدید وعید وارد ہے مگر اس صورت میں بھی نماز ہوجائے گی جبکہ مقتدی اور امام کی رکوع میں مشارکت ہوجائے اور اگر امام ابھی رکوع میں نہ آنے پایا تھا اور مقتدی نے سر اٹھالیا اورپھر مقتدی نے امام کے ساتھ یا بعد میںاس فعل کا اعادہ نہ کیا تو مقتدی کی نماز اصلاً نہ ہوئی کہ اب فرض متابعت کی کوئی صورت نہ پائی گئی تو فرض ترک ہوا اور نماز باطل ہوگئی ۔( ردالمحتار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۰۸)

مسئلہ: پانچ چیزیں وہ ہیں کہ اگر امام اسے نہ کرے اور چھوڑ دے تو مقتدی بھی اسے نہ کرے اور امام کاساتھ دے (۱) تکبیرات عیدین(۲) قعدہ ٔاولیٰ (۳) سجدہ ٔ تلاوت (۴)سجدہ ٔ سہو اور (۵) دعائے قنوت جبکہ رکوع فوت ہونے کا اندیشہ ہو ، ورنہ قنوت پڑھ کر رکوع کرے ۔ (عالمگیری ، صغیری ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۳۹)

مسئلہ: امام نے دو رکعت کے بعد قعدہ ٔ اولیٰ نہ کیا تیسری رکعت کے لئے کھڑاہونے جارہاہے تو جب تک امام سیدھا کھڑا نہ ہواہو مقتدی قعدہ ٔ اولیٰ ترک نہ کرکے اور امام کی متابعت نہ کرے بلکہ اسے لقمہ دے کر بتائے تاکہ وہ قعدہ میں واپس آجائے ۔ اگر واپس آگیاتو ٹھیک ہے اور اگر واپس نہ آیا اور سیدھاکھڑاہوگیا تو اب مقتدی امام کونہ بتائے ورنہ مقتدی کی نماز فاسد ہوجائے گی۔اس صورت میں مقتدی قعدہ چھوڑ دے اور امام کی متابعت کرتے ہوئے کھڑا ہوجائے ۔ (بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۳۹)

مسئلہ: جب امام قعدہ ٔ اولیٰ چھوڑ کر پورا کھڑا ہوجائے تو اب مقتدی امام کو بیٹھنے کااشارہ نہ کرے ۔ (یعنی لقمہ نہ دے ) ورنہ ہمارے امام کے مذہب پر مقتدی کی نماز جاتی رہے گی کہ پوراکھڑا ہونے کے بعد امام کو قعدہ ٔ اولیٰ کی طرف لوٹنا ناجائز تھا تو اب مقتدی کابتانا (لقمہ دینا ) محض بے فائدہ رہا اوراپنے اصلی حکم کی رو سے اب مقتدی کا بتانا نماز میںکلام کرنا ٹھہر کر مفسد نماز ہوا ۔ ( بحر الرائق ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۴۰۴)

٭ چار چیزیں وہ ہیں کہ امام کرے تو بھی مقتدی نہ کرے اور امام کا ساتھ نہ دے (۱) نماز میں کوئی زائد (Extra) سجدہ کیا (۲) عیدین کی نماز میں چھ سے زیادہ تکبیریں کہیں (۳) نمازِ جنازہ میں پانچ تکبیریں کہیں (۴) قعدہ ٔ اخیرہ کرنے کے بعد زائد رکعت کے لئے کھڑا ہوگیا تو مقتدی امام کے ساتھ کھڑا نہ ہو بلکہ امام کے واپس لوٹنے کا انتظار کرے اگر امام پانچویں رکعت کے سجدہ سے پہلے لوٹ آئے تو مقتدی اس کاساتھ دے اور امام کے ساتھ ہی سلام پھیرے اور امام کے ساتھ ہی سجدہ ٔ سہو بھی کرے اور اگر امام نے پانچویں رکعت کا سجدہ کرلیا اور قعدہ میں نہیں لوٹا تو مقتدی تنہا سلام پھیر کر اپنی نماز پوری کرلے اور اگر امام نے قعدہ ٔ اخیرہ نہیں کیا تھا اور پانچویں رکعت کاسجدہ کرلیا تو سب کی نماز فاسد ہوگئی اگرچہ مقتدی نے تشہد پڑھ کر سلام پھیر لیا ہو۔ (عالمگیری ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۴۰)

٭ رکوع یا سجود میں مقتدی نے امام کے پہلے سر اٹھالیا اور امام ابھی رکوع یاسجدہ میں ہے تو مقتدی پر لوٹنا واجب ہے اور یہ دو رکوع یادو سجدے شمار نہ ہوں گے ۔ ( عالمگیری ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۳۹)