أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِلٰى مَدۡيَنَ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا‌ ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ‌ ؕ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ‌ فَاَوۡفُوا الۡكَيۡلَ وَالۡمِيۡزَانَ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ‌ ۞

ترجمہ:

اور اہل مدین کی طرف ہم نے ان کے (ہم قبیلہ) بھائی شعیب کو بھیجا، انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہاری عبادت کا کوئی مستحق نہیں ہے، بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل آچکی ہے، پس تم پورا پورا ناپ اور تول کرو، اور لوگوں کو کم تول کر ان کی چیزیں نہ دو ، اور زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد نہ کرو، اگر تم ایمان لانے والے ہو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور اہل مدین کی طرف ہم نے ان کے (ہم قبیلہ) بھائی شعیب کو بھیجا، انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہاری عبادت کا کوئی مستحق نہیں ہے، بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل آچکی ہے، پس تم پورا پورا ناپ اور تول کرو، اور لوگوں کو کم تول کر ان کی چیزیں نہ دو ، اور زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد نہ کرو، اگر تم ایمان لانے والے ہو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ “

حضرت شعیب کا نام و نسب : 

حافظ علی بن حسن بن عساکر متوفی 571 ھ لکھتے ہیں : ایک قول یہ ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) ، بویب بن مدین بن ابراہی کے بیٹے ہیں۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ شعیب بن صیحون بن عنقا بن ثابت بن مدین بن ابراہیم کے بیٹے ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ یہ سحر بن لادی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم کے بیٹے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی کئی اقوال ہیں۔ 

ان کی دادی اور ایک قول کے مطابق ان کی والدہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیٹی تھیں۔ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ عراق سے شام کی طرف ہجرت کی اور ان کی ساتھ دمشق سے گزرے۔

وہب بن منبہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت شعیب اور بلعم اس قبیلہ سے تھے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر اس دن ایمان لایا تھا جس دن ان کو آگ میں ڈالا گیا تھا اور انہوں نے حضرت ابراہیم کے ساتھ شام کی طرف ہجرت کی اور حضرت ابراہیم نے حضرت لوط کی بیٹیوں سے ان دونوں کا نکاح کردیا۔ ایک قول یہ ہے کہ اہل تورات کے نزدیک ان کا نام تورات میں میکائیل ہے اور سریانیہ میں ان کا نام حری بن یسحر ہے اور عبرانیہ میں ان کا نام شعیب ہے۔

مدین اور اصحاب الایکہ ایک قوم ہیں یا الگ الگ ؟:

عکرمہ نے کہا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کے سوا کسی نبی کو دو مرتبہ نہیں بھیجا گیا۔ ان کو ایک مرتبہ مدین کی طرف بھیجا گیا پھر اس قوم کی نافرمانی کی بناء پر اس کو ایک زبردست گرج دار آواز سے ہلاک کردیا گیا اور دوسری دفعہ ان کو اھاب الایکہ (سرسبز جھاڑیوں والے علاقے کے رہنے والے) کی طرف بھیجا گیا جن کو سائبان والے عذاب نے پکڑ لیا تھا۔

حضرت عبداللہ بن عمرو نے کہا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن فرمایا مدین اور اصحاب الایکہ دو امتیں ہیں جن کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا گیا (ہرچند کہ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے لیکن اس حدیث کی بنا پر یہی قول راجح ہے کہ یہ دو الگ الگ امتیں ہیں۔ سعیدی غفرلہ)

قتادہ نے کہا اللہ تعالیٰ نے جو اصحاب الرس (اندھے کنوئیں والے) الفرقان :38) فرمایا ہے اس سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ 

اور ایک قول یہ ہے کہ مدین اور اصحاب الایکہ ان دونوں سے مراد ایک قوم ہے۔ (مختصر تاریخ دمشق، ج 10، ص 307 ۔ 309، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1405 ھ)

حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی 774 ھ کی تحقیق یہ ہے کہ صحاب الایکہ اور مدین دونوں سے مراد ایک ہی قوم ہے۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے : مدین اس قوم کا نام ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے مدین کی نسل سے ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) بھی اسی نسل سے تھے اور قوم مدین جس علاقہ میں آباد تھی، وہ سرسبز جھاڑیوں پر مشتمل تھا اس لیے اس کو اصحاب الایکہ بھی کہا گیا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس علاقہ میں ایکہ نام کا ایک درخت تھا اور مدین اس درخت کی پرستش کرتے تھے اس لیے ان کو اصحاب الایکہ کہا گیا۔ بہرحال مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ الگ الگ قومیں ہیں یا یہ دونوں ایک قوم ہیں۔ (البدایہ والنہایہ، ج 1، ص 190، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

حضرت شیعب کا مقام بعثت : 

قرآن مجید میں ہے : وانہمالبامام مبین : اور لوط کی قوم اور مدین دونوں بڑی شاہراہ پر آباد تھیں ” (الحجر :79)

جو شاہراہ حجاز کے قافلوں کو شام، فلسطین، یمن، بلکہ مصر تک لے جاتی تھی، اور بحر قلزم کے مشرقی کنارے سے ہو کر گزرتی تھی قرآن مجید اسی کو امام مبین فرماتا ہے۔ یہ شاہراہ قریشی قافلوں کے لیے بہت متعارف اور تجارتی سڑک تھی۔ مدین کا قبیلہ بحر قلزم کے مشرقی کنارہ اور عرب کے شمال مغرب میں شام کے متصل حجاز کا آخری حصہ تھا۔ 

بعض متاخرین لکھتے ہیں : مدین کا اصل علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحر احرم اور خلیق عقبہ کے کنارے پر واقع تھا۔ مگر جزیرہ نمائے سینا کے مشرقی ساحل پر بھی اس کا کچھ سلسلہ پھیلا ہوا تھا، یہ ایک بڑی تجارت پیشہ قوم تھی۔ قدیم زمانہ میں جو تجارتی شاہرہ بحر احمر کے کنارے یمن سے مکہ اور ینبوع ہوتی ہوئی شام تک جاتی تھی اور ایک دوسری تجارتی شاہراہ جو عراق سے مصر کی طرف جاتی تھی، اس کے عین چورا ہے پر اس قوم کی بستیاں واقع تھیں۔ اسی بناء پر عرب کا بچہ بچہ مدین سے واقع تھا اور اس کے مٹ جانے کے بعد بھی عرب میں اس کی شہرت برقرار رہی، کیونکہ عربوں کے تجارتی قافلے مصر اور شام کی طرف جاتے ہوئے رات دن اس کے آثار قدیمہ کے درمیان سے گزرتے تھے۔ 

حضرت شعیب کی قوم پر عذاب کا نزول :

سورۃ الشعراء میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب نازل کرنے کا ذکر فرمایا ہے۔ ان آیوں کا ترجمہ یہ ہے : اصحاب الایکہ نے رسولوں کی تکذیب کی۔ جب ان سے شعیب نے کہا کیا تم نہیں ڈرتے ؟۔ بیشک میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں۔ سو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں تم سے اس کی تبلیغ پر کوئی اجر طلب نہیں کرتا میرا اجر تو صرف اللہ رب العلمین پر ہے۔ پورا پورا ناپ کردو اور کم ناپنے والوں میں سے نہ ہوجاؤ۔ اور درستترازو سے وزن کرو۔ اور لوگوں کی چیزیں کم تول کر نہ دو اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ اور اس سے ڈرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلی جماعتوں کو ییدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا : آپ تو صرف سحر زدہ لوگوں میں سے ہیں۔ اور آپ تو صرف ہم جیسے بشر ہیں، اور ہم آپ کو صرف جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔ اگر آپ سچے ہیں تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دیں۔ شعیب نے کہا : میرا رب تماہرے کاموں کو خوب جانتا ہے۔ تو انہوں نے شعیب کو جھٹلایا پس ان کو سائبات والے دن کے عذاب نے پکڑلیا۔ بیشک وہ بڑے خوفنا دن کا عذاب تھا۔ بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان کے اکثر مومن نہ تھے۔ اور بیشک آپ کا رب ہی ضرور غالب بہت رحم فرمانے والا ہے ” (الشعراء : 176 ۔ 191)

ایک اور مقام پر فرمایا : ” اور شعیب کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا : (اے لوگو ! ) اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو یقیناً نقصان اٹھانے والے ہوگے۔ تو ان کو ایک زلزلہ نے پکڑ لیا پھر انہوں نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ ہلاک ہوئے پڑے تھے ” (الاعراف :90 ۔۔ 91)

علامہ ابوالفرج عبدالرحمن بن علی الجوزی المتوفی 579 ھ لکھتے ہیں : علماء نے کہا ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب کو مدین کی طرف بھیجا تو ان کی عمر بیس سال تھی۔ یہ لوگ ناپ اور تول میں کمی کیا کرتے تھے۔ حضرت شعیب نے ان کو کمی کرنے سے منع فرمایا۔ حضرت شعیب کا لقب خطیب الانبیاء ہے کیونکہ وہ اپنی قوم کو بہت اچھا جواب دیتے تھے۔ جب ان کی قوم کی سرکشی نے بہت طول پکڑا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت گرمی مسلط کردی۔ وہ اپنے گھروں میں گئے تو وہاں بھی گرمی کا سامنا تھا۔ پھر وہ جنگل کی طرف نکل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ایک بادل بھیجا جس نے ان کو دھوپ سے سایہ مہیا کیا اس بادل کے نیچے ان کو بہت ٹھنڈک اور آرام ملا۔ پھر انہوں نے باقی لوگوں کو بلایا اور سب اس بادل کے نیچے جمع ہوگئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک آگ بھیجی جس نے ان سب کو جلا دیا۔ اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ یہ یوم الظلہ (سائبان یا بادل کے دن) کا عذاب تھا۔ 

مدین کی ہلاکت کے بعد حضرت شعیب نے باقی عمر اصحاب الایکہ میں گزاری اور انہیں اللہ سبحانہ کی طرف دعوت دیتے رہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کو واحد ماننے اور اس کی اطاعت کرنے کا حکم دیتے رہے مگر ان کی سرکشی دن بہ دن بڑھتی رہی، پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر گرمی مسلط کی اور ان پر بھی وہی عذاب آیا۔ (مراۃ الزمان، ج 1، ص 387 ۔ 388)

قتادہ نے بیان کیا ہے کہ اہل مدین کو ایک زبردس گرج دار آواز کا عذاب آیا تھا اور اصحاب الایکہ پر مسلس سات دن گرمی مسلط کی گئی پھر اللہ تعالیٰ نے آگ بھیجی جس نے ان کو کھالیا اور یہی یوم الظلہ کا عذاب تھا۔ ( سورة الاعراف میں مدین پر زلزلہ کے عذاب کا ذکر ہے یہ زلزلہ اسی آواز سے آیا تھا، اور سورة الشعراء میں اصحاب الایکہ پر یوم الظلہ کے عذاب کا ذکر ہے)

ابو المنذر نے کہا ھر حضرت شعیب نے اپنی بیٹی کا حجرت موسیٰ (علیہ السلام) سے نکاح کردیا پھر وہ مکہ چلے گئے اور وہیں فوت ہوگئے اور ان کی عمر ایک سو چالیس سال تھی اور ان کو حجر اسود کے سامنے مسجد حرام میں دفن کیا گیا۔ (المنتطم، ج 1، ص 209 ۔ 211، ملخصا، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قبر کے متعلق دوسری روایت یہ ہے :)

حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قبر :

شیخ محمد حفظ الرحمن سیوہاروی لکھتے ہیں : حضرموت میں ایک قبر ہے جو زیارت گاہ عوم و خواص ہے وہاں کے باشندوں کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ شعیب (علیہ السلام) کی قبر ہے۔ حضرت شعیب مدین کی ہلاکت کے بعد یہاں بس گئے تھے اور یہیں ان کی وفات ہوئی۔ حضرت موت کے مشہور شہر ” شیون ” کے مغربی جانب ایک مقام ہے جس کو شبام کہتے ہیں۔ اس جگہ اگر کوئی مسافر وادی ابن علی کی راہ ہوتا ہوا شمال کی جانب چلے تو وادی کے بعد وہ جگہ آتی ہے جہاں یہ قبر ہے، یہاں مطلق کوئی آبادی نہیں ہے اور جو شخص بھی یہاں آتا ہے۔ صرف زیارت ہی کے لیے آتا ہے۔ (قصص القرآن، ج 1، ص 354، مطبوعہ دار الاشاعت، کراچی، 1972 ء)

شیخ حفظ الرحمن کے اس اقتباس سے معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) اور نفوس قدسیہ کی مبارک قبروں کی زیارت کے لیے سفر کرنا دنیا کے تمام مسلمانوں کا شعار رہا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 85