وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ(۱۱۱)

اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اتارتے (ف۲۲۳) اور ان سے مردے باتیں کرتے اور ہم ہر چیز ان کے سامنے اٹھا لاتے جب بھی وہ ایمان لانے والے نہ تھے(ف۲۲۴)مگر یہ کہ خدا چاہتا(ف۲۲۵)ولیکن ان میں بہت نرے جاہل ہیں(ف۲۲۶)

(ف223)

شا نِ نُزول : ابنِ جریر کا قول ہے کہ یہ آیت اِستِہزاء کرنے والے قریش کی شان میں نازل ہوئی جنہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اے محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ ہمارے مُردوں کو اُٹھا لایئے ہم ان سے دریافت کر لیں کہ آپ جو فرماتے ہیں یہ حق ہے یا نہیں اور ہمیں فرشتے دکھائیے جو آپ کے رسول ہونے کی گواہی دیں یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لائیے ۔ اس کے جواب میں یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔

(ف224)

وہ اہلِ شَقاوت ہیں ۔

(ف225)

اس کی مشیّت جو ہوتی ہے وہی ہوتا ہے ، جو اس کے علم میں اہلِ سعادت ہیں وہ ایمان سے مشّرف ہوتے ہیں ۔

(ف226)

نہیں جانتے کہ یہ لوگ وہ نشانیاں بلکہ اس سے زیادہ دیکھ کر بھی ایمان لانے والے نہیں ۔ (جمل و مدراک)

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًاؕ-وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ(۱۱۲)

اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن کیے ہیں آدمیوں اور جنوں میں کے شیطان کہ ان میں ایک دوسرے پر خفیہ ڈالتا ہے بناوٹ کی بات (ف۲۲۷) دھوکے کو اور تمہارا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے (۲۲۸) تو انہیں ان کی بناوٹوں پر چھوڑدو(ف۲۲۹)

(ف227)

یعنی وسوسے اور فریب کی باتیں اِغوا کرنے کے لئے ۔

(ف228)

لیکن اللہ تعالٰی اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے امتحان میں ڈالتا ہے تاکہ اس کے محنت پر صابر رہنے سے ظاہر ہو جائے کہ یہ جَزیلِ ثواب پانے والا ہے ۔

(ف229)

اللہ انہیں بدلہ دے گا ، رسوا کرے گا اور آپ کی مدد فرمائے گا ۔

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْـٕدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ(۱۱۳)

اور اس لیے کہ اس (ف۲۳۰) کی طرف ان کے دل جھکیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں اور اسے پسند کریں اور گناہ کمائیں جو اُنہیں گناہ کمانا ہے

(ف230)

بناوٹ کی بات ۔

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًاؕ-وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ(۱۱۴)

تو کیا اللہ کے سوا میں کسی اور کا فیصلہ چاہوں اور وہی ہے جس نے تمہاری طرف مفصل کتاب اُتاری (ف۲۳۱) اور جن کو ہم نے کتاب دی وہ جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے سچ اترا ہے (ف۲۳۲) تو اے سننے والے تو ہرگز شک والوں میں نہ ہو

(ف231)

یعنی قرآن شریف جس میں امر و نہی ، وعدہ و وعید اور حق و باطل کا فیصلہ اور میرے صدق کی شہادت اور تمہارے اِفتراء کا بیان ہے ۔

شا نِ نُزول : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کہا کرتے تھے کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان ایک حَکَمْ مقرر کیجئے ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔

(ف232)

کیونکہ ان کے پاس اس کی دلیلیں ہیں ۔

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًاؕ-لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖۚ-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۱۱۵)

اور پوری ہے تیرے رب کی بات سچ اور انصاف میں اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں (۲۳۳) اور وہی ہے سنتا جانتا

(ف233)

نہ کوئی اس کی قَضا کا تبدیل کرنے والا ، نہ حُکم کا رد کرنے والا ، نہ اس کا وعدہ خلاف ہو سکے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ کلام جب تامّ ہے تو وہ قابلِ نقص و تغییر نہیں اور وہ قیامت تک تحریف و تغییر سے محفوظ ہے ۔ بعض مفسِّرین فرماتے ہیں معنٰی یہ ہیں کہ کسی کی قدرت نہیں کہ قرآنِ پاک کی تحریف کر سکے کیونکہ اللہ تعالٰی اس کی حفاظت کا ضامن ہے ۔ (تفسیر ابوالسعود)

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ(۱۱۶)

او راے سننے والے زمین میں اکثر وہ ہیں کہ تو ان کے کہے پر چلے تو تجھے اللہ کی راہ سے بہکادیں وہ صرف گمان کے پیچھے ہیں (ف۲۳۴) اور نری اٹکلیں(فضول اندازے) دوڑاتے ہیں(ف۲۳۵)

(ف234)

اپنے جاہل اور گمراہ باپ دادا کی تقلید کرتے ہیں ، بصیرت و حق شَناسی سے محروم ہیں ۔

(ف235)

کہ یہ حلال ہے یہ حرام اور اٹکل سے کوئی چیز حلال حرام نہیں ہوتی جسے اللہ اور اس کے رسول نے حلال کیا وہ حلال اور جسے حرام کیا وہ حرام ۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖۚ-وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ(۱۱۷)

تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون بہکا اس کی راہ سے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت والوں کو

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ(۱۱۸)

تو کھاؤ اس میں سے جس پر اللہ کا نام لیا گیا (ف۲۳۶) اگر تم اس کی آیتیں مانتے ہو

(ف236)

یعنی جو اللہ تعالٰی کے نام پر ذَبح کیا گیا ، نہ وہ جو اپنی موت مَرا یا بُتوں کے نام پر ذَبح کیا گیا وہ حرام ہے، حِلّت اللہ کے نام پر ذَبح ہونے سے متعلق ہے ۔ یہ مشرکین کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ جو انہوں نے مسلمانوں پر کیا تھا کہ تم اپنا قتل کیا ہوا تو کھاتے ہو اور اللہ کا مارا ہوا یعنی جو اپنی موت مرے اس کو حرام جانتے ہو ۔

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِؕ-وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآىٕهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍؕ-اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ(۱۱۹)

اور تمہیں کیا ہوا کہ اس میں سے نہ کھاؤ جس (ف۲۳۷) پر اللہ کا نام لیا گیا وہ تو تم سے مُفَصَّل بیان کرچکا جو کچھ تم پر حرام ہوا (ف۲۳۸) مگر جب تمہیں اس سے مجبوری ہو (ف۲۳۹) اور بے شک بہتیرے اپنی خواہشوں سے گمراہ کرتے ہیں بے جانے بے شک تیرا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے

(ف237)

ذبیحہ ۔

(ف238)

مسئلہ : اس سے ثابت ہوا کہ حرام چیزوں کا مفصّل ذکر ہوتا ہے اور ثبوتِ حُرمت کے لئے حکمِ حُرمت درکار ہے اور جس چیز پر شریعت میں حُرمت کا حکم نہ ہو وہ مباح ہے ۔

(ف239)

تو عندَ الاِضطرار قدرِ ضرورت روا ہے ۔

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ(۱۲۰)

اور چھوڑ دو کھلا اور چھپا گناہ وہ جو گناہ کماتے ہیں عنقریب اپنی کمائی کی سزا پائیں گے

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌؕ-وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓـٕهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْۚ-وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠(۱۲۱)

اور اسے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا (ف۲۴۰) اور وہ بے شک حکم عدولی ہے اور بے شک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کا کہنا مانو (ف۲۴۱) تو اس وقت تم مشرک ہو (ف۲۴۲)

(ف240)

وقتِ ذَبح نہ تحقیقًا نہ تقدیراً ، خواہ اس طرح کہ وہ جانور اپنی موت مر گیا ہو یا اس طرح کہ اس کو بغیر تسمیہ کے یا غیرِ خدا کے نام پر ذبح کیا گیا ہو ، یہ سب حرام ہیں لیکن جہاں مسلمان ذَبح کرنے والا وقتِ ذَبح بسم اللّٰہِ اللّٰہُ اکبرکہنا بھول گیا وہ ذبح جائز ہے ، وہاں ذکر تقدیری ہے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ۔

(ف241)

اور اللہ کے حرام کئے ہوئے کو حلال جانو ۔

(ف242)

کیونکہ دین میں حکمِ الٰہی کو چھوڑنا اور دوسرے کے حکم کو ماننا ، اللہ کے سوا اورکو حاکم قرار دینا شرک ہے ۔