احاد کی باعتبار قوت و ضعف تقسیمات

احاد کی باعتبار قوت و ضعف تقسیمات

دو قسمیں ہیں:۔مقبول مردود

خبر مقبول

تعریف :۔ جس حدیث کا ثبوت راجح ہو۔

اس حدیث کو جید، قوی، صالح، مجود، ثابت، محفوظ اور معروف بھی کہا جاتا ہے۔

حکم :۔ شرعی احکام میں قابل احتجاج اور لائق عمل ہے۔ مقبول میں دو تقسیمات ہیں :۔

باعتبار فرق مراتب باعتبار عمل

تقسیم اول باعتبار فرق مراتب

چار قسمیں ہیں :۔

Xصحیح لذاتہ Xصحیح لغیرہ X حسن لذاتہ Xحسن لغیرہ

صحیح لذاتہ: ۔جسکے تمام رواۃ عادل ضابط ہو ں، سند متصل ہو اور شذوذ و علت سے خالی ہو۔

گویا صحت کے لئے پانچ شرائط ہیں ۔

۱۔ عدالت راوی :۔ ہر راوی کا مسلمان، بالغ اور عاقل ہونے کے ساتھ ساتھ متقی وباوقار ہونا ۔

۲۔ ضبط راوی :۔ ہر راوی کا حدیث کا حاصل کر نے کے بعد پورے طور پر محفوظ کر نے کا اہتمام کرنا خواہ بذریعہ یادداشت یا بذریعہ تحریر۔

۳۔ اتصال سند :۔ شروع سند سے آخر تک ہر راوی اپنے سے اوپر والے سے براہ راست روایت کو حاصل کرے۔

۴۔ عدم شذوذ:۔ ثقہ راوی خود سے اوثق کی مخالفت نہ کرے۔

۵۔ عدم علت:۔ ظاہر صحت کے ساتھ ایسے خفیہ عیب سے خالی ہو جو صحت پر اثر انداز ہو تی ہے۔

حکم :۔ قابل احتجاج اور واجب العمل ہے ۔

مثال:۔ حدثنا عبد اللہ بن یوسف قال: اخبرنا مالک عن ابن شہاب عن محمد بن جبیر بن مطعم عن ابیہ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قرء فی المغرب بالطور۔(الجامع الصحیح للبخاری)

امام بخاری فرماتے ہیں : حدیث بیان کی ہم سے عبداللہ بن یوسف نے وہ کہتے ہیں : خبر دی ہم کو امام مالک نے امام ابن شہاب زہری سے روایت کر تے ہوئے، وہ روایت کر تے ہیں محمد بن جبیر سے، اور یہ اپنے والد جبیر بن مطعم سے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے نماز مغرب میںسورہ طور کی تلاوت فرمائی ۔

یہ حدیث صحیح ہے، اسکی سند متصل ، رواۃ عادل ،اور ضابط اور حدیث شذوذ و علت سے خالی ہے۔

انتباہ:۔ محض احادیث صحیحہ کی جامع کتابوں میںاولین کتب بخاری و مسلم ہیں،دونوں کو صحیحین کہا جا تا ہے، اور مصنفین کو شیخین، پھر ان دونوں میں بھی مجموعی طور پر پہلا مقام بخاری کو حاصل ہے اگر چہ مسلم کی بعض احادیث بخاری پر فائق مانی گئی ہیں ۔

پھر یہ مطلب بھی نہیں کہ علی الاطلاق ان ددنوں کتابوں کی احادیث صحیح ہیں اور ان میںکوئی حدیث ضعیف نہیں ۔یا کسی نے کبھی کوئی جرح کی ہی نہیں۔ بلکہ صحت کا حکم باعتبار اغلب ہے۔ اور یہ مطلب بھی نہیں کہ انکے علاوہ دوسری احادیث صحت کے مرتبہ کو نہیں پہونچیں، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ صحیح احادیث کا بڑا ذخیرہ ان کتابوں سے رہ گیا ہے۔ خاص طور پر مستدرک اور مستخرج احادیث سے ان پر اضافہ کتب حدیث میں منقول اور صحاح کی دوسری کتابوں میں کثیر احادیث اسی مرتبہ کی منقول و ما ثور ہیں ۔

صحاح ستہ سے مراد وہ چھ کتابیں ہیں جن پر امت مسلمہ کا خاص اعتبار و اعتماد اور عمل رہا ہے۔ پانچ تو متفق علیہ ہیں۔

Xبخاری Xمسلم Xنسائی Xابو داؤد Xترمذی

اور اکثر کے نزدیک چھٹی ابن ماجہ ہے لیکن بعض نے مؤطا امام مالک کو قرار دیا ہے۔

صحت کے مراتب مختلف ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:۔

۱۔ وہ حدیث جو صحیحین میں ہو ۔

۲۔ وہ حدیث جو صرف بخاری میں ہو۔

۳۔ وہ حدیث جو صرف مسلم میں ہو۔

۴۔ وہ حدیث جو شیخین کی شرط پر ہو۔

۵۔ وہ حدیث جو صرف بخاری کی شرط پر ہو۔

۶۔ وہ حدیث جو صرف مسلم کی شرط پر ہو۔

۷۔ وہ حدیث جس کو دوسرے ائمہ و محدثین نے صحیح قرار دیا ہو۔

لیکن یہ ترتیب قطعی و لازمی نہیں بلکہ معاملہ کبھی اس کے برعکس بھی ہو تا ہے۔

حسن لذاتہ

تعریف:۔ صحیح کے تمام شرائط کے ساتھ منقول ہو لیکن ضبط میں کچھ کمزوری ہو۔

حکم :۔ صحیح سے کچھ کم مرتبہ رکھتی ہے لیکن قابل احتجاج اور واجب العمل ہے۔

مثال:۔ حدثنا قتیبۃ حدثنا جعفر بن سلیمان الضبعی، عن ابی عمران الجونی عن ابی بکر بن ابی موسی الاشعری قال : سمعت ابی بحضرۃ العدو یقول : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ان ابواب الجنۃ تحت ظلال السیوف۔ (المسند لا حمد بن حنبل ۴ /۳۹۶)

امام ترمذی فرماتے ہیں : حدیث بیان کی ہم سے حضرت قتیبہ نے ، وہ کہتے ہیں حدیث بیان کی ہم سے حضرت جعفر بن سلیمان ضبعی نے ابو عمران جونی سے روایت کر تے ہوئے، اور انہوں نے ابو بکر بن ابی موسی اشعری سے روایت کی ۔ وہ کہتے ہیں میں نے اپنے والد ابو موسی اشعری کو دشمن کے مقابل فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت کے دروازے تلواروں کے سایہ میں ہیں۔

اس حدیث کی سند میں چاروں راوی ثقہ ، لیکن جعفر بن سلیمان کا مرتبہ ضبط میں کچھ کم ہے۔ لہذا یہ حدیث حسن ہے۔

صحیح کی طرح حسن کے بھی متعدد مراتب ہیں ۔امام ذہبی نے انکے دواصولی مرتبے ذکر کئے ہیں ۔

۱۔ وہ اسناد جو صحیح کے ادنی مراتب کے تحت آتی ہیں ۔

جیسے:۔ بھز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ۔

عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ۔

۲۔ جن احادیث کی تحسین و تضعیف کے بارے میں انکے رواۃ کے حالات کی وجہ سے اختلاف ہے ۔

جیسے:۔حارث بن عبد اللہ ، عاصم بن ضمرہ، حجاج بن ارطاۃ۔( تدریب الراوی للسیوطی ۱/۱۵۴)

احادیث حسان کے سلسلہ میں ترمذی، ابو داؤد، اور سنن دارقطنی خاص طور پر مشہور ہیں۔

صحیح لغیرہ

تعریف : حسن لذاتہ حدیث جب دوسرے سے مروی ہو خواہ اسکا مرتبہ مساوی ہو یا اقوی۔

حکم:۔ مذکور ہ اقسام کے درمیان اسکا مقام و مرتبہ ہے لہذا لائق احتجاج اور واجب العمل ہے

مثال ۔ عن ابی بن العباس بن سہل بن سعد عن ابیہ عن جدہ، قال : کان للنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فی حائطنا فرس یقال لہ اللحیف۔ (الجامع الصحیح للبخاری باب اسم الفرس ۱/۴۰۰)

حضرت اُبی بن عباس اپنے والد سے ، اور اُبی کے دادا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر تے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا گھوڑا ہمارے باغ میں تھا اور اس گھوڑے کا نام’’ لحیف‘‘ تھا۔

اس حدیث کے راویوں میں اُبی کے سلسلہ میں امام احمد ، امام ابن معین، اور امام نسائی نے قوت حفظ کی خرابی و کمزوری کی بنا پر فرمایا: یہ ضعیف ہیں، اس لئے انکی حدیث حسن ہے، البتہ اس حدیث کو انکے بھائی عبد المہیمن نے بھی روایت کیا ہے اس لئے یہ صحیح لغیرہ قرار پائی ۔( تدریب الراوی للسیوطی ۱/۱۷۶)

حسن لغیرہ

تعریف:۔ حدیث ضعیف جب متعدد طرق سے مروی ہو، اسکا ضعف خواہ سوء حفظ کی وجہ سے ہو یا انقطاع سند و جہالت راوی کی وجہ سے۔

مرتبہ و حکم:۔ حسن لذاتہ اور ضعیف کے درمیان اسکا مقام ہے ، اس لئے مقبول اور لائق احتجاج ہے۔(تدریب الراوی للسیوطی ۱/۱۷۶)

مثال۔ عن شعبۃ عن عاصم عن عبید اللہ عن عبداللہ بن عامر بن ربیعۃ عن ابیہ ان امراۃ من بنی فزارۃ تزوجت علی نعلین ۔ (الجامع للترمذی ابواب النکاح)

حضرت عامر بن ربیعہ کہتے ہیں : بنو فزارہ کی ایک عورت نے دو جوتیوں کے عوض مہر پر نکاح کیا ۔

قال الترمذی : و فی الباب عن عمر و ابی ہریرۃ وعائشۃ رضی اللہ تعالی ٰ عنہم۔

اس حدیث کے رواۃ میں عاصم سو ء حفظ کی وجہ سے ضعیف ہیں لیکن دوسرے طرق سے اس حدیث کے مروی ہونے کی وجہ سے امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔( تدریب الراوی للسیوطی ۱/۱۷۶)

انتباہ۔ صحت و حسن جاننے کے ذرائع میں اہم ذریعہ تو اہل فن کی تصریح ہے ، البتہ کبھی بعض قرا ئن کے ذریعہ بھی صحت کا حکم ہو تا ہے ، مثلا ۔

٭ ائمہ محدثین کے درمیان بغیر انکار شہرت، حتی کہ اس سے قطعیت بھی حاصل ہو تی ہے۔

٭ سند کا کذب سے متصف افراد سے خالی ہونا، نیز قرآن کریم کی تصریحات و اشارات وغیرہ سے موافتق بلکہ اقوال صحابہ و تابعین ، اسی طرح اصول شرع وقیاس سے موافقت بھی صحت کے قرا ئن سے روشن قرینے شمار کئے گئے ہیں ۔

٭ معتمد عالم و فقیہ کا کسی حدیث کے مطابق عمل۔( تدریب الراوی للسیوطی ۱/۶۷)

متقدمین کی تصریحات اگر کسی حدیث کی صحت و حسن کے بارے میں نہ مل سکیں تو متاخرین بھی بشرط اہلیت اسکا فیصلہ کر سکتے ہیں ، بلکہ تواتر و شہرت کا فیصلہ بھی معتبر ہو گا۔

خبر واحد مقبول کبھی مفید یقین بھی ہوتی ہے مثلا۔

٭ شیخین کی ذکر کردہ حدیث صحیحین غیر متواتر، ۔ یہ قرینہ ایسا ہے کہ کثرت طرق غیر متواتر پر بھی فوقیت رکھتا ہے۔ ہاں اس بات کا خاص خیال رہے کہ ائمہ نے اس پر تنقید نہ کی ہو اور کسی حدیث صحیح سے متعارض نہ ہو۔

امام ابن ہمام فرماتے ہیں: کہ شیخیں کی شرائط کی بنیاد پر یہ مرتبہ انکو حاصل ہوا تو ان شروط کے پیش نظر دوسروں کی مرویات بھی یہ مقام حاصل کر سکتی ہیں ، خصوصاً اس وقت جبکہ دوسرے ائمہ خود ان مسائل میں اجتہادی شان رکھتے ہوں۔

جیسے امام اعظم اور امام اورزاعی نے ایک مسئلہ میں اصح االاسانید کے تحت آنے والی ایک سند سے استدلال کیا تو امام اعظم نے رواۃ کی فقاہت کو وجہ ترجیح قرار دیا۔

٭ حدیث مشہور متعدد طرق سے مروی ہو اور سب طرق کے رواۃ ضعف اور علتوں سے محفوظ ہوں۔

٭ وہ حدیث غریب نہ ہو اور سلسلۂ سند میں راوی ائمہ دین ہوں، جیسے امام احمد نے امام شافعی سے اور انہوں نے امام مالک سے۔ خواہ پھر دوسرے راوی بھی ہوں۔

حکم:۔ یہ احادیث دوسری اخبار احاد سے فائق ہوتی ہیں اور بوقت تعارض راجح قرار پاتی

ہیں۔ ان سے حاصل شدہ علم یقین کا فائدہ دیتا ہے ، لیکن یہ یقین نظری و استدلالی ہو تا ہے۔

تقسیم دوم باعتبار نقل

د د قسمیں ہیں :۔

Xمعمول بہ Xغیر معمول بہ

پہلی قسم کے دو اطلاق ہیں۔

Xمحکم Xناسخ

یونہی دوسری قسم کے بھی دو اطلاق ہیں:۔

مختلف منسوخ

محکم

تعریف:۔ وہ حدیث مقبول جو اسی درجہ کی کسی دوسری حدیث کے معارض نہ ہو۔

اکثر احادیث اسی انداز کی ہیں ۔

مختلف

تعریف :۔ وہ حدیث مقبول جو اسی درجہ کی دوسری حدیث کے معارض و مخالف ہو۔

اسے مشکل الحدیث یا مشکل الاثر بھی کہتے ہیں ۔

اسکی دو قسمیں ہیں:۔

Xممکن الجمع X ممتنع الجمع

تعریف ممکن الجمع:۔ وہ احادیث مختلفہ جن میں تعارض ہو لیکن جمع کی صورت ممکن ہو ۔

مثال اول :۔لا عدوی ولا طیرۃ۔( الجامع الصحیح للبخاری ۲/۸۵۰)

چھوت کی بیماری اور بدشگونی کوئی چیز نہیں۔

مثال دوم :۔فر من المجذوم کما تفر من الاسد۔ ( الجامع الصحیح للبخاری ۲/۸۵۰)

جذامی سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے ۔

دونوں احادیث اگر چہ بظاہر مختلف ہیں اور ایک دوسرے کے معارض، کیونکہ پہلی حدیث سے ثابت کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتی ، جبکہ دوسری حدیث سے کسی کو وہم ہو سکتا ہے کہ بیماری کے اڑ کر لگنے کی بنا پر ہی جذامی سے دور بھاگنے کا حکم ہے ، امام احمد رضا قدس سرہ دونوں کی جمع و تطبیق کے سلسلہ میں فرماتے ہیں ۔

پہلی حدیث اپنے افادہ میں صاف صریح ہے کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتی، کوئی مرض ایک سے دوسرے کی طرف سرایت نہیں کرتا۔ کوئی تندرست بیمار کے قرب و اختلاط سے بیمار نہیں ہو جاتا۔

پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم واجلۂ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی عملی کا ر روائی کہ مجذوموں کو اپنے ساتھ کھلانا، ان کا جوٹھا پانی پینا، ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے پکڑ کر برتن میں رکھنا، خاص انکے کھانے کی جگہ سے نوالہ اٹھا کر کھانا، جہاں منہ لگا کر انہوں نے پانی پیا بالقصد اسی جگہ منہ رکھ کر نوش کرنا۔ یہ او ر بھی واضح کر رہا ہے کہ عدوی، یعنی ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جانا خیال باطل ہے، ورنہ اپنے کو بلا کے لئے پیش کرنا شرع ہر گز روا نہیں رکھتی ۔

رہی دوسری حدیث تو اس قبیل کی احادیث اس درجہ عالیہ صحت پر نہیں جس پر احادیث نفی ہیں۔ ان میں اکثر ضعیف ہیں اور بعض غایت درجہ حسن ہیں، صرف حدیث مذکور کی تصحیح ہو سکتی ہے مگر وہی حدیث اس سے اعلی وجہ پر جو صحیح بخاری میں آئی ۔ خود اسی میں ابطال عدوی موجود، کہ مجذوم سے بھاگو اور بیماری اڑ کر نہیں لگتی، تو یہ حدیث خود واضح کر رہی ہے کہ بھاگنے کا حکم اس وسوسہ اور اندیشہ کی بنا پر نہیں ، معہذا صحت میں اس کا پایا بھی دیگر احادیث نفی سے گرا ہو اہے ، کہ اسے امام بخاری نے مسندا روایت نہ کیا بلکہ بطور تعلیق۔

لہذا کوئی حدیث اصلا ثبوت عدوی میں نص نہیں ، یہ تو متواتر حدیثو ںمیں فرمایا کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتی، اور یہ کسی حدیث میں بھی نہیں آیا کہ عادی طور پر اڑ کر لگ جاتی ہے۔

قول مشہور و مذہب جمہور و مشرب منصور کہ دوری و فرار کا حکم اس لئے ہے کہ اگر قرب و اختلاط رہا اور معاذ اللہ قضا وقدر سے کچھ مرض اسے بھی حادث ہو گیا تو ابلیس لعین اس کے دل میں وسوسہ ڈالے گاکہ دیکھ بیماری اڑ کر لگ گئی ۔

اول تو یہ ایک امر باطل کا اعتقاد ہو گا۔ اسی قدر فساد کے لئے کیا کم تھا پھر متواتر حدیثوں میں سنکر کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صاف فرمایاہے کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتی ، یہ وسوسہ جمنا سخت خطرناک اور ہائل ہوگا۔

لہذا ضعیف الیقین لوگوں کو اپنا دین بچانے کے لئے دوری بہتر ہے، ہاں کامل الایمان وہ کرے جو صدیق اکبر اور فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کیا اور نہا؎یت مبالغہ کے ساتھ کیا ۔ کہ ایک مجذوم کے ساتھ صدیق اکبر نے کھانا کھایا تو جہاں سے وہ مجذوم نوالہ لیتے وہیں سے آپ نوالہ لے کر نوش فرماتے ، اور حضرت فاروق اعظم نے حضرت معیقیب بدری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کھانا کھایا جبکہ انکو یہ مرض تھا۔ اگر معاذ اللہ کچھ حادث ہوتا انکے خواب میں بھی خیال نہ گزرتا کہ یہ عدوائے باطلہ سے پیدا ہوا ، ان کے دلوںمیں ایمان کوہ گراں شکوہ سے زیادہ مستقر تھا کہ :۔ لن یصیبنا الا ماکتب اللہ لنا۔

بے تقدیر الہی کچھ نہ ہو سکے گا۔

اسی طرف اس قول و فعل حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی کہ اپنے ساتھ کھلایا اور ’’ کل ثقۃ با للہ وتوکلا علیہ ‘‘ فرمایا ۔

با لجملہ مذہب معتمد و صحیح و رجیح و نجیح یہ ہے کہ جذام، کھجلی، چیچک اور طاعون وغیرہا اصلا کوئی بیماری ایک کی دوسرے کو ہر گز اڑ کر نہیں لگتی، یہ محض اوہام بے اصل ہیں ، کوئی وہم پکائے جائے تو کبھی اصل بھی ہو جاتا ہے کہ ارشاد ہوا۔

انا عند ظن عبدی بی۔

وہ اس دوسرے کی بیماری اسے نہ لگی بلکہ خود اسی کی باطنی بیماری کہ وہم پروردہ تھی صورت پکڑ کر ظاہر ہو گئی ، فیض القدیر میں ہے۔

بل الوہم وحدہ من اکبر اسباب الاصابۃ۔

اس لئے اور نیز کراہت و اذیت و خود بینی و تحقیر مجذوم سے بچنے کے واسطے اور اس دور اندیشی سے کہ مبادا سے کچھ پیدا ہو اور ابلیس لعین کچھ وسوسہ ڈالے کہ دیکھ بیماری اڑ کر لگ گئی ، اور اب معاذ اللہ اس امر کی حقانیت اسکے خطرہ میں گزرے گی جسے مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم باطل فرما چکے۔ یہ اس مرض سے بھی بدتر مرض ہوگا، ان وجوہ سے شرع حکیم ورحیم نے ضعیف الیقین لوگوں کو حکم استحبابی دیا ہے کہ اس سے دور رہیں اور کامل الایمان بندگان خدا کے لئے کچھ حرج نہیں کہ وہ ان سب مفاسد سے پاک ہیں۔ خوب سمجھ لیاجائے کہ دور رہنے کا حکم ان حکمتوں کی وجہ سے ہے نہ یہ کہ معاذ اللہ بیماری اڑ کر لگتی ہے۔ اسے تو اللہ و رسول رد فرما چکے ، جل جلالہ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔(فتاوی رضویہ نصف دوم ۹/۲۵۳)

تعریف غیر ممکن الجمع:۔ جن احادیث مین موافقت ممکن نہ ہو ۔

حکم۔ ان احادیث کا حکم یہ ہے کہ کسی ذریعہ سے نسخ کا علم ہو جائے تو ناسخ پر عمل ہوگا اور یہ نہ ہو سکے تو ترجیح کی صورت اپنائی جائے جو کثیرہیں۔

امام سیوطی نے اصولی طور پر ساتھ بتائی ہیں ، یہ بھی نہ ہو تو توقف۔

احناف کے نزدیک احادیث مختلفہ میں اولا نسخ، پھر ترجیح، پھر جمع کو اپنائیں گے ، ورنہ توقف، ورنہ اقوال صحابہ اور پھر آخر میں قیاس کی طرف رجوع کیا جائے گا۔

وجوہ ترجیح و جمع

ترجیح باعتبار متن

٭ حرمت اباحت پر

٭ قول عام فعل خصوص پر، یہ جس میں خصوصیت یا عذر کا احتمال ہو۔

٭ اثبات نفی پر بشرطیکہ نفی مستقل دلیل کی بنیاد پر نہ ہو بلکہ اصل حال و حکم کی رعایت میں ہو۔

٭ محکم معلل غیر معلل پر

٭ شارع کا بیان و تفسیر غیر کے بیان و تشریح پر

٭ دلیل قوی دلیل ضعیف پر

ترجیح باعتبار سند

٭ سند قوی ضعیف پر

٭ سند عالی نازل پر بشرطیکہ دونوں ہم پلہ ہو ں،

٭ فقاہت میں فائق روایات کو دوسروں پر

٭ متعدد رواۃ ایک پر

٭ اتفاقی سند مختلف فیہ پر

٭ اکابر صحابہ کی روایت اصاغر پر

وجوہ جمع

تنویع:۔ اگر دونوں عام ہوں تو الگ الگ انواع سے ان کا تعلق قرار دینا۔

تبعیض:۔ دونوں خاص ہوں تو الگ الگ حال پر ،یا ایک کو حقیقت دوسرے کو مجاز پر محمول کرنا۔

تقیید:۔ دونوں مطلق ہوں تو دونوں کے ساتھ ایسی قید لگانا جس سے فرق ہو جائے۔

تخصیص:۔ ایک عام اور دوسری خاص ہو تو عام کو مخصوص قرار دینا۔

حمل:۔ ایک مطلق اور دوسرا مقید ہو تو مطلق کو مقید پر محمول کرنا، بشرطیکہ دونوں کا سبب اور حکم ایک ہو۔

اہمیت فن

فنون حدیث میں تمام علماء کو اس فن سے واقفیت ضروری ہے، لیکن کمال مہارت انہیں کو حاصل ہوتی ہے جو حدیث و فقہ دونوں کے جامع ہوں اور ان علمائے اصول کو جن کا مشغلہ یہ ہی رہا ہو کہ دریائے معانی میں غوطہ لگانا اور اپنے اپنے محامل پر احکام کو منطبق کرنا۔ ان علمائے کے وفور علم کی بنا پر شاذو نادر رہی ایسی احادیث رہ جاتی ہیں جن سے وہ تعارض کا حل نہ نکال سکیں ۔

امام ابن خزیمہ تو فرماتے ہیں: مجھے ایسی دو احادیث کا علم نہیں جن میں باہم تعارض ہو۔( تدریب الراوی للسیوطی ۲/۱۹۶)

تصانیف فن

۱۔ اختلاف الحدیث، للشافعی، اولین کتاب م ۲۰۴

۲۔ تاویل مختلف الحدیث لا بن قتیبۃ، م ۲۷۶

۳۔ شرح مشکل الآثار للطحاوی، م ۳۲۱

۴۔ کتاب لا بن خزیمۃ، م ۳۳۱

۵۔ مشکل الحدیث لا بن فورک، م ۴۰۶

۶۔ التحقیق فی احادیث الخلاف لا بن الجوزی، م ۵۹۷

ناسخ و منسوخ

تعریف ناسخ :۔ شارع کا ایک حکم شرعی کی تحدید بیان کر کے دوسرا حکم سنانا، کبھی ایک

حدیث دوسری حدیث کی ناسخ ہوتی ہے، اور کبھی حدیث قرآن کے لئے ناسخ قرار دی جاتی ہے اور کبھی بر عکس۔

یہ فن بھی نہایت اہم اور بڑی دشوارگذار منزل ہے، امام زہری فرماتے ہیں:۔

فقہاء کو ناسخ ومنسوخ احادیث نے تھکا دیا۔

امام شافعی کو اس فن میں خاص امتیاز حاصل تھا ، امام احمد نے فرمایا : ہم نے مجمل ومفسر اور ناسخ و منسوخ کو آپ کی مجلس کے بغیر حاصل نہ کیا۔

ذرائع علم نسخ

نسخ کو جاننے کے لئے متعدد ذرائع ہیں۔

٭ خود حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تصریح فرمادیں۔

جیسے۔ کنت نہیتکم عن زیارۃ القبور فزوروہا فانہ تذکر الآخرۃ۔ ( المسند لا حمد بن حنبل ۵/ ۳۶۱)

میں نے تم کو قبور کی زیارت سے منع کیا تھا۔ اب میں تم کو اجازت دے رہا ہوں، لہذا زیارت کیا کرو کہ آخرت کی یاد دلاتی ہے۔

٭ صحابی بیان کریں ، جیسے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان:۔

کان آخر الامرین من رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ترک الوضوء مما غیرت النار۔ ( السنن لا بی داؤد۔ باب فی ترک الوضو)

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا آخری عمل مبارک یہ تھا کہ آگ سے پکی ہوئی چیزوں کو تناول فرما کر وضو نہیں فرمایا۔

اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان:۔

انماکان انما الماء من الماء رخصۃ فی اول الاسلام ثم نھی عنہا۔ 

انزال ہونے پر ہی غسل کر نے کا حکم آغاز اسلام میں تھا پھر بعد میں محض جماع پر ہی غسل کا حکم دے دیا گیا۔

٭ تاریخ وقت کا علم ہونے پر نسخ کا فیصلہ کیا جاتا ہے، جیسے حضر ت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔

افطر الحاجم و المحجوم۔ (باب فی الصائم یحتجم)

ٍ سنگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں نے اپنا روزہ توڑ لیا۔

دوسری حدیث میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا:۔

ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم احتجم وہو صائم۔(باب الرخصۃ فی ذلک)

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے روزہ کی حالت میں سنگی لگوائی۔

پہلی حدیث فتح مکہ کے موقع پر ارشاد فرمائی جیسا کہ شداد بن اوس نے دوسری روایت میں بیان فرمایا:۔

وکان ذلک یوم الفتح۔ ( المصنف لعبد الرزاق ۴/۲۰۹)

یہ حدیث فتح مکہ کے موقع پر ارشاد فرمائی ۔

دوسری حدیث حجۃ الوداع کے موقع کی ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس بیان فرماتے ہیں :۔

احتجم رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وہو صائم محرم بین مکۃ والمدینۃ( المصنف لعبد الرزاق ۴/۲۱۳)

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا جبکہ روزہ دار تھے، اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے درمیان حالت احرام میں سفر فرما رہے تھے۔

لہذا بعد والی روایت پر عمل ہوگا اور پہلی منسوخ قرار دی جائے گی۔

٭ اجماع کی دلالت:۔ یعنی کسی حدیث کے خلاف تمام صحابہ کرام کا اجماع اور بالا تفاق عمل اس بات کا پتہ دتیا ہے کہ پہلا حکم منسوخ ہو چکا ہے۔

جیسے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :۔

من شرب الخمر فاجلدوہ فان عاد فی الرابعۃ فاقتلوہ۔ (الجامع للترمذی ۱/۱۷۴)

جس نے شراب پی اس پر کوڑوں سے حد جاری کرو اور اسکے بعد چو تھی مرتبہ بھی اسکا یہ قصور ثابت ہو جائے تو قتل کر دو۔

دوسری حدیث میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اسکے بعد ایک ایساہی شرابی لایا گیا۔

ثم اتی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بعد ذلک برجل قد شرب فی الرابعۃ فضربہ ولم یقتلہ۔( الجامع للترمذی ۱/۱۷۴)

کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں اسکے بعد ایک ایسا ہی شخص لایا گیا جس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تھی، تو آپ نے اس پر صرف حد جاری فرمائی اور قتل کا حکم نہیں فرمایا۔

امام ترمذی فرماتے ہیں :۔

انما کان ہذا فی اول الامر ثم نسخ بعد، والعمل علی ہذا عند عامۃ اہل العلم، لا نعلم بینہم اختلافا فی ذلک فی القدیم والحدیث،و مما یقوی ہذا ماروی عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم من اوجہ کثیرۃ انہ قال :

لا یحل دم امرء مسلم یشہد ان لا الہ اللہ وانی رسول اللہ الا باحدی ثلث، النفس بالننفس، والثیب الزانی، و التارک لدینہ ۔(الجامع للترمذی ۱/۱۷۴)

یہ حکم قتل اول امر میںتھا پھر منسوخ ہوا۔ تمام علماء فقہاء اس پر متفق ہیں ، متقدمین و متاخرین میں کسی کا اختلاف اس سلسلہ میں ہمیں معلوم نہیں ۔ اس موقف کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جو متعدد طرق سے مروی ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔

کسی مسلمان کا خون بہانا صرف تین چیزوں میں سے کسی ایک چیز کے ذریعہ ہی جائز ہے، قتل عمد کے قصاص میں ، شادی شدہ زانی ، اور مرتد۔

واضح رہے کہ اجماع خود مستقل ناسخ نہیں ہوتا بلکہ نسخ پر دال ہو تا ہے۔(نذہۃ النظر ۵۷)

تصانیف فن

٭ الاعتبار فی الناسخ و المنسوخ من الآثار للحازمی م ۵۸۴

٭ الناسخ والمنسوخ للا مام احمد، م ۲۴۱

٭ تجرید الاحادیث المنسوخۃ لا بن الجوزی، م ۵۹۷

خبر مردود

تعریف:۔ جس حدیث کا ثبوت بعض یا کل شرائط قبولیت کے معدوم ہونے کی وجہ سے راجح نہ ہو، اسکا دوسرا معروف عنوان’ ضعیف ‘ہے ۔

اسباب رد دو ہیں۔

Xسقوط از سند X طعن برراوی

اول کی مندرجہ ذیل چھ قسمیں ہیں۔

Xمعلق X مرسل X معضلX منقطعX مرسل خفیX مدلس

سقوط راوی اگر واضح ہو تو اس سے پہلی چار قسمیں متعلق ہیں، اور سقوط خفی ہو تو آخری دو۔

معلق

تعریف:۔جس حدیث کی شروع سند سے ایک ،یا زائد راوی پے در پے حذف ہو ں۔

حکم۔ یہ حدیث قابل رد ہے کہ راوی غیر مذکور کا حال معلوم نہیں ، ہاں راوی کا حال معلوم ہو

جائے اور وہ شرائط عدالت اور اوصاف قبولیت سے متصف ہو تو مقبول ہو گی ، یہ حکم تمام منقطع احادیث کا ہونا چاہیے۔

مثال۔ قال ابو ہریرۃ عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: اللہ اعلم بمن یجاہد فی سبیلہ۔(الجامع الصحیح للبخاری ۱/۴۰۶)

تعلیقات بخاری :۔واضح رہے کہ امام بخاری کی ذکر کر دہ تعلیقات کو یک قلم مردود قرار نہیں دیا جا سکتا، کہ اس کتاب میں صحیح احادیث کے جمع کر نے کا التزام ہے ، البتہ اس میں تفصیل یہ ہے کہ بعض تعلیقات کو یقین و قطیعت کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ۔ جیسے۔

قال ۔ ذکر۔ حکی۔ وغیرہا۔

اور بعض کو شک و تردد کے ساتھ بیان کیا ہے ، جیسے۔

قیل ، ذکر، روی ، وغیرہا۔

اول کو صحیح اور ثابت کہا جاتا ہے ، اور ثانی پر تحقیق کے بعد ہی حکم ہوگا، اس سے پہلے توقف بہتر ہے، ایسی احادیث بخاری میں صرف ایک سو ساٹھ ہیں ۔( تدریب الراوی للسیوطی، ۱ /۱۱۷)

مرسل

تعریف :۔ جس حدیث میں آخر سند سے تابعی کے بعد راوی غیر مذکور ہو ۔

مثال۔ عن سعید بن المسیب ان رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال: من اکل من ہذہ الشجرۃ فلا یقرب مسجدنا۔( المؤطا لمالک ۶)

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے اس درخت ( کچی پیاز ااور لہسن) سے کچھ کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔

مرسل نزد فقہاء و اصولیین:۔ جس حدیث کی سند متصل نہ ہو ، خواہ ایک راوی غیر مذکور ہو یا سب، پے د رپے یا الگ الگ۔ گویا سقوط سند کی تمام صورتیں انکے نزدیک مر سل ہیں ۔

حکم:۔ مر سل در حقیقت ضعیف مردود اور غیر مقبول ہے، کہ قبولیت کی ایک شرط اتصال سند سے خالی ہے ، جمہور محدثین اور ایک جماعت اصولیین و فقہا کا یہ ہی مسلک ہے۔

امام اعظم ، امام مالک، اور امام احمد کا قول مشہورمیں نیز ایک جماعت علماء کے نزدیک مقبو ل اور لائق احتجاج ہے بشرطیکہ ارسال کرنے والا ثقہ اور کسی معتمد ہی سے ارسال کرے، اس لئے کہ ثقہ تابعی جب تک کسی اپنے جیسے ثقہ سے کو ئی بات نہ سنے تو براہ راست حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف نسبت نہیں کرتا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حضرات تابعین مرسل پر نکیر نہیں کر تے تھے۔

امام شافعی اور بعض علماء کے نزدیک چند شرطوں سے مقبول ہے۔

٭ ارسال کرنے والا اکابر تابعین سے ہو ۔

٭ غیر مذکور راوی کی تعیین میں ثقہ ہی کا نام لیا جائے۔

٭ معتمد حفاظ حدیث کسی دوسری سند سے روایت کریں تو اسکے مخالف نہ ہو۔

٭ کسی دوسری سند سے متصل ہو۔

٭ کسی صحابی کے قول کے موافق ہو۔

٭ اکثر اہل علم کے نزدیک اسکے مضمون پر فتوی ہو۔

اگر صحیح حدیث ایک طریق سے مروی ہو لیکن مرسل کے مخالف، اور مرسل او ر اسکی مؤید علیحدہ سند سے تویہ مرسل ہی راجح ہو گی، اگر جمع و تطبیق کی کوئی صورت ممکن نہ ہو۔

خیال رہے کہ مرسل صحابی جمہور کے نزدیک مقبول اور لائق احتجاج ہے،۔ مرسل صحابی کی صورت یہ ہوتی ہے کہ صحابی کم سنی یا تاخیرا سلام کی وجہ سے خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے نہیں سن پاتا لیکن براہ راست نسبت حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف ہی کر تاہے۔

جیسے عبد اللہ بن زبیر اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی اکثر روایات اسی طرح کی ہیں ۔(تدریب الراوی للسیوطی ۱/ ۲۰۷)

مرسل اور ائمہ احناف:۔ احناف کے نزدیک تابعی اور تبع تابعین کی مرسلات مطلقاً

مقبول ہیں ، انکے بعد ثقہ کی ہو تو مقبول او ر باقی کا فیصلہ تحقیق کے بعد ہو تا ہے۔( فواتح الرحموت لبحر العلوم ۲/۱۷۴)

مشہور مصنفات

٭ المراسیل لا بی داؤد، م ۲۷۵

٭ المراسیل لا بن ابی حاتم، م ۳۲۷

٭ جامع التحصیل لا حکام المراسیل للعلائی ، م ۷۶۱

معضل

تعریف:۔ جسکی سند سے دو یا زائد راوی پے در پے ساقط ہوں

مثال۔ مالک انہ بلغہ ان عائشۃ زوج النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قالت فی المرأۃ الحامل تری الدم انہا تدع الصلوۃ۔ (المؤطا لمالک ۲۱)

حضرت امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ روایت پہونچی کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا:۔ حاملہ عورت اگر خون دیکھے تو نماز نہ پرھے۔

یہ حدیث امام مالک کے بلاغات سے ہے اور درمیان میں دو راوی ساقط ہیں کہ بالعموم امام مالک اور حضرت صدیقہ کے درمیان موطا میں دو واسطے مذکور ہیں ۔

لہذا فنی طور پر یہ حدیث منقطع معضل شمار ہوگی۔

حکم:۔ ضعیف شمار ہو تی ہے اور مرسل کے بعد اسکا نمبر آتا ہے۔

معضل اور معلق کے درمیان عموم خصوص من وجہ کی نسبت ہے۔

مادۂ اجتماع:۔ یہ ہے کہ اآغاز سند سے پے در پے دو راوی ساقط ہوں۔

مادۂ افتراق:۔ درمیان سند سے پے در پے دو یا زائد راوی ساقط ہوں تو معضل کہیں گے معلق نہیں۔

آغاز سند سے صر ف ایک راوی ساقط ہو تو معلق کہا جائے گا معضل نہیں ۔

منقطع

تعریف :۔ درمیان سند سے ایک راوی ساقط ہو ، اور دو یا زائد ہوں تو پے در پے نہ ہوں۔

مثال۔ حدثنی محمد بن صالح،ثنا احمد بن سلمۃ، ثنا اسحاق بن ابراہیم، ثنا عبد الرزاق، انا النعمان بن شیبۃ، عن سفیان الثوری، عن ابی اسحاق، عن زید بن یتبع، عن حذیفہ، رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ان و لیتموہا ابا بکر فزاہد فی الدنیا راغب فی الآخرۃ و فی جسمہ ضعف، و ان ولیتموہا عمر فقوی امین لا یخاف فی اللہ لو مۃ لا ئم، و ان ولیتموہا علیا فہاد مہتد یقیمکم علی صراط مستقیم ۔(المستدرک للحاکم ۳ /۱۵۳)

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم خلافت صدیق اکبر کے سپرد کرو گے تو انکو دنیا سے بے رغبت اور آخرت کی طرف راغب پاؤگے ، اور وہ اپنے جسم میں ضعیف ثابت ہوں گے ۔ اور عمر فاروق اعظم کے سپرد کرو گے تو وہ قوی اور امین ثابت ہوں گے، احکام الہہ میں کسی کی پرواہ نہیں کریں گے۔ اور اگرعلی کو خلیفہ بناو گے تو وہ سیدھی راہ پر خود بھی چلیں گے اور دوسروں کو بھی صراط مستقیم پر گامزن رکھیں گے۔

اس حدیث کی سند میں ایک راوی سفیان ثوری اور ابو اسحق کے درمیان سے ساقط ہیں اور وہ شریک ہیں، کیونکہ سفیان ثوری نے ابو اسحق سے براہ راست سماعت نہیں کی بلکہ بواسطہ شریک ، لہذا یہ منقطع ہے ، اسی لئے امام ذہبی نے تلخیص میں اسکو ضعیف کہا ۔

چونکہ اس حدیث کی سند میں سقوط راوی شروع سند سے نہیں لہذا یہ معلق نہیں ، اور آخر سند سے نہیں ،لہذا مرسل نہیں ، اور سند سے دو راوی پے در پے بھی ساقط نہیں لہذا معضل بھی نہیں ، اسی لئے ا سکو علیحدہ قسم شمار کیا گیا ہے۔

حکم:۔ راوی غیر مذکور کا حال معلوم نہ ہونے کے سبب ضعیف شمار ہو تی ہے۔

مدلّس

تعریف:۔ جس حدیث کی سند کا عیب پوشیدہ رکھا جائے اور ظاہر کو سنوار کر پیس کیا جائے۔

دوقسمیں ہیں۔

Xمدلس الاسناد X مدلس الشیوخ

مدلس الاسناد:۔ وہ حدیث جسکو استاذ سے بغیر سنے ایسے الفاظ سے استاذ کی طرف نسبت

کرے جس سے سننے کا گمان ہو۔ اسکی صورت یہ ہوتی ہے کہ راوی اپنے شیخ کا ذکر نہ کرے جس سے سماع حاصل تھا بلکہ اپنے شیخ سے بالا شیخ کو ذکر کر دے جس سے سماع حاصل نہیں مگر ایسے لفظ سے جو سماع کا ایہام کر تا ہے۔

جیسے:۔ قال، عن ، ان ، وغیرہا کے ذریعہ بیان کرے۔ کہ یہ الفاظ موہم سماع ہیں۔

یعنی ایسے الفاظ نہ استعمال کرے جو صراحت کے ساتھ براہ راست سننے کو بتائیں ورنہ جھوٹا کہلائے گا۔ اس صورت میں چھوٹے ہوئے راوی ایک سے زاید بھی ہو سکتے ہیں۔

تدلیس کا سبب کبھی یہ ہوتا ہے کہ شیخ کے صغیر السن ہونے کی وجہ سے راوی ازراہ خفت اسکا تذکرہ نہیں کرنا چاہتا، یا راوی کا شیخ کوئی معروف شخص نہیں ، یا عوام و خواص میں اسکو مقبولیت حاصل نہیں ، یا پھر مجروح ضعیف ہے ۔لہذا شیخ کے نام کو ذ کرنے سے پہلو تہی کر تاہے۔

واضح رہے کہ بعض اکابر جیسے سفیان بن عیینہ سے تدلیس مندرجہ بالا وجوہ کے پیش نظر واقع نہیں ہوئی بلکہ اس وجہ سے کہ صحت حدیث پر انکو وثوق تھا اور بوجہ شہرت اپنے شیوخ کے ذکر کی ضرورت نہ سمجھی ، لہذا انکی حدیث پر بایں معنی جرح نہیں کی جاتی۔

حکم :۔ ایسی احادیث ضعیف کی اہم اقسام سے ہیں، علماء نے اس عمل کو نہایت مکروہ بتایا ہے اور بہت مذمت کی ہے، امام شعبہ نے تدلیس کو کذب بیانی کا دوسرا عنوان بتایا ہے ۔

مدلس الشیوخ:۔ وہ حدیث جسے راوی اپنے استاذ سے نقل کر تے ہوئے اس کے لئے

کوئی غیر معروف نام، لقب، کنیت ، یا نسب ذکر کرے تا کہ اسے پہچانا نہ جا سکے۔(تدریب الراوی للسیوطی ۱/۲۲۳)

اسکی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ شیخ سے بکثرت روایتیں کرنے کی وجہ سے بار بار معروف نام لینا نہیں چاہتا۔

حکم:۔ اس میں پہلی قسم کی بہ نسبت نقص کم ہو تا ہے ، کیونکہ راوی ساقط نہیں ہوتا، ہاں راوی کا غیر معروف نام ذکر کر کے سامعین کو الجھن میں مبتلا کر نا ہے۔

ایسی احادیث میں اگر سماع کی تصریح کر دی جائے تو حدیث مقبول ورنہ غیر مقبول ہوگی، نیز وہ حضرات جو ثقہ سے تدلیس کر تے ہیں انکی مقبول ورنہ غیر مقبول ۔(تدریب الراوی للسیوطی ۱/۲۲۹)

تصانیف فن

اس فن میں محدثین نے مستقل کتابیں لکھیں چند یہ ہیں :۔

٭ کتاب التدلیس للخطیب، م ۴۶۳

٭ التبین لأسما ء المدلسین للخطیب، م۴۶۳

٭ التبین لأسماء المدلسین للحلبی، م ۸۴۱

٭ تعریف اہل التقدیس بمراتب الموصوفین بالتدلیس لا بن حجر، ۸۵۲

مرسل خفی

تعریف : جس حدیث کو راوی کسی ایسے شخص سے نقل کرے جس سے اسکی معاصرت کے باوجود ملاقات یاسماع ثابت نہ ہو۔

مرسل خفی اورمدلس کے درمیان فرق یوں ہے کہ راوی کی مروی عنہ سے معاصرت ہوتی ہے اور ملاقات بھی ممکن لیکن سماع ثابت نہیں ہوتا ۔ برخلاف مدلس کہ اس میں تینوں چیزیں ہوتی ہیں۔

مثال:۔ حدثنا محمد بن الصباح، انبأنا عبد العزیز بن محمد عن صالح بن محمد بن زائدۃ، عن عمر بن عبد العزیز عن عقبۃ بن عامر الجھنی قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم: رحم اللہ حارس الحرس۔ (السنن لا بن ماجہ ۲ / ۱۹۹)

حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ مجاہدین کے محافظین پر رحم فرمائے۔

عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت عقبہ سے معاصرت تو ثابت ہے لیکن ملاقات نہیں جیسا کہ مزی نے اطراف الحدیث میں ذکر کیا ۔

حکم:۔ ضعیف ہے اس لئے کہ اس میں انقطاع ہو تا ہے۔

تصنیف فن

٭ کتاب التفصیل لمبہم المراسیل للخطیب۔

یہ اس فن میں نہایت مشہور کتاب ہے ۔

معنعن و مؤنن

تعریف:۔ لفظ ’عن‘ کے ذریعہ روایت معنعن ہے ، اور’ ان‘ کے ذریعہ روایت مؤنن ہے۔

حکم:۔ چند شرائط کے ساتھ متصل شمار ی جاتی ہے ۔

٭ راوی مدلس نہ ہو۔

٭ جن راویوں کے درمیان ’ عن ‘ یا ’ان‘ آئے وہ ہم عصر ہو ں۔

مردود بسبب طعن در راوی

راوی میں طعن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسکی عدالت یعنی مذہب و کر دار، اور ضبط و حفظ کے بارے میں جرح کی جائے۔

اسباب طعن دس ہیں :۔

٭پانچ عدالت سے متعلق ٭پانچ ضبط سے متعلق

عدا لت میں طعن کے وجوہ یہ ہیں ۔

Xکذب Xاتہام کذب X فسق Xبدعت X جہالت

ضبط میں طعن کے وجوہ یہ ہیں ۔

Xفرط غفلت Xکثرت غلط X سوء حفظ Xکثرت وہم X مخالفت ثقات

اب بدتر سے کم تر کی طرف ترتیب ملاحظہ ہو۔

موضوع

تعریف:۔ وہ مضمون جسکو بصورت حدیث حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف کذب بیانی سے منسوب کیا جائے۔

اسکی تین صورتیں ہوتی ہیں ۔

٭ کبھی محض اپنی طرف سے گڑھ کر کوئی بات حضور کی طرف منسوب کی جاتی ہے۔

٭ کبھی کسی کی کوئی بات حضور کی طرف منسوب کی جاتی ہے۔

٭ کبھی ضعیف حدیث کے ساتھ قوی سند لگا کر۔

اس آخری صورت میں اصل نسبت تو جھوٹی نہیں ہوتی لیکن حتمی و یقینی شکل بنا کر پیش کرنا واقعی جھوٹ ہے ۔

حکم و مرتبہ :۔ اسکو حدیث مجازاکہتے ہیں ورنہ در حقیقت یہ حدیث ہی نہیں ، اور جس حدیث کی وضع کا علم ہو اس میں وضع کی صراحت کے بغیر اسکی روایت کرنا جائز نہیں ۔

بعض صوفیہ اور فرقہ کرامیہ ترغیب و ترہیب میں ایسی روایت کے جواز کے قائل ہیں مگر جمہور اسکے خلاف ہیں ، امام الحرمین نے تو واضع حدیث کو کا فرتک کہا ہے۔

یہ جرم اتنا قبیح ہے کہ کسی سے متعلق ایک مرتبہ بھی یہ حرکت ثابت ہو جائے تو پھر کبھی اسکی روایت مقبول نہیں ہوتی خواہ توبہ کرلے۔

ذرائع معرفت وضع:۔

٭ وضع کے سلسلہ میں واضع کا اقرار۔ یا بمنزلۂ اقرار۔یا راوی کے اندر کسی قرینے سے ۔ یا مروی کے اندر کسی طریقے سے وضع کا علم ہوتا ہے۔

٭ نیز عقل و مشاہدہ ،صراحت قرآن ،سنت متواترہ، اجماع قطعی ، اور مشہور تاریخی واقعات کی واضح مخالفت سے بھی وضع کا حکم لگایا جاتا ہے۔ یہ جب ہے کہ تاویل و تطبیق کا احتمال نہ رہے۔

٭ امر منقول ایسا ہو کہ حالات و قرائن بتاتے ہیں کہ ایک جماعت اسکی ناقل ہونی چاہئیے تھی، یا یہ کہ دین کی اصل ہے اور ان دونوں صورتوں میں راوی و ناقل صرف ایک ہے، یا زیادہ ہیں لیکن تواتر کو نہیں پہونچے۔

٭ کسی معمولی چیز پر سخت و عید ،یا اجر عطیم کی بشارت، نیز وعید و تہدید میں ایسے لمبے چوڑے مبالغے ہوں جنہیں کلام معجز نظام نبوت سے مشابہت نہ رہے۔

٭ معنی شنیع و قبیح ہوں جنکا صدور حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے نا ممکن، جیسے معاذ اللہ کسی فساد یا ظلم، یا عبث ، یاسفہ ، یا مدح باطل یا ذم حق پر مشتمل ہو ۔

٭ ایک جماعت جسکا عدد حد تواتر کو پہونچے اور ان میں احتمال کذب یا ایک دوسرے کی تقلید کا نہ رہے اسکے کذب و بطلان ہر گواہی مستنداً الی الحس دے۔

٭ لفظ رکیک و سنحیف ہوں جنہیں سمع دفع اور طبع منع کرے اور ناقل مدعی ہو کہ یہ بعینہا الفاظ کریمہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں ، یا وہ محل ہی نقل بالمعنی کانہ ہو ۔

٭ یا ناقل رافضی حضرات اہل بیت کرام علی سید ہم و علیہم الصلوۃ والسلام کے فضائل میں وہ باتیں روایت کرے جو اسکے غیر سے ثابت نہ ہوں۔

٭ یونہی وہ مناقب امیر معاویہ و عمر بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہ صرف نواصب کی روایت سے آئیں کہ جس طرح روافض نے فضائل امیر المومنین و اہل بیت طاہرین رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں قریب تین لاکھ حدیثوں کے وضع کیں ، کما نص علیہ الحافظ ابو یعلی و الحافظ الخلیلی فی الارشاد، یونہی نواصب نے مناقب امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں

حدیثیں گڑھیں، کما ارشد الیہ الامام احمد بن حنبل رحمۃ ا اللہ تعالی علیہ ۔

٭ تمام کتب و تصانیف اسلامیہ میں استقرائے تام کیا جائے اور اس کا کہیں پتہ نہ چلے یہ صرف اجلۂ حفاظ ائمہ شان کا کام تھا جسکی لیاقت صدہا سال سے معدوم ۔( فتاوی رضویہ جدید ۵/۴۶۰)

دواعی وضع:۔

کسی نے تقرب الی اللہ کی غرض سے غلبہ جہل کے باعث۔کسی نے اپنے مذہب کی فوقیت میں تعصب و عناد کی خاطر۔ کسی نے بددینی پھیلانے کے لئے۔ کسی نے دنیا طلبی اور خواہش نفسانی کے پیش نظر۔ اور کسی نے حب جاہ اور طلب شہرت کے لئے یہ مذموم فعل اپنا وطیرہ بنایا تھا۔( تدریب الراوی للسیوطی ۱/۲۸۸)

بعض مفسرین نے بلا صراحت وضع ایسی روایات لی ہیں ۔ وضع کا زیادہ تر تعلق اقوام و افراد کی منقبت و مذمت،انبیاء سابقین کے قصوں، بنی اسرائیل کے احوال ،کھانے پینے کی چیزوں ،جانوروں ،جھاڑ پھونک ، دعا اور نوافل کے ثواب سے رہا ہے۔(العجالۃ النافعہ ۷۱)

تصانیف فن

٭ تذکرۃ الموضوعات للمقدسی ، م ۵۰۷

٭ کتاب الموضوعات لا بن الجوزی، م ۵۹۷

٭ اللآ لی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ للسیوطی، م ۹۱۱

٭ تنز یہ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاحادیث الشنیعۃ الموضوعۃ للکتانی ،

م ۹۶۳

متروک

تعریف :۔ سند و حدیث میں کوئی راوی متہم با لکذب ہو۔

اسباب اتہام میں ایک اہم سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ تنہا ایسی روایت کرتا ہے جو قرآن و حدیث سے مستنبط قواعد کے خلاف ہو ۔

دوسرا سبب اسکی عام گفتگو میں جھوٹ بولنے کی عادت مشہور ہو جبکہ حدیث کے بیان میں اسکی یہ عادت ثابت و منقول نہ ہو۔

حکم و مرتبہ :۔ موضوع کے بعد اسکا مرتبہ ہے ، اسکی یہ روایت مقبول نہیں ہاں جب توبہ کرلے اور امارات صدق ظاہر ہو جائیں تو اسکی حدیث مقبول ہوگی ، اور جس شخص سے نادراً اپنے کلام میں کذب صادر ہو اور حدیث میں کبھی نہ ہو تو اسکی حدیث کو موضوع یا متروک نہیں کہتے ۔

پھر بھی پہلی صورت میں مردود رہے گی۔

مثال:۔ عن عمرو بن شمر ، عن جابر، عن ابی الطفیل ، عن علی و عمار قالا : کان النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقنت فی الفجر ویکبر یوم عرفۃ من صلوۃ الغداۃ ،و یقطع صلوۃ العصر آخر ایام التشریق۔ (میزان الاعتدال للذہبی، ۱ /۲۲۳)

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فجر میں قنوت پڑھتے، اور تکبیر تشریق نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہوی کی عصر تک کہتے تھے۔

اس حدیث کی سند میں عمر وبن شمر جعفی شیعی کوفی ہے، ابن حبان نے کہا: یہ رافضی تبرائی تھا۔

؁ یحیی بن معین نے فرمایا: اسکی حدیث نہ لکھی جائے۔

امام بخاری نے فرمایا: منکر الحدیث ہے ۔

امام نسائی اور دار قطنی نے متروک الحدیث کہا۔(میزان الاعتدال للذہبی، ۱/۲۲۹)

منکر

تعریف:۔ جسکی سند میں کوئی راوی فسق یاکثرت غلط یا فرط غفلت سے متصف ہو ۔

حکم و مرتبہ :۔ یہ حدیث ضعیف کہلا تی ہے، اور تعریف میں جن تین اوصاف کا تذکرہ ہوا

ضعف میں بھی اسی ترتیب کا لحاظ ہو تاہے، یعنی بدتر سے کمتر کی طرف۔ لہذا زیادہ قابل رد بر بنائے فسق ہوگی ، و علی ہذا۔

مثال :۔ حدثنا ابو البشر بکر بن خلف، ثنا یحیی بن محمد قیس المدنی ، ثنا ہشام بن عروۃ عن ابیہ عن عائشۃ قالت: قا ل رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :کلوا البلح بالتمر ،کلوا الخلق بالجدید فان الشیطان یغضب۔ (السنن لا بن ماجہ ۲/۲۳۹)

ام المو منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کچی کھجوروں کو خشک کھجوروں کو ساتھ ملا کر کھایا کرو، اور پرانی کھجور جدید کے ساتھ ، کہ شیطان کو اس سے غصہ آتا ہے۔

اس حدیث کی سند میں یحیی بن محمد ہیں جو کثرت غلط سے متصف تھے۔ حافظ ابن حجر نے انکے بارے میںکہا یہ بہت زیادہ خطا کر تے تھے ، اگر چہ یہ رجال مسلم سے ہیں لیکن امام مسلم نے فقط متالبعات میں ان سے روایات لی ہیں ، لہذا انکی یہ حدیث منکر ضعیف ہے۔

معلل

تعریف ۔ وہ حدیث جو بظاہر بے عیب ہو مگر اسکے اندر کسی ایسے عیب کا علم ہو جائے جو اسکی صحت کو مجروح کردے،اس عیب کو علت کہا جاتا ہے۔

یہ علت نہایت پوشیدہ ہوتی ہے اور صحت پر اثر انداز۔ کبھی علت سند میں ہوتی ہے اور اسکا اثر متن پر بھی پڑتا ہے، جیسے متصل روایت مرسل ثابت ہوئی تو سند و متن دونوںغیر مقبول۔

کبھی صرف سند میں ہوتی ہے اور یہ وہاں جہاں سند میں ایک ثقہ کی جگہ دوسر ا ثقہ راوی لایا جائے۔ لہذا سند اگر چہ اس غلطی کی وجہ سے مجروح ہوگی لیکن متن مقبول ہے ۔ اور کبھی صرف متن میں ہوتی ہے ۔

لہذا معلل کی دو قسمیں ہیں ۔

Xمعلل در سند Xمعلل در متن

یہ علت راوی کے وہم کی پیدا وار ہوتی ہے ، جیسے راوی کبھی حدیث مرسل کو متصل ، یا متصل کو مرسل روایت کردے ، یا مرفوع کو موقوف یا ایک حدیث کو دوسری حدیث میں داخل کر دے یا اور کسی قرینۂ خفیہ سے جس پر ہر ایک کو اطلاع نہیں ہوتی بلکہ یہ فن نہایت عظیم بلکہ دقیق ہے کہ اسکی بنیاد ان اسباب علل پر بھی ہوتی ہے جو ظاہر و واضح نہیں ہوتے بلکہ مخفی و پوشیدہ انکو اعلیٰ درجہ کے محدثین و محققین ہی سمجھ پاتے ہیں ۔ جیسے ابن مدینی ، امام احمد ابن حنبل ،امام بخاری ، ابوحاتم ، دار قطنی ۔

تصانیف فن

٭ کتاب العلل لا بن المدینی، م ۲۲۴

٭ علل الحدیث لا بن ابی حاتم، م ۳۲۷

٭ العلل و معرفۃ الرجال لا حمد بن حنبل ، م ۲۴۱

٭ العلل الکبیر و العلل الصغیر للترمذی ، م ۲۷۰

٭ علل الواردۃ فی الاحادیث النبویہ للدار قطنی ، م ۳۸۵

٭ کتاب العلل للخلال ، (تدریب الراوی للسیوطی ۱/۲۵۱) م۳۱۱

مخالفت ثقات

راوی پر طعن کا سبب ثقات کی مخالفت بھی ہے جسکی سات صورتیں ہیں ۔ لہذا سات عنوان اسکے لئے وضع کئے گئے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں: ۔

مدرج ، مقلوب ، المزید فی متصل المسانید ، مضطرب، مصحف ، شاذ ، منکر ، ۔

اجمالا یوں سمجھئے کہ مخالفت ثقات اسناد یا متن میں تبدیلی یا اضافہ کی صورت میں ہو تو مدرج ہے ۔ تقدیم و تاخیر میں ہو تو مقلوب ہے ۔ معتبر سند میں راوی کا اضافہ ہو تو المزید فی متصل الاسانید ہے ۔ اگر راوی میں تبدیلی یا متن میں ایسا اختلاف جو تعارض کا سبب ہو اور کوئی وجہ ترجیح نہ ہو تو مضطرب ہے ۔ اگر حروف میں تبدیلی ہو تو مصحف ہے ۔ ثقہ اگر اوثق کی مخالفت کرے تو شاذ اور اسکے مقابل محفوظ ہے ۔ ضعیف اگر ثقہ کی مخالفت کرے تو منکر اور اسکے مقابل معروف ہے۔

مدرج

تعریف۔ جس حدیث میں غیر کو داخل کر دیا جائے ۔

دو قسمیں ہیں:۔

Xمدرج الاسناد X مدرج المتن

تعریف مدرج الاسناد ۔ وہ حدیث جسکی سند کا وسط یا سیاق بدل دیاجائے ۔

اسکی متعدد صورتیں ہیں لیکن اجمالی کلام یہ ہے

٭ راوی کو ایک حدیث چند شیوخ سے پہونچی جنہوں نے اس حدیث کو مختلف سندوں سے بیان کیا تھا ، پھر اس راوی نے حدیث مذکور کو ان سب سے ایک سند کے ساتھ روایت کر دیا ، اور انکی سندوں کا اختلاف بیان نہ کیا ۔ جیسے ۔

عن بندار عن عبد الرحمن بن مہدی عن سفیان الثوری عن واصل

و منصور والاعمش عن ابی وائل عن عمر وبن شرجبیل عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قلت: یا رسول اللہ ! ای الذنب اعظم ؟ قال : ان تجعل للہ ندا وہوخلقک ، قال : قلت : ثم ماذا ؟ قال: ان تقتل ولدک خشیۃ ان یطعم معک ، قال : قلت : ثم ماذا؟ قال :ان تزنی حلیلۃ جارک ۔(الجامع للترمذی، تفسیرسورۃ الفرقان ۲/۱۴۹)

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ؟ فرمایا : یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو اسکا شریک بنائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا فرمایا : میں نے عرض کیا: پھر کونسا؟ فرمایا : اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کر دینا کہ وہ تیرے ساتھ مل کر کھائے گا ۔ میں نے عرض کیا : پھر کونسا؟ فرمایا : اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا میں مبتلا ہو جانا ۔

اس حدیث کی روایت میں واصل ، منصور اور اعمش کی سندیں مختلف تھیں ، کہ واصل کی سند میں عمر و بن شرحبیل نہ تھے ،بلکہ ابو وائل ہیں ، اور منصور و اعمش کی سند میں تھے۔ حضرت سفیان ثوری کے راوی عبد الرحمن بن مہدی نے حدیث مذکور کو سب سے بیک سند روایت کر دیا ۔

٭ کسی شیخ کے نزدیک متن کا ایک حصہ ایک سند سے مروی تھا اور دوسرا حصہ دوسری سند سے ۔ انکے شاگرد نے دونوں حصوں کو ان سے ایک سند کے ساتھ روایت کر دیا ۔ جیسے ۔

حدثنا عثمان نبن ابی شیبۃ ، اخبرنا شریک عن عاصم بن کلیب عن ابیہ عن وائل بن حجر قال: رأیت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حین افتتح الصلوۃ رفع یدیہ حیال اذنیہ ، قال : ثم أتیتہم فرأیتہم یرفعون ایدیہم الی صدورہم فی افتتاح الصلوۃ وعلیہم برانس واکیسہ ۔ (السنن لا بی داؤد باب رفع الیدین فی الصلوۃ)

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز شروع کرتے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھائے ۔ کہتے ہیں : پھر میں ایک دوسرے موقع پر ( سردی کے موسم میں) حاضر ہوا تو دیکھا کہ سب حضرات تکبیر تحریمہ میں صرف سینہ تک ہاتھ اٹھا تے ہیں اور اس وقت وہ ٹوپے اوڑ ھے تھے اور جبوں میں ملبوس ۔

اس حدیث میں یہ جملہ ’ثم أتیتہم فرأیتہم الخ‘ عاصم کے نزدیک اس سند سے نہیں بلکہ دوسری سند سے ثابت تھا مگر انکے شاگرد ’شریک ‘ نے اسے اول متن کے ساتھ ملا کر مجموعہ کو اس سند کے ساتھ عاصم سے روایت کر دیا۔

دوسری سند یوں ہے ۔

حدثنا محمد بن سلیمان الانباری ، اخبر نا وکیع عن شریک عن عاصم بن کلیب عن علقمۃ بن وائل عن وائل بن حجر قال :اتیت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فی الشتاء فرأیت اصحابہ یرفعون ایدیہم فی ثیا بہم فی الصلوۃ ۔

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں موسم سرما میں حاضر ہوا تو میں نے آپکے صحابہ کو دیکھا کہ نماز میں اپنے ہاتھوں کو کپڑوں کے اندر ہی اٹھاتے ہیں ۔

پہلی سند میں عاصم نے اپنے والد کلیب سے روایت کی ہے اور انہوں نے وائل بن حجر سے ،۔ جبکہ اس دوسری سند میں عاصم کی روایت علقمہ بن وائل سے ہے ۔

٭ ایک شیخ کے نزدیک دو متن دو مختلف سندوں سے مروی تھے مگر انکے شاگرد نے دونوں کو ایک سند سے روایت کر دیا ۔ جیسے یہ دو حدیثیں امام مالک نے روایت کیں۔

مالک عن ابن شہاب عن انس بن مالک ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال: لا تبا غضوا و لا تحاسدوا و لا تدا بروا، و کونوا عباد اللہ اخوانا، ولا یحل لمسلم ان یہجر اخاہ فوق ثلث لیال ۔(المؤطا لمالک، ۳۶۵)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آپس میں بغض نہ رکھو ، حسد نہ کرو ، قطع تعلق نہ کرو ، اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے بنکر آپس میں بھائی چارگی کے ساتھ رہو ، کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رہے ۔

مالک عن ابی الزناد عن الاعرج عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : ایاکم و الظن، فان الظن اکذب الحدیث، ولا تجسسوا ولا تحسسوا ولا تنافسوا ولا تحاسدوا ولا تبا غضوا ولا تدا بروا، وکونوا عباد اللہ اخوانا۔(المؤطا لمالک، ۳۶۵)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بدگمانی سے بچو کہ یہ بڑا جھوٹ ہے ، کسی کی پوشیدہ باتیں نہ سنو اور کسی کی اندورن خانہ چیزوں میں نہ پڑو، آپس میں ایک دوسرے کو نیچا نہ دکھاؤ اور باہم حسد نہ رکھو ، اپنے درمیان بعض و عناد نہ رکھواور قطع تعلق نہ کرو ، اللہ تعالی کے بندے بھائی بھائی بنکر رہو۔

پہلی حدیث حضرت انس سے مروی ہے اور دوسری حضرت ابو ہریرہ سے ، امام مالک نے دونوں کو علیحدہ علیحدہ سندوں سے ذکر کیا ۔

پہلی حدیث حضرت انس سے مروی ہے اس میں لفظ ’ولا تنا فسوا‘ نہیں اور دوسری حضرت ابوہریرہ سے اور اس میں یہ لفظ ہے۔ امام مالک نے دونوں حدیثوں کو علیحدہ علیحدہ سند سے ذکر کیا تھا ۔ مگر امام مالک کے شاگرد سعید بن حکم المعروف بابن ابی مریم ، نے دونوں روایتوں کو پہلی سند سے روایت کر دیا۔(حاشیہ نذہۃ النظر ۶۱)

٭ شیخ نے ایک سند بیان کی اور اس کا متن بیان کرنے سے پہلے کسی ضرورت سے کچھ کلام کیا ، شاگرد نے اس کلام کو سند مذکور کا متن خیال کرکے اس سند کے ساتھ شیخ سے روایت کر دیا ۔

یہ چاروں صورتیں مدرج الاسناد کی ہیں ۔

تعریف مدرج المتن ۔ جس متن حدیث میں غیر حدیث کو داخل کر دیا جائے خواہ صحابی کا قول ہو یا بعد کے کسی راوی کا ۔ نیز ادراج درمیان میں ہو یا اول و آخر میں ۔ پھر اسکو حدیث رسول کے ساتھ اس طرح مخلوط کر دیا جائے کہ دونوں میں امتیاز نہ رہے ۔

٭ اول حدیث میں ادراج ، جیسے :۔

خطیب بغدادی نے ’ابو قطن ‘ اور ’ شبابہ‘ سے ایک روایت یوں نقل کی ہے ۔

عن شعبۃ عن محمدبن زیاد عن ابی ہریرۃ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:اسبغو ا الوضوء ، ویل للأ عقاب من النار ۔ (حاشیہ نذہۃ النظر ۶۲)

حضرت ابوہررہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وضو میں خوب مبالغہ کرو، ایڑیوں کے لئے دوزخ کی تباہی ہے ۔

اس حدیث میں ’ اسبغوا الوضوء‘ حضرت ابوہریرہ کا فرمان ہے جس کو ابو قطن

وغیرہ نے حدیث مرفوع میں مخلوط کرکے پیش کر دیا ہے ۔

امام شعبہ سے روایت کرنے والے آدم اور محمد بن جعفر ہیں لیکن کسی میں یہ لفظ نہیں ۔

آدم سے بطریق شعبہ امام بخاریٔ نے روایت لی ہے انکے الفاظ یہ ہیں :۔

عن آدم بن ابی ایاس ، ثنا شعبۃ ، ثنا محمد بن زیاد قال سمعت اباہریرۃ و کان یمر بنا و الناس یتو ضئون من المطہرۃ فیقول : اسبغوا الوضوء ، فان ابا القاسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال: ویل للأعقاب من النار۔ ( الجامع الصحیح للبخاری باب غسل الاعقاب ۱/۲۸)

اس روایت سے یہ معلوم ہوا کہ ’اسبغوا الوضوء ‘ حضرت ابوہریرہ کا قول ہے ۔

اور محمد بن جعفر اور امام وکیع سے بطریق شعبہ امام مسلم نے روایت فرما کر ارشاد فرمایا :۔

وَلیس فیِ حَدِیث شعبۃ أسبغوا الوضُوء ۔(الصحیح لمسلم، باب وجوب غسل الرجلین بکمالہما ۱/۱۲۵)

امام شیبۃ کی حدیث میں اسبغوا الوضوء کے الفاظ نہیں ۔

خیال رہے کہ یہ تفصیل حضرت ابو ہریرہ کی روایت کی بنا پر ہے ورنہ صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمر و بن عاص سے جو روایت آئی اس میں یہ جملہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے یوں منسوب ہے ۔

کہ آپ نے ارشاد فرمایا:۔

ویل للأ عقاب من النار اسبغوا الوضوء ۔ (الصحیح لمسلم، باب وجوب غسل الرجلین بکمالہما ۱/۱۲۵)

خشک ایڑیوں کیلئے جہنم کی ہلاکت ہے ، وضو میں مبالغہ کرو۔

اور امام بہقی نے ابو عبد اللہ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بایں الفاظ مرفوعا

روایت لی ۔

انما مثل الذی یصلی ولا یرکع ، وینقر فی سجودہ کا لجائع لایأکل الا تمرۃ او تمر تین فماذا تغنیان عنہ ، فاسبغوا الوضوء ، ویل للأعقاب من النار۔ (السنن الکبری للیہقی، ۲/۱۲۷)

جوشخص نماز پڑھے اور رکوع و سجود اطمینا ن سے نہ کرے اسکی مثال ایسی ہے کہ بھوکے آدمی کو ایک دو کھجور کھانے کو ملیں ، تو کیا یہ اسکو کفایت کریںگی ، لہذا وضو میں مبالغہ کرو، سوکھی ایڑیوں کے لئے دوزخ کی ہلاکت ہے۔

ان دونوں روایتوں میں وہ لفظ موجود اور خود حضور کی طرف منسوب ہے ، لہذا ان سندوں کی رو سے حدیث کو مدرج المتن نہیں کہا جا سکتا ۔

بلکہ دوسری روایت میں توانتساب کو قوی بنانے کے لئے یہ الفاظ بھی ہے ہیں کہ راوی حدیث ابو صالح اشعری نے ابو عبد اللہ اشعری سے پوچھا ۔

من حدثت بہم الحدیث ، قال : امراء الاجناد ، خالد بن الولید ، و

عمر و بن العاص و شرحبیل بن حسنۃ و یزید بن ابی سفیان کل ھٰؤلاء سمعہ من رسول اللہ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ (السنن الکبری للیہقی، ۲/۱۲۷)

یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ؟ بولے : لشکروں کے امیروں نے یعنی ، خالد بن ولید ، عمر و بن عاص، شر حبیل بن حسنہ اور یزید بن ابی سفیان نے ۔ ان سب حضرات نے خود حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی تھی ۔

یہ حضرات خلافت فاروقی میں ملک شام میں فلسطین ، اردن، حمص ، قنسرین اور دمشق کے امیر تھے ۔

درمیان حدیث میں ادراج ، جیسے:۔

عن ام المومنین عائشۃ الصدیقۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قالت : اول ما بدی بہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم من الوحی الرویا الصالحۃ فی النوم فکان لا یری رویا الا جاء ت مثل فلق الصبح ثم حبب الیہ الخلاء و کان یخلو بغار حراء فیتحنث فیہ و ہو التعبد اللیالی ذوات العدد قبل ان ینزع الی اہلہ و یتزود لذلک ۔ (الجامع الصحیح للبخاری باب کیف کان بد ء الوحی ۱/۲)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے کا آغاز اچھے خوابوں سے ہوا ، جو خواب بھی آپ دیکھتے اس کی تعبیر صبح روشن کی طرح ظاہر ہوتی ، پھر آ پ کے دل میں خلوت گزینی کی محبت ڈال دی گئی اور آپ نے غار حراء میں خلوت اختیار فرمائی ، چنانچہ آپ وہاں تحنث ( یعنی عبادت ) میں چند ایام مشغول رہتے جب تک قلب اپنے اہل و عیال کی طرف مائل نہ ہوتا ، اتنے ایام کا توشہ ساتھ لے جاتے تھے ،

اس حدیث میں ’’وہو التعبد‘‘ درمیان حدیث میں ادراج ہے اور یہ امام ازہری کا قول ہے ،کما فی الطیبی۔

٭ اخر حدیث میں ادراج ، جیسے:۔

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم للعبد المملوک الصالح اجران ، و الذی نفسی بیدی لو لا الجہاد فی سبیل اللہ و الحج و برامی لا احببت ان اموت و انا مملوک ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : نیک غلام کو دو اجر ملتے ہیں۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! اگر جہاد حج اور والدہ کی خدمت کا معاملہ نہ ہوتا تو مجھے یہ ہی پسند تھا کہ میں غلامی کی حالت میںہی دنیا سے جائوں ۔

اس حدیث میں’’ نفسی بیدی الخ‘‘ سے پورا جملہ حضرت ابو ہریرہ کا قول ہے جو اخر حدیث میں مدرج ہے ، اس لئے کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس طرح کی تمنا نہیں کر سکتے تھے اور آپ کی والدہ ماجدہ بھی باحیات نہ تھیں جن کی خدمت غلامی سے مانع ہوتی ۔

نیز یہ روایت:۔

عن ابی خیثمۃ زہیر بن معاویۃ عن الحسن بن الحر عن القاسم بن مخیمرۃ عن علقمۃ عن عبد اللہ بن مسعود ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم علمہ التشہد فی الصلوۃ فقال : قل التحیات للہ الی آخرہ فاذا قلت ہذا فقد قضیت صلوتک ، ان شئت ان تقوم فقم ، وان شئت ان تقعد فاقعد ۔ (مقدمہ ابن صلاح، ۴۵)

حضرت علقمہ روایت کرتے ہیں حضرت عبد اللہ بن مسعود سے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے آپہ کو نماز میں پڑھاجانے والا تشہد تعلیم فرمایا، تو ارشاد فرمایا: پڑھو التحیات للہ الی آخرہ جب تم نے یہ پڑھ لیا تو نماز مکمل کر لی ، چاہو تو کھڑے ہو جائو اور چاہو تو بیٹھے رہو ۔

اس حدیث میں ’’ فاذا قلت ‘‘ سے آخر تک حضرت ابن مسعود کا قول ہے جو اپنے شاگرد حضرت علقمہ سے آپ نے بیان کیا تھا ، حضور کا فرمان نہیں ، لہذا ادراج آخر میں ہے ۔

حکم ۔ محدثین و فقہاء متفق ہیں کہ صحابہ کے بعد ادراج ناجائز ہے لیکن تشریح لفظ کیلئے جائز ۔

اسی لئے محتاط و محققین علماء سے بھی ایسا ادراج منقول ہے ، بخاری شریف میں اس کی کثیر مثالیں موجود ہیں ۔

تصانیف فن

٭ الفصل للوصل المدرج فی النقل للخطیب م ۴۶۳ ھ

٭ تقریب المنہج بترتیب المدرج لابن حجر م ۸۵۲ ھ

مقلوب

تعریف : – وہ حدیث جس میں تقدیم و تاخیر کے ذریعہ تبدیلی کر دی جائے ۔

وہ قسمیں ہیں :۔

Xمقلوب السند Xمقلوب المتن

مقلوب السند : – راوی اور اس کی ولدیت میں تقدیم و تاخیر سے ہوتا ہے ۔ یا راوی مشہو ر کی

جگہ دوسرے کانام لے دیا جاتا ہے جیسے ۔ کعب بن مرۃ کو مرۃ بن کعب ، روایت کردینا ،یا سالم بن عبد اللہ کی جگہ نافع کا ذکر کردینا ۔

مقلوب المتن: – الفاظ حدیث کی تقدیم و تاخیر کے ذریعہ تبدیلی کردینا۔ مثال جیسے :۔

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سبعۃ یظلہم اللہ فی ظلہ یوم لا ظل الا ظلہ الی ان قال ، و رجل تصدق بصدقۃ فاخفاہا حتی لا تعلم یمینہ ما تنفق شمالہ الحدیث ۔ (الصحیح لمسلم باب فضل اخفاء الصدقہ ۱ /۳۳۱)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سات لوگ برو ز قیامت اللہ تعالیٰ کے سایہ رحمت میںرہیں گے ، انہیں میں وہ شخص بھی ہے جو پوشیدہ طور پر صدقہ دیا کرتا ہے اس طرح کی بائیں ہاتھ سے دیتا ہے تو داہنے کو خبر نہیں ہوتی ۔

اس حدیث کے جملہ ’’ حتی لا تعلم الخ ‘‘ میں قلب واقع ہوا کیونکہ معروف و معتاد یہ ہی ہے کہ خرچ داہنے ہاتھ سے ہوتا ہے ۔ اور صحیح معروف وہ ہے جس کو امام مالک اور امام بخاری نے روایت کیا ۔

و رجل تصدق بصدقۃ فاخفا ہا حتی لا تعلم شمالہ ما تنفق یمینہ ۔(الجامع الصحیح للبخاری باب الصدقۃ با لیمین ۱/۱۹۱)

وہ شخص جو صدقہ اس طرح چھپا کر دیتا ہے کہ داہنا ہاتھ خرچ کرتا ہے تو بائیں کو خبر نہیں ہوتی ۔

امام قاضی عیاض نے فرمایا ، یہ قلب ناقلین سے واقع ہوا امام مسلم سے نہیں ، اس پر دلیل یہ ہے کہ امام مالک سے فورا بعد جو حدیث ذکر کی اس کو اسی حدیث کے مثل قرار دیا ہے ، اور امام مالک کی روایت میں وہی ترتیب ہے جو بخاری سے گزری حتی کہ الفاظ بھی بعینہ وہی ہیں ۔

کبھی مقلوب المتن کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک سند دوسری حدیث کے ساتھ اور دوسری سند پہلی حدیث کے ساتھ ضم کر دی جاتی ہے ، جیسے بغداد میں امام بخاری کا امتحان لینے کیلئے بعض لوگوں نے سو سے زائد احادیث میں ایسا ہی کیا تھا ۔

قلب متعدد وجودہ سے ہوتا ہے: ۔

٭ اپنا علمی تفوق ظاہر کرنا ۔

٭ کسی دوسرے کا امتحان لینا۔

٭ خطا و سہو کی بنا پر ۔

ٍحکم :-پہلی صورت میں ناجائز ہے ۔ دوسری صورت میں اسی وقت جائز جبکہ اسی مجلس میں

حقیقت واضح کر دی جائے ۔ البتہ تیسری صورت والا معذور ہے ۔ ہاں بکثرت ہو تو ضبط مجروح ہوگا اور روایت ضعیف قرار پائے گی ۔

تصنیف فن

٭ رافع الارتیاب فی المقلوب من الاسماء و الا لقاب للخطیب ۔م ۴۶۳ھ

قلب سند میں یہ کتاب خصوصیت کی حامل ہے ۔

المزید فی متصل الاسانید

تعریف:- جس حدیث کی سند بظاہر متصل ہو لیکن سند میں کسی راوی کا اضافہ کر دیا جائے ۔

مثال : – عن عبد اللہ بن المبارک قال : حدثنا سفیان عن عبد الرحمن بن یزید ، حدثنی بسر بن عبید اللہ قال: قال سمعت ابا ادریس قال : سمعت واثلۃ بن الاسقع یقول : سمعت ابا مرثد الغنوی یقول سمعت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول :لا تجلسوا عن القبو ر ولا تصلوا الیہا ۔ (الجامع للترمذی باب فی کراہیۃ الوطی علی القبور ۱/۱۲۵)

ابو مرثد غنوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو ۔

اس حدیث کی سند میں دو راویوں کی زیادتی ہے ۔

Xسفیان Xابو ادریس

یہ زیادتی محض وہم کی بنیاد پر ہے ۔

٭ سفیان کی زیادتی امام عبد اللہ بن مبارک سے نقل کرنے والے رواۃ کے وہم کی بنا پر ہے ۔ کیونکہ ثقہ حضرات نے ابن مبارک کے بعد براہ راست عبد الرحمن بن یزید کی روایت نقل کی ۔(الصحیح لملسم باب فی النہی عن الجلوس علی القبر ۱ /۳۱۲)

اور بعض راویوں نے تو ’’عن ‘‘ کے بجائے صریح ’’ اخبر‘‘ استعمال کیا ہے ۔

٭ ابوادریس کا اضافہ خود ابن مبارک کا ہے ، اس لئے کہ ان کے استاذ عبد الرحمن سے روایت کرنے والے ثقات کی ایک جماعت نے ابو ادریس کا ذکر نہیں کیا اور بعض نے تو تصریح کردی ہے کہ ’’ بسر ‘‘ نے براہ راست ’ واثلہ ‘‘سے سنا ہے ۔(السنن لا بی داؤد باب کراہیۃ القعود علی القبر ۲/۴۶۰)

حکم:- وہم کی بنا پر مردود ہوتی ہے ، ہاں زیادتی کرنے والا اپنے مقابل سے فائق ہو تو پھر

راجح و مقبول ہے ۔ اور دوسری منقطع ،لیکن یہ انقطاع خفی ہوتا جس سے حدیث مرسل خفی ہوجاتی ہے ۔

تصنیف فن

٭ تمیز المزید فی متصل الاسانید للخطیب ، م۴۶۳

یہ اس فن کی اہم کتاب ہے ۔

مضطرب

تعریف:- وہ حدیث جس کے تمام راوی ثقہ اور ہم پلہ ہوں لیکن مختلف صورتوں کے ساتھ مروی ہو۔ کبھی ایک راوی سے ہی اختلاف منقول ہوتا ہے کہ انہوں نے روایت متعدد مواقع پر کی ، اور کبھی راوی چند ہونے کی وجہ سے اختلاف ہوتا ہے ۔

واضح رہے کہ اختلاف ایسا شدید ہو کہ ان کے درمیان تطبیق و توفیق ممکن نہ ہو۔ پھر یہ بھی ضروری کہ تمام روایات قوت و مرتبہ میں مساوی و برابر ہوں کہ ترجیح بھی نا ممکن ہو ، اگر ترجیح یا توفیق ممکن ہوئی تو اضطراب متحقق نہیں ہوگا ۔

اضطراب کی دو قسمیں ہیں :۔

اضطراب فی السند اضطراب فی المتن

مثال قسم اول : – یہ قسم ہی زیادہ وقوع پذیر ہے ۔ جیسے:۔

حدثنا مسدد ، حدثنا بشر بن المفضل ، حدثنا اسماعیل ابن امیہ حدثنی ابو عمر و بن محمد بن حریث انہ سمع جدہ حریثا یحدث عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : اذا صلی احدکم فلیجعل تلقاء وجہہ شیئا ، فان لم یجد فلینصب عصا ، فان لم یکن معہ عصا فلیخطط خطا ثم لا یضرہ ما مرا مامہ ۔ ( السنن لا بی داؤد با ب الخط اذا لم یجد عصا)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں کوئی نما ز پڑھنے کھڑا ہو تو اپنے سامنے سترہ قائم کر ے ، اگر کوئی چیز نہ ملے تو اپنا عصا ہی نصب کرے ، اور عصا بھی نہ ہو تو ایک خط کھینچ لے کہ اس کے سامنے سے گزرنے میں پھر کوئی حرج نہ ہوگا ۔

اس حدیث کو اسماعیل بن امیہ سے بشر بن مفصل اور روح بن قاسم نے بسند مذکور روایت کیا ، ان دونوں حضرات کی روایت میں ابو عمرو کے بعد راوی ان کے جد ’’ حریث‘‘ ہیں اور ان کے والد کا نام محمد ہے ۔

اور حضرت امام سفیان ثوری کی روایت ’’ اسماعیل بن امیہ ‘‘ سے اس طرح ہے ۔

عن ابی عمر و بن حریث عن ابیہ عن ابی ہریرۃ۔

اس سند میں ابو عمرو ، کے بعد راوی اگرچہ حریث ہیں مگر ان کو ابو عمرو کا والد قرار دیا ہے ۔

اور حمید بن اسود کی روایت اسماعیل بن امیہ سے طرح ہے:۔

عن ابی عمروبن محمد بن حریث بن سلیم عن ابیہ عن ابی ہریرۃ ۔

اس میں ابو عمرو کے بعد راوی ان کے والد ’’ محمد ‘‘ ہیں اور ’’ حریث‘‘ کے والد کا نام’ سلیم‘‘ ذکر کیا ہے ۔

اور وہیب و عبد الوارث کی روایت اسماعیل بن امیہ سے یوں ہے ۔

عن ابی عمرو بن حریث عن جدہ۔

اس میں ابو عمر کے بعد راوی ان کے جد حریث ہیں مگر والد کا نام بھی حریث بتایا ہے ۔

اور ابن جریج کی روایت اسمعیل بن امیہ سے اس طرح ہے:۔

عن ابی عمرو عن حریث بن عمار عن ابی ہریرۃ۔

اس میں ابو عمرو کے بعد اگرچہ حریث ہیں مگر ان کے والد کا نام عمار بیان کیا گیا ہے ۔

اس سند میں اس طرح کے اور بھی اضطراب ہیں۔(مقدمہ ابن صلاح ۴۵)

مثال قسم ثانی ،جیسے :۔

حدثنا عبد اللہ بن عبد الرحمن نا محمد بن الطفیل عن شریک عن ابی حمزۃ عن عامر عن فاطمۃ بنت قیس عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : ان فی المال حقا سوی الزکوۃ ۔ (الجامع للترمذی باب فی ان فی المال حقا سوی الزکوۃ ۱/۸۴)

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک مال میں زکوۃ کے علاوہ بھی ایک حق ہے۔

دوسری روایت اس طرح ہے :۔

حدثنا علی بن محمد، ثنا یحیی بن آدم عن شریک عن ابی حمزۃ عن الشعبی عن فاطمۃ بن قیس انہا سمعتہ تعنی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول: لیس فی المال حق سوی الزکوۃ۔ (السنن لا بن ماجہ باب ما ادی زکوتہ لیس بکنز ۱/۱۲۸)

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک مال میں زکوۃ کے علاوہ اور کوئی حق نہیں ۔

پہلی حدیث میں زکوۃ کے علاوہ مال میں کچھ اور حقوق بھی فرمائے تھے اور اس میں نفی ہے ۔ لہذا یہ متن میں اضطراب ہوا ۔

حکم:- اضطراب چونکہ راوی کے ضبط کی کمزوری کو بتاتا ہے ۔ لہذا ایسی احادیث ضعیف قرار

پاتی ہیں ۔ اور اس کا مرتبہ مقلوب کے بعد ہے ۔

تصنیف فن

٭ المقترب فی بیان المضطرب لا بن حجر ،

اس فن کی نادر کتاب ہے ۔

مصحف

تعریف : – وہ حدیث جس کے کسی کلمہ کو ثقہ روایت کی روایت کے خلاف نقل کیا جائے ۔ یہ اختلاف خواہ لفظی ہو یا معنوی ۔ اس میں تین قسمیں جاری ہوتی ہیں ۔

٭ باعتبار منشاء و باعث

٭ باعتبار محل

٭ باعتبار لفظ و معنی

اول کی دو قسمیں ہیں:۔

Xمصحف البصر Xمصحف السمع

مصحف البصر : – وہ حدیث جس میںرسم الخط کے نقص یا نقطوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے

اشتباہ ہو جائے ۔ جیسے:۔

عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما قال ـ قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : من صام رمضان و اتبعہ ستا من شوال خرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ ۔ (المعجم الاوسط للطبرانی ، ۸/۳۷۵)

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال کے چھہ روزے بھی تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوگیا جیسے اپنی پیدائش کے دن گناہوں سے پاک تھا ۔

اس حدیث کو بعض نے ’’ستا ‘‘کی جگہ ’’شیئا‘‘ سمجھا ۔

مصحف السمع : – وہ حدیث جس کو راوی اپنی سماعت کی کمزوری یا متکلم سے دوسری کے سبب

کچھ کا کچھ سمجھ لیتا ہے ۔

جیسے عاصم الاحوال کو بعض نے عاصم الاحدب سمجھ کر روایت کر دیا ۔

مصحف باعتبار محل کی بھی دو قسمیں ہیں :۔

Xمصحف السند Xمصحف المتن

مصحف السند :- جس حدیث کی سند مین تصحیف ہو ۔ جیسے:۔

عن شیبۃ عن العوام بن مراجم عن ابی عثمان النہدی عن عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لتودن الحقوق الی اہلہا ۔ ( مقدمہ ابن صلاح ۱۴۰)

امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہیں حق والوں کے حقوق ضرور ادا کرنا ہوں گے ۔

اس حدیث کی سند میں عوام بن مراجم کو یحیی بن معین نے مزاحم پڑھا جو اسی زمانہ میں رد کر دیا گیا تھا ۔ ( مقدمہ ابن صلاح ۱۴۰)

ٍ مصحف المتن : – وہ حدیث جس کے متن میں تصحیف واقع ہو ، جیسے ،

عن زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم احتجر فی المسجد ۔ ( مقدمہ ابن صلاح ۱۴۱)

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسجد مین چٹائی سے آڑ کی ۔

اس حدیث کو ابن لہیعہ نے کتاب موسیٰ بن عقبہ سے نقل کر کے، احتجم فی المسجد ،کر دیا ، یعنی آپ نے مسجد میں فصد کھلوائی ۔

یہ متن میں تصحیف ہوئی ، وجہ یہ تھی کہ ابن لہیعہ نے شیخ سے سنے بغیر محض کتاب سے یہ حدیث نقل کی جس کی وجہ سے یہ غلطی واقع ہوئی ۔(مقدمہ ابن صلاح ۱۴۱)

اور جیسے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حدیث:۔

رمی ابی یوم الاحزاب علی اکحلہ فکواہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔

اس حدیث میں’غندر‘ سے یہ تحریف واقع ہوئی کہ انہوں نے لفظ ’اُبی‘ کو مضاف مضاف الیہ کر کے روایت کر دیا حالانکہ یہ لفظ ’اُبی‘ ہے اور اس سے مراد’ اُبی بن کعب ‘ہیں انہیں کا یہ واقعہ ہے جو حدیث میں ذکر ہوا ۔ اور تحریف کی صورت میں تو یہ واقعہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد کا قرار پائیے گا اور یہ درست نہیں ، کیونکہ وہ تو جنگ احزاب سے بیشتر جنگ احد میں شہید ہو چکے تھے ۔(دیباچہ بشیر القاری۔ مصنفہ صدر العلماء میرٹھی علیہ الرحمہ ۳۸)

٭ لفظ و معنی کے اعتبار سے بھی دو قسمیں ہیں :۔

X مصحف اللفظ Xمصحف المعنی

مصحف اللفظ : – وہ حدیث جس کے لفط میں تصحیف ہو ، اکثر یہ ہی صورت پیش آتی ہے۔

اس کی دو قسمیں ہیں :۔

Xمصحف الشکل Xمصحف النقط

مصحف الشکل :- وہ ھدیث جس کے خط کی صورت تو باقی رہے لیکن حروف کی حرکت بدل

جائے ۔ جیسے:۔

حضرت عرفجہ کی حدیث میں ’یوم کلُاب‘ کو ’یوم کلاُِب‘ بتانا ۔

بعض نے اس کو محرف کا نام دیا ہے ۔ (دیباچہ بشیر القاری۔ مصنفہ صدر العلماء میرٹھی علیہ الرحمہ ۳۸)

مصحف النقط : – جس کے خط کی صورت تو باقی رہے لیکن نقطوں میں تبدیلی ہوجائے ۔ جیسے

گزشتہ مثال ۔

مراجم کو مزاحم پڑھنا۔

مصحف المعنی :- وہ حدیث جس کے معنی کو اصلی معنی مراد سے پھیر دینا جیسے:۔

ابو موسی عنزی کا بیان ہے کہ ہماری قوم کو بڑا شرف حاصل ہے کہ حضور نے ہمارے قبیلہ عنزہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ۔ حالانکہ حدیث میں عنزہ سے مراد نیزہ تھا ، اور یہ اپنے قبیلہ کو سمجھے ۔ تفصیل تدوین حدیث کے عنوان میں گزری ۔

حکم : – اگر کسی راوی سے اتفاقاً یہ عمل سرزد ہو جائے تو ضبط متاثر نہیں ہو تا کہ تھوڑی بہت غلطی

سے تو شاذ و نادر ہی کوئی بچتا ہے ۔ اگر بکثرت ہو تو عیب ہے اور ضبط مجروح ۔ اکثر و بیشتر تصحیف کا سبب یہ ہوتا تھا کہ راوی استاذ و شیخ کے بجائے کتب و صحائف سے حدیث حاصل کرتا تھا جس کے متعلق ایک زمانہ تک یہ نظر یہ رہا کہ اس طرح تحصیل حدیث منع ہے ، لیکن جب مدون ہوگیا اور محض زبانی یاد داشت پر تکیہ نہ رہا تو وہ ممانعت بھی نہ رہی ۔

مشہور تصانیف فن

٭ التصحیف للدار قطنی م ۳۸۵ھ

٭ اصلاح خطاء المحدثین للخطابی م ۳۲۸ھ

٭ تصحیفات المحدثین للعسکری م ۳۸۲ھ

شاذ و محفوظ

تعریف :- وہ حدیث جسے کوئی مقبول عادل راوی ایسے راوی کے خلاف روایت کرے جومرتبہ میں اس سے فائق ہے ۔

اس کے مقابل کو محفوظ کہتے ہیں: ۔

شاذ کی دو قسمیں ہیں :۔

X شاذ السند Xشاذ المتن

شاذ السند : – وہ حدیث جس کی سند میں شذوذ ہو ۔ جیسے:۔

عن سفیان بن عینیۃ عن عمر و بن دینار عن عوسجۃ عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان رجلا توفی علی عہد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و لم یدع و ارثا الا مولی ہو ا عتقہ ۔(شرح نخبۃ الفکر ۳۹)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عہد پاک میں ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس نے اپنے آقا کے سوا جس نے اسے آزاد کیا تھا کسی دوسرے کو وارث نہ چھوڑا ۔

یہ حدیث متصل ہے ، سفیان کی طرح ابن جریج نے بھی اسے موصولا روایت کیا ہے ۔ لیکن حماد بن زید نے مرسلا روایت کیا ۔ یعنی حضرت ابن عباس کو واسطہ نہیں بنایا ۔

چونکہ دونوں طرح کی روایتوں یعنی موصول و مرسل کے راوی ثقہ ہیں ، لیکن حماد بن

زید ، کے مقابلہ میں سفیان کی روایت کو متعدد ثقہ حضرات نے ذکر کیا ہے ، لہذا موصول راجح اور مرسل مرجوح قرار دی گئی اور مذکورہ سند محفوظ اور اس کے مقابل شاذ ہوئی ۔

شاذ المتن :- وہ حدیث جس کے متن میں شذوذ ہو ۔ جیسے:۔

عن عبد الواحد بن زیاد عن الاعمش عن ابی صالح عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اذا صلی احدکم الفجر فلیضطجع عن یمینہ۔ (السنن لا بی داؤد)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز فجر پڑھ لو تو داہنی کروٹ پر لیٹ جائو ۔

یہ حدیث قولی ہے ۔ لیکن دوسرے ثقہ حضرات نے اس حدیث کو حضور کے فعل کے طور پر ذکر کیا ہے ۔ امام بیہقی کہتے ہیں ، عبد الواحد نے حدیث قولی روایت کر کے متعدد ثقہ روات کی مخالفت کی ہے ۔ اور یہ اپنی اس روایت میں تنہا ہیں ۔ لہذا ان کی روایت’’ شاذ ‘‘اور دوسرے حضرات کی ’’محفوظ‘ ‘ ہے ۔

منکرو معروف

تعریف منکر :- وہ حدیث جس کا راوی ضعیف ہو اور معتمد رواۃ کی حدیث کے خلاف روایت کرے ۔

اس کے مقابل کو معروف کہتے ہیں : ۔

مثال : – ابن ابی حاتم کی روایت بطریق حبیّب بن حبیب :۔

عن ابی اسحاق عن العیزار بن حریث عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : من اقام الصلوۃ و آتی الزکوۃ و حج البیت و صام و قری الضیف دخل الجنۃ ۔ (شرح نخبۃ الفکر ۴۰)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے نماز پڑھی ،زکوۃ دی ،حج بیت اللہ کیا ، رمضان کے روزے رکھے اور مہمان نوازی کی وہ جنت میں داخل ہوا ۔

ابو حاتم کا کہنا ہے کہ یہ روایت منکر ہے ، کیونکہ ثقہ روات نے اس حدیث کو موقوفا روایت کیا یعنی حضرت ابن عباس کا قول بتایا ہے ، لہذا س مخالفت کی بنیاد پر ابو اسحاق کی یہ روایت منکر قرار پائی۔ اورباقی دوسرے ثقہ راویوں کی معروف ۔(۱۰۷)

انتباہ:-بعض حضرات نے ’’شاذ و منکر‘ میں مخالفت کا اعتبار نہیں کیا اور شاذ کی تعریف یہ کی ۔

اس حدیث کو کہتے ہیں جس کو ثقہ نے روایت کیا اور اس روایت مین منفرد ہو، اور اس کے لئے کوئی اصل موید پائی جائے ۔ یہ تعریف ثقہ کے فرد صحیح پر صادق آتی ہے ۔ اور اول تعریف صادق نہیں ۔ اور بعض نے ’’شاذ ‘‘ میں نہ راوی کے ثقہ ہونے کا اعتبار کیا اور نہ مخالفت کا ۔

ایسے ہی منکر کو صورت مذکورہ کے ساتھ خاص نہیں کیا یہ لوگ فسق اور فرط غفلت اور کثرت غلط کے ساتھ مطعون کی حدیث کو منکر کہتے ہیں ۔ یہ اپنی اپنی اصطلاح ہے ۔

و للناس فیما یعشوقون مذاہب ۔ (شرح نخبۃ الفکر ۴۰)

منکر کی بایں معنی تعریف اور قدرے تفصیل متروک کے بعد اس سے قبل ذکر کی جا چکی ہے ۔

ابن صلاح نے منکر مقابل معروف کو مقسم قرار دیکر شاذاور منکر کو اس کی قسمیں بتایا

ہے ۔

حکم : – شاذ کے راوی ثقہ نہیں تو یہ مردود ہے ورنہ مرجوح ہوگی اور منکر مردود ہے ۔

البتہ محفوظ و معروف راجح اور مقبول ہوتی ہے ۔

زیاتی ثقات

تعریف : – زیادتی ثقات سے مراد راویوں کی جانب سے احادیث میں منقول وہ زائد کلمات ہیں جو دوسروں سے منقول نہ ہوں ۔

زیادتی ثقات در اصل مخالفت ثقات کا ایک پہلو ہے اور گزشتہ اوراق میں ذکر کردہ اقسام در اصل اسی اصل کے جزئیات ہیں جیسا کہ مذکورہ تفصیلات سے ظاہر ہے ۔ لیکن ان کے عناوین مستقل تھے لہذا ان کو علیٰحدہ ذکر کر دیا گیا ۔

اب زیادتی ثقات کو علیٰحدہ ایک مستقل علم و فن اور باب قرار دیکر اس سے بحث مقصود ہے ۔ زیادتی متن میں بھی ہوتی اور سند میں بھی ۔

متن میں زیادتی کی تین قسمیں ہیں :۔

Xزیادتی منافی Xزیادتی غیر منافی Xزیادتی منافی از بعض وجوہ

زیادتی منافی:- ایسی زیادتی جو دوسرے ثقات یا اوثق کی روایت کے منافی و معارض ہو ۔

مثال جیسے:۔

عن عقبۃبن عامر قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : یوم عرفۃ و یوم النحر و ایام التشریق عیدنا اہل الاسلام و ہی ایام اکل و شرب ۔ (الجامع للترمذی باب فی کراہیۃ یوم التشریق ۱/۹۶)

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یوم عرفہ و ذوالحجہ اور یوم نحر ۱۰؍ ذوالحجہ اور ایام تشریق ۱۱؍۱۲؍۱۳؍ ذوالحجہ ہم مسلمانوں کی عید کے ایام ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔

اس حدیث میں ’’یوم عرفۃ ‘‘ کی زیادتی ہے اور یہ زیادتی صرف موسی بن علی سے منقول ہے باقی طرق میں منقول نہیں ۔ اور یہ دیگر روایات کے منافی بھی ہے کہ دوسری روایتوں میں تو ۹؍ ذوالحجہ کے روزہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اس میں ممانعت ۔

حکم : – یہ مثل شاذ ہے:۔

زیادتی غیر منافی :- ایسی زیادتی جو معارض و منافی نہ ہو ۔

مثال : – عن الاعمش عن ابی رزین و ابی صالح عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اذا ولغ الکلب فی اناء احدکم لیغسلہ سبع مرار۔ (الصحیح لمسلم باب حکم ولوغ الکلب ۱/۱۳۷)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کتا تمہارے برتن میں منہ ڈالے تو اسکو سات مرتبہ دھولو۔

اما م اعمش تک تمام راوی اس متن پر متفق ہیں لیکن آپ کے بعد آپ کے تلامذہ میں علی بن مسہر نے’’ فَلْیُرِقْہ ‘‘کا اضافہ کر دیا ۔

یعنی برتن دھونے سے پہلے پانی کو بہادے ۔

امام مسلم فرماتے ہیں :۔

حدثنی محمد بن الصباح قال : نا اسماعیل بن زکریا عن الاعمش بہذا الاسناد مثلہ و لم یذکر ، فلیرقہ ۔(الصحیح لمسلم باب حکم ولوغ الکلب ۱/۱۳۷)

حکم : – یہ زیادتی ثقہ کی ہے اور اصل روایت کے منافی نہیں ، لہذاثقہ کی مستقل روایت کے حکم میں مقبول ہوگی ۔

زیادتی منافی از بعض وجوہ : – وہ زیادتی جو بعض وجوہ سے منافی ہو اور بعض اعتبار سے نہیں ۔

مثال : جیسے :۔

عن حذیفۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : فضلنا علی الناس بثلث ( الی ان قال ) و جعلت لنا الارض کلہا مسجدا و جعلت تربتہا لنا طہورا ۔

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہمیں لوگوں پر تین چیزوں میں فضیلت دی گئی ، (آخر میں فرمایا) اور ہمارے لئے تمام زمین مسجد بنادی گئی ، اور اس کی مٹی پاکی حاصل کرنے یعنی تیمم کا ذریعہ بنادی گئی ۔

اس حدیث میں ’’ و تربتہا ‘‘ کا لفظ صرف ابو مالک اشجعی سے مروی ہے اور کسی نے نہیں ، دوسری روایتوں کے الفاظ یہ ہیں ۔

و جعلت لنا الارض مسجد او طہورا ۔

اس زیادتی کے ذریعہ کبھی عام کی تخصیص اور کبھی مطلق کی تقیید ہوتی ہے ۔ امام نووی فرماتے ہیں : ۔

اما م شافعی اور امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس زیادتی کو معتبر قرار دیتے ہوئے لفظ مٹی سے تیمم جائز قرار دیا اور جن احادیث میںمطلق ارض کا ذکر ہے ان کو اسی پر محمول فرمایا ۔ بر خلاف امام اعظم و امام مالک رضی اللہ تعالی ٰ عنہما کہ آپ نے جمیع اجزائے زمین سے تیمم کو جائز فرمایا ہے ۔ لہذ مطلق اپنے اطلاق پر رہے گا اور مقید اپنی تقیید پر ۔

سند میں زیادتی : – سند میں زیادتی کی متعدد صورتیں ہیں جن کی تفصیل مستقل عناوین کے ساتھ گزرچکی ۔

جیسے ۔ المزید فی متصل الاسانید۔

زیادتی ثقہ کے تحت خاص طور پر حدیث کے وصل و ارسال ، اور وقف ورفع کا تعارض زیر بحث آتا ہے ۔

جہالت راوی

عدالت میں طعن کے وجوہ پانچ شمار کئے گئے تھے ،ان میں سے کذب اور اتہام کذب کا بیان موضوع اور متروک کے عنوان سے کیا جا چکا ۔ اور فسق راوی کا ذکر منکر کے ضمن میں گزرا اب جہالت راوی کا بیان ہے ۔

جہالت راوی سے مراد یہ ہے کہ راوی کی عدالت ظاہر ی اور باطنی معلوم نہ ہو ایسے راوی کو ’’ مجہول الحال ‘‘ کہتے ہیں اور اس کی حدیث کو’’ مبہم ‘‘۔

جیسے کہتے ہیں :۔

حدثنی رجل ۔ یا حدثنی شیخ۔

ایسے راوی کی حدیث مقبول نہیں ۔ ہاں اگر حدیث مبہم بلفظ تعدیل وارد ہو ، جیسے حدثنی ثقہ ، یا ’اخبرنی عدل‘ تو اس میں اختلاف ہے ۔اصح یہ ہے کہ مقبول نہیں۔ کیونکہ جائز ہے کہ کہنے والے کے اعتقاد میں عدل ہو اور نفس الامر میں نہ ہو ۔ اور اگر کوئی امام حاذق یہ الفاظ فرمائے تو مقبول ہے ۔ اور اگر راوی کی عدالت ظاہری معلوم ہے اور باطنی کی تحقیق نہیں اس کو مستور کہتے ہیں اور اگر راوی سے صرف ایک ہی شخص نے روایت کی ہے تو اسکو مجہول العین کہتے ہیں ، ان دونوں کی روایت محققین کے نزدیک قابل احتجاج ہے ۔

امام نووی قدس سرہ القوی منہاج میں فرماتے ہیں :۔

المجہول اقسام ، مجہول العدالۃ ظاہرا و باطنا ، و مجہولہا باطنا مع وجود ہا ظاہر ا و ہو المستور ، ومجہول العین ۔ فاما الاول فالجمہور علی انہ لا یحتج بہ ،اما الآخران فاحتج بہما کثیرون من المحققین ۔ (دیباچہ بشیر القاری ۳۶)

اس کی بعض تفصیلات حسب ذیل ہیں:۔

راوی کبھی کثرت صفات و القاب کی وجہ سے ،کبھی قلت روایت کی وجہ سے اور کبھی نام کی عدم صراحت کی وجہ سے مجہول ہوتا ہے ۔

کثرت صفات : – جن الفاظ و کلمات سے راوی کو ذکر کیا جاتا ہے ان کی کثرت خواہ وہ حقیقی نام و کنیت ہو ،یا لقب و وصف ، یا نسب و پیشہ۔ راوی ان میں سے کسی ایک سے معروف ہوتا ہے اور ذکر کرنے والا کسی خاص مقصد کے تحت غیر مشہور نام و وصف استعمال کرتا ہے ۔ لہذا یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ پوری ایک جماعت کے نام ہیں حالانکہ ان سب کا مصداق ایک ہی آدمی ہوتا ہے ۔

مثال : – محمد بن سائب بن بشر کلبی ۔ بعض نے دادا کی طرف منسوب کر کے محمد بن بشر ، ذکر کیا۔ بعض نے ا ن کا نام ’’حماد‘‘ لکھا ۔ کنیتوں میں کسی نے ابو نصر بیان کی۔ کسی نے ’’ ابو سعید ‘‘ اور کسی نے ابو ہشام۔ اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ متعدد اشخاص کے نام ہیں حالانکہ صرف ایک شخص ہیں ۔

قلت روایت : – راوی سے نقل روایت کا سلسلہ نہایت محدود ہوتا ہے کہ بعض اوقات ایک ہی شخص ان سے روایت کرتا ہے ۔ اس وجہ سے راوی مجہول سمجھا جاتا ہے ۔

مثال : – ابو العشراء دارمی ۔ یہ تابعین میں سے ہیں ، ان سے صرف ’’ حماد بن ابی سلمہ ‘‘ نے روایت کی ہے ۔

نام کی عدم صراحت : – حدیث کے راوی کا نام نہ لینا ، خواہ اختصار کے پیش نظر ہو خواہ کوئی دوسرا سبب ۔

مثال :۔راوی یوں کہے :۔

اخبرنی فلان ، اخبرنی شیخ ، اخبرنی رجل۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.