تحریر: … پروفیسر مسعود اختر ہزاروی

عنوان: “بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں نذرانہ نعت کے آداب”

Published in Daily jang  London 17 November 2018

رسول کریمﷺ سے محبت و الفت کا تعلق ہر اہل ایمان کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ یہ قانون فطرت ہے کہ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں محبوب کے حسن و جمال کی تعریف و توصیف ہوتی ہے اورحسن ِخلق و سیرت کا بار بار تذکرہ بھی۔ نعت لکھنے اور پڑھنے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں حب رسولﷺ کی شمع فروزاں ہو۔ آپﷺ سے اظہار محبت کے معنوی حقائق اس ارشاد گرامی سے آشکارہ ہو جاتے ہیں کہ ’’لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ و ولدہ والناس اجمعین‘‘ کہ اس وقت تک تم میں سے کسی کا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے ماں باپ، اولاد اور سب لوگوں سے بڑھ کے مجھ سے محبت کرنےوالا نہ ہو‘‘ نعت لکھنا اور پڑھنا باعث سعادت ہے لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے لئے ضروری اسلامی علوم و معارف سے آگاہی اور (حتی الامکان)مقام مصطفی ﷺکی پہچان ضروری ہے۔ اعلیٰ حضرت الشاہ احمد رضا بریلویؒ (جو خود اعلیٰ پائے کے نعت گو شاعر تھے) نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ ’’نعت لکھنا ایک مشکل کام ہے جس کو لوگ آسان سمجھتے ہیں۔ یہ تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے‘‘۔ اگر شاعر حد سے بڑھتا ہے تو الوہیت تک پہنچ جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص اور توہین کے زمرے میں آجائے گا۔ البتہ’’حمد‘‘ اس کے مقابلے میں آسان ہےکیونکہ اللہ کی بڑھائی اور کبریائی بیان کرنے کی کوئی حد ہی نہیں۔ ویسے تو نعت نثر اور نظم دونوں صورتوں میں ہوتی ہے لیکن عرف عام میں نظم اور اشعار کی صورت میں بارگاہ رسالت مآبﷺ میں ہدیہ عقیدت و خلوص پیش کیا جائے تواسے’’نعت‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ ’’انّ من الشعر حکمۃ‘‘(صحیح بخاری باب مایجوز من الشعر) ’’بعض اشعار حکمت سے بھرے ہوتے ہیں‘‘۔حضورﷺ کی مدحت اور شمائل و خصائص کو ابتدائے اسلام میں صحابہ کرام ؓ نے اشعار کی صورت میں بیان کیا اور اس کا سلسلہ ابھی تک جاری و ساری ہے۔صحابہ کرامؓ میں سے حسان بن ثابتؓ، اسود بن سریعؓ، عبداللہ بن رواحہؓ، عامر بن اکوعؓ، عباس بن عبد المطلبؓ، کعب بن زہیرؓ اور نابغہ جحدیؓ نعت گو شعراء تھے۔ علماء میں نعت گو شعرا کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ البتہ جنہیں شہرت دوام نصیب ہوئی ان میں امام ابو حنیفہؒ، امام شافعیؒ، مولانا رومؒ، امام بوصیریؒ اور امام احمد رضا خان بریلویؒ کے نام سر فہرست ہیں۔ اولیاء کرام میں سے جن ہستیوں کو نعت گوئی کا شرف نصیب ہوا ان میں سے شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، بابا فرید الدین گنج شکر، حضرت سلطان باہوؒ، خواجہ نظام الدین اولیاءؒ، امیر خسرو، ؒ خواجہ عثمان ہارونی، خواجہ محمد یار فریدیؒ اورپیر مہر علی شاہؒ کے نام مشہور و معروف ہیں۔ مدحت رسولﷺ کے حقیقی مزاج سے آگاہی کیلئے شاعر بارگاہ رسالت مآبﷺ حضرت حسان بن ثابتؓ کے نعتیہ کلام کا مطالعہ از حد ضروری ہے۔ آپ وہ نعت گو اور نعت خواں صحابی ہیں کہ جنہیں نبی کریمﷺ نے مسجد نبویﷺکے منبر پر بیٹھ کر دعا دی ’’اللہم ایدہ بروح القدس‘‘ (المعجم الکبیر باب الحاء، رقم 358) کہ(اے اللہ پاک حضرت جبریل امین علیہ السلام کے ذریعے حساب بن ثابت کی مدد فرما)۔ نعتیہ اشعار سننے کے بعد حضورﷺ انہیں تعریفی اور دعائیہ کلمات کے ذریعے سند قبول سے بھی نوازتے۔ جب حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نعت کا یہ شعر پڑھا کہ ’’فان ابی و والدتی و عرضی۔۔۔۔لعرض محمد منکم وقاء‘‘ (میرے ماں باپ اور عزت و آبرو، محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت و ناموس پر قربان ہو جائیں) تو آپ ﷺ نے ان الفاظ میں دعا دی ’’وقاک اللہ یا حسان حر النار‘‘ کہ اے حسان ؓ تجھے اللہ تعالی جہنم کی گرمی سے بچائے۔جب اشعار میں رسو ل کریمﷺ کی تعریف و توصیف کی جا رہی ہو تو از حد ضروری ہوتا ہے کہ اس تقدس کے پیش نظر اشعار کو مکمل اسلامی ڈھانچے میں ڈھال کر پیش کیا جائے۔ یہ تب ہی ممکن ہے کہ نعت گو شاعر دینی علوم و معارف سے واقفیت اور پاکیزہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کاشوق و شغف رکھتا ہو۔ آجکل محافل نعت کا اہتمام عام ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان محافل نعت کو مزید مؤثر بنانے کیلئے کچھ پہلو اصلاح طلب بھی ہیں۔ اصحاب علم کا فرض بنتا ہے کہ جہاں جہاں خامیاں ہوں انہیں فرض منصبی سمجھتے ہوئے دور کریں۔ بعض اوقات اس انداز میں عشقیہ اشعار پڑھے جاتے ہیں کہ سامعین عش عش کر اٹھیں اور زیادہ سے زیادہ داد و تحسین اور نوٹوں سے نوازیں۔ العیاذ باللہ بعض مقامات پر فلمی گانوں میں رد و بدل کر کے نعتیہ اشعار بنا لیے جاتے ہیں اور اسی فلمی ترنم اور لے میں انہیں پڑھا بھی جاتا ہے۔ ہے تو یہ قابل افسوس صورت حال لیکن تعجب ان اصحاب علم پر بھی ہے جن کی سرپرستی اور زیر سایہ شفقت یہ سارا کچھ ہو رہا ہوتا ہے اور وہ جانتے بوجھتے مصلحتوں کا شکار ہو کر خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ جشن ولادت نبویﷺ اور مشن بعثت نبویﷺ کے درمیان ایک توازن برقرار رکھیں۔ جہاں حب رسول ﷺ کے تذکرے ہوں وہاں اس کے تقاضوں سے بھی لوگوں کو آگاہ کریں۔ با شرع اور با عمل لوگوں کو نعت پڑھنے کی دعوت دی جائے۔ نعت عبادت سمجھ کے پڑھی جائے نہ کہ پیشہ ورانہ انداز میں فقط حصول دولت کیلئے۔ اس دوران شعائر اسلام کی پاسداری کا خیال رکھا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان محافل کو دین اسلام کی روح کے مطابق بامقصد اور فائدہ مند بنایا جائے۔ان مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سامعین کو نماز کی پابندی اور فکر آخرت کی تلقین کی جائے۔ اپنے ارد گرد کے ماحول کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے نسل نو کے ذہنوں میں اٹھنے والے شکوک و شبہات کے موثر جوابات دے کر ان کیلئے باعمل مسلمان بننے کی راہ ہموار کی جائے۔ رات کو دیر تک محافل نعت کا انعقاد اور اسی وجہ سے نماز فجر میں اگر کوتاہی ہوگی تو گویا ہم نے جشن تو منایا لیکن مشن مصطفیؐ کی زرا بھر پرواہ نہ کی۔ اس سے اللہ اور اس کے رسول کی کتنی خوشنودی نصیب ہوگی ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اکثر نعت خواں تو لکھی ہوئی نعتیں ہی پڑھتے ہیں لہذا جب نعت کا انتخاب کرنے لگیں تو کسی عالم با عمل سے مشورہ کر لیں تاکہ علمی حوالے سے کوئی کمزوری ہو تو اصلاح ہو سکے۔ نعت گو شعراء بھی جب قلم اٹھائیں تو مدحت سرکار دوعالم کے ساتھ ساتھ اطاعت رسولﷺ کی دعوت بھی دیں۔ حضورﷺ کے اخلاق عالیہ اور بابرکت معمولات ِحیات کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ سامعین مجلس برخاست ہونے سے پہلے پہلے سیرت طیبہ کے ان محاسن سے اپنے آپ کو آراستہ کرنے کا عزم مصمم کر لیں۔