سجدہ ٔسہو کا بیان

سجدہ سہو کا بیان

ہر نمازی سے نماز پڑھتے وقت کبھی کبھی ایسی غلطی ہوجاتی ہے کہ نمازناتمام اور نادرست ہوجاتی ہے ۔ نماز میں پیدا شدہ اس نقص کو سجدہ ٔ سہو سے دورکیا جاسکتا ہے ۔

 غلطی کی وجہ سے پیدا شدہ نقص سجدہ ٔ سہو کرلینے سے دور ہوجاتاہے اورنماز درست ہوجاتی ہے ۔

جن غلطیوں کی وجہ سے سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے وہ حسب ذیل ہیں:-

(۱) نماز میں جو کام واجب ہیں ان میں سے کوئی ایک یا ایک سے زیادہ واجب چھوٹ جائیں ۔

(۲) کسی واجب کے ادا کرنے میں تاخیر ہو۔

(۳) کسی واجب میں کوئی فرق واقع ہو ۔ یعنی بالترتیب طے شدہ افعال نماز کو خلافِ ترتیب ادا کرنا ۔

(۴) کسی فرض /رکن کے ادا کرنے میں تاخیر (دیر) ہو۔

(۵) کسی فرض /رکن کو وقت سے پہلے ادا کرلینے سے ۔

(۶) کسی فرض /رکن کو مکرر ( دوبارہ) یا زائد ادا کرنے سے مثلاً دو مرتبہ رکوع یاتین سجدے کرلیئے ۔( بہار شریعت ، جلد ۴ ، ص ۵۰)

مندرجہ بالا غلطیاں اگر سہواً (بھول کر)ہوئی ہیں ، تو ہی سجدہ ٔسہوسے اس غلطی کی تلافی ہوسکتی ہے ۔اگر کسی نے عمداً یعنی جان بوجھ کر غلطی کی ہے تو اب سجدہ ٔ سہو سے اس کی تلافی نہیں ہوسکتی ۔نماز کو پھیرنا یعنی دوبارہ پڑھنا ہوگا۔ ( درمختار)

اگر نمازکا کوئی فرض چھوٹا ہے ، چاہے سہواً (بھول کر) چاہے عمداً (جان بوجھ کر)چھوٹا ہے ۔سجدۂ سہوسے ہرگزاس کی تلافی نہیں ہوسکتی۔ نماز ہر حال میں فاسد ہوگی ۔ اس کو ازسرنو پڑھنی ہوگی۔

 جن صورتوں میں سجدہ ٔسہو واجب ہوتا ہے ،اگر سجدہ ٔ سہو نہ کیا تو نماز واجب الاعادہ ہوگی۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۴۶)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.