*میلاد کس کو منانا چاہیے؟*

*اس ماں کو:* جس کا اپنا بیٹا اس کے گلے میں رسی ڈال کر اس کو بیچ آتا تھا۔ یہ تو رحمۃ للعالمین ﷺ ہی ہیں جنہوں نے فرما دیا، ”ماں کی خدمت کو اپنے اوپر لازم کر لو کیونکہ جنت اس کے قدم کے پاس ہے۔“ (سنن النسائی، کتاب الجھاد، جلد ۶، صفحہ ۱۱، حدیث ۳۱۰۴)

*اس باپ کو:* جس کو اس کے بیٹے ڈنڈوں سے پیٹتے تھے۔ یہ تو حضور جان عالم ﷺ ہی ہیں جنہوں نے ارشاد فرمایا، ”والد کی رضا میں اللہ عزوجل کی رضا ہے اور اللہ عزوجل کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔“ (جامع الترمذی، کتا ب البر والصلۃ، جلد ۳، صفحہ ۳۶۰، حدیث ۱۹۰۷)

*اس بیٹی کو:* جسے پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ یہ تو نبی کریم رؤف رحیم ﷺ ہی ہیں جنہوں نے فرمایا، ”جس کی ایک بچی ہو اور وہ اسے زندہ دفن نہ کرے اور نہ ہی اسے حقیر جانے، اور نہ اپنے بیٹے کو اس پر ترجیح دے تو اللہ عزوجل اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“ (سنن ابو داؤد، کتاب الادب، جلد ۴، صفحہ ۴۳۵، حدیث ۵۱۴۶)

*اس بیوی کو:* جسے اس کا شوہر چیونٹی سے بھی کمتر سمجھتا تھا۔ یہ تو سید المحبوبین ﷺ ہی ہیں جنہوں نے فرمایا، ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے حق میں بہتر ہو۔“ (جامع الترمذی، کتاب الرضاع، صفحہ ۱۷۶۵، حدیث ۱۱۶۲)

*اس شوہر کو:* جس کا مقام اور مرتبہ اس کی بیوی کو تعلیم کرتے ہوئے محبوب رب اکبر ﷺ نے فرمایا، ”اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔“ (سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح، جلد ۴، صفحہ ۴۱۱، حدیث ۱۸۵۲)

*ان بہنوں، خالاؤں، پھوپھیوں، نانیوں اور دادیوں کو:* جن کی کفالت کی فضیلت میں نبی رحمت شفیع امت ﷺ نے ارشاد فرمایا، ”جس نے دو بیٹیوں یا دو بہنوں یا دو خالاؤں یا دو پھوپھیوں یا نانی اور دادی کی کفالت کی تو وہ اور میں جنت میں یوں ہوں گے، پھر اپنی شہادت اور اس کے ساتھ والی انگلی کو ملایا۔“ (المعجم الکبیر للطرانی، جلد ۲۲، صفحہ ۳۸۵، حدیث ۹۵۹)

*اس یتیم اور بیوہ کو:* جن کی جان و مال کی لوگوں کی نزدیک کوئی حرمت نہ تھی۔ یہ تو شہنشاہِ مدینہ ﷺ ہی ہیں جنہوں نے ارشاد فرمایا، ”جس نے کسی یتیم یا بیوہ کی کفالت کی اللہ اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔“ (المعجم الاوسط للطبرانی، جلد ۶، صفحہ ۴۲۹، حدیث ۹۲۹۲)

*اس غریب کو:* جسے بھیڑ بکریوں کی طرح بیچا جاتا تھا۔ یہ تو آقائے دو جہاں ﷺ ہی ہیں جو ان بیکسوں کا سہارا بنے اور ارشاد فرمایا، ”میری امت کے فقراء مالدار لوگوں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔“ (جامع الترمذی، ابواب الزھد، صفحہ ۱۸۸۸، حدیث ۲۳۵۱)

*اس مزدور کو:* جسے اس کا حق دلانے کے لئے پیارے آقا و مولیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا، ”مزدور کی مزدوری پسینہ سوکھنے سے پہلے د ے دو۔“ (سنن ابن ماجہ، کتاب الرھون، جلد ۳، صفحہ ۱۶۲، حدیث ۲۴۴۳)

*اس مولوی کو:* جس کی لوگ صرف نبی اکرم رسول معظم ﷺ کے اس ارشاد کی وجہ سے تعظیم و تکریم کرتے ہیں کہ، ”بے شک علماء وارثِ انبیاء ہیں۔“ (سنن الترمذی، کتاب العلم، جلد ۴، صفحہ ۳۱۲، حدیث ۲۶۹۱)

*اور اس پوری امت کو:* جس امت کے لئے صرف امت محمدی ﷺ ہونے کے سبب اللہ سبحانہ و تعالی نے وحی فرمائی، ”جب تک میرے محبوب کی امت جنت میں داخل نہ ہو جائے تمام امتوں پر وہ حرام رہے گی۔“ (احیاء علوم الدین، جلد ۵، صفحہ ۲۱۷)

پھر بھی اگر کچھ لوگ اس رحمت عالم، محسن اعظم، رسول اکرم، نبی مکرم، شفیع معظم، نور مجسم ﷺ کے میلاد کی خوشی منانے پر مسلمانوں کو معاذاللہ کافر، مشرک، بدعتی اور نہ جانے کیا کیا بکواسات کرتے ہیں تو ایسے نمک حرام، غدار، باغی، سرکش، احسان فراموش لوگوں کے لئے یہی پیغام ہے:

*ظالمو! محبوب ﷺ کا حق تھا یہی؟*

*عشق کے بدلے عداوت کیجئے؟*

*اور تم پر میرے آقا ﷺ کی عنایت نہ سہی؛*

*منکرو! کلمہ پڑھانے کا بھی احسان گیا؟*