عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اکثرلوگ جو میرے آس پاس رہتے ہیں

مجھے اہل حدیث سمجھتے ہیں ،کیونکہ میری بہت سی باتیں بریلویوں

سے نہیں ملتیں ،لیکن عید میلاد کی خوشی مجھے ساری اسلامی تقریبات

سے اچھی لگتی ہے ،اور ان سے زیادہ خوشی محسوس ہوتی ہے ،وجہ نا معلوم

مجھے اگر کوئی جتنے دلائل دے میں عید میلاد پر کنونس نہیں ہوتا

کس نے منایا کس نے نہیں منایا ،میں مناتا ہوں ،

کیا بدعت ہے کیا نہیں ہے ،کیا جائز ہے کیا ناجائز ہے ایک علیحدہ بحث

ہے ،بہت سے کام جو امت اس وقت کر رہی ہے صحابہ نے نہیں کیئے

لیکن انکا نہ کوئی حوالہ دیتا ہے نہ اس پر بات سنتا ہے ،کسی قسم کا

اجتماع صحابہ نے نہیں کیا ،یوم صدیق اکبر ،یوم فاروق اعظم رضوان اللہ

نہیں منایا ،نہ ہی مولا علی کی اولاد نے غم کا جلوس نکالا نہ ہی یوم شہادت

علی پر کالے کپڑے پہنے ،نہ گھروں پر علم لگائے ،نہ مجلس پڑھی نہ سنی

اسکے علاوہ سہ روزہ ،چلہ ،چار ماہ ،سال اندرونی ،سال بیرونی ،شب جمعہ

شب اتوار ،مزاکرہ ،گشت ،تقاضہ ،جوڑ اور اجتماع نہیں کیا

یہ کام ہوتے ہیں اور ثواب سمجھ کر ہوتے ہیں بلکہ ثواب کی حدیں بھی پار

کرتے ہیں ،مسجد حرام میں ایک نماز پڑھنے کا ثواب ایک لاکھ گنا ہے خواہ وہ نماز

سیدنا صدیق اکبر نے رسول اللہ صلی اللہ کی امامت میں پڑھی ہو،ایسی نماز مسجد نبوی شریف میں پڑھی تو فاروق اعظم رضی اللہ کو ثواب پچاس ہزار نمازوں کا ملے گآ ،اگر یہی نماز مولا علی نے فاروق اعظم کی اقتداء میں مسجد اقصی میں

پڑھی تو ثواب 25 ہزار نمازوں کا ،لیکن تبلیغ والا جونہی بستر لیکر اللہ کی راہ

میں نکلا پہلی ہی نماز خواہ کسی مسجد میں ہو ثواب 49 کروڑ نمازوں کا ہے

امام جو بھی ہو مقتدی خواہ پہلی دفعہ سہ روزے کیلئے نکلا ہو

ایک سہ روزہ پورا مہینہ اللہ کی راہ میں رہنے کے برابر ہے ،چلہ پورا سال

اللہ کی راہ میں رہنے کے برابر ہے اور چار ماہ اور سال ساری زندگي اللہ کی

راہ میں رہنے کے برابر ہے ،یہ خود میں نے اپنے ان کانوں سے تبلیغی مرکز

پشاور میں مولانا عبد القادر صاحب سے شب جمعہ کے بیان میں سنا

اسکے علاوہ جونہی کوئی بندہ تبلیغ میں نکلتا ہے چالیس ہزار یا چالیس فرشتے اسکے گھر کی حفاظت کرتے ہیں ،بس کرتا ہوں ،ابھی گآؤں جانا ہے عید پر

کوئی پھڑکا ہی نہ دے ،آجکل مولوی بھی ٹوکے لیکر پھرتے ہیں اس امید پر

فضل الرحمن آ رہا ہے وزیراعظم بن کر

عید میلاد آج تک کسی عالم سے نہیں سنا عید میلاد منانے سے اتنا ثواب ہے

ہر عالم کہتا ہے یہ ہماری محبت اور عشق کا اظہار ہے ،خوشی ہے

مٹھایاں ،حلوے ککڑ ،جھنڈیاں ،روشنیاں اسی محبت کا اظہار ہیں ،اور ہے بھی سال میں ایک دن ،ہم روزانہ کسی کی دل آزاری نہیں کرتے اور مونگ دلتے ہیں

ہمارا اپنا مسلک ہے ،اسکی آزادی ہونی چاہیئے ،یہی تو اختلاف ہے ،ورنہ سارے

ایک نہ ہوتے ،جب اختلاف ہے تو برداشت کریں ،کبھی کسی بریلوی عالم نے

یہ نہیں کہا تبلیغ بدعت ہے اور تبلیغ کرنے والے مشرک ،اور نہ کبھی چارٹ پیش کیا کہ ،صدیق اکبر نے اتنے سہ روزے ،اتنے چلے ،اتنے چار ماہ ،سال اندرونی ،بیرونی نہیں لگئے ،فاروق اعظم اتنا عرصہ خلیفہ رہے اتنے اجتماع نہیں کروائے

مولا عثمان و مولا علی اتنا عرصہ رائے ونڈ نہیں گئے ،ناں جی ناں ہم ایسے نہیں

ہم بدعت اور شرک کے فتوے نہیں لگاتے ،ہم صرف نعرہ لگاتے ہیں ،لبیک یا رسول اللہ اور ہم بلاتے بھی اپنے رسول صلی اللہ کو ہیں ،ہماری لڑی ہی علیحدہ ہے

مشرک ،منافق اور کافر کا فیصلہ آنکھ بند ہوتے ہی ہو جائۓ گآ ،اسلام اللہ فرماتا

ہے اپنے اپنے حبیب سے آپ صلی اللہ کا کام صرف پہنچا دینا ہے

آپ لوگوں نے بتا دیا عید میلاد بدعت ہے ہم نے سن لیا ،بس آپ کا کام ختم

ہم جانیں ہمارا اللہ جانے == اسی آپ ہی کراں گے نبیڑا توں تبلیغ رکھ کول اپنڑیں

اب جب ہر سال جلوس نکلتے ہیں تو اس دن منہ سجا کے پھرنے ،س پر پیش ہے

منہ پھلا کر پھرنے اور بد حواس ہونے سے بچنے کیلئے پچھلے تین چار سال

سے بارہ ربیع الاول کو سیرت کانفرنس ،واہ واہ واہ واہ

اب بارہ ربیع الاول والا اختلاف بھی ختم ،یعنی بارہ ہی تاریخ ہے ورنہ سیرت کانفرنس،8،9 کو ہوتی ،سیرت کانفرنس منانی ہے لیکن اکٹھے نہیں ہونا

کل جب فضل الرحمن نے بارہ ربیع الاول ہم یہاں ہی منائیں گے ،دوبارہ لکھتا

ہوں ،منائیں گے ،،،اب بارہ وفات کہنے والے ،،وفات مناتے تو نہیں ،منائی

تو خوشی جاتی ہے ،یا کہتے ہم سوگ منائیں گے ہمارا نبی صلی اللہ علیہ کا بارہ

ربیع الاول کو وصال ہوا تھا

اگر اتنی گنجائش پیدا کر لی ہے تو بدعت اور شرک کے فتوے بھی نہ لگآئيں

ہمارے ہاں بھی عالم ہیں دس سال وہ بھی قرآن و حدیث اور وہی فقہ پڑھتے ہیں

جو آپ لوگ پڑھتے ہیں ،فرق صرف اندر ہے

اسلام کے اندر بہت گنجائش ہے ،یہی کہہ دو اسلام میں منع تو نہیں

رمضان کی 27 شب قرآن اترا اللہ کا احسان ،حالانکہ ہم پر تو 23 سال میں

اترا یہ تو لوح محفوظ سے زمین کے آسمان تک اترا اس پر اتنے نفل اور

تلاوتیں اور جو قرآن لیکر آيا ہمیں کفر سے نکالا اس کیلئے ایک دن خوشی

منا لینا کیسے حرام ہے ،ممکن ہی نہیں

حرمت یعنی حرام سارے لکھے ہوئے ہیں ،

خير الحديث كتاب الله، وخير الهدي هدي محمد صلى الله عليه وسلم، وشر الأمور محدثاتها، وكل بدعة ضلالة

بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے، اور بہترین طریقہ طریقۂ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور بدترین امور نئی نئی ایجاد کردہ چیزیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘

پھر ہر کوئي اسکی زد میں ہے ،بچتا کوئی نہیں

یسروا ولا تعسروا ،یبشروا ولا تنفروا ،او کما قال

آپس کی تفریق زیادہ بڑی گمراہی ہے ،اسکا سد باب امت نے کرنا ہے ،علماء نے

کرنا ہے ،کوئي نبی نہیں آنے والا یہ فائنل راؤنڈ ہے اسکے بعد قیامت ہے

جو بہت قریب ہے ،اللہ فرماتا ہے ،وقت آن پہنچا اور لوگ غفلت میں ہیں

ایک دن اگر کوئی خوشی مناتا ہے تو دل بڑا کریں ،محلے میں کسی شادی پر دس دن بجتا ڈھول تکلیف نہیں دیتا لیکن ایک دن کی تکلیف عجیب ہے

صابر حسین میلادی