امام اعظم کے نزدیک مجہول کے احکام

مجہول العین : – یہ کوئی جرح نہیں ، اس کی حدیث جب غیر مقبول ہوگی جبکہ سلف نے اسے مردود قرار دیا ہو، یا یہ کہ اس کا ظہور عہد تابعین کے بعد ہو۔ اگر قرون ثلثہ میں ہو تو مطلقا مقبول ہے ۔ مجہو ل الاسم کا بھی یہ ہی حکم ہے ۔ اور مجہول الحال راوی مقبول ہے ۔

بدعت

راوی کی عدالت میں طعن کا سبب بدعت بھی ہے ۔

بدعت سے مراد اہل سنت و جماعت کے خلاف کسی چیز کا اعتقاد رکھنا بشرطیکہ یہ اعتقاد کسی تاویل پر مبنی ہو ۔

ایسے بدعتی کی حدیث جمہور کے نزدیک مقبول نہیں ۔ اور بعض کے نزدیک مقبول ہے بشرطیکہ موصوف بالصدق ہو ۔ اور بعض نے فرمایا کہ اگر وہ بدعتی وضروریات دین میں سے کسی ضروری چیز کامنکر ہے تو اس کی حدیث مردود ہے ورنہ مقبول بشرطیکہ ضبط ، ورع ، تقوی ، احتیاط اور صیانت کے ساتھ متصف ہو۔

لیکن مختار مذہب یہ ہے کہ ا گر وہ اپنی بدعت کی جانب دعوت دیتا اور اس کی ترویج کرتا ہے تو اس کی حدیث مقبول نہیں ورنہ مقبول کی جائے گی ۔ بالجملہ اہل بدعت سے اخذ حدیث میں ائمہ مختلف ہیں اور احتیاط اسی میں ہے کہ ان سے حدیث اخذ نہ کی جائے کہ یہ لوگ اپنے مذہب کی ترویج کے واسطے احادیث گڑھتے اور بعد توبہ اعتراف کرتے تھے ۔ (۱۱۳)

سوء حفظ

راوی کے ضبط میں طعن کے وجوہ بھی پانچ شمار کئے گئے تھے ، ان میں سے فرط غفلت اور کثرت غلط کو منکر کے تحت ذکر کیاگیا تھا ، اور کثرت وہم حدیث معلل کے ضمن میں بیان ہوا ، اور مخالفت ثقات کو مدرج وغیرہا سات اقسام میں شمار کیا ، اب فقط سوء حفظ کا ذکر باقی ہے ، اس کے سلسلہ میں اجمالی کلام یہ ہے ۔

X لازم Xطاری

لازم : – وہ ہے جو تمام احوال میں پایا جائے ، ایسے راوی کی حدیث معتبر نہیں ۔

طاری : – وہ ہے جو پہلے نہ تھا کسی سبب سے حادث ہوگیا، جیسے پیرانہ سالی ، یا ذہاب بصارت ، یا فقدان کتب ، ایسے راوی کو مختلط کہتے ہیں ۔ اس کی اختلاط سے پہلے کی احادیث قبول کی جائیں گی بشرطیکہ اختلاط سے بعد کی روایتوں سے ممتاز ہوں۔ اور اگر ممتاز نہیں تو توقف کیا جائیگا ۔ اور اگر مشتبہ ہیں تب بھی ان کا حکم توقف ہے ۔ اگر ان کے واسطے متابعات و شواہد دستیاب ہو گئے تو مقبول ہو جائیں گی ۔ (دیباچہ بشیر القاری ۳۸)

ضروری وضاحت

تعدد طرق سے حدیث کو تقویت حاصل ہوتی ہے ۔ اس اصول کے تحت حسن لذاتہ کو صحیح لغیرہ کا درجہ ملتا ہے ۔ راوی کا ضعف سوء حفظ ، یا جہالت کی وجہ سے ہو تو حدیث حسن لغیرہ ہو جاتی ہے ۔ متروک و منکر احادیث اسی جیسے رواۃ کے تعدد طرق سے مروی ہوں تو مستور اور سوء حفظ کے حامل کی روایت کے درجہ میں شمار ہوتی ہے ۔ اب اگر مزید تائید میں کوئی ایسی ضعیف حدیث مل جاے جس کے ضعف کو گوارہ کیا جا سکتا ہے تو پورا مجموعہ حسن لغیرہ کی منزل میں آجائے گا ۔

اعتبار

تعریف:- کسی حدیث کی حیثیت جاننے کے لئے دوسری احادیث پر غور کرنا یعنی یہ جاننا کہ کسی دوسرے نے اس حدیث کو روایت کیا ہے یا نہیں اگر روایت کیا ہے تو اس کی نوعیت کیا ہے ، دونوں میں موافقت ہے یا مخالفت ، اگر موافقت ہے تو لفظی ہے یا معنوی ، نیز دونوں کی روایت ایک صحابی سے ہے یا دو سے ۔ اگر مخالفت ہے تو دونوں کے راویوں میں باہم کیا نسبت ہے کہ کسی ایک کو ترجیح ہو ۔ اگر تحقیقی سے معلوم ہو جائے کہ اس حدیث کو کسی دوسرے نے روایت نہیں کیا تو وہ فرد و غریب ہے ۔

ہاں کسی دوسرے نے موافقت کے ساتھ روایت کیا ہے تو حسب تفصیل دوسری حدیث کو متابع اور شاہد کہتے ہیں ۔ اور مخالفت کیساتھ روایت کیا تو وہ تمام تفصیلات آپ شاذو منکر وغیرہا کے بیان میںپڑھ چکے ہیں ۔

اس تفصیل سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ متابعت سے تائید و تقویت حاصل ہوتی ہے یہ ضروری نہیں کہ متابعت کرنے والا راوی اصل راوی کے مرتبہ میں مساوی ہو بلکہ کم مرتبہ کی متابعت بھی معتبر ہے ۔

متابع و شاہد

تعریف متابع:- اکثر کے نزدیک وہ حد یث جس کو ایک ہی صحابی سے لفظ و معنی یا صرف معنی کی موافقت سے ذکر کیا جائے ۔

تعریف شاہد : – اکثر کے نزدیک وہ حدیث جس کو چند صحابہ سے لفظ و معنی یا صرف معنی کی موافقت سے ذکر کیا جائے ۔

بعض حضرات موافقت فی اللفظ کو متابع اور موافق فی المعنی کو شاہد کہتے ہیں ۔ خواہ ایک صحابی سے مروی ہو یا دو سے ۔ اور کبھی متابع و شاہد ایک معنی میں بولے جاتے ہیں ۔

جرح و تعدیل

جرح و تعدیل سے متعلق آپ پڑھ چکے کہ تعدیل راوی کی عدالت و ضبط کے تحقیق کو کہتے ہیں اور جرح سے مراد وہ امور ہیں جو ان دونوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جن کی تفصیلی تعداد تیرہ بیان کی جاتی ہے ۔

عدالت پر اثر انداز: –

Xکذب Xاتہام کذب Xفسق ٭بدعت X جہالت

ضبط پر اثرانداز : –

Xزیادۃ غلط Xسوء حفظ X فرط غفلت X زیادت وہم Xمخالفت ثقات X شہرت تساہل X شہرت قبول تلقین Xنسیان

جرح و تعدیل وہی معتبر ہے جو ائمہ فن سے بغیر کسی تعصب یا بے جا حمایت کے ساتھ منقول ہو ، البتہ تعدیل مبہم کا اعتبار ہوگا کہ وجوہ عدالت بیان کئے بغیر ثقہ وغیرہ کہنا ، کیونکہ وجوہ عدالت کثیر ہیں جن کا احاطہ ایک وقت میں ممکن نہیں ۔

البتہ جرح مبہم غیر مفسر معتبر نہیں ، کہ اسباب جرح اتنے زائد نہیں کہ ان کے شمار میں دشواری ہو ۔ نیز اسباب جرح میں اختلاف ہے ، ہو سکتا ہے ایک سبب کسی کے نزدیک معتبر ہو اور دوسروں کے یہاں نہ ہو ۔

لہذا ابن صلاح نے تصریح کی کہ فقہ و اصول میں یہ ہی طے ہے ، اور خطیب نے ائمہ نقاد کا یہ ہی مذہب بتایا اور اسی پر عمل ہے ۔ ( تدریب الراوی للسیوطی ۱/۳۰۸)

خیال رہے کہ جن علماء و فقہاء کو امت نے مقتدا بنالیا ان پر کسی کی تنقید و جرح منقول نہیں ۔ (جامع بیان العلم لا بن عبد البر ۲۱۵)

الفاظ جرح اور ان کے مراتب

ادنی سے اعلیٰ کی طرف

۱۔ جو نرمی ، تساہل اور لا پرواہی پر دلالت کریں ۔ جیسے :۔

X لین الحدیث Xفیہ مقال Xوغیرہا

۲۔ جو عدم احتجاج یا اس کے مثل مفہوم پر دال ہوں۔ جیسے:۔

X فلاں لا یحتج X ضعیف X لہ مناکیر Xو غیرہا۔

۳۔ عدم کتابت یا اس کے مثل کی تصریح ۔ جیسے :۔

Xفلان لا یکتب حدیثہ X لا تحل الروایۃ عنہ X ضعیف جدا

X واہ بمرۃ X رد حدیثہ X طرحو احدیثہوغیرہا ۔

۴۔ وہ الفاظ جواتہام کذب پر دال ہوں ۔ جیسے :۔

X فلان متہم الکذب X متہم بالوضع X یسرق الحدیث Xساقط X متروک X لیس ثقۃ ٭ ذاہب الحدیث وغیرہا۔

۵۔ وہ الفاظ جو صاف صاف جھوٹ پر دال ہوں ۔ جیسے:۔

X کذاب X دجال ٭ وضاع Xیکذب X یضع وغیرہا۔

۶۔ وہ الفاظ جو جھوٹ میں مبالغہ پر دلالت کریں ۔ جیسے:۔

X اکذب الناس Xالیہ المنتہی فی الکذب X رکن الکذب وغیرہا ۔

پہلے دو مراتب کی حدیث متابع اور شاہد میں کام آتی ہے ۔ باقی قطعا مردود وغیر مقبول ہیں ۔

الفاظ تعدیل اور ان کے مراتب

اعلی سے ادنی کی طرف

۱۔ وہ الفاظ جو ثقاہت اور اعتماد میں مبالغہ پر دال ہوں ۔ جیسے:۔

X فلان الیہ المنتہی فی التثبت X فلان اثبت الناس X لا احد اثبت عنہ وغیرہا۔

۲۔ وہ الفاظ جو ثقاہت کے بیان میں مکرر آئیں ۔ جیسے:۔

Xثقہ ثقۃ Xثقۃ ثبت وغیرہا۔

۳۔ وہ الفاظ جو بلا تاکید ثقاہت پر دال ہوں ۔ جیسے:۔

X ثقہ Xحجۃ X متقن X عدل وغیرہا۔

۴۔ وہ الفاظ جو صرف عدالت کا ثبوت دیں ، ضبط سے تعلق نہ ہو۔ جیسے:۔

Xصدوق X محلہ الصدق X مامون X خیار وغیرہا ۔ ۵۔ وہ الفاظ جو جرح و تعدیل کچھ نہ بتائیں ۔ جیسے:۔

Xفلان شیخ وغیرہا۔

۶۔ وہ الفاظ جو جرح سے قرب کو ظاہر کریں ، جیسے:۔

Xفلان صالح الحدیث X یکتب حدیثہ وغیرہا۔

پہلے تین مراتب کی حدیث حجت ہے ، چہارم پنجم کو پہلے کے موافق پائیں تو قبول کریں گے ورنہ نہیں ۔ششم کو متابع اور شاہدکے لئے لایا جائے گا۔

معرفت رواۃ

راویان حدیث کی شخصیات اور ان کے حالات زندگی کا علم ایک اہم چیز ہے کہ جب تک کسی شخصیت کے بارے میں علم نہ ہوگا اس کے مقبول وغیر مقبول ہونے کا فیصلہ نہ ہو سکے گا ۔ چونکہ یہ کام محدثین و ائمہ فن کر چکے اور فیصلہ کر کے ہمارے لئے کتابیں تحریر فرمادیں ۔ اس سلسلہ میں ائمہ فن نے جرح و تعدیل کی کتابیں اور مستقلا علیٰحدہ علیٰحدہ عنوانات پر بھی کام کیا ۔ بعض اہم علوم و عنوان اس طرح پیش کئے گئے ہیں ۔

٭ معرفت صحابہ ٭معرفت تابعین ٭ معرفدت برادران و خواہران

٭معرفت متشابہ ٭ معرفت مہمل ٭معرفت متفق و مفترق

٭معرفت مبہمات ٭معرفت وحدان ٭معرفت موتلف و مختلف

٭معرفت القاب ٭ معرفت تواریخ رواۃ ٭معرف طبقات علماء و رواۃ

٭معرفت مذکورین باسماء باصفات مختلفہ ٭معرفت موالی

٭معرفت اسماء مشہورین بکنیات ٭معرفت نسبت خلاف ظاہر

٭معرفت اسماء مفردہ و کنیت و القاب ٭معرفت خلط کنند ان از ثقات

٭معرفت رواۃ ثقات و ضعفاء ٭معرفت اوطان و ممالیک رواۃ ٭معرفت منسوبین بسوئے غیر پدر ٭ معرفت اکابر رواۃ از اصاغر

٭ معرفت روایت پدراں از پسراں ٭معرفت روایت پسراں از پدراں

یہ اور ان جیسے علوم کے مجموعہ کو علم اسماء الرجال کہتے ہیں اور ان راویان حدیث کے حالات کتابوں میں مذکور ہیں۔

٭ طبقات مشاہیر الاسلام:۔ مصنفہ امام ذہبی ۳۵؍ جلدوں میں ہے اور اس میں ایک ہجری سے ۷۰۰ھ تک کے تمام ایسے اشخاص کا احاطہ کر لیا گیا ہے ۔

٭ تذکرۃ الحفاظ :۔ یہ بھی آپ کی تصنیف ہے ۔ اور اس میں ۷۰۰ ھ سے کچھ آگے کے حالات بھی مرقوم ہیں ۔

علامہ ابن حجر کے لسان المیزان نویں صدی تک کا احاطہ کرتی ہے اور امام سیوطی کی ’’ذیل‘‘ میں ۱۰۱۰ ھ تک کے مشاہیر کا تذکرہ ہے ۔

جرح و تعدیل کا زیادہ تر سلسلہ متون حدیث کی تالیف کے آخری عہد یعنی امام بیہقی

م ۴۵۸ھ کے عہد تک رہا ہے ، پھر چونکہ احادیث کے اصل و معتمد تمام مجموعے تصنیف کئے جا چکے تھے اس لئے اس کے بعد رواۃ کے حالات جمع کرنے کا نہ اہتمام کیا گیا اور نہ ہی اس کی ضرورت رہ گئی تھی ۔ لہذا اب کتابوں کی طرف ہی رجوع ہوتا ہے ۔

معرفت صحابہ

صحابی:- وہ شخص جس نے حالات ایمانی میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ملاقات کا شرف حاصل کیا اور اسلام پر ہی انتقال ہوا ۔ خواہ اس نے حضور کو دیکھنے کا قصد کیا ہو یا نہیں ۔ یا صرف حضور نے اس پر نظر ڈالی ہو ۔ نیز معاذ اللہ ایمان سے پھر گیا اور اسلام لے آیا اور حضور سے ملاقات دوبارہ ہوگئی ان تمام صورتوں میں صحابی ہی شمار ہوگا ۔

جمہور اہل سنت کے نزدیک تمام صحابہ چھوٹے ہوں یا بڑے حضور سے شرف ملاقات کے سبب سب عادل و معتمد ہیں ۔

مکثرین صحابہ:۔ صحابۂ کرام میں جو حضرات ایسے ہیں جن سے کثیر تعداد میں احادیث مروی ہیں ان کو مکثرین صحابہ کہا جاتا ہے ۔ ایسے حضرات وہ ہیں جن کی مرویات کی تعداد ایک ہزار سے متجاوز ہے ۔

۱۔ حضرت ابو ہریرہ ۵۳۷۴ ۲۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ۲۶۳۰

۳۔ حضرت انس بن مالک ۲۲۸۶ ۴۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ ۲۲۱۰

۵۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ۱۶۶۰ ۶۔ حضرت جابر بن عبد اللہ ۱۵۴۰

ابن کثیر نے حضرت ابو سعید خدری کو بھی مکثرین میں شمار کیا ہے اور ان کی مرویات کو ۱۱۷۰ بتایا ہے ۔ اسی طرح عبد اللہ بن مسعود اورعبد اللہ بن عمرو بن العاص کو بھی ان میں ہی شمار کیا ہے ۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہم

مفسرین صحابہ: – صحابہ کرام کی ایک جماعت کو علم تفسیر میں خاص مقام حاصل تھا ۔ یہ مندرجہ ذیل ہیں:۔

حضرت ابو بکر صدیق حضرت عمر فاروق اعظم

حضرت عثمان غنی حضرت علی المرتضی

حضرت عبد اللہ بن مسعود حضرت ابی بن کعب

حضرت زید بن ثابت حضرت عبد اللہ بن عباس

حضرت عبد اللہ بن زبیر حضرت ابو موسی اشعری

رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین

مفتیان صحابہ:- صحابۂ کرام مین ایک ایسی جماعت بھی تھی جو مرجع فتاوی رہی ۔

حضرت عمر فاروق اعظم حضرت علی مرتضی

حضرت ابی بن کعب حضرت زید بن ثابت

حضرت ابو درداء حضرت ابن مسعود

حضرت ابن عمر حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ

رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین

مولفین صحابہ: – بعض اوقات تحریر و تصنیف میں مشغول رہنے والے صحابہ کرام بھی تھے ، ان

کے صحیفوں اور اسماء کی تفصیل تدوین حدیث میں گزری ،

تعداد صحابہ : – صحابہ کرام کی قطعی تعداد تو معین نہیں ۔ پھر بھی محتاط اندازے کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ سے متجاوز ہے ۔

امام ابو زرعہ رازی فرماتے ہیں : حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے بعد ایک لاکھ چودہ ہزار صحابۂ کرام چھوڑے ۔ ان میں صرف دس ہزار صحابۂ کرام کے حالات ہی کتابوں میں نقل ہوئے ۔

افاضل صحابہ : – باتفاق اہل سنت افضل ترین صحابہ میں سیدنا صدیق اکبر ، پھر فاروق اعظم ،پھر عثمان غنی ، پھر علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہیں ۔

ان کے بعد عشرہ مبشرہ ، پھر اصحاب بدر واحد ، پھر اہل بیت رضوان پھر اہل فتح مکہ ۔ باعتبار روایت حدیث سب کو ایک طبقہ میں شمار کیا جاتا ہے ۔

معرفت تابعین

تابعی:- وہ شخص جو حالت اسلام میں کسی صحابی سے ملاقات کریں اور اسلام پر ہی ان کا وصال ہوا ۔ ان کے مختلف طبقات ہیں ۔

علامہ ابن حجر نے ان کے چار طبقات بتائے ہیں :۔

افضل ترین تابعی: – اس سلسلہ میں مختلف اقول ہیں:۔

نزد اہل مدینہ حضرت سعید بن مسیب

نز د اہل کوفہ حضرت اویس قرنی

نزد اہل بصرہ حضرت حسن بصری

فقہائے سبعہ : – مدینہ منورہ کے اکابر تابعین میں باعتبار فقہ و فتاوی ان سات حضرات کو امتیازی مقام حاصل تھا ۔

سعید بن مسیب قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق

عروہ بن زبیر خارجہ بن زید بن ثابت

سلیمان بن یسار ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف

عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود

بعض نے ساتواں سالم بن عبد اللہ بن عمر کوبتایا ہے ۔

مخضرمین

وہ حضرات جنہوں نے اسلام اور جاہلیت دونوں زمانوں کو پایا لیکن حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے شرف ملاقت حاصل نہ ہوا ۔ خواہ وہ عہد نبوی میں مسلمان ہوئے یا بعد میں۔ ان کو مخضر مین کہا جاتا ہے اور ان کا شمار کبار تابعین میں ہوتا ہے ۔

اتباع تابعین

وہ حضرات جنہوں نے بحالت ایمان کسی تابعی سے ملاقات کی ہو اور اسلام پر ہی ان کا خاتمہ ہوا ہو ، یہ حضرات تابعین کے تلامذہ و مستفیدین ہیں ان کے بھی متعدد طبقات ہیں ۔ صحابہ ، تابعین تبع تابعین اور ان سے استفادہ کرنے والے حضرات کو علامہ بن حجر عسقلانی نے بارہ طبقات میں پیش کیا ہے ۔

۱۔ تمام صحابۂ کرام

۲۔ کبار تابعین جیسے سعید بن مسیب

۳۔ اوساط تابعین جیسے حسن بصری ، محمد بن سیرین

۴۔ طبقہ ثالثہ سے متصل کہ اکثر روایت کبار تابعین سے کرتے ہیں جیسے:۔ اما م زہری

۵۔ اصاغر تابعین جیسے امام اعظم ، امام اعمش

۶۔ معاصرین اصاغر جیسے ابن جریج

۷۔ کبار تبع تابعین جیسے امام مالک ، امام ثوری

۸۔ اوساط تبع تابیعن جیسے سفیان ابن عینیہ ، اسماعیل بن علیہ

۹۔ اصاغر تبع تابعین جیسے امام شافعی ، ابو داؤد طیالسی ، عبد الرزاق صنعانی

طبقہ تاسعہ سے ملا صق جن کی کسی تابعی سے ملاقات نہ ہو۔

۱۰۔ اولی جیسے امام احمد بن حنبل

۱۱ ۔ وسطی جیسے امام بخاری ، امام مسلم ، امام ذہلی

۱۲۔ صغری جیسے امام ترمذی