“بابری مسجد” کو “رام مندر” بنانے میں سُنی وقف بورڈ اور اس کے چیئرمَین زفر فاروقی کا کردار

روزنامہ انقلاب کے ایڈیٹر شکیل شمسی کا اداریہ:

سنی وقف بورڈ مسجد سے ہنسی خوشی دستبردار ہوا ہے !!

آج انگریزی کے مشہور اخبار ٹائمز آف انڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ یو پی کاسنی وقف بورڈمارچ کے مہینے میں ہی بابری مسجد کی ملکیت چھوڑنے پر ہنسی خوشی راضی تھا اور اس نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دے کر یہ کہا تھا کہ وہ ملک میں اتحاد و اتفاق بنائے رکھنے کی خاطر بابری مسجد کی زمین سے اپنا دعویٰ واپس لیتا ہے اور اس کے بدلے میں عدالت عظمیٰ زمین کا کوئی خطہ یا مسجد دےدے ، محکمۂ آثار قدیمہ کے قبضے والی مسجدوں میں مسلمانوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت ملے اور وقف بورڈ کے سربراہ سمیت دوسرے اسٹاف ممبروں کو سیکورٹی فراہم کی جائے۔ ایسا لگتا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے اسی درخواست کو دھیان میں رکھتے ہوئے بابری مسجد کی زمین اہل ہنود کو اور مسلمانوں کو پانچ ایکڑ زمین کا ایک ٹکڑا دینے کو کہا۔ اس راز کے فاش ہونے کے بعد کہ خود سنی وقف بورڈ نے مسجد کی زمین سے دستبردار ہونے کی بات سپریم کورٹ کے سامنے رکھی تھی اب عدالت کے فیصلے پر انگلیاں اٹھانے والوں کو ذرا سوچنا ہوگا کہ جب مقدمہ کا اہم ترین فریق ہی اپنی طرف سے آفر کر رہا ہو تو عدالت کیوں نہیں مانے گی؟ اصل میں ہم اسلام فروشوں کی جس بھیڑ میں کھڑے ہیں وہاں دوسروں سے شکوے شکایت کی کوئی گنجائش نہیں۔ عدالت کو بھیجے گئے اس لیٹر کا ابھی تک کہیں کوئی تذکرہ نہیں ہوا تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ وقف بورڈ کے ذمہ داروں نے بہت خفیہ طور پر عدالت میں یہ کاغذ لگایا اور دوسرے فریقوں کو اس کی بھنک تک لگنے نہیں دی۔سنی وقف بورڈ کی جانب سے داخل کئے گئے اس لیٹر کے بارے میں سن کر ہم کو کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ جب کسی ادارے کے سربراہ کو عذاب الٰہی کے آنے کا نہیں بلکہ کرسی چلے جانے کا خوف ہو تو وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ بلکہ ہمیں تو اب اس بات کا خطرہ بھی نظر آنے لگا ہے کہ متھرا اور کاشی کی مسجدوں کے بارے میں بھی کہیں سنی وقف بورڈ کا چیئر مین زفر فاروقی یہ لکھ کر نہ بھیج دے کہ کاشی کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی عید گاہ کی زمین بھی ہم ملک میں امن و امان بنائے رکھنے کی خاطرا کثریتی فرقے کو تحفے میں دیتے ہیں۔اسی لئے سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے چند لمحوں کے بعد سنی وقف بورڈ نے کہہ دیا کہ وہ نظر ثانی کی درخواست داخل نہیں کرےگا۔اصل معاملہ یہ ہے کہ اتر پردیش کی سماج وادی پارٹی نے اپنے دور حکومت میں شیعہ اور سنی وقف بورڈوں پر ایسے لوگ مسلط کئے جو اپنے ذاتی مفاد کی خاطر کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اکھلیش یادو کی کابینہ میں شامل میں ایک آدھ خاص وزیر کو فائدہ پہنچانے کے لئے ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ وقف بورڈوں کی آزادی سلب ہوگئی اور اوقاف کو وقف بورڈ کی ملکیت سمجھ لیا گیا، جبکہ وقف بورڈ کسی بھی وقف کا مالک نہیں ہے بلکہ اس کی نگہداشت کرنے والا ایک ادارہ ہے۔ وہ اوقاف کےمتولیوں( کئیر ٹیکرس) سے آمدنی و خرچ کا حساب کتاب مانگ سکتا ہےاور اس کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دیکھے کہ وقف شدہ جائدادوں میں خورد برد تو نہیں ہو رہی ہے۔ کسی وقف بورڈ یا کسی متولی کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ وہ وقف کی کسی املاک کو بیچے یا کسی کو تحفے میں دے تو پھر سنی وقف بورڈ مسجد کی زمین بطور تحفہ دینے کا حق دار کیسے ہوگیا؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ جو ادارے اوقاف کی فلاح وبہبود کے لئے بنائے گئے تھے وہ آخرت سے بے پروا اور عذاب قبر سے ناواقف کرسی پرست انسانوں کے چنگل میں پھنس گئے اور اب وہ وقف کی زمینوں کو اپنی ذاتی جائداد سمجھ کر ان کی قسمت کے فیصلے کرنے میں اس لئے لگے ہیں کہ اہل اقتدار کی صفوں میں ان کو عزت کی نظر سے دیکھا جائے۔ ہمارے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ تمام مسلمان اس بات کی طرف متوجہ ہوں کہ وقف بورڈ حکومتوں اور وزیروں کی خوشنودی کے لئے نہیں بنائے گئے ہیں بلکہ ان کو وقف شدہ جائدادوں کی فلاح و بہبود کا کام دیکھنا ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ صرف وقف بورڈوں کا ہی سیاسی مصلحتوں کے تحت استحصال کیوں ہو رہا ہے؟ کیا ہماری قوم کے اداروں کا انتظام اسی طرح حسن و خوبی کے ساتھ انجام نہیں دیا جاسکتا جس طرح گرودواروں سے متعلق امور کا انتظام شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی انجام دیتی ہے؟ آخر میں کہنا چاہوں گا کہ سنی وقف بورڈ ۲۶؍ نومبر کو ایک میٹنگ کرکے یہ فیصلہ کرنے والا ہے کہ وہ عدالت سے ملنے والی پانچ ایکڑزمین کو لے یا نہ لے جبکہ ہمارا خیال ہے کہ سنی وقف بورڈکی حرکتوں کو دیکھتے ہوئے اس کو اس زمین پر کوئی فیصلہ لینے کا اختیار بالکل نہ دیا جائے بلکہ مسلمانوں کا ایک بورڈ بنایا جائے جس میں سب ہی اہم مسلم لیڈران شامل ہوں اور وہ مل کر کوئی فیصلہ لیں۔